26

مہاراجہ پرتاب سنگھ : ترقی اور اصلاحات کے چالیس سال-مدثر شاہ

ریاست جموں کشمیر کے تیسرے حکمران مہاراجہ پرتاب سنگھ نے 1885تا1925 تقریباً چالیس سال ریاست جموں کشمیر پر حکمرانی کی، یہ ریاستی عوام کیلئے ترقی اور اصلاحات کا ایک سنہری دور تھا، پرتاب سنگھ نے اپنے دور حکومت میں مقامی حکومتوں، جمہوری اداروں، شعبہ تعلیم، صحت عامہ، حفضان صحت اور ذرائع رسل و رسائل کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر پر خصوصی توجہ دی، اس دوران صوبہ کشمیر اور خاص طور پر سری نگر میں واضح معاشی، سماجی اور ثقافتی ترقی دیکھنے میں آتی ہے، صوبہ کشمیر کو دو بڑی سڑکوں اور دریائے جہلم کے ذریعے بیرونی دنیا سے ملایا گیا، دریائے جہلم جو پہلے سے آمد و رفت کا ایک بڑا ذریعہ تھا اسے مزید ترقی دی گئی، چھوٹی اور بڑی کشتیوں کی منظم ٹریفک شروع کی گئی جو سامان اور سواریاں لیکر مختلف علاقوں تک پہنچاتے تھے، پرتاب سنگھ کے دور حکومت پر تبصرہ کرتے ہوئے برطانوی مؤرخ والٹر لارنس لکھتا ہیکہ “کشمیر میں موجود تمام طبقات، سب کیلئے اسکی یکساں شفقت کے باعث اس کیلئے ہمدردی اور نیک جذبات رکھتے تھے” 
پرتاب سنگھ نے کوہالہ سے بارہمولا تک جہلم ویلی کارٹ روڈ کی تعمیر شروع کی جو 1889 میں مکمل ہوئی، بعد ازاں 1897 میں اس سڑک کو سرینگر تک پہنچا دیا گیا، یہ ریاست جموں کشمیر میں تعمیر ہونے والی پہلی سڑک تھی، اس کے بعد جموں اور سرینگر کے درمیان بانیہال کارٹ روڈ تعمیر کی گئی جو 1922 میں آمدورفت کے لئے کھولی گئی، ان سڑکوں کے علاوہ دیگر بیشمار سڑکیں بھی تعمیر کی گئیں جو سرینگر کو گلگت، لیہہ اور دیگر بہت سے علاقوں سے ملاتی تھیں، ان سڑکوں کی تعمیر سے عوام الناس کو بہت فائدہ پہنچا، اس امر کا اندازہ ایسے لگایا جا سکتا ہیکہ پرتاب سنگھ کے دور سے قبل ریاست جموں کشمیر میں بیل گاڑی/ٹانگہ حتٰکہ ہتھ ریڑھی تک موجود نہ تھی اور 1925 میں اس کی وفات کے وقت بڑی کشتیاں، بی کلاس بسیں اور ٹرک ریاست میں رسل و رسائل اور آمد و رفت کا بڑا ذریعہ تھے… سڑکوں کی تعمیر کیساتھ مہاراجہ جموں اور سرینگر کے درمیان ریل سروس شروع کرنا چاہتا تھا جس کے لیئے سروے کیا گیا اور پلان بھی تیار ہو گیا لیکن اس پر آنے والی لاگت کا تخمینہ بہت زیادہ تھا جسکی وجہ سے یہ منصوبہ شروع نہ ہو سکا، مہاراجہ جموں سے “دورو” گاؤں تک 79 میل لمبی مونو کیبل سٹیل وے اور پھر اسے بانیہال سے 46 میل لمبی لائٹ ریلوے لائن کے ذریعے سرینگر سے ملانا چاہتا تھا لیکن یہ منصوبہ بھی مالی مشکلات کی وجہ سے شروع نہیں کیا جا سکا، واضح رہے کہ سرینگر کو حال ہی میں جموں سے بذریعہ ریل ملایا گیا ہے اور پرتاب سنگھ ایک سو تیس سال قبل اس بارے میں اپنا ایک خواب رکھتا تھا، اس سے اندازہ ہوتا ہیکہ وہ ریاست کی ترقی اور خوشحالی کیلئے کس قدر سنجیدہ سوچ بچار اور کوششیں کر رہا تھا… 1890 میں جموں کو بذریعہ ریل سیالکوٹ سے ملایا گیا جس کی وجہ سے ریاست جموں کشمیر اور برطانوی ہند کے درمیان تیز تر رابطہ اور سامان کی ترسیل ممکن ہوئی…
کسانوں اور کاشتکاروں کی رہنمائی اور فلاح و بہبود کیلئے1887 میں محکمہ زراعت اور کوآپریٹیو کریڈٹ سوسائٹیز کا قیام عمل میں لایا گیا. پرتاب سنگھ نے زمینی اصلاحات کا کام شروع کیا، جاگیرداروں سے زمینیں واپس لیکر فی کنبے کے حساب سے عوام میں تقسیم کی گئیں اور انہیں مطلق حقِ ملکیت دیا گیا، مہاراجہ پرتاب کے دور میں کی جانے والی زمینی اصلاحات نے ریاست کی معیشت، معاشرت اور حتٰکہ عمومی نفسیات پر گہرا مثبت اثر ڈالا، ان زمینی اصلاحات کی وجہ سے آج بھی ریاست جموں کشمیر دنیا میں ایک واحد اور منفرد ریاست کے طور پر موجود ہےجہاں ہر شہری کے پاس حکومت کی طرف سے دی گئی زمین موجود ہے اور وہ اس پر کلی اختیار رکھتے ہیں… تمام شہریوں کو زمینیں اور مالکانہ حقوق ملنے سے کسانوں اور کاشتکاروں میں اعتماد اور دلچسپی پیدا ہوئی، ان اصلاحات کے باعث ریاست کے ریوینیو میں بھی بیش بہا اضافہ ہوا اور یہ تقریباً دو گنا سے بھی بڑھ گیا… مہاراجہ پرتاب نے انتظامی تقسیم پر بھی تیزی سے کام کیا اور 1912 تک تمام اضلاع اور تحصیلوں کی حدود کا تعین کیا جا چکا تھا…
کسانوں کو جدید سائنسی طریقہ کاشت سے روشناس کرانے اور کاشتکاری کی بنیادی تعلیم دینے کیلئے سرینگر میں ایک ماڈل زرعی فارم کا قیام عمل میں لایا گیا، کسانوں کو سود خوروں اور ساہوکاروں کے چنگل سے.نکالنے کیلئے کوآپریٹیو کریڈٹ سوسائٹیوں کا قیام عمل میں لایا گیا، 1929 تک ریاست جموں کشمیر میں گیارہ سو کوآپریٹیو کریڈٹ سوسائٹیاں کام کر رہی تھیں اور ساڑھے ستائیس ہزار کاشتکار اور کسان ان کے ممبر تھے… سماجی اصلاحات کے ضمن میں بیگار کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے اس پر پابندی عائد کر دی گئی… مہاراجہ پرتاب سے قبل جنگلات پر کبھی کوئی توجہ نہیں دی گئی تھی، پرتاب سنگھ نے 1891 میں محکمہ جنگلات کا قیام عمل میں لایا، اپنے قیام کے پہلے سال ہی اس محکمہ نے اڑھائی لاکھ روپے کا سرپلس ریوینیو دیا، 1921 میں یہ ریوینیو بیس لاکھ تھا اور انیس سو تیس تک یہ پچاس لاکھ کی ریکارڈ حد تک پہنچ چکا تھا…
تعلیم کے شعبے پر خصوصی توجہ دے گئی، لڑکوں اور لڑکیوں کیلئے الگ الگ لاتعداد سکول اور ہاسٹل کھولے گئے، پرائمری تعلیم مکمل مفت کر دی گئی، بجٹ میں شعبہ تعلیم کیلئے ایک بڑی رقم مختص کی جانے لگی، مسلمان آبادی کو تعلیم کی طرف راغب کرنے کیلئے خصوصی اقدامات اٹھائے گئے، مسلمان طلباء کیلئے خصوصی وضائف اور گرانٹیں مختص کی گئیں، نئے بھرتی ہونے والے اساتذہ کو ٹرینگ کیلئے لاہور بیجھا جاتا تھا، جموں اور سرینگر میں ایک ایک ڈگری کالج قائم کیا گیا، 1905میں سرینگر میں ‘سری پرتاب کالج” کا قیام عمل میں لایا گیا اس کے بعد 1907 میں جموں میں “پرنس آف ویلز کالج” کا قیام عمل میں آیا، فنی تعلیم پر بھی خصوصی توجہ دی گئی، 1914 میں سرینگر میں “امر سنگھ ٹیکنیکل کالج” کا قیام عمل میں آیا، اس کے علاوہ 1924 میں جموں میں “سری پرتاب ٹیکنیکل سکول” قائم کیا گیا، 1938 میں “سری پرتاب کالج” پنجاب یونیورسٹی کیساتھ الحاق شدہ کالجوں میں دوسرا بڑا کالج تھا جس میں 1187 طلباء زیر تعلیم تھے. پنجاب یونیورسٹی کیساتھ الحاق شدہ کالجوں میں دوسرا بڑا کالج تھا جس میں 1187 طلباء زیر تعلیم تھے.

پرتاب سنگھ کے عہد میں صحتِ عامہ کے شعبے کو بہت تیزی سے ترقی دی گئی. مئی 1865 میں ایک سکاٹش مشنری ڈاکٹر “ویلیم ایمسائل” نے سرینگر میں پہلی ڈسپینسری قائم کی تھی جس سے ریاست جموں کشمیر میں ایلوپیتھی طریقہ علاج کا آغاز ہوا بعد ازاں 1889 میں اسے ریاستی سرپرستی میں لیکر کشمیر مشن ہسپتال کے نام سے اس کی توسیع کی گئی اور اس میں دستیاب سہولیات کا دائرہ وسیع کرنے کیساتھ مزید نئے شعبہ جات کا اجراء کیا گیا، بہت جلد یہ ہسپتال ریاست میں طبّی سہولیات اور سرگرمیوں کا بڑا مرکز بن گیا، ریاست کے دونوں بڑے شہروں سرینگر اور جموں میں دو سرکاری ہسپتال بنائے گئے، سرینگر اور جموں میں مردوں اور عورتوں کیلئے الگ الگ ہسپتال قائم کیے گئے اس کے علاوہ دیگر شہروں، قصبوں اور دیہات میں بھی ماہر ڈاکٹروں کی زیرِ سرپرستی شفاخانے قائم کیے گئے، ان اقدامات کے نتیجے میں ریاست میں صحت عامہ کے شعبے میں بہت بہتری آئی، وادی کشمیر میں چیچک کی بیماری بہت عام تھی اور ہر سال ہزاروں لوگ اس کا شکار بنتے تھے، 1894 میں اسکے تدارک کیلئے ریاست بھر میں ویکسینیشن کی مہم شروع کی گئی… ایلوپیتھی طریقہ علاج کیساتھ ساتھ یونانی طریقہ علاج پر بھی توجہ دی گئی اور حکماء کی حوصلہ افزائی کی گئی، 1895 میں ریاست بھر میں تقریباً تین سو ماہر حکیم موجود تھے…
وادی کے میدانی علاقوں خاص طور پر سرینگر میں سیلاب ہمیشہ سے ایک بڑا مسئلہ رہے ہیں، 1904 میں سرینگر شہر کے سیلابی پانی کو دریائے جہلم میں گرانے کیلئے ایک بڑی اور کشادہ نہر تعمیر کی گئی، ریاست بھر میں آبپاشی کیلئے دیگر بیشمار نہریں بھی تعمیر کی گئیں، ان میں سے سب سے اہم اور بڑی نہر “رنبیر کینال” جموں میں تعمیر کی گئی جس کی لمبائی اسکی ذیلی نہروں کوملا کر 251 میل بنتی ہے، اسکی تعمیر 1911 میں مکمل ہوئی اور اس پر تقریباً ساڑھے پینتیس لاکھ روپے لاگت آئی، اسی نہر کی وجہ سے جموں میں پن بجلی کے منصوبے ممکن ہوئے (انیس سو سات میں موہارا پاور پروجیکٹ کی تکمیل عمل میں آئی، اس سے حاصل ہونے والی بجلی گھریلو اور صنعتی استعمال کے علاوہ دریائے جہلم کی صفائی (بھل صفائی) کیلئے بھی استعمال میں لائی جاتی تھی)، اس کے علاوہ آبپاشی کیلئے ایک اور نہر “پرتاب کینال” بنائی گئی جو جموں کے ایک وسیع علاقے کو سیراب کرتی تھی, برساتی پانی کو جمع کرنے کیلئے ریاست بھر میں مناسب جگہوں پر تالاب بنائے گئے، صرف کندی کے علاقے میں اڑھائی سو تالاب بنائے گئے تھے جو نہ صرف آبپاشی کا ایک ذریعہ تھے بلکہ ان کا پانی گھریلو استعمال اور مویشیوں کو پلانے کے کام بھی آتا تھا… ریاست بھر میں پینے کے صاف پانی کے چشمے بنائے گئے اور موسمی اثرات اور آلودگی سے بچاؤ کیلئے ان پر باقائدہ چھتیں تعمیر کی گئیں اور بعض کیساتھ سرکاری غسل خانے بھی تعمیر کیئے گئے جنہیں “باولی” کہا جاتا تھا، ان باولیوں میں سے کچھ ابھی تک مختلف علاقوں میں موجود ہیں… 
پرتاب سنگھ نے زمینی بندوبست کے دوران جہاں مفاد عامہ کیلئے دیگر اقدامات کیئے وہیں ہر گاؤں اور محلے میں سرکاری راستے مختص کیئے جنہیں “گہل” یا “گہلی” کہا جاتا ہے ان کی چوڑائی اتنی رکھی گئی تھی کہ دو لدے ہوئے خچر برابر گزر سکیں، یہ “گہلیں” آج بھی محکمہ مال کے کاغذات میں موجود ہیں لیکن سینتالیس کی “آزادی” کے بعد ہم نے تجاوزات کرتے ہوئے انہیں کہیں سے تنگ اور کہیں کہیں سے بالکل ہی ختم کر دیا ہے…
مہاراجہ پرتاب کے دور میں زراعت اور باغبانی کے شعبوں کو بیمثال ترقی ملی، سرینگر میں ریشم کا ایک کارخانہ قائم کیا گیا جو دنیا بھر میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا کارخانہ تھا، ریشم سازی کی صنعت پر خصوصی توجہ دی گئی، ریشم کے کیڑوں کو بہترین خوراک دینے کیلئے فرانس اور اٹلی سے بیج درآمد کیئے جاتے تھے…
اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کیلئے بلدیاتی اداروں کے قیام کا آغاز کیا گیا پہلے مرحلے میں سرینگر، جموں، سوپور اور بارہمولہ میں میونسپل کمیٹیاں قائم کی گئیں، میونسپل کمیٹیوں کے قیام سے جہاں اختیارات نچلی سطح پر منتقل ہوئے وہیں صحت عامہ اور صفائی کی صورتحال میں بھی بہتری آئی، پرتاب سنگھ نے مسلمانوں پر عائد شادی ٹیکس کا بھی خاتمہ کیا.
پرتاب سنگھ نے جہاں ریاست جموں کشمیر پر سب سے لمبی حکمرانی کی وہیں اسکو بیشمار اندرونی اور بیرونی سازشوں کا سامنا بھی رہا اسکے باوجود اس کے دورِ حکومت میں کی گئیں اصلاحات اور ریاست میں ترقی کیلئے اٹھائے گئے اقدامات بیمثال اور قابلِ ستائش ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں