12

کٹھہ پیراں۔۔۔ خوبصورت تاریخی وادی

13626340_1985444391681969_8266911872419441918_nجواداحمدپارس

قدرت نے ہمالیہ اور اس کے دامن میں پھیلے ہوئے علاقوں کو نہایت ہی خوبصورت اور دلکش بنایا ہے۔ ان علاقوں کی خوبصورتی نظروں کو خیرہ کر دیتی ہے ہمالہ ہی کے دامن میں قدرت نے ریاست جموں کشمیر کو بنایا جسے دیکھتے ہی انسان اسے جنت عرضی پکار اٹھا ۔ ریاست جموں کشمیر خوبصورت وادیوں کا مسکن ہے جہاں ہر نئی سمت میں ایک نئی وادی اور اس کے چشمے ابل رہے ہوتے ہیں ۔ وادی نیلم انہی وادیوں میں سے ایک وادی ہے جو پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں پاکستان کے باسیوں کے لیے گزشتہ چند سالوں سے سیاحت کی دلنشین وادی بنی ہوئی ہے گرمی کے ستائے لاکھوں لوگ گزشتہ پانچ سالوں سے ہر سال اس وادی کا رخ کرتے ہیں جس کے ابلتے چشمے، بہتی ندیاں ، گرتی آبشاریں، خوبصورت پہاڑیاں، اونچائیوں پر ایستادہ لمبے لمبے درخت اور سب سے بڑھ کر سرسبز پربت لوگوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتے ہیں ۔ نیلم ویلی میں درجنوں ذیلی وادیاں پوشیدہ ہیں جنہیں ابھی تک سیاحت اور سیاحوں کی آوارہ گردی سے محفوظ رکھا گیا ہے۔ یہ وہ مخفی خزانے ہیں جن کو کھوجنا نیلم ویلی کے محققین ، تاریخ، جغرافیہ اور اسرار قدرت سے دلچسپی رکھنے والوں کا فرض ہے ان وادیوں میں چند مشہور ذیلی وادیوں کے علاوہ چھوٹی چھوٹی وادیاں بھی ہیں جو نہ صرف سیاحت کے لئے کشش رکھتی ہیں بلکہ اس علاقے کے لوگوں کے لیے معیشت کا سامان بھی کر سکتی ہیں۔ انہی وادیوں میں سے ایک وادی کٹھہ پیراں کی بھی ہے۔
مظفرآباد سے آتے ہوئے تقریبا 72 کلو میٹر کے بعد اٹھمقام سے ایک کلو میٹر پہلے ایک ذیلی سٹرک پلنگ کے مقام پرباقی دنیا کو کٹھہ پیراں سے جوڑتی ہے۔ یوں جغرافیائی لحاظ سے یہ ضلعی ہیڈ کوارٹر سے تقریباََ دو کلو میٹر پہلے شمال مغرب میں پڑتی ہے جس کا بہتا ہوا تازہ میٹھے پانی کا نالہ شاہکوٹ کے قصبے کے درمیان سے بہتا ہوا دریائے کشن گنگا’’نیلم‘‘ تک پہنچتا ہے۔
کٹھہ پیراں بھی دیگر وادیوں کے طرح خوبصورت اور پربہار ہے اس کے مشرق میں دریائے نیلم کے کنارے آباد چھوٹا سا قصبہ پلنگ ہے مغرب میں ہمالہ پہاڑی سلسلے کا خوبصورت پہاڑ ’گنجا پہاڑ‘ شمال میں ’چنجھاٹھ‘ کا خوبصورت گاؤں جبکہ جنوب میں نیلم وادی کا ضلعی ہیڈ کوارٹر اٹھمقام واقع ہے۔ رقبے کے لحاظ سے یہ وادی بیس سے پچیس کلو میٹر لمبی پٹی کی شکل میں ہے ۔
کٹھہ پیراں کو یہ منفرد مقام حاصل ہے کہ اس میں ضلع نیلم کی قدیم ترین سڑک بنائی گئی تھی جس پر چلنے کے لیے گاڑیوں کے پرزے گھوڑوں، خچروں اور گدھوں پر لاد کر لائے گئے تھے اور ان گاڑیوں کے لیے ڈیزل بھی ایسے ہی لایا جاتا تھا اس وقت جموں کشمیر ایک خوبصورت ملک تھا جس کا حکمران ہری سنگھ تھا۔ بزرگوں کا کہنا ہے کہ سڑک انتہائی ہموار بنائی گئی تھی اس پر چلنے والے ٹرک بہت ہی نازک تھے جن پر دیودار کی لکڑیاں (جنہیں مقامی زبان میں ’’گیلیاں ‘‘کہتے ہیں) لائی جاتی تھی۔ سڑک کو صاف رکھنے کے لئے باقدہ قلی رکھے گئے تھے جو اس کی روزانہ کی بنیاد پر صفائی کرتے تھے اور اس بات کا خیال رکھتے تھے کہ کہیں کوئی پتھر یا بڑی لکڑی سڑک میں نہ ہے۔ یہ گیلیاں اس وقت پلنگ کے مقام سے نیچے دریائے نیلم میں پھینکی جاتی تھیں جہاں سے یہ مظفرآباد تک دریا کے ذریعے پہنچتی تھیں ۔
تاریخ اور وجہ تسمیہ:
تاریخی اعتبار سے کٹھہ پیران کو کم و بیش ڈھائی سو سال قبل عبدالمجید نامی ایک بزرگ نے آباد کیا تھا جو افغانستان سے ہجرت کر کے تبلیغ اسلام کے سلسلے میں یہاں آباد ہوئے تھے پہلے وہ شاہکوٹ کے مقام پر رہا کرتے تھے جب انہوں نے اسی علاقے میں رہ کر تبلیغ اسلام کا مصمم ارادہ کر دیا تو ان کو کٹھہ پیراں کی خوبصورت وادی دے دی گئی کہ اس میں جہاں چاہیں آباد ہو جائیں اور تبلیغ کریں انہوں نے یہاں سکونت اختیار کرتے ہی افغانستان سے اپنے دو بیٹوں کو بھی بلا لیا اور انہیں بھی اپنے ساتھ یہیں آباد کر لیا اس وقت یہاں فقط جنگل تھا اور درمیان سے ایک خوبصورت نالہ بہتا تھا ۔ نالے کو ہندکو /پہاڑی زبان میں کٹھہ کہتے ہیں چونکہ ان کے معتقدین اور مرید دور دراز علاقوں میں بھی رہتے تھے اس لیے شنید ہے کہ اس نسبت سے اس وادی کا نام ’’کٹھہ پیراں ‘‘ پڑ گیا ۔ ان کی اولاد آج بھی اسی نالے میں آباد ہے اور ’’افغانی ‘‘ آزاد کشمیر کے سابق وزیر مفتی منصور الرحمن انہی کی اولاد میں سے ہیں۔کتل کے مقام پر ان کی قبر ہے جس پر زیادہ تعمیر کی گئی ہے آج سے قریبا بیس سال قبل تک ہر سال ان کا عرس بھی منایا جاتا تھا مگر اب نہیں منایا جا رہا ہے۔
قریبا چالیس سال قبل کٹھہ پیراں کو اس علاقے میں ایک صنعتی قصبے کی حیثیت بھی حاصل تھی۔ کٹھہ پیرا ں آتے ہوئے سب سے پہلا گاؤں کٹلی پڑتا ہے جس کو یہ منفرد حیثٰت حاصل ہے کہ یہاں پر پانچ سال قبل تک مٹی کے برتن بنائے جاتے تھے جو کہ پورے آزاد جموں کشمیر کے علاوہ مانسہرہ اور شمالی علاقہ جات تک فروخت کے لئے لے کر جائے جاتے تھے۔ مٹی کے برتن بنانے والا خاندان خود کو مغل کہلانا پسند کرتے ہیں راقم کا خیال ہے کہ جب مغلوں پر دہلی کو تنگ کر دیا گیا تو مغل خاندان برصغیر پاک و ہند کے دور دراز علاقوں میں پھیل گیا یہ خاندان بھی تبہی آ کر یہاں آباد ہو گیا ہو گا اور اس نے ضروف سازی کی صنعت کو پروان چڑھایا۔ پچھلے سال ہی اس خاندان کا وہ آخری سپوت بھی اس دنیا سے کوچ کر گیا جس کے بعد اب اس فن کو جاری و ساری رکھنے والا کوئی نہیں ہے۔ ضروف سازی کے پیشے سے وابستہ ہونے کی وجہ سے اس محلے کے لوگوں کو اب بھی ’کمہار‘ ہی کہا جاتا ہے لیکن نسل نو یہ فن اور اس کو بطور پیشہ ترک کر چکی ہے۔
گٹلی کے بعد کٹھہ پیراں کے دیگر تین محلے ویشڑی، کتل اور جینگ بالترتیب آتے ہیں کتل میں ہی کٹھہ پیراں کا اور غالبا وادی نیلم کے بڑے قبرستانوں میں سے ایک قبرستان ہے جس نے کافی بڑے رقبے کو گھیرا ہوا ہے یہاں پر ہی اس علاقے کو آباد کرنے والے بابا عبدلمجید بھی مرجع خلائق ہیں انہی کی زیارت کے ارد گرد یہ پورا قبرستان آباد ہے اس قبرستان میں موجود بہت پرانی قبروں سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس علاقیکو آباد ہوئیتین سو سال سے بھی زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہو گا کم از کم بارہ سے پندرہ نسلوں کے لوگ یہاں مدفون ہیں۔ اب اس قبرستان میں جگہ ختم ہو گئی ہے لہذا اب نئی قبرستان بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
کٹھہ پیراں میں 1952میں پرائمری اسکول کی بنیاد رکھی گئی تھی جسے 2005میں ہائی اسکول کا درجہ دیا گیا اس اسکول کی عمارت اب چھل کے مقام پر ہے ’’چھل‘‘ ہندکو یا پہاڑی زبان میں ایک ایسے جال کو کہتے ہیں جسے پنچھیوں کو پکڑنے کے لیے پھیلایا جاتا ہے۔ اس کے لیے ایک گہرا گڑھا کھودا جاتا تھا جسے درختوں کی ٹہنیوں سے ڈھانپ دیا جاتا تھا جس میں پنچھی اور جنگل کے دیگر جانور پھنس جاتے تھے ۔ شکار کا یہ منفرد طریقہ آج بھی یہاں پر رائج ہے چھوٹی چھوٹی چڑیوں کو پکڑنے کے لیے اب بھی یہاں کے بچے ایسی طریقے استعمال کرتے ہیں خصوصا سردیوں میں۔ اسکول کی عمارت کے عقب میں مسجد بھی ہے جبکہ اسکول کے سامنے ایک وسیع گراؤنڈ ہے جسے کئی دفعہ بنانے کے لئے سروے بھی کیا گیا مگر تاحال حکومتی زعما کی توجہ کا طالب ہے۔ یہاں پر تقریبا ڈھائی سو سال پرانی ایک مسجد بھی تھی جس کے ستون دیودار کی لکڑی کے بنے ہوئے تھے جن پر عمدہ قسم کی کشیدہ کاری کی گئی تھی حال ہی میں مسجد کو گرا کر اس کی جگہ نئی مسجد تعمیر کی گئی ہے۔ یہ مسجد فن تعمیر کا ایک اعلی نمونہ تھی۔
دیگر محلوں میں بیلہ، چھری، چوٹا اور بیکڑی واقع ہیں ۔ چوٹا ہندکو زنان میں سیب کو کہتے ہیں اس محلے کا نام چوٹا پڑنے کی وجہ بھی یہی ہے کہ کسی زمانے میں کٹھہ پیراں خوبصورت اور لذیذ سیبوں کی وجہ سے بھی مشہور تھا ۔
اس کے بعد ٹکی پیراں کا خوبصورت علاقہ آتا ہے جس کے ساتھ ہی اک چھوٹا سا نالہ انی شنگی کے نام سے کٹھہ پیراں کے نالے میں شامل ہوتا ہے۔ کٹھہ پیراں کا اگلا گاؤں لڑی مینگل ہے قریبا پانچ سو سے سات سو کی آبادی پر مشتمل یہ دو محلے ہیں جو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے اس کا نام لڑی مینگل پڑ گیا ہے۔
لڑی مینگل کے بعد سنجلی کا چھوٹا سا محلہ ہے جہاں سے مستقل آبادی تقریبا ختم ہو جاتی ہے اور آگے بہکیں (ڈھوک) شروع ہو جاتی ہیں ۔ یہاں ایک جگہ قارئیں کے لیے دلچسپی سے خالی نہیں ہو گی جسے کے بارے میں سینہ بسینہ چلنے والی روایات میں کہا جاتا ہے کہ یہ دیووں نے بنایا ہے اس جگہ کا نام ’’شوہاڑے‘‘ ہے جو دراصل دو بڑے بڑے غاروں پر مشتمل ہے جن کے دہانے بہت بڑے ہیں غالبا ماضی بعید میں اس جگہ کو رہائش کے لیے استعمال کیا گیا ہو گا اب یہ غار تقریبا بھر چکے ہیں مگر اب بھی ان کے نشانات باقی ہیں ایسا لگتا ہے کہ پہاڑی کو کاٹ کر اس کے اندر گھر بنایا گیا تھا۔

14907603_2046967002196374_7430103260851652594_n

یہاں سے آگے صرف گرمیوں میں آبادی ملتی ہیں سردیوں میں یہ علاقے برف کی چادر اوڑھ لیتے ہیں ۔ ان جگہوں میں باگر، برٹھاٹھ ، کلکور، زیارت، دومیلی اور کھوڑی شامل ہیں۔ یہ سب علاقے نہایت ہی خوبصورت ، پرکشش اور ہر قدم پر ٹھنڈے میٹھے پانی کے چشموں سے بھر پور ہیں۔ زیارت انہی علاقوں میں سے ایک جگہ ہے یہ چھوٹی سی جگہ ہے جس کے ارد گرد پتھروں سے دیوار لگا کر بند کر دیا گیا ہے اور توہم پرست اس پر جھنڈے بھی لگاتے رہتے ہیں یہاں عجیب بات یہ ہے کہ سیب کا ایک ہی درخت ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس پر آدھا سیب لگتا ہے جس کو کوئی کھا نہیں سکتا مگر راقم نے جتنے لوگوں سے استفسار کیا کسی نے آج تک اس سیب کو دیکھا نہیں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس مقام پر ایک لڑکی اور لڑکے کو قحط کے زمانے میں شہید کر دیا گیا تھا۔ دومیل میں کٹھہ پیراں کے دو مختلف نالوں کا نہایت ہی دلچسپ اور خوبصورت سنگم واقع ہے جسے دیکھ کر بقول ایک دوست ایمان تازہ ہو جاتا ہے
ایک اور مقام جو کہ گٹلی سے پانچ منٹ کے فاصلے پر ہے شہید کہلاتا ہے کے بارے میں کہا جاتا ہے یہاں پر ایک عورت کو دو مردوں نے قحظ کے زمانے میں دو روٹیوں کی وجہ سے قتل کر دیا تھا جب اس کی پوٹلی کھولی گئی تو اس میں سے روٹیاں نہ ملیں ۔
کٹھہ پیراں کی بہکوں میں برتھی، گوالڈوری، جبڑی، سلاں ، ڈوکہ اور اکلارائی مشہور ہیں جہاں پر کٹھہ پیراں کے علاوہ گرمیوں میں لوگ شاہکوٹ، اٹھمقام، باٹا، پالڑی، پلنگ اور کیاں شریف کے لوگ اپنے مال مویشی لے کر آتے ہیں ۔ ماضی قریب میں کٹھہ پیراں میں زیادہ تر لوگوں نے ضروریات زندگی پورا کرنے کے لیے بھیڑ بکریاں پال رکھی تھیں اور کھیتی باڑی کیا کرتے تھے۔ پھر صنعتی دور شروع ہوا تو یہ لوگ روزگار کے سلسلے میں کراچی ، لاہور اور فیصل آباد جانے لگے ۔ یہاں کے لوگ جنگل سے مختلف جڑی بوٹیاں حاصل کر کے بھی بیچتے ہیں جن میں مشروم (گچھی) اہم ہے جس کے عوض لاکھوں روپے کی آمدن ہوتی ہے جبکہ اس علاقے کے کئی لوگ روزگار کے سلسلے میں بیرون ممالک بھی مقیم ہیں۔
کٹھہ پیراں کی آبادی کم و بیش چار ہزار افراد پر مشتمل ہو گی ۔ حالیہ انتخابات میں اس وادی کے تقریبا 2850کے لگ بھگ ووٹ تھے۔ یہاں شرح خواندگی تقریباََ نوے فیصد ہے زیادہ تر لوگ ملازمت پیشہ ہیں جو کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر میں اہم عہدوں پر اپنی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں۔ سب سے زیادہ تعداد اساتذہ کی ہے جبکہ دوسرے نمبر پر صحت سے شعبے سے منسلک افراد ہیں۔ کٹھہ پیراں میں اس وقت ایک پی ایچ ڈی بھی موجود ہے جبکہ آٹھ ڈاکٹر نیلم کی سیٹ سے ایم بی بی ایس کر کے مختلف جگہوں پر اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔
کٹھہ پیراں کے لوگونہ بھینسیں پالتے ہیں اور نہ ہی ڈھول بجاتے ہیں اس حوالے سے لوگوں کا ماننا ہے کہ یہاں پر بھینسوں کو بدعا دی گئی تھی اور ڈھول بجانے پر ممانعت کی گئی تھی جس کے بعد اس علاقے میں ڈھول بجانے سے وہ پھٹ جاتا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ اس علاقے کے پیر صاحب ایک دفعہ نالے میں نہا رہے تھے ان سے کچھ ہی فاصلے پر چند بھینسیں نالے میں گھس گئیں جس کی وجہ سے انہوں نے بددعا دی کہ اس علاقے میں دوبارہ کبھی بھینسیں پھل پھول نہ سکیں۔
ایک اور روایات جو سینہ بسینہ چلتی آئی ہے کہتے ہیں کہ ایک دفعہ یہان کے پیر صاحب لوہار کی دوکان پر بیٹھے ہوئے تھے اس وقت کشمیر پر خالصہ سرکار کا راج تھا جو کہ لگان وصول کرنے اپنے کارندے بھیجتے تھے یہ لوگ لگان وصول کرنے کے ساتھ ساتھ یہاں سے خوبصورت لڑکیوں کو لے جاتے تھے جب پیر صاحب کو معلوم ہوا کہ سکھوں کے کارندے لڑکیوں کو لینے آ رہے ہیں تو انہوں نے سلگتا ہوا لوہا اٹھا کر اپنے سینے سے لگا لیا جس کی وجہ سے سکھ جہاں پر تھے وہیں جل کر بھسم ہو گئے۔
کٹھہ پیراں کے جنوب مشرق میں اٹھمقام کے بالکل سامنے ایک منفرد پہاڑی ہے جہاں سے مختلف قسم کے مٹی کے ٹوٹے ہوئے برتنوں کے ٹکڑے صاف نظر آتے ہیں جبکہ کئی ایک مقامات پر پتھروں سے دیواریں بھی لگائی گئی ہیں جو کہ کافی قدیم لگتی ہیں یہاں کے لوگوں کا خیال ہے کہ اس جگہ پر بہت بڑا خزانہ دفن ہے ۔ یہ جگہ ماہرین آثار قدیمہ کے لیے دلچسپی کا باعث ہو سکتی ہے اس سے نہ صرف اس علاقے کی تاریخ کو کھود کر نکالا جا سکتا ہے بلکہ یہ پوری وادی نیلم کے تاریخی حقائق جاننے کے لیے ایک اہم پیش رفت ہو سکتی ہے۔
کٹھہ پیراں کا نالہ بھی اس حوالے سے منفرد حیثٰت رکھتا ہے کہ اس میں نیلم ویلی کا قدیم ترین آبپاشی نظام آج بھی کام کر رہا ہے ارد گرد موجود دیہات اور قصبے آج بھی اس کے ٹھنڈے میٹھے پانی سے فیض یاب ہو رہے ہیں۔ پینے کا پانی پائپوں کے ذریعے لے جایا گیا ہے جبکہ کھیتوں کو دینے کے لیے پانی کی الگ سے نہریں بنائی گئی ہیں جن میں طویل ترین نہریں بھی ہیں جو کہ سنگلاخ پہاڑوں اور کھائیوں سے نکال کر منزل مقصود تک پہنچائی ہوئی ہیں، نہر کو مقامی زبان میں “مہیڑیا کُوول” بھی کہا جاتا ہے۔ ان نہروں کو دیکھ کر انسان انگشت بدنداں رہ جاتا ہے کہ کئی سو سال قبل انسان اتنے مشکل پہاڑوں کو کاٹ کر یہ نہریں کیسے اپنے اپنے کھیتوں تک لے گیا ہے۔ کٹھہ پیراں کی سب سے لمبی نہر کنڈالشاہی اور چنجاٹھ کو سیراب کرتی ہے۔ اس کے علاوہ باٹا، شاہکوٹ، پلنگ اور اٹھمقام کے قصبوں کو بھی اسی نالے سے پانی ملتا ہے۔ کٹھہ پیراں کے قصبے میں بھی چھوٹی چھوٹی نہریں ہیں جبکہ یہاں پر سب سے طویل نہر”جینگ ” کی ہے۔ جو اپنے مشکل راستے کی وجہ سے منفرد حیثیت رکھتی ہے۔ کچھ عرصہ قبل اس نالے پر بجلی بنانے کا آغاز بھی کیا تھا مگر 2010 کے سیلاب نے اسے تباہ کر دیا جس کے بعد مقامی لوگوں نے اس طرف توجہ نہیں دی۔
یہاں ہر قسم کی سبزیاں کاشت کی جاتی ہیں ربیع اور خریف کی تقریبا تمام فصلیں یہاں کاشت ہوتی ہیں۔ کنجی، لانگڑو اور دیگر سبزیاں ہر سال لوگ جنگل سے حاصل کر کے خشک کر لیتے ہیں جن کو سرما میں استعمال کیا جاتا ہے ۔مکئی کی روٹی، ساگ(خاص کر لونسرونڑی کا ساگ)، اخروٹ کی چٹنی اور لسی یہاں کی موغوب غذا ہے۔ پھلوں میں اعلی قسم کا سیب، ناشپاتی، خوبانی، آلو بخارا، چکنار، چیری(غلاس) اور دیگر پھل مشہور ہیں جبکہ اعلی قسم کا اخروٹ ایک الگ پہچان رکھتا ہے اور اپنی مثال آپ ہے۔ یہاں پر اعلی پائے کی دیودار کی لکڑی بھی پائی جاتی ہے یہاں کے لوگوں نے لکڑی کا استعمال کر کے اپنے گھروں کو نہایت ہی خوبصورت بنایا ہوا ہے۔ اس لکڑی سے خوبصورت فرنیچر تیار کیا جاتا ہے جس کا چرچا بین الضلاع اور پاکستان میں بھی ہے۔
بدقسمتی سے کٹھہ پیراں کی تقریبا پندرہ کلو میٹر سڑک کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے ۔ جس کو مکمل تعمیر کر کے اگر سیاحوں کے لیے کھولا جائے تو ہزاروں سیاح اس علاقے کا رخ کریں گے۔
(راقم الحروف نے حال ہی میں اس علاقے پر تحقیق شرو ع کی ہے جس میں مقامی لوگوں کے انٹرویوز شامل ہیں جنہیں ڈاکومنٹری کی شکل میں پیش کیا جائے گاجبکہ پٹو اورمٹی کے برتنوں کی صنعت پر دو الگ مضامین بھی زیر تحریر ہیں جو جلد ہی منظر عام پر آ جائیں گے۔ )

2 تبصرے “کٹھہ پیراں۔۔۔ خوبصورت تاریخی وادی

اپنا تبصرہ بھیجیں