11

ریاست کے اندر خفیہ ریاست

انسانوں سے معاشرہ، معاشرے سے قومیں اور قوموں سے ریاستیں وجود میں آتی ہیں یقینا یہ افلاطون کے زمانے میں ایتھنز کی ریاست نہیں بلکہ جدید قومی ریاستیں ہیں جن میں بسنے والے تمام افراد کو ایک ہی قوم کا درجہ دیا گیا ہے یعنی رنگ، نسل ، مذہب قومیت اور شناخت سے بالاتر ہو کر کسی مخصوص جغرافیائی وحدت کے اندر رہنے والے تمام افراد بلاتفریق برابر ہیں۔ گر ریاستیں کسی مخصوص قومی شناخت کی بنیاد پر وجود میں بھی آئی ہیں تو جدید ریاستیں اقوم متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر پر دستخط کرنے کے بعد اس بات کی پابند ہیں کہ تمام شہریوں سے بلا تفریق سلوک کریں اور ریاستی قوانین سب کے لیے یکساں ہوں انصاف سب کے لیے یکساں ہو اور جمہوریت بحیثیت ادارہ بھر پور پھل پھول سکے مگر یہ سب پاکستانی معاشرے میں کہیں نظر نہیں آتا بلکہ سرمایہ داری کی کوکھ سے جنم لیتی ہوئی کہانیاں ہوتی ہیں جو نچلے طبقے کے ہر حق کو غضب کرنا اپنا حق سمجھتی ہیں۔

چونکہ ریاست انسان کی اعلی ترین شکل ہے انسان ہی ریاست کی اکائی ہے اور ریاست کو انسان کی ماں کا درجہ دیا جاتا ہے تو ریاست کا ہر شہری یہ حق رکھتا ہے کہ وہ ریاست کی گود میں بھر پور طریقے سے پرامن طور پر زندگی گزار سکے۔ ریاست کے وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے ہنر اور فن سے تمام طرح کے فوائد حاصل کر سکے جن کا وہ حق رکھتا ہے۔ فرد اور معاشرہ دونوں ریاست کی بحیثیت مجموعی ادارہ ذمہ داری بن جاتے ہیں یعنی اگر ریاست کے اندر فرد کو انفرادی سطح پر یا معاشرے کو اجتماعی سطح پر کوئی مسئلہ لائق ہے تو ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ان مسائل کا ادراک کرتے ہوئے ان کا حل نکالے لیکن اگر ریاست ہے مسائل پیدا کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑے تو؟

ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ افراد کے تمام بنیادی حقوق کا خیال رکھے ، اور جمہوریت ہر شہری کو یہ حق دیتی ہے کہ وہ سوال اٹھائے، حکومت پر انگلی اٹھائے، نکتہ چینی کرے اور پرامن طریقے سے اپنے حقوق کے حصول کی جدوجہد کرے۔ جدیدی انسانی سماج میں عہد ماضی کے تمام مروجہ رسوم ختم ہو چکی ہیں تو اظہار آزادی رائے کا حق بھی بنیادی انسانی حقوق میں شامل ہو گیا ہے اور یہ حق بلا رنگ و نسل مذہب و فکر اور سوچ کے ہر شخص استعمال کر سکتا ہے۔

لیکن پاکستانی ریاست ان تمام چیزوں سے بہت دور ہے۔ یہاں ریاست افراد کو نہیں بلکہ افراد ریاست کو جواب دہ ہیں۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے مصداق کوئی بھی کسی کو بھی کہیں بھی غائب کر سکتا ہے اور اس کے لیے ریاست بالکل جواب دہ نہیں ہے۔ ریاست کے اندر کچھ بھی ہو جائے بیرونی دشمنوں سے نبٹنے کا ہنر تو ہے لیکن اندرونی طور پر بنیادی انسانی حقوق کی بدترین پامالی ہو رہی ہے۔ یہاں نہ تو ریاست جواب دہ ہے نہ ریاستی ادارے، نہ صوبائی حکومتیں، نہ مقامی ادارے اور پولیس۔ جیسی ایک جیسے جاگتے انسان کو غائب ہو جانا کوئی بڑا مسئلہ ہی نہیں ہے۔

گزشتہ روز کراچی پریس کلب کے باہر بے آسرا خواتین، معصوم بچے، اور بے جان بوڑھے بیٹھے دیکھے تو دل گرفتہ ہو گیا۔ یہ تمام لوگ ایچ آر سی پی کی احتجاجی کال پر جمع تھے۔ جب غائب شدگان کے نام پر نعرہ لگتا ہے سسکتی اور نہ نکل سکنے والی آوازوں میں جیسے جان آ جاتی اور “رہا کرو” کا نعرہ بلند ہوتا جس میں بیک وقت امید اور ناامیدی سے ملے جلے جذبات ہوتے۔

وہ بچہ بمشکل ڈیڑھ سے دو سال کا ہوا ہو گا جسے اس کی ماں کندھے سے لگائے اپنے پیارے کی رہائی کے لیے نعرے لگا رہی تھی۔ ایک نحیف خاتوں جس کی عمر ستر سے بھی زائد ہوئی ہو گی کے آنکھوں میں ہر نعرے کے ساتھ ایک آنسو تیرتا تھا جسے دیکھا نہیں صرف محسوس کیا جا سکتا تھا اور نوجوان لڑکیاں جن کی آنکھوں میں مستقبل کے سہانے خواب ہونے چاہیے تھے اپنے پیاروں کی رہائی کے خواب دیکھ رہی تھیں۔

آخر یہ کون لوگ ہیں؟ یہ بلوچ ہو سکتے ہیں، سندھی ہو سکتے ہیں، پٹھان ہو سکتے ہیں، مہاجر ہو سکتے ہیں یا پھر پنجابی اور گلگتی یا کشمیری مگر یہ ریاست کے شہری ہیں ریاست کے تمام انسانی حقوق ان کو حاصل ہیں۔ ان میں سے اکثر کا جرم یہی ہو گا کہ انہوں نے کسی کےحق میں آواز بلند کی ہو گی ریاست کی دورخی پالیسی پر بات کی ہو گی یا پھر کسی ادارے پر نکتہ چینی کی ہو گی۔ ہو سکتا ہے کسی کا ذاتی معاملہ بھی ہو مگر ریاست کو جواب دہ تو ہونا پڑے گا جو کہ ریاست ابھی تک نہیں ہے۔  اگر انہوں نے کوئی بھی جرم کیا ہے تو ان پر مقدمہ چلایا جائے جرم کی پاداش میں سزا دی جائے ان کے خلاف ثبوت عدالت اور عوام دونوں کے سامنے لائےجائیں اور اگر ایسا نہیں ہے تو ریاست بتائے کہ ریاست کے اندر ریاست کس نے قائم کی ہوئی ہے جس کے تمام ادارے خفیہ ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں