11

انتظار

وہ اکیلی تھی آج بھی اس کے انتظار میں…..برسوں کی طرح بلکہ اب تو یہاں بیٹھنا اس کی عادت میں شامل تھا ۔ رات جب دنیا خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہوتی ہے وہ اس وقت ستاروں سے باتین کیا کرتی تھی ،راز کی باتیں، دل کی باتیں ،خفیہ باتیں جو وہ اپنے محبوب سے کر سکتی تھی مگرر وہ تھا نہیں اسے خود کلامی کی یہ عادت جوانی میں ہی لگ گئی تھی جب وہ گھنٹوں اسی کرسی پر بیٹھی اپنے محبوب کی انتظار کرتی تھی ایک ایسا محبوب جس کا نام اور پتہ کچھ بھی نہیں تھا ہاں اس نے اسکی ہلکی سی ایک جھلک ہی تو دیکھی تھی۔جو اس کی اس ساری زندگی کا حاصل تھی، مدہوشی کے چند لمحوں کی قربت جس کا لمس آج بھی محسوس کر رہی تھی۔ان گرم گرم سانسوں کی خوشبو آج بھی اس کی سانسوں سے آ رہی تھی۔ایک معمول…….ایک عبادت…..جس پر اسکا لمحوں کا محبوب بیٹھا تھا وہ ہمیشہ سے اسی کرسی پر بیٹھا کر تی تھی اس امید پر کہ شاید اسے اپنا وہ وعدہ یاد آ جائے جو اس کے جدا ہوتے وقت اس کی آنکھیں کر گئیں تھیں……..شاید اسے یاد آ جائے اور وہ لوٹ آئے…..ایک ایسی محبت کا وعدہ جس کا اظہار نہیں ہوا تھابلکہ صرف آنکھوں ہی آنکھوں میں آنکھوں نے کہا اور آنکھوں نے ہی سنا تھا۔چالیس برس پہلے اب تو اس کی بھنویں بھی سفید ہو گئیں تھیں…..ہاں وہ تو بوڑھی ہوچکی تھی۔ اس نے اپنے سفید بالوں پر ہاتھ پھیرا۔ارے یہ تو وہی بال تھے جنہیں یار لوگ اکثر زلف یار ناگن اور جانے کیا کیا کہہ جاتے تھے۔ اس نے دل ہی دل میں سوچا۔ اس کے بال جب کھلے گلے میں پڑے ہوتے تھے تو ایسا لگتا تھاجیسے چاند رات کے گھپ اندھیرے میں جگمگا رہا ہوتا تھا۔اسی ایک جھلک کے لئے کئی عاشق قطار درقطار پہروں انتظار کر سکتے تھے۔ وہ آج بھی بچپن اور جوانی کی تنہائیوں میں گم تھی۔دنیا بدلی زمانہ بدلا مگرہ وہ نہ بدلی تب بھی ویسی کی ویسی تھی آج بھی ویسی کی ویسی…….ہاں اتنا ضرور ہو گیا تھا کہ اب بھرے چہرے پر جھریوں نے قبضہ کر لیا تھا اور کالی ناگن جیسی زلفوں کی جگہ سفیدی نے اپنی چادر بچھا دی تھی۔انتظار کے لئے زندہ رہنا اور زندہ رہنے کے لئے کھانا انتہائی ضروری ہوتا ہے … وہ صرف اتنا ہی کھاتی تھی کہ زندہ رہ سکے۔…..اس کی بچپن اور جوانی کی سہیلیاں اس سے ملنے آتی اور اپنے پوتوں اور نواسوں کا ذکر کرتیں مگر وہ تو جیسے پتھر تھی۔زمانے کی محبت کو اپنی محبت کی بھینت چڑھا چکی تھی۔نہ اسے کسی کا خیال تھا اور نہ ہی کسی سے لگاؤوہ بس اپنی ہی دنیا میں جیتی آ رہی تھی اور جی رہی تھی اور نہ معلوم اور کتنا جینا تھا اب وہ بوڑھی تو ہو ہی چکی تھی اور آج کل اکثر بیمار بھی رہنے لگی تھی۔ جیسا کہ ہر بوڑھے آدمی کے ساتھ ہوتا ہے چند دنوں سے اسے زکام اور ہلکا بخار رہنے لگا تھا۔ڈاکٹر تو متواتر دیکھ رہا تھا ور دوائی بھی دے رہا تھا مگر اسے کوئی افاقہ نہیں ہو رہا تھا اس کی دوائی تو کہیں اور ہی تھی۔
آہستہ آہستہ صحن میں رکھی کرسی سے وہ اٹھی بہار اپنے جوبن پر تھی گرمیاں انگڑائیاں لے رہی تھیں وہ کرسی سے اٹھی جس کے ساتھ اس کا پورا ماضی وابستہ تھا ۔ اب وہ اپنے کمرے کی طرف جانے لگی تھی رات نصف گزر چکی تھی ۔ شام کے وقت موسم خوشگوار ہوتا تھا اور نصف شب تک رہتا تھا اس کے بعد سردی بڑھنے لگتی تھی ……..ویسے اس کے لئے سب برابر ہی تھافرق صرف اتنا ہی تھا کہ گرمیوں میں وہ باہر صحن میں بیٹھتی تھی اور سردیاں اپنے کمرے میں بیٹھ کر خوشگوار خیالات میں گزارا کرتی تھی۔نصف شب کے بعد ہی سونا اس کا معمول تھا۔لاٹھی کے سہارے کے بغیر بوڑھی ہڈیوں کا چلنا محال تھا وہ ہمیشہ اپنے ساتھ لاٹھی رکھا کرتی تھی اس نے آہستہ سے دروازے کو دھکا دیا۔۔۔۔۔دروازے کے ’چریں ،چریں‘ نے رات کے اس سکوت میں ماحول کو وحشت ناک کر دیا۔لیکن یہ اس کا معمول ،عادت ہو چکی تھی۔ وہ کسی قسم کا خوف یا گبھراہٹ محسوس نہیں کرتی تھی۔ برسوں سے اسی طرح رہتے ہوئے اسے اس کی عادت ہو چکی تھی۔ کمرے میں لگے صفر واٹ کے قمقمے کی روشنی میں اس نے کمرے میں قدم رکھا اور دروازے کو پھر اسی طرح بند کر دیا۔ دروازہ پھر ’چریں ،چریں ‘ کرتا بند ہو گیا۔لیٹنے سے قبل اس نے لاٹھی کو بستر کے نیچے رکھا اور کمرے میں لگے معمولی روشنی کے بلب کو بھی بند کر دیا کیونکہ اسے اب اس کی بھی ضرورت نہیں رہی تھی۔ اس کے ساتھ ہی وہ ماضی کی حسین اور تلخ یادوں میں یوں کھو گئی جیسے اس کا اس دنیا سے کوئی تعلق ہی نہ ہو۔
چالیس برس ………ہاں اتنا ہی …..تقریباََ چالیس برس پہلے …..جہاں تک اس کی یاد تھی اور اسے یاد بھی اتنا ہی تھاوہ بھی ایک ہنستے بستے خاندان کی رکن ہوا کرتی تھی جہاں زندگی کی سب ہی آسائشات میسر تھیں۔وہ ایک امیر گھرانے سے تعلق رکھتی تھی۔زندگی آسودہ حال ہوا کرتی تھی۔خدا نے اس خاندان کو بہت نوازا تھا ….ہاں اگر کسی چیز کی کمی تھی تو اس خاندن کو ایک لڑکی تو اللہ نے دی تھی مگر اولاد ذکور اس کی قسمت میں شاید نہیں تھی۔اسکی ماں تو ذرہ مذہبی قسم کی تھی مگر باپ……بالکل بھی نہیں مگر ایک اچھا انسان تھا۔ماں باپ کی اکلوتی اولاد ایک بہن اور بھائی بچپن میں ہی فوت ہو گئے تھے۔ماں باپ کے مکمل پیار کے باوجود اسے ہمیشہ زندگی میں ایک چیز کی کمی محسوس ہوئی تھی جس کے خلا کبھی پوری نہیں ہو سکی تھی۔وہ ہمیشہ سے ایک بھائی کی محبت کے لئے ترسی تھی۔اس کی سہیلیاں جب اسے اپنے اپنے بھائیوں کے قصے سناتی تو وہ گھنٹوں تنہا بیٹھ کر روتی رہتی تھی۔اس کی نظر میں بھائی قدرت کی سب سے اچھی نعمت تھی جو ایک بہن کا اچھا دوست ہو سکتا تھا جس سے وہ اپنے دل کی بات کر سکتی تھی۔وہ اکثر سوچاکرتی تھی کہ اگر اللہ نے اسے ایک بھائی دیا ہوتا تو وہ اس کی پوجا کیا کرتی ۔اسی کمی نے بچپن سے اسے چڑچڑا اور ضدی کر دیا تھا ۔ دوسری ماں باپ کی اکلوتی اولاد ہونے کی وجہ سے اس کی ضد حد سے تجاوز کر گئی تھی۔اور یہ چیز اس سے کبھی ختم نہ ہو سکی۔
دسمبر کی ایک سرد شام تھی ……ہاں ! وہی شام تو تھی جس نے اس کی زندگی بدل دی تھی ۔ جہاں اس کی زندگی نے ایک اہم فیصلہ لیا تھا۔جہاں سے اس نے مستقبل میں سپنوں کے تاج محل تعمیر کرنے شروع کئے تھے۔ہر طرف برف نے سفید چادر اوڑھ دی تھی۔برف سفید پھولوں کی مانند آسمان کے باغوں سے زمیں والوں کے لئے رحمت بن کر چھڑ رہی تھی ۔مہینہ سال میں ایک ہی تو ہوتا ہے ….ہاں دسمبر کا مہینہ ….جب اندر کے جذبات باہر کے موسم کے بالکل مخالف ہوتے ہیں باہر سردی اور کہر ہوتا ہے مگر اندر کے جذبات مکمل جوبن پر ہوتے ہیں۔……جوانی تو ویسے بھی دیوانی کہلاتی ہے اور دسمبر میں یہ دیوانگی کچھ زیادہ ہی بڑھ جاتی ہے…..اوراگر کہیں دیوانگی دکھانے کا موقع مل جائے تو یہ مذید نکھر جاتی ہے۔محاذ جنگ کے لئے روزانہ فوجیوں کے دستے اس کے شہر سے گزرتے تھے۔سرحد پر دشمن سے لڑنے والے شیر دل جوانوں کی ڈرل کو دیکھنے پورا شہر امڈ آتا تھا۔سخت سردی کے باوجود لوگ اپنے گھروں سے فوج کو سلام کرنے نکلتے تھے….بچے ،بوڑھے ،جوان ،عورتیں ،لڑکیاں اور خاص کر شوخ لڑکیاں ایسا لگ رہ تھا کہ شہر میں میلا لگا ہوا ہو اور ہر کوئی اپنے حصے کی خوشیاں سمیٹنے کے لئے اس میں حصہ لے رہا ہو۔۔۔۔ شباب کی آمد کے بعد اب وہ جوانی سے بھر پور تھی اور قدرے شرمیلی بھی۔ جہاں انسان روز زندگی میں نئی چیزیں سیکھتا ہے وہیں اس کے خیالات میں بھی بدلاؤ آتا ہی رہتا ہے۔ اس کی سوچ کا دائرہ کا ر بھی بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ بھی یہی ہو رہا تھا۔ وہ بھی زمانے سے سیکھ رہی تھی اسے جنگ سے نفرت تھی قتل عام سے نفرت تھی وہ اس کی باریکیوں میں نہیں الجھتی تھی جب کوئی اس سے اس کی بابت بات کرتا تو وہ اتنا کہتی کہ بس مجھے اس سے نفرت ہے۔ کیونکہ اس کے نزدیک جنگ میں بہر حال قتل انسانیت کا ہی ہوتا ہے خواہ وہ دنیا کے کسی خطے رنگ نسل یا مذہب سے کیوں نہ ہو قتل بہرحال قتل ہی ہوتا ہے اسے جنگ سے نفرت تھی اس کے نزدیک یہ صرف دوسرے ملک کی زمین ہتھیانے اور انہیں غلام بنانے اور ان کے قدرتی وسائل پر قبضہ کرنے کا ایک طریقہ ہوتا ہے۔ اس سے بے گناہوں کو ہی مارا جاتا ہے انہیں کسی غلطی کی سزا نہیں دی جا رہی ہوتی اس کی سبھی کزنز فوجیوں کے دستوں کو روزانہ دیکھنے جاتی تھیں مگر وہ کبھی نہ گئی اسے ان لوگوں سے نفرت تھی جو جنگ کرتے تھے کیونکہ سب ہی جنگ میں برابر کے شریک ہوتے تھے اور مجرم ہوتے تھے وہ کبھی اگر جنگ کے ہولناکیوں کے بارے میں سوچتی تو اسے عورتوں اور بچوں کے اڑتے ہوئے چیتھڑے ….بکھرا ہو ا خون ….چیلوں اور کوؤں کی خورات بننے والی لاوارث لاشیں جن میں جوان .. بوڑھے ….بچے عورتیں سبھی شامل ہوتے تھے نظر آتے تو اسے خود کی سوچ سے بھی وحشت ہونے لگتی تھی۔
’’نوشی چلو آج تم بھی ہمارے ساتھ فوج کے دستے دیکھنے جاؤ ۔ تم چوبیس گھنٹے گھر پر ہی پڑی رہتی ہے جلدی بڈھی ہو جاؤ گی ۔ کچھ ہلا جلا کر ‘‘اس کی ایک سہیلی جو اس سے ملنے آئی ہوئی تھی نے اسے اپنے ساتھ چلنے کو کہا۔’’نہیں میرا من باہر جانے کو نہیں کرنے رہا ۔ ویسے بھی مجھے فوجیوں سے کوئی دلچسپی نہیں ہے تم لوگ جاؤ میں پھر کبھی تمہارے ساتھ چلی جاؤں گی۔‘‘ اس نے انکار کر دیا۔ نوشین اس کا نام تھا مگر سب پیار سے نوشی ہے بلاتے تھے کیا اپنے کیا بیگانے سب اسے نوشی ہی کہتے تھے ۔ سہیلی کی کوششوں کے باوجود وہ نہیں مانی اس کی سہیلی چاہتی تھی کہ وہ باہر جا کر ان نوجوانوں کو دیکھے جو ملک کی سرحد کی حفاظت جان کی قیمت دے کر کرتے ہیں ۔ مگر نوشی بالکل بھی تیار نہیں تھی وہ اپنے فلسفے پر ڈٹی ہی رہی تھی اور یہی تو اس کی عادت بھی تھی جو ایک بار کہہ دیا اس سے مکرنا نہیں چاہے غلط ہے یا کہ صیح ہے۔مجبوراََ اس کی سہیلی کو اس کی ماں کے پاس فریاد لے کر جانا پڑا ’’ دراصل اس کا اپنا ایک بھائی آرمی میں تھا اور وہ نوشی کے ان خیالات کی بالکل مخالف تھی جو اس نے خود گھڑ لئے تھے وہ اس کو دکھانا چاہتی تھی کہ ان کا مقصد صرف اپنے ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرنا ہو تا ہے نہ کہ کسی کو مارنا یا امن کو تباہ کرنا۔’’دیکھیں نے چچی نوشی کتنے عرصے سے ہمارے ساتھ کسی بھی جگہ سیر کے لئے نہیں گئی میں پچھلے کئی دنوں سے اس کو کہہ رہی ہوں کہ ہمارے ساتھ فوجیوں کے دستے دیکھنے جائے مگر یہ ہے کہ نام ہی نہیں لے رہی ہے آپ ہی اسے سمجھائیں کہ ہمارے ساتھ چلے موسم بھی آج اچھا ہے ‘‘ اس نے نوشی کی شکایت اس کی ماں کے پاس لگاتے ہوئے کہا۔’’ہاں تم ٹھیک ہی تو کہہ رہی ہویہ تو میری بات بھی نہیں مانتی تمہاری کہاں مانے گی ‘‘ اس نے جواب دیا’’ ویسے آپ اسے سمجھائیں تو سہی نا‘‘’’ہاں بیٹی چلی جاؤ نا اب یہ اتنا تکرار کر رہی ہے اس میں تمہارا فائدہ زیادہ ہے اس کا تو کچھ خاص نہیں ہے اسے بس کمپنی کی ضرورت ہے۔اور چلنے پھرنے سے انسان کا ذہن صاف ہوتا ہے اس کی ذہنی تھکاوٹ دور ہوتی ہے اور یہ صحت کے لئے اچھا ہوتا ہے۔ …….‘‘نوشی کی ماں نے اس بہت زور دے کر اس بات کے لئے تیار کیا کہ وہ آج باہر جائے گی ۔ ’’اچھا امی جاتی ہوں آپ بھی آ جائیں تو اچھا ہے ‘‘ اس نے بے زاری کے باوجود اپنی ماں کو بھی ساتھ چلنے کی دعوت دے دی۔
’’نہیں بیٹا تم لوگ جاؤ اور اچھی طرح گھوم پھر کر واپس آجاؤ مجھے گھر پر کام ہے مین بڑی مشکل سے وہ نبٹاؤں گی ۔ اور ہاں ذرا دھیان سے رات کو خوب برف باری ہوئی ہے تو پھسلن بھی ہے ۔ خیال سے چلنا‘‘ اس کی ماں نے انہیں نصیحت کرتے ہوئے کہا۔
’’ٹھیک ہے موم! آپ بے فکر رہیں ہم بچیاں تو نہیں ہیں خود کو سنبھال سکتی ہیں……..‘‘نوشی نے دروازے سے باہر نکلتے ہوئے کہا۔ ’’خدا حافظ‘‘ اس کی ماں نے کچن سے ہی انہیں الوداع کہا۔
جنگ کی تیاریاں…..ڈرل کرتے فوجی….. لمبے بوٹوں والے…بڑے بڑے ٹرک …….جن کو دیکھ کر ہی خوف آتا تھا ’’بہر حال یہ سب بھی تو کسی ماں کے بچے ہی تو ہوں گے ناں‘‘ اس نے دل ہی دل میں سوچا چند لمحے وہ ان کے لئے اپنے بھائیوں جیسے جذبات محسوس کرتی رہی ۔ لیکن اگلے خیال نے اس کے ان خیالات کو جھٹک دیا۔’’پر پھر بھی یہ ظالموں کا ساتھ تو دیتے ہیں ………اور ظالموں کا ساتھ دینے والے بھی تو ظاہم ہی ہوئے نا۔شام کے سائے ارد گرد پھیل رہے تھے اسے کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا اسے وہاں پر بوریت محسوس ہو رہی تھی ۔ اس کو اس ماحول سے وحشت ہو رہی تھی حالانکہ وہاں اور بھی سیکڑوں لوگ تھے ۔ نوجوان لڑکے جو ان کے حق میں نعرے لگا رہے تھے ۔ بوڑھی عورتیں اور مرد جو ان کے لئے شفقت محسوس کر رہے تھے اور انہیں دل سے دعا دے رہے تھے ۔ جوان لڑکیاں جو ان کے لئے بہنوں جیسے جذبات محسوس کر رہی تھیں اور انہیں قوم کا ہیرو قرار دے رہیں تھیں ۔ بچے جو انہیں اپنے والدین جیسے عزت سے دیکھ رہے تھے والدین کی طرح بہرحال حفاظت تو وہ بھی کر رہے تھے ایک پورے ملک کی۔……….مگر اس سب کے باوجود اسے وہاں گھٹن محسوس ہو رہی تھی ۔ وہ وہاں سے بھاگنا چاہتی تھی ۔ کافی دیر تک وہ اپنی سہیلی کو کہتی رہی کہ آؤ واپس چلیں مگر وہ کچھ دیر اور کا کہہ کر اسے ٹال رہی تھی ۔ وہ اپنی جگہ سے نہ ہلی اور ایسا لگ رہا تھاکہ رات کی تاریکی چھا جانے تک اس کا یہاں سے ہلنے کا کوئی پروگرام بھی نہیں ہے۔……آخر تنگ آ کر وہ اکیلی ہی چل دی’’اچھا میں جا رہی ہوں تمہارا جب من کرے تم آ جانا‘‘
’’مگر نوشی ‘‘ وہ کچھ کہنا چاہتی تھی شاید کچھ دیر اور کا۔ مگر وہ رکنے والی نہیں تھی کیونکہ وہ مظبوط ارادے کی مالک تھی۔’’میں تم سے ناراض ہوں اب مجھ سے نہ بولنا‘‘بچپن کی ایک بری عادت جلدی ناراض ہو جانے کی ……اس نے لمبے لمبے ڈگ بھرتے ہوئے کہا۔
سہیلی کے مسلسل آوزیں دینے کے باوجود بھی وہ نہ رکی اور نہ ہی رکنے والی تھی ۔ بالآخر اس کی سہیلی بھی مجبو ر ہو کر اس کے پیچھے چل دی ۔ والدین کی اکلوتی ہونے کی وجہ سے نہ صرف اپنے اس کا خیال رکھتے تے بلکہ غیر بھی اسے عزیز سمجھتے تھے۔کچھ دیر سڑک پر سیدھا چلنے کے بعد ایک پکڈنڈی اس کے گھر کی طرف جاتی تھی ۔ بارہ فٹ چڑھائی پر سیڑھیاں بنی ہوئی تھیں اور آگے سیدھا راستہ تھا جہاں سے سیدھا راستا شروع ہوتا تھا وہاں پر ایک ڈھلان بھی تھی۔سارا راستہ اس نے سہیلی سے ایک بات بھی نہ کی اور مسلسل نارض ہی رہی جونہ سڑک چھوڑ کر وہ راستے پر چڑھی سیڑھیاں چڑھ کر وہ ڈھلان تک پہنچی مسلسل اس کے پیچھے دوڑنے کی وجہ سے اس کی سہیلی تھک چکی تھی اور اس سے چند قدم کے فاصلے سے آرہی تھی۔ ڈھلان پر پہنچ کر اس نے مڑکر سہیلی کی طرف دیکھاتو وہ ابھی نصف سیڑھیاں ہی چڑھی تھی۔اس کے چہرے پر فاتح مسکراہٹ دوڑ گئی کہ وہ تیز چل رہی ہے۔لیکن اگلے ہی لمحے اس کی مسکراہٹ خوف میں تبدیل ہو چکی تھی۔جونہی اس نے گھر کی طرف جانے کے لئے رخ موڑا ایک فوجی اس طرف سے آ رہا تھا فوجی سیدھا اس کی طرف آ رہا تھا ۔ خوف کے مارے اس کی چیخ نکل گئی فوجی اپنی چگہ پریشان ہو کر کھڑا ہو گیا شکل وہ صورت اور چال ڈھال سے وہ کوئی آفیسر لگ رہا تھا۔ خوف و دھشت کی وجہ سے اسے کچھ سجھائی نہ دے رہا تھا…….خوف اور دہشت کی وجہ سے وہ الٹے قدم واپس پلٹنے لگی اس کی آنکھیں باہر کو ابھر آئیں تھیں جیسے اس نے کوئی بلا دیکھ لی ہو پلٹتے پلٹتے وہ ڈہلان تک پہنچ چکی تھی فوجی اپنی جگہ ہکا بکا کھڑا تھا کہ اس لڑکی کو کیا ہو گیا ہے اچانک اس کی نظر پڑی کہ وہ بالکل ڈھلان کے سرے پر پہنچ چکی ہے اس نے اسے آواز دینا چاہی ……مگر اس کی آواز اس کے کانوں تک پہنچنے سے پہلے ہی وہ ڈھلان سے لڑھک چکی تھی۔….ڈھلان پر پہنچ کر وہ اپنا وزن برقرار نہ رکھ سکی دوسرا برف پر پھسلن بھی بہت زیادہ تھی اور وہ لڑھکتی ہوئی تقریناََ بارہ فٹ لڑھکنے کے بعد وہ واپس سڑک پر پہنچ چکی تھی …….فوجی نے جب دیکھا کہ وہ اس کے خوف کی وجہ سے لڑھک گئی ہے تو وہ وہیں سے چار پانچ چھلانگیں لگانے کے بعد اس تک پہنچ چکا تھا ۔ اس نے اٹھنے کی کوشش کی مگر بے سود کیونکہ اس کے سر میں شدید چوٹ آئی تھی ۔ …..اس کو دیکھتے ہی اس کی سہیلی بھی اس کی طرف لپکی تھی مگر اسے واپس سیڑھیاں اترتے ہوئے کافی وقت لگ گیا۔
ابتدائی طبی مدد کے بعد اس کے والدین کو اطلاع دی گئی جو کہ کچھ ہی وقت میں پہنچ گئے ۔ آرمی کیمپ میں اسے ایک مرتبہ ہوش آیا مگر اپنے ارد گرد فوجی دیکھ کر ایک مرتبہ پھر بے ہوش ہو گئی۔ میجر لیاقت جس کا سامنا کر کے وہ گری تھی اور بے ہوش ہو گئی تھی نے اپنی گاڑی میں اسے گھر پہنچایا اور وہیں اس کے پاس بیٹھ گیا۔ اس کے تمام رشتہ دار خبر ملتے ہی پہنچ گئے تھے۔ میجر لیاقت خود بھی پریشان تھا کہ آخر ایسی کیا وجہ ہو گئی کہ وہ اسے دیکھتے ہی پریشان ہو گئی اور پھر گری اور بے ہوش ہو گئی ساتھ ساتھ اسے چوٹ بھی پہنچی۔اس کے والد نے کہا’’دراصل یہ فوجیوں سے بہت ڈرتی ہے شاید یہی وجہ ہے کہ جب آپ اس کے سامنے آئے تو یہ اچانک گھبرا گئی اور پھر سب کچھ آپ کے سامنے ہے۔‘‘میجر لیاقت تیس بتیس سال کا ایک جواں سال آدمی تھا بھرا ہواچہرہ، بھوری آنکھیں اسے دیکھتے ہی کئی لڑکیاں اس کی راہ میں آنکھیں نچھاور کر سکتی تھی ۔ شاید یہ اس کی شخصیت ہی تھی کہ پندرہ سال میں وہ ترقی کر کے میجر کے عہدے تک پہنچ چکا تھا۔
’’ٹھیک ہے آپ ایسا کریں کہ مجھے اس گھر میں سے کسی کے کپڑے دے دیں ‘‘ اس نے اس کے والد کو کہا کیونکہ وہ ابھی تک وردی میں تھا۔ اس کا والد کافی پریشان تھا جب اس کہ سمجھ میں یہ نہ آیا کہ وہ کپڑے کیوں مانگ رہا ہے تو اس کی آنکھوں میں ایک سوال تھا ۔ ’’میں نے ایم ،اے سائیکالوجی کر رکھی ہے میں آج آپ کی بیٹی کا یہ ڈر ختم کرنے کی کوشش کرتا ہوں شاید میں کامیاب ہو جاؤں اگر کسی کے سول کپڑے مل سکیں تو ٹھیک رہے گا ورنہ یہ ہوش میں آتے ہی مجھے دیکھ کر دوبارہ بے ہوش ہو جائے گی ‘‘اس کا والد جو اس کے جانے کا انتظار کر رہا تھا کہ میجر جائے اور اس کی بیٹی کو ہوش آئے مجبور ہو کر اٹھا اور اس کے لئے اپنی ایک پتلون اور شرٹ لے کر آ گیا۔ چند لمحوں بعد میجر پہن کر آ گیا ۔ لباس میجر کو تھوڑا کھلا تھا مگر وہ سول کپڑوں میں وردی سے بھی زیادہ پرکشش لگ رہا تھا ۔ وہاں موجود سب ہی جوان لڑکیوں کا دل ایک مرتبہ دہل گیا مگر اس نے کسی پر کوئی خاص توجہ نہ دی۔
’’میجر کا شاید نوشی پر دل آ گیا ہے ۔ ورجہ جوان ہے ابھی اور ہم پر نظر کرم نہیں ڈال رہا ‘‘ نوشی کی ایک شوخ کزن جو وہاں موجود تھی نے ایک دوسری لڑکی کے کان میں کہا۔‘‘ ’’نہیں یار ایسی کوئی بات نہیں ہے ……ہے تو کمال مگر شکل سے شریف لگ رہا ہے‘‘اس نے چند لمحے سوچتے ہوئے کہا۔ ’’نہیں مجھے دال کالی لگ رہ ہے…..ورنہ اسے کیا پڑی تھی کہ وہ اس کے ساتھ یہاں تک آتا اور اب اس کا ڈر ختم کرنے کی کوشش کر نے لگا ہے‘‘اس نے کہا’’مجھے تو پوری دال ہی……کالی لگ رہی ہے ‘‘ایک او ر لڑکی نے کہا۔اسی دوران میجر کو ڈرائنگ روم میں بٹھا دیا گیا تھا کیونکہ نوشی کی حالت قدرے بہتر ہو رہی تھی۔ چند لمحوں بعد میجر نے نوشی کی والدہ اور والد دونوں کو بلایا ’’سر گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے ……‘‘ اس نے چند لمحے سوچتے ہوئے کہا،’’وہ کل تک بالکل ٹھیک ہو جائے گی………مجھے معلوم نہیں تھا کہ مجھے یہاں ایسے حالات پیش آ سکتے ہیں ۔اب میں محاذ جنگ پر جا رہا ہوں ……میں آپ کی رائے جاننا چاہتا ہوں…….اگر آ پ اجازت دیں تو میں واپس آ کر آپ کے اپس اپنے گھر والوں کو بھیجنا چاہوں گا‘‘اس نے جھجکتے کہا۔ نوشی کے والد اور والدہ نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا کچھ دیر نوشی کے والد نے خاموش رہنے کے بعد کہا’’ہم اتنی جلدی کچھ فیصلہ نہیں کر سکتے ۔ نوشی ہماری اکلوتی بیٹی ہے اور وہ کافی آزاد خیال بھی ہے اور معصوم بھی ۔ اتنا اہم فیصلہ ہم اس کی مرضی کے بغیر نہیں کر سکتے ۔ اور آپ تو جانتے ہیں کہ وہ فوجیوں سے پہلے ہی بہت خوفزدہ رہتی ہے اور آج کا حادثہ جانے اس پر کیسا اثر ڈالے گا۔………..اور شادی کا فیصلہ اتنی جلدی ممکن بھی نہیں ہوتا کیونکہ یہ دو خاندانوں کا ایک ہونا ہوتا ہے اور دو انسانوں کی زندگی بھر کا فیصلہ ہوتا ہے ……تاہم پھر بھی اگر نوشی خود ہاں کرتی ہے تو ہم اس بارے میں سوچ سکتے ہیں۔‘‘ ’’میں آج اس کا خوف مٹانے کی کوشش کرتا ہوں ….شاید میں کامیاب ہو جاؤں ….صبع ہمارا کاروان سرحد کی طرف نکل جائے گا اور میں نہیں جانتا کہ وہاں کتنا عرصہ لگ جائے گا۔اگر آپ کی طرف سے ہاں ہو تو میں اپنے والدین کو بھیج دوں وہ میر ے بارے میں آپ کو شاید بہتر بتا سکیں‘‘ ’’ٹھیک ہے آپ کوشش کر کے دیکھ لیں ……‘‘ نوشی کے والد نے اٹھتے ہوئے کہا۔
کچھ دیر بعد نوشی ہوش میں آ گئی اب وہ پہلے سے کافی بہتر تھی ۔ اس دوران میجر مہمان خانے میں ہی بیٹھا رہا ۔ جب اس کو ہوش میں آنے کی اطلاع دی گئی ۔ تو اس نے نوشی کے والدین سے اس کے سامنے جانے کی اجازت طلب کی ۔ وہ کشمکش میں تھے کہ کہیں کچھ اور مسلۂ نہ ہو جائے کافی دیر سوچنے کے بعد انہوں نے میجر کو اس کے سامنے جانے کی اجازت دے دی اکلوتی اولاد ہونے کی وجہ سے وہ اس کے معاملے میں کافی حساس تھے ۔
نوشی کے نظر ایک اجنبی پر پڑی تو اس نے اپنے ذہن پر زور ڈالا کہ اس نے اس کو کہیں دیکھا ہوا ہے مگر اسے یاد نہیں آ رہا تھا کہ کہاں دیکھا ہے ۔ تاہم اس کو دیکھ کر اس نے کوئی خاص رد عمل ظاہر نہیں کیا۔اس کے ہوش میں آنے اور میجر کا اس کے سامنے آنے تک نوشی کی کزنز نے میجر کی تعریف میں زمین و آسمان کی قلابیں ملا دیں تھیں مگر اسے نہیں بتایا گیا تھا کہ وہ یہاں موجود ہے شاید یہی وجہ تھی کہ اس نے کسی خاص رد عمل کا اظہار نہیں کیا۔’’اب آپ کی طبیعت کیسی ہے…..‘‘ میجر نے اس سے پوچھا تو اس نے سوچا شاید کوئی ڈاکٹر ہے ۔ ’’جی اب بہتر ہوں‘‘اس نے جواب دیا۔ ’’ مجھے پہچانا ….؟‘‘میجر نے چند لمحے توقف کے بعد پوچھا۔ وہ اپنے دماغ پر زور دے رہی تھی اسے اتنا تو یاد آ رہا تھا کہ اسے پہلے بھی کہیں دیکھا ہوا ہے مگر یہ یاد نہیں آ رہا تھا کہ کہاں دیکھا ہے ۔ اس کی کزنز اور سہیلیوں نے اس کی اتنی تعریف کر دی تھی کہ اس کو دیکھتے ہوئے نوشی ایک لذت سی محسوس کر رہی تھی ۔ ’’نہیں‘‘ اس نے کچھ دیر سوچنے کے بعد جواب دیا ’’شاید کچھ دیر میں پہچان جاؤ ۔ دیکھو تمہارا یہ جو ڈر ہے اس کی کوئی خاص وجوہ نہیں ہے یہ ایک ایسا وہم ہے جسے تم اپنے دماغ میں لے کر بیٹھ گئی ہو ایک آدمی اگر تمہارے سامنے عام کپڑوں میں آتا ہے تو تم اس سے بالکل بھی نہیں گھبراتی تمہاری خود اعتمادی برقرار رہتی ہے مگر جب وہی آدمی تمہارے سامنے آرمی وردی میں آتا ہے تو تم ڈر جاتی ہو۔ ‘‘نوشی کو اچانک یاد آیا کہ ہاں اسی آدمی کی ایک جھلک تو اس نے دیکھی تھی ’’تو …آ….آ…..آپ وہی ہیں ۔‘‘’’ہاں میں وہی ہوں جسے تم نے فوجی وردی میں دیکھا تھا ۔اوراب عام کپڑوں میں دیکھ رہی ہو ۔ ایک فوجی ایک بیٹا بھی ہوتا ہے بھائی بھی اور…….شوہر بھی ….!‘‘ اس نے کہا بہتر ہو گا اب تم کسی فوجی سے نہ گھبراؤ ۔ نوشی کی سمجھ میں اس کی بات آ گئی تھی وہ سوچ رہی تھی کہ وہ ٹھیک ہی تو کہہ رہا ہے ۔ میجر نے اسے ایک نظر سے دیکھا تو اسے محسوس ہوا کہ یہ نظر اس کے سینے تک چلی گئی ہے اس کے دل کی دھڑکنیں یکدم تیز ہو گئیں۔ کچھ دیر بعد میجر اپنی وردی پہن کر آ یا تو نوشی بالکل بھی نہیں گھبرائی ۔ میجر کا علاج کامیاب رہا تھا ۔جاتے وقت میجر نے اس کے والدین کو بتایا کہ وہ کل ان کی اور نوشی کی رائے جاننے آئے گا۔
دوسری صبح یہ کانوائے سرحد پر جانے کے لئے تیار ہو چکا تھا ۔ دشمن سے ٹکرانے کا جذبہ اور وطن کے محافظ ہونے کا غرور ان کے دلوں میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا ہر سپاہی محسوس کر رہا تھا کہ وہ ایک فوج سے نہیں بلکہ ایک ملک سے ٹکرانے جا رہا ہے اور اسے ہر حال میں فتح یاب ہونا ہے ۔ رات کو نوشی کی طبیعت مکمل ٹھیک ہو نے کے بعد اس کے والد ین اس سے پوچھ چکے تھے اور اس کی طرف سے بھی ہاں تھی ۔ میجر ان کے گھر تک پہنچا تو نوشی نے ہی دروازہ کھولا وہ جلد ہی شرما کر اپنے کمرے میں چلی گئی میجر نے وہیں سے اس کے والد سے جواب لیا اور واپس لوٹ آیا۔ جواب مثبت تھا۔
’’آہ !تم کبھی لوٹ کر نہیں آئے ‘‘ اس نے کروٹ بدلتے ہوئے کہا اچانک ہی اس کو اپنی دل کی دھڑکن تیز ہوتی محسوس ہوئی ۔ ایک ٹھیس سی دل میں اٹھی اور پورے جسم میں سرائیت کر گئی ۔ ماضی کے حسین یادوں میں کھوئے اسے نہ جانے کب نیند آ گئی ۔
اس کی آنکھ اس وقت اچانک کھل گئی جب اسے اپنے دل پر ایک ناقابل برداشت بوجھ محسوس ہوا ۔ اس کے دل کی دھڑکنیں بے قابو ہورہیں تھیں۔ اس نے اٹھنے کی کوشش کی مگر اٹھ نہ سکی ۔ اس نے خادمہ کو آواز دی ۔ دو تین مرتبہ آواز دینے کے بعد اس کی خادمہ آنکھیں ملتی ہوئی پہنچی ۔ ’’مجھے کچھ ہو گیا ہے ‘‘ اس نے کراہت سے کہا۔ صبح تک اس کی طبیعت مذید بگڑ چکی تھی اور اسے کو ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا۔ ہسپتال پہنچتے پہنچتے وہ کئی مرتبہ بے ہوش ہوئی اور پھر ہوش میں آئی ……..اسٹریچر پر رکھے ہوئے ایکدم اسے یوں محسوس ہوا جیسے اس کے پورے جسم سے جان نکل گئی ہو جونہی اسے ہوش آیا تو اس کے سامنے سے دوسرے سٹریچر پر ایک ہیولا سے انظرآیا …..ایک جانا پہچان…..معلوم سی شکل والا ہیولا۔ مگر وہ اس سے پہلے کے اس ہیولے کی طرف اٹھ کر لپکتی اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا اور وہ پھر بے ہوش ہو گئی ۔
بے ہوشی کے عالم میں وہ کسی کو پکار رہی تھی مگر یہ کسی کو بھی معلوم نہیں تھاکہ وہ کون ہے ……..ڈاکٹر شائستہ کچھ دیر یوں ہی پریشان کھڑی اسے دیکھتی رہی اور اس نے سب کو باہر نکلنے کا حکم دیا دیا …چند ہی لمحوں میں کمرہ خالی ہو چکا تھا اب وہاں تین مریضوں کے علاوہ صرف ڈاکٹر شائستہ ہو موجود تھی ۔ ڈاکٹر نے اسے انجیکشن دیا اور واپس پلٹنے لگی …..لیکن اس کی نحیف سے آواز نے اسے راک دیا ۔
ڈاکٹر شائستہ ہشپتال کی ریسیپشن پر پہنچی اور فوراََ ہی رجسٹر کھنگالنے لگی ……..چند لمحوں بعد ہی اس کی نظر ’’میجر(ر)لیاقت حسین ‘‘ کے نام پر پڑی اس نے وارڈ نمبر معلوم کے اور واپس لوٹ آئی اس وقت تک نوشی کے چند قریبی رشتہ دار بھی پہنچ چکے تھے ۔ ’’مبارک ہو ….!اس نے آتے ہی کہا ، آپ کا انتظار ختم ہوا ‘‘ اس نے نوشی کو کہا تو وہ اچھل کر بستر سے نیچے آگئی جیسے بلکل ہی نوجوان ہو اور اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکی ۔
شام تک سارے ہسپتال میں یہ خبر پھیل چکی تھی کہ چالیس سال سے بچھڑے دو پیار کرنے والے مل گئے ہیں ۔ میجر لیاقت سرحد پر دشمن سے لڑ رہا تھا کہ اس کی ٹانگ میں گولی لگ گئی ۔ زخم شدید تھا اور ہڈیاں ٹوٹ چکی تھیں زہر پھیلنے کے خدشے کے پیش نظر ڈاکٹروں نے اس کی ٹانگ کاٹ دی ۔ اس کی انا نے گوراہ نہ کیا کہ وہ کسی پر بوجھ بن کر زندگی بسر کرے ۔ واپس گھر آنے کے بعد وہ فوج میں دوبارہ جانے کے قابل نہیں رہا تھا اس نے کئی مرتبہ سوچا کہ وہ نوشی کی خیر خبر ہی معلوم کر لے مگر اس نے یہ ارادہ صرف یہ سوچ کر ترک کر دیا کہ اب وہ شادی کر چکی ہو گی اور اس کا اس کے سامنے جانا مناسب نہیں ہو گا ۔
شام تک دونوں صحت یاب ہو کر واپس گھر لوٹ آئے تھے ۔ ایک مولوی نے ان کا نکاح پڑھوایا ۔ اس وقت جب دنیا ایک ایسے جوڑے کی شادی کے بارے میں پڑھ رہے تھے جو چالیس سال ہجر کی زندگی گزارنے کے بعد وصل کی لذت حاصل کر سکا تھا ان لمحات میں وہ وصل سے بھر پور استفادہ حاصل کر رہے تھے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں