69

بابون ٹاپ کیسے پہنچا جائے

تذکرہ حسن جہاں کا ہے تو روئے زمیں پر کشمیر اور پھر کشمیر میں وادی نیلم کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ خوبصورت وادیوں کے ساتھ ساتھ بلندیوں پر اٹھتے پہاڑ اس کے حسن کو ایک انوکھا رنگ دیتے ہیں۔ شمال کے پہاڑ روز ازل سے ہی انسانوں کو اپنی طرف کھینچتے رہے ہیں کسی نے انہیں وحشت ناک پایا تو ڈر کر ان کی پوچا شروع کر دی اور کسی نے ان کے اندر ممتا کا پیار تلاش کر دیا، یہ پہار بیک وقت دلکش و دلنشین بھی ہیں اور وحشت زدہ کر دینے والے بھی۔ ہمالہ نے اس خطے میں جنم لے کر دیوتاؤں کے اس سرزمیں میں خود ایک مرکزی دیوتا کا کردار ادا کیا ہے۔ بابون انہی دیوتاؤں میں سے ایک محسور کر دینے والا دیوتا ہے جس کی پوجا کرنے والا کبھی دکھی نہیں ہوتا، اس کے دامن میں پناہ لینے والا ہمیشہ اس کے احساس میں غرق رہتا ہے۔ شمال کی سمت ہمالہ کی ان دلگیر وسعتوں میں آسمانوں کی طرف پاؤں اٹھانے کے مزے کی پوچھیے مت.۔

نیلم ویلی میں داخل ہونے کے بعد دو راستے بابون کی طرف جاتے ہیں ایک جاگران ویلی کی جانب سے جو زیادہ دشوار گزار ہے اور وقت بھی زیادہ لگتا ہے جبکہ دوسرا کیرن سے چند کلو میٹر آگے نگدر ویلی سے گرچہ یہ بھی انتہائی دشوار گزار راستہ ہے تاہم آپ تین سے چار گھنٹے میں بابون پہنچ جائیں گے۔ گاڑی کے لیے 4×4 ہونا لازمی ہے ورنہ نہ گاڑی ہو گی اور نہ ہی۔۔۔۔۔ نگدر نالہ سے بابون ٹاپ تک کا فاصلہ قریبا اٹھائیس کلو میٹر ہے اور یہ سارا راستہ کچا ہے یعنی گاڑی ہچکولے کھاتے ہوئے ہی وہاں پہنچے گی۔ آپ کو ایک ماہر ڈرائیور کی خدمات لینا ہوں گی جو کہ اگر مقامی ہو تو زیادہ بہتر رہے گا۔

بابون جانے کے لیے چند شرائط پوری کرنا لازمی ہے۔ اول، آپ فطرتا مہم جو ہوں وگرنہ اس کی ہیبت کے اگے اپ کا دم خم نہیں چلے گا، دوم fully equiped ہونا ضروری ہے یعنی، برساتی، جاگرز، گرم کپڑے، ہائیکنگ اسٹک اور آکسیجن کی کمی سے پیش انے والی بیماریوں کے لیے حسب ضرورت ادویات۔

نگدر نالے سے گاڑی فورا اوپر آسمان کی جانب سفر شروع کر دیتی ہے۔ انتہائی ناگفتہ بہ حالت مین یہ سڑک سراصل پل صراط کا دوسرا نام ہے لیکن وہ سیدھا اور یہ شیطان کی آنت کی طرح ٹیڑی میڑھی اور خطرناک ہے۔ یکدم اوپر اٹھتے اٹھتے آپ کو احساس ہی نہیں ہوتا کہ اپ کارکہ پہنچ چکے ہوتے ہیں احساس نہ ہونے کی ایک وجہ نیچے کھائی کو دیکھ کر خدا کو بے ترتیب یاد کرتے رہنا ہے۔ کارکہ سے آگے نگدر نالہ ہے جس کا پانی بابون کے گلیشئرز سے نکلتا ہے اور یوں آگے تھوڑا وسیع علاقہ آتا ہے لیکن کارکہ کے پار اترتے ہیں ایک مرتبہ پھر گاڑی ڈھلوان سڑک پر آسمان کی طرف اٹھنا شروع ہو جاتی ہے۔

یہاں سے آگے سفر کو خوشگوار بنانے کے لیے ضروری ہے کہ آپ گاڑی کی چھت پر چلے جائیں بلکہ بہتر ہو گا آپ کھلی جیپ لیں جو کہ اٹھمقام کیرن وغیرہ کرائے پر دستیاب ہوتی ہیں۔ یہاں سے آپ یک جانب پیچھے چھوڑ دیے جانے والے خطرناک راستے کا نظارہ کرتے ہیں وہیں پوری وادی اپ کو پاؤں میں نظر اتی ہے جبکہ آگے بابون کی آسمان کو چھوتی ہوئی چوٹی سبزہ سے ڈھکی ہوئی آپ کو مبحوس کر دیتی ہے۔ یہاں سے ہی ڈھوکوں/بہکوں (مقامی زبان میں یہ لفظ اس جگہ کے لیے استعمال ہوتا ہے جہاں مقامی لوگ گرمیوں میں عارضی طور پر اپنے مال مویشی منتقل کرتے ہیں)۔

دومیل کی بہک کسی خواب کی طرح محسوس ہوتی ہے۔ نالے کے اطراف میں دو پاٹ ہیں اور بیچوں بیچ ایک خوبصورت نالہ بہتا ہے ارد گرد ہریالی ہے اور مقامی لوگوں کے جز وقتی ضرورت کے تحت سبزیاں اگا رکھی ہیں اور چھوٹے چھوٹے مٹی کے گھر بھی بنا رکھے ہیں۔ یہاں سے پہاڑی چڑھ کر اس طرف ڈوگہ آتا ہے یہ سارا علاقہ جنگل سے ڈھکا ہوا ہے سڑک پر بارش کی صورت میں پھسلن ہوتی ہے جبکہ اکثر جگہوں پر پانی نکلنے کی وجہ سے بھی سڑک پر کیچر رہتا ہے۔

IMG_3951
 

یکدم اپ جنگل سے نکلتے ہیں تو سامنے جبڑی کی خوبصورت بہک نظر آتی ہے۔ مجھے یہ بہک بابون ٹاپ سے کہیں زیادہ خوبصورت اور دلکش لگی۔ اس بہک میں کسی پرانے گاؤں کے طرح مٹی کے چند گھر بنے ہوئے ہیں اور بیچوں بیچ خوبصورت سبزہ زار ہیں ایک طرف پرکشش بابون ہے تو دوسری طرف سنگلاخ ریتلے ننگے پہاڑ، یہاں گلیشئر سے نکلتے ہوئے پانی کی آواز کسی مدھم دلکش سر سے کہیں زیادہ خوبصورت ہے۔ بائیں طرف اچانک ہی یہ میدان ختم ہوتا ہے اور ایک کھائی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ جبکہ دائیں جانب خوبصورت سبزہ زار ہیں اور عین پیچھے ایک خوبصورت دیو قامت پہاڑ، جس وقت ہم وہاں پہنچے شام کے چار بج رہے تھے۔ بادلوں کے بیج سے سورج کی کرنیں چھن کر اندر آ رہی تھیں۔

جبڑی بہک سے بابون ٹاپ دائیں طرف تھوڑا اوپر اٹھ کر ہے۔ یہاں جانے کے لیے پیدل آدھا گھنٹہ درکار ہو گا جبکہ اب سڑک بھی پہنچ چکی ہے جس کی وجہ سے گاڑی بابون کے خوبصورت میدان میں پہنچ سکتی ہے۔ بابون کا اصلی حسن اس کے ارد گرد ایصتادہ خوبصورت پتھریلے پہاڑ ہیں جن پر کہیں کہیں برف جمی ہوئی ہے اور کہیں گلیشئر کی شکل میں نالے کو جنم دیتی نظر آ رہی ہے۔ بابون کے ماتھے کے آگے ایک چھوٹا سے سر (جھیل) بھی ہے جس کی لمبائی 20 فٹ اور چوڑائی بارہ فٹ ہو گی جبکہ بیچوں بیچ ہلکا ہلکا پانی بہہ رہا ہے اطراف میں درخت نام کی کوئی شے نہیں ہے صرف سبزہ ہے۔

سطح سمندر سے بارہ ہزار فٹ اونچائی پر بابون ٹاپ دیکھنے والوں کو محسور کر دیتا ہے۔ یہاں نارمل درجہ حرارت بارہ سے اٹھارہ ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے لیکن اگر بارش شروع ہو جائے تو اولے پڑتے ہیں جس کے بعد درجہ حرارت گرمیوں میں سات تک پہنچ آتا ہے۔ بابون ٹاپ کے مضافات میں جبڑی ڈھوک (بہک) بابون سے کہیں زیادہ خوبصورت ہے پرکشش ہے۔ اس کے ارد گرد سبزہ اور بیک وقت ننگے پہاڑ اس کے حسن کو چار چاند لگا دیتے ہین۔ بابون پہنچ کر جب بادل آپ سے چند کلو میٹر نیچے کی پہاڑیوں سے نمودار ہوتے ہین فورا احساس ہوتا ہے کہ آپ ہمالہ کی وسعتوں میں اس کی ممتا کے حصار میں ہیں۔

IMG_4003
 

بابون پہنچ کر انسان کو قدرت کے تخلیق کردہ شمال کی خوبصورتی کا صحیح اندازہ ہوتا ہے اور اپنے پاؤں میں موجود نیچے گہری وادیوں کو دیکھ کر اپنی عظمت پر غرور کرنے کو بھی دل کرتا ہے کہ انسان نے وقت کے ساتھ ساتھ کن کن مشکلات کو مات دی ہے۔ عام حالات میں بابون ٹاپ پر درجہ حرارت بارہ سے اٹھارہ ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے لیکن بارش ہو تو اولے لازمی پڑتے ہیں جس کے بعد یہ درجہ حرارت کم ہو جاتا ہے اور انسان کی بتیسی بجنے لگتی ہے تاوقتیکہ کوئی خاطر خواہ انتظام نہ کیا جائے۔ سطح سمندر سے بابون میدان کم و بیش بارہ ہزار فٹ کی بلندی پر ہے۔ قدرت کے اس عظیم شاہکار کو چھوڑنے کا دل باندھنا بھی خود میں ایک مہم جوئی ہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں