11

تاریخی مغالطے، پاکستان، قائد اعظم اور ریاست جموں کشمیر

ڈاکٹر مبارک علی کی کتاب “قائد اعظم کیا تھے” پڑھ یہ یہ حقیقت تو آشکار ہوی کہ پاکستان میں تاریخی واقعات کو کس طرح ایک مخصوص نظریے اور فکر کے گرد گھمایا گیا اور پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا گیا. تاریخی حقائق میں خرد برد کرنے کا الزام یوں تو جنرل سکندر مرزا پر لگایا جاتا ہے لیکن قائد اعظم کی وفات کے وقت جو حالات تھے اس کی بنا پر یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ پاکستان کا بنانا مغربی ہندوستانی ریاستوں کے سرمایہ داروں کے لیے اشد ضروری ہو گیا تھا کیونکہ ایک طرف اشتراکیت کے نظریات جہاں ہندوستان کے کونے کونے میں پہنچ رہے تھے وہیں مزدور کسان تحریکیں سر ابھار رہی تھیں وہیں یہ بات بھی دوسری جنگ عظیم چھڑنے کے ساتھ ہی واضع ہو گی تھی کہ برطانیہ کو جلد یا بدیر ہندوستان چھوڑنا پڑے گا. پنجاب اور سندھ کے جاگیرداروں کو یہ گوارا نہیں تھا کہ ان کی پے پناہ ملکیت اور جائیدادیں اشتراکی نظام کی نظر ہو جائیں وہی انہوں نے ایک طرف کھل کر اشتراکیت کی مخالفت کی تو دوسری جانب تحریک آزادی ہندوستان میں مسلم لیگ کو استعمال کرنے کا حربہ استعمال کیا جو کہ کامیاب رہا. وہیں اسلام کے حوالے دے کر اشتراکی نظام معیشت کو اسلامی روح کے منافی قرار دلوایا گیا مسلمان جدید تعلیم سے دور تھے جس کے لیے ان کا راستہ آسان ہو سکتا تھا مذہب بنیادی عنصر ہونے کی وجہ سے اسے بنیاد بنا کر استعمال کیا گیا. یاد رہے کہ قیام پاکستان کا مطالبہ بھی مسلم لیگ نے تنظیمی سطح پر 1946 کے عام انتخابات کے بعد سامنے آیا حالانکہ اس وقت مسلم لیگ پنگا اور سندھ میں ہی حکومت بنا سکی تھی مگر یہ ظاہر ہو گیا تھا کہ انگریز فوراً ہندوستان چھوڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں یوں مسلم لیگ نے راست اقدام کا فیصلہ کیا جس کے نتیجے میں پہلے باضابطہ فسادات ہوئے جس میں برصغیر کے مسلمان اور غیر مسلم آمنے سامنے ہوے.

پاکستان بن گیا قائد اعظم اب اس ملک کے طاقت ور ترین شخصیت بن گئے. انہوں نے 1935 کے آئین میں ترامیم کروا کر اپنے آپ کو طاقتور اور زیادہ اختیارات کا حامل بنایا جس پر انہوں نے صوبہ سرحد کی گورنمنٹ کی بساط الٹی اور سندھ کو گورنر کو چلتا کیا قائد اعظم بے باکی اور جرآت کی وجہ سے مشہور تھے جو کہ ظاہر ہے وڈیرا شاہی اور جاگیرداروں کو کیسے گنوارہ ہو سکتا تھا نتیجتاً انہوں نے ان کی بساط لپیٹنے کا بندوبست کیا. وہ نوابزادہ لیاقت علی خان سے ناراض تھے یہی وجہ تھی کہ اپنے آخری ایام میں انہوں نے لیاقت علی خان سے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا تھا جبکہ لیاقت علی خان زبردستی ان کے گھر جا کر ان سے ملاقات کی. ریاستوں کے حوالے سے بھی قائد اعظم کا موقف واضح تھا اور یہی مسلم لیگ کا موقف بھی تھا ریاست جموں کشمیر کے بارے میں غالباً انہیں یہ گمان تھا کہ وہ جلد یا بدیر پاکستان سے الحاق کر لیں گے یہی وجہ تھی کہ انہوں نے ریاست کی آزادی کو تسلیم کرتے ہوئے معاہدہ جوں کا توں کر رکھا تھا. لیکن قائد اعظم کے علم میں لائے بغیر لیاقت علی خان، میجر جنرل اکبر خان اور صوبہ سرحد کے وزیر اعلی خان عبدالحمید خان نے ریاست جموں کشمیر پر قبائلی علاقوں سے لوگوں کو بلا کر حملہ کروایا جس کا قائد اعظم کو بعد میں علم ہوا.

کتاب میں مختلف تجزیہ نگاروں، مورخین اور کالم نگاروں نے قائد اعظم کے دو جملوں “پاکستان میں نے، میرے ٹائپ رائٹر اور پرسنل سیکرٹری نے بنایا” اور “میری جیب میں کھوٹے سکے ہیں” پر بحث کی گئی ہے جن کی سند کے حق اور مخالفت میں دلائل دیے گئے ہیں مختلف حوالوں اور کتب کو شامل بحث کیا گیا ہے یہاں یہ بات زیادہ اہمیت رکھتی ہے کہ جس طرح قائد اعظم سے منسوب ان جملوں پر اتنی تحقیق کی جا رہی ہے وہیں ایک اور جملے جس کی سند کسی بھی کتاب یا بیان میں نہیں مل سکی سواءے درسی کتب کہ اور جس کی وجہ سے برصغیر پاک و ہند کے ڈیڑھ ارب لوگ آج تک انسانی المیوں کا شکار ہیں اس پر بھی کوئی تحقیق کی گئی ہے یا نہیں. میں قائد اعظم کے قوم “کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے” کی بات کر رہا ہوں. اس حوالے سے کوئی تاریخی سند نہیں مل سکی ہے. ریاست جموں کشمیر کے نامور مورخ اور تاریخ دان جناب پروفیسر محمد عارف خاں اس کی صداقت کو لگ بھگ تیس سال قبل چیلنج کر چکے ہیں جبکہ کچھ کشمیری رہنما اور محققین اس کی سند کو ثابت کرنے والوں کے لئے پچاس لاکھ روپے انعام کا اعلان بھی کر چکے ہیں مگر یہ جھوٹ تواتر سے بولا گیا ہے اور ہنوز بولا جا رہا ہے جس میں جماعت اسلامی پیش پیش ہے.

ایک اور اہم بات جس کی طرف توجہ دلانا ناگزیر ہے وہ لفظ پاکستان میں “ک” کا حرف ہے جس کشمیر سے منسوب کیا جاتا ہے. چوہدری رحمت علی نے جس وقت اس لفظ کا استعمال ایک رسالے میں کیا تو وہ انگریزی رسالہ تھا اور خود وہ بھی برطانیہ میں کیمبرج یونیورسٹی کے طالب علم تھے یوں یہ رسالہ اولا انگریزی زبان میں تھا اور پاکستان کا لفظ بھی انگریزی زبان میں ہی تجویز کیا گیا تھا جس کی اردو یا فارسی توجیح بعد میں گھڑ لی گئی. دوسری بات ریاست جموں کشمیر صرف کشمیر نہیں تھی اور کشمیر ریاست کی ایک اکائی تھی جبکہ اس لفظ میں سابقہ مشرقی پاکستان یعنی بنگال اور موجودہ بنگلہ دیش کے لیے کوئی لفظ سرے سے استعمال ہی نہیں کیا گیا تھا. ریاست جموں کشمیر اس تحریک اس کے مضمرات اور اثرات کا حصہ نہ ہونے کے باوجود بھی اس میں شامل ہے جبکہ بنگال جہاں پاکستان کی تحریک چلی اور اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے میں جس قوم نے سب سے زیادہ کردار ادا کیا اس کو یکسر فراموش کر دیا گیا ہے. بنگال چوبیس سال تک پاکستان کا حصہ رہنے کے بعد الگ وحدت کی شکل میں وجود میں آیا. جس سے  واضح ہوتا ہے کہ “ک” سے منسوب کشمیر والی بات بھی بعد میں گھڑی گئی ہے اس حوالے سے راقم الحروف الگ سے تحقیق کر رہا ہے.

تحریر کا مقصد قائد اعظم، پاکستان اور ریاست جموں کشمیر کے درمیان جو تاریخی اور توجیہی مغالطے ہیں ان کو زیر بحث لانا تھا. تاریخ کا جو سبق پچھلے ستر سال سے پڑھایا جا رہا ہے سیاسی، مزہبی اور عسکری جدوجہد کا حصہ ہے اس کی اصلیت کیا ہے؟ ریاست کی تشکیل سے لے کر تکمیل کے نام پر عوام کو جس طرح بے وقوف بنایا جا رہا ہے وہ ایک الگ کہانی ہے لیکن کسی ایک شخص سے جو ایک پوری قوم کے لئے گارڈ فادر کی حیثیت رکھتا ہے اور قابل تعظیم ہے سے جھوٹ کو منسوب کر کے بولنا اس کی ہی نہیں اس کی پوری جدوجہد اور شخصیت کی تضحیک ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں