3

وہ کون تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟

’’ارے رکیے،ارے سنئیے‘‘
میں نے مڑ کر دیکھا توایک نوجوان لڑکا میری طرف بھاگا آ رہا تھا۔بوسیدہ سا سفید کرتا اور پتلوں پہنے ہوئے تھا۔کرتے پہ سرخ دھبے تھے ایسا لگ رہا تھا کہ خون کے نشان ہیں۔اس کے ہاتھ کے اشارے سے میں رک گیا ۔آسما ن پر گہرے بادل چھائے ہوئے تھے۔اور ایسا لگ رہا تھا کہ ابھی موسلا دھار بارش ہونے والی ہے یہ پھر شاید تھوڑی دیر پہلے ہو چکی تھی کیونکہ زمین بھی گیلی تھی اور ہر طرف کیچڑ تھا۔ تیز گرم خون کے جیسی خوشبو ہر طرف پھیلی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ ابھی تھوڑی دیر پہلے یہاں ہر طرف قتل عام ہوا ہے اور یہ ابھی اسی خون کی تیز بو ہے۔ میں نے اس کی طرف دیکھا تو وہ میرے قریب آ چکا تھا ۔ اس سے پہلے میں اس سے شاید نہیں ملا تھا اگر ملا بھی تھا تو مجھے یاد نہیں رہا تھا۔اس کی شیو بڑھی ہوئی تھی ۔آ نکھیں سرخ تھیں جیسے ان میں خون اترا ہوا تھا ایسا لگ رہا تھا کہ وہ یا تو کسی کو قتل کر چکا ہے یا قتل کرنے جا رہا ہے ۔اب وہ میرے بالکل قریب تھامیں ڈر بھی رہا تھا کہ کہیں وہ مجھ پر ہی حملہ کرنے نہ آیا ہو۔ میں نے اسکی طرف دیکھا تو مجھے آج تک اس کے چہرے سے زیادہ مفلس چہرہ کہیں بھی نظر نہیں آیا تھا۔
’’میں کب سے آپ کو آوازیں دے رہا ہوں‘‘
اس نے میرے چہرے پر نظریں گاڑہتے ہوئے کہا۔
’’مجھے افسوس ہے ، میں نے سنا نہیں شاید ارد گرد کے شور کی وجہ سے‘‘میں نے جواب دیا
’’ویسے بھی آجکل لوگ کم سننے لگے ہیں ۔ مجھے ڈر ہے کہ ساری دنیا بہری نہ ہو جائے‘‘اسکے چہرے پہ اداسی نمایاں تھی۔
’’تمہیں مجھ سے کیا کام ہے‘‘ میں نے موضوع بدلا۔
’’مجھے آپ سے بہت کچھ کہنا ہے اگر آپ کے پاس وقت ہو تو ہم بیٹھ کر بات کر سکتے ہیں ؟‘‘اس نے جیسے التجا کی۔
’’ویسے میرے پاس اتنا وقت نہیں اگر تمہارا کام بہت ضروری ہے تو مجھے یہیں پر بتاؤ ورنہ تم میرا وقت ضائع کر رہے ہو‘‘میں اس سے جان چھڑانا چاہتا تھا۔
’’میں جانتا ہوں آپکا وقت بہت قیمتی ہے‘‘اس نے جیسے برا مناتے ہوئے بات جاری رکھی’’اور ویسے بھی آجکل لوگوں کو دوسروں کے لئے وقت ہی کہاں ملتا ہے۔دنیا اتنی مصروف ہو گئی ہے کہ پتا ہی نہیں چلتا کہ اچانک موت کا فرشتہ آ جاتا ہے ۔‘‘
’’ہم دوبارہ مل سکتے ہیں کسی اور جگہ وقت طے کر کے؟‘‘ میں نے پوچھا(میں تھک چکا تھا)
’’مجھے افسوص ہے کہ میں آپکو دو بارہ نہیں مل سکتا مجھے بس تھوڑی سی مہلت ملی تھی جو میں آپکے پاس چلا آیا‘‘وہ جان چکا تھا کہ میں اس سے جان چھڑانا چاہتا ہوں
میں تھوڑا سا آگے چلنے لگا مگر آہستہ آہستہ ۔ میں یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ وہ بھی میرے ساتھ چلتا ہے کہ نہیں ۔یا پھر اسکی بات فالتو ہے اور وہ میرا وقت برباد کر رہا ہے کیونکہ وہ پچھلے آدھے گھنٹے سے میرے ساتھ تھا اور اس نے ابھی تک کوئی کام کی بات نہیں کی تھی۔میرے خیال میں وہ مجھے کریدنا چاھتا تھا یا پھر اسکی مرضی کچھ اور تھی بہرحا ل اس نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔
’’میں نے آپ سے ملنے سے پہلے بہت سوچا۔ میں نے سنا ہے کہ آپ لکھاری بھی ہیں اور آپکو اپنے وطن سے بہت پیا ر ہے؟‘‘
ْْْْْْْْْ’’جہاں تک لکھنے کی بات ہے تو میں خاص کچھ نہیں کرتاآجکل تمہیں ہر جگہ کچھ نہ کچھ لکھنے والے مل ہی جائیں گے ۔شاعر سے لے کر مزاح نگار تک ہزاروں لوگ ہیں اور وطن کی محبت ایک قدرتی امر ہے انسان جہاں پیدا ہوتا ہے پلتا بڑھتا ہے اسے اس جگہ سے قدرتی طور پر محبت ہوتی ہے اور میں تو شدت کی حد تک اپنے وطن سے محبت کرتا ہوں۔‘‘ میں نے جواب دیا۔
’’یہی چیز مجھے آپکی طرف کھینچ لائی ہے‘‘ اس نے کہا۔’’مجھے بہت قلیل وقت کے لئے آپکے پاس آنے کا موقع ملا ہے میں چاہتا تو کسی کے پاس بھی جا سکتا تھا۔مگر میں آپ کے پاس آیا کہ شاید آپ میری داستان سنیں اور اسے تحریر کریں۔اگر آپ رکتے نہ تو میں کسی اور کو تلاش کرنے واپس جانے والا تھا ۔کیوں کہ میرے پاس وقت بہت قلیل ہے۔‘‘ اس نے وقت اور قلیل پر جیسے زور دیتے ہوئے کہا۔
میں رک گیا۔مجھے اس پر ترس آ رہا تھا۔اس کا حلیہ بگڑا ہوا تھا اور مجھے اس کی کئی باتیں انوکھی لگیں۔ سڑک سنسان پڑی ہوئی تھی سامنے ہی ایک انتظار گاہ بنی ہوئی تھی جس کی چھت پر بے شمار چھوٹے چھوٹے سوراخ تھے جیسے کسی نے گولیوں سے چھلنی کیا ہو۔۔۔۔ کچھ دور سے رونے کی آواز آ رہی تھی یہ آواز کبھی تیز تو کبھی مدہم ہو جاتی ۔ دو تین بار چیخ کی آواز آئی لیکن میں نے اس کی طرف توجہ نہیں دی کیونکہ یہ آجکل کی دنیا کے معمولی واقعات ہیں۔البتہ چیخ کی آواز کے ساتھ اس کے چہرے پہ کچھ بے چینی سی ظاہر ہوتی تھی۔
’’اوہ!میں تمہارا نام بھول گیا‘‘ میں نے کہا۔
’’جی نام تو میں نے بتایا ہی نہیں اور آپ نے پوچھا بھی نہیں‘‘
’’ہاں واقعی! میں نے پو چھا ہی نہیں۔ چلو وہاں سامنے بیٹھتے ہیں اور اگر تم نام بتا دو‘‘ میں نے کہا۔
’’ میرا نام عبداللہ ہے لوگ مجھے پیار سے عبی کہتے ہیں اور میں بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں رہتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ وہ بتانے لگا تھا ۔
میں اسکی بات پر توجہ نہیں دیکھ سکاکیوں کہ ایک زوردارچیخ کے ساتھ ’’بچاؤ‘‘ کی آواز بھی آئی مجھے لگا جیسے اس نے مجھے ہی پکارہ ہو وہ مجھے اپنی طرف بلا رہی ہو میں اس چیخ کی طرف جانا چاہتا تھامگر میں اپنی جگہ سے حرکت تک نہیں کر سکا میں نہیں جانتا تھا مجھے کیا ہو گیا ہے میں بھاگ کر اس آواز کی طرف جانا چاہتا تھا لیکن کسی چیز نے جیسے میرے پاؤں جھگڑ لئے تھے جیسے کسی نے ان میں زنجیر باندھ دی تھی۔چیخ کی آواز ایک مرتبہ پھر رونے میں تبدیل ہو گئی اور پھر آہستہ آہستہ سسکیوں میں ۔میں کھڑا سوچ رہا تھا کیا ماجرہ ہے کہ اس نے مجھے آواز دی۔
’’آپ کو کیا ہو گیا ہے‘‘
’’مم۔۔۔۔۔مم۔۔۔۔۔میں اس لڑ کی کی آواز سن رہا ہوں جو زور سے چیخ رہی ہے اور مدد کے لئے پکار رہی ہے اب اسکی سسکیوں کی آ واز آ رہی ہے میں اسکی مدد کرنا چاہتا ہوں اور معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ اس کے ساتھ کیا مسلۂ ہے‘‘ میں نے گبھرائے ہوئے انداز میں جواب دیا۔
’’اب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
اسکی بات پھر پوری نہ ہو سکی اس نے کچھ اور کہنا چاہا لیکن ایک مرتبہ پھر زور دار چیخوں کی آواز آئی اس نے کچھ اور ساتھ ہی’’ہائے میں لٹ گئی، میری عزت بچاؤ، کوئی ہے جو مجھے ریپ ہونے سے بچائے‘‘ کی درد اور التجا بھری آواز آئی۔
نہ جانے وہ کونسی شے تھی جو میرے قدم روک رہی تھی میرے پاؤں میں زنجیر ڈال دی تھی۔یا پھر ڈر تھا میں نہیں جانتا تھا لیکن میرے قدم بوجھل تھے میں آواز والی لڑکی کی مدد کرنا چاہتا تھا لیکن میرے قدم اُٹھ نہیں رہے تھے۔میں نے عبد اللہ کی طرف دیکھاتو وہ یونہی بیٹھا ہوا تھا جیسے اس نے کچھ سنا ہی نہ ہو یا جان بوجھ کر ان سنا کر دیا ہوالبتہ اس کے چہرے پر تفکرات کے آثار تھے۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر تھام رکھا تھا ایسا لگ رہا تھا کہ وہ یہ سب کچھ جانتا ہے۔
’’آپ کھڑے کیوں ہو گئے ہیں بیٹھ جائیے‘‘ عبداللہ نے کہا
’’تم نے وہ آواز نہیں سنیں رونے کی اور بھر چیخوں کی۔ کوئی لڑکی مدد کے لئے بلا رہی ہے میں اس کی مدد کو جانا چاہتا ہوں‘‘ میں نے جواب دیا
وہ ایک کھوکھلی ہنسی ہنسا ’’اب کوئی فائدہ نہیں ہے‘‘ اس نے کہا
’’کیوں۔۔۔۔۔؟‘‘
’’آپ بیٹھ جائیے میں آپ کو ایک کہانی سناتا ہوں‘‘ عبداللہ نے کہا
میں بیٹھ گیا جیسے کسی نے زبردستی مجھے کھینچ کر بنچ پر بٹھا دیا ہو یا ایک بچے کی طرح اس کے حکم کی تعمیل کی۔ میں نے اس کے چہرے کی طرف دیکھا تو لگا کہ اس کی کہانی واقعہ ہی دلچسپ ہو گی۔ میں سننا چاہتا تھا میں ان چیخوں کو بھلانا چاہتا تھا جو ابھی کچھ دیر پہلے میں نے سنی تھیں کیونکہ وہ ابھی تک میرے کا نوں میں گونج رہی تھیں انتظار گاہ کی چھت کے سوراخوں سے پانی ٹپک رہا تھا ۔پانی کے چھوٹے چھوٹے قطرے جیسے کوئی حالات سے تنگ آ کر رو رہا ہو۔ عبداللہ کی آنکھوں سے دو موٹے موٹے قطرے آنسؤں کے بہہ نکلے۔
’’ تم مجھے کونسی کہانی سنانا چاہتے ہو؟ مجھے کوئی کہانی نہیں سننا ہے۔ تمہیں مجھ سے جو کام ہے کہو اور اپنے راستے جاؤ میرا پیچھا چھوڑو‘‘ میں نے اسے جھڑک دیا۔
’’میں آپکو عبی کی کہانی سنانا چایتا ہوں‘‘ اس نے کہا
’’مگر کیوں۔۔۔؟تم مجھے عبی کی کہانی کیوں سنانا چاہتے ہو‘‘ میرے لہجے میں تلخی نمایاں تھی۔
’’ کیوں کہ اس کی بہن کی عزت لوت کر قتل کر دیا گیا تھا اور وہ بھی اس کی شادی کے روز اور عبی کو اس کی جان بچانے کے جرم میں قتل کے دیا گیا تھا‘‘ اس نے کہا
میں نے اس کی بات کو پہلے غور سے نہیں سنا تھا حالاں کہ اس نے پہلے بھی بتایا تھا کہ اسے ہی پیار سے عبی بولتے تھے۔
’’تم مجھے پوری بات آرام سے بتا سکتے ہو‘‘ میں اب پوری کہانی سننا چاہتا تھا
اس نے بات شروع کی۔۔۔۔
’’ یہ جو سب کچھ ہو رہا ہے اس میں صرف وہ لوگ ہی ملوث نہیں ہیں بلکہ آپ لوگ بھی ملوث ہیں آپ بھی اس میں برابر کے شریک ہیںآ پ اسے جرم تو کہتے ہیں اسے ریاستی دہشت گردی کا نام دیتے ہیںآپ اس کے خلاف آواز اُٹھاتے ہیں بات کرتے ہیں مگرآپ کی بات آپ کی کارروائی صرف کاغذوں اور باتوں کی حد تک محدود ہو کر رہ گئی ہے آپ عمل نہیں کرتے آپ نے کبھی کسی کو جا کر نہیں روکا کہ وہ ایسا کیوں کر رہا ہے‘‘
’’لیکن تم تو کسی عبی کی بات کرنا چاہتے تھے اور تم کچھ اور کہے جا رہے ہو‘‘ میں نے اسے روک کر کہا۔
’’ہاں اس کی ایک بہن تھی۔ کوئی بھائی نہیں تھاباپ سکول ماسٹر تھا۔ ماں مر چکی تھی جب وہ دونوں چھوٹے تھے۔اسکی بہن کی شادی کے اگلے روزرات کے وقت کچھ لوگوں نیان کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا اس کے باپ نے جا کر دروازہ کھولا۔ سامنے چار لوگ کھڑے تھے انہوں نے بتایا کہ وہ مجاہد ہیں انہیں بھوک لگی ہے پچھلے دو روز سے انہوں نے کچھ نہیں کھایا اور رات بسر کرنے کے لئے جگہ چاہئیے وہ صبع پہلے پہر چلے جائیں گے۔ اس کے باپ نیں انہیں کھانا دیا رات گزارنے کے لئے جگہ دی صبع فجر کی نماز سے پہلے وہ لوگ چلے گئے۔ اس شام اس کی بہن کی شادی تھی گھر میں خوشی کا سماں تھامہمان آئے ہوئے تھے۔اچانک بہت سے فوجی گھر میں گھس آئے اور عبی اور اس کے باپ کو گرفتار کر لیا۔عبی کے والد نے ذرا سی مزاہمت کی تو اسے انہوں نے گولی مار دی۔اور عبی اور اسکی بہن کو اُٹھا کر لے گئے۔عبی کو ہوش آیا تو جنگل میں ایک جھاڑی کے قریب پڑا ہوا تھااور قریب ہی اس کی بہن کے چلانے کی آواز آ رہی تھی اور فوجی اس کی عزت لوٹ رہے تھے۔‘‘
اتنا کہہ کر میں نے دیکھا کہ اس کی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے۔
میں نے اس سے پوچھا’’مگر انہوں نے انہیں گرفتار کیوں کیا اور وہ اس کی عزت کیوں لوٹ رہے تھے۔‘‘
’’ اپنی وضع اور دہشت کو برقرار رکھنے کے لئے، اور ان میں سے چار وہی پچھلی رات والے آدمی تھے‘‘
’’یعنی کہ وہ انڈین فوجی نہیں بلکہ مجاہدین تھے جو اسکی بہن کی عزت لوٹ رہے تھے‘‘ میں نے پوچھا۔
’’نہیں وہ مجاہدین تھے ہی نہیں بلکہ وہ تو ان کے جیسے بن کر آئے تھے تاکہ وہ ان پر الزام لگا سکیں اور بعد میں ثبوت بھی فراہم کر سکیں کہ انہیں کس جرم میں گرفتار یا مارا گیا ہے‘‘
میرے ذہن میں سوالوں کی بوچھاڑ ہو رہی تھی لیکن کوئی بات کہنے یا پوچھنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔میرا سر چکرانے لگا تھا، میں نے پوچھا
’’مگر انہوں نے عبی اور اسکے گھر کو ہی کیوں چنا؟ انہیں نے اس کی ہی بہن کا ریپ کیوں کیا؟کیا انہیں پتا نہیں تھا کہ انہیں کوئی پوچھنے والا بھی ہو گا‘‘
میں سوال کر ہی رہا تھا کہ اس نے بولنا شروع کر دیا۔
’’کون پوچھتا ہے وہاں پر کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا ہے۔وہاں پر تو بڑے بڑے لوگوں کا پتا ہی نہیں چلتا کہ رات کو سوئے تھے اور کدھر گئے اور رہی بات عبی اور اس کے گھروالوں کی تو انہیں عبی کی وجہ سے مارا گیا۔ عبی نے جو گزشتہ دنوں وادی میں تحریک چلی تھی اور احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے ان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا ۔اور اکثر مظاہرے کروانے میں پیش پیش رہتا تھا۔اسے اس جرم کی سزا ملی کہ وہ آزادی مانگتا تھا وہ خود مختار کشمیر کی حامی تھا ۔ جو کہ بھارت اور پاکستان کوئی نہیں چاہتا۔ اور اہی بات وادی کی تو وہاں اگر بھارتی فوج پر کُتا بھی بھونکتا ہے تو اسے گولی مار دیتے ہیں کہ سالا آزادی منگتا ہے ۔ عبی سے تو بہت بڑا جرم سرزد ہوا تھا‘‘
ٹھیک ہے میں نے اسے روک کر کہا میں سمجھ گیا آگے سناؤ۔
’’عبی کو ہوش آیا تو اس کا سر درد سے پھٹا جا رہا تھا اس نے اٹھنے کی کوشش کی مگر وہ اُٹھ نہ سکا۔ اسے جسم کے انگ انگ میں درد محسوس ہو رہا تھا اور پورے جسم میں چوٹیں محسوس ہو رہی تھیں۔ مگر اس کی بہن کی چیخوں نے اسے اُٹھنے پر مجبور کیا وہ اس قابل نہ تھا کہ وہ اُٹھ سکے مگر نہ جانے اس میں کہاں سے طاقت آ گئی کہ وہ اُٹھ کھڑا ہوا ۔ وہاں پر سات فوجی تھے جو اس کی بہن کی عزت لوٹ رہے تھے اچانک اُٹھ کر اس نے ایک سے گن چھین لی اور اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ تین تو پہلے ہی مر گئے ایک نے اتنے میں اس پر گولی چلا دی جو اس کے سینے سے پار ہو گئی۔ اور غصے میں اس کی بہن کو بھی گولی مار دی جو تقریباََ بے ہوش ہو چکی تھی۔ مگر عبی نے مرتے مرتے اس سمیت دو اور کو بھی مار دیا اور مرتے وقت اس کے چہرے پراپنی بہن کے دُکھ کے ساتھ ایک فاتح کی سی مسکراہٹ بھی تھی‘‘ اتنا کہہ کر عبد اللہ خاموش ہو گیا۔
’’کیا اخبارات یا میڈیا پر یہ بات نہیں پہنچ سکی؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’پہنچی کیوں نہیں ، دوسرے دن یہ خبر تمام اَخبارات کی اہم سرخیوں میں سے تھی کہ وہ تینوں عبی اسکی بہن اور باپ مجا ہدین سے ملے ہوئے تھے ایک جھڑپ میں ان سمیت نو مجاہدین مارے گئے جب کہ دو بھارتی فوجی ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔فائیرنگ کی وجہ سے جنگل میں آگ لگ گئی اور تمام لاشیں جل کر خاک ہو گئیں‘‘ اس نے کہا ۔
’’انہوں نے لاشوں کے ساتھ کیا کیا؟‘‘
’’‘ جنگل کو آگ لگا کراس میں پھینک دیں اور جل گئیں‘‘اس نے کہا
’’درندے کہیں کے‘‘ میں اتنا ہی کہہ پایا تھا کہ مجھے قدموں کی آواز سنائی دی۔ میں نے دیکھا کہ ایک لڑکی جس کی رانیں اور بازو برہنہ ہیں اس کے کپڑے پھاڑے گئے ہیں جو کہ دلہن کے لباس کی طرح ہیں۔بال بکھرے ہوئے ہیں اس کے چہرے پر پنجوں کے نشانات ہیں جیسے کسی درندے نے اس کے اوپر حملہ کیا ہے اس کے کپڑے جگہ جگہ سے پھٹے ہوئے ہیں اور ان پر خون ہی خون ہے جو کہ تازہ ہے۔ بڑی مشکل سے چل رہی ہے اور اپنے پھٹے ہوئے کپڑوں سے اپنے برہنہ جسم کو چھپا رہی ہے۔ ہمارے پاس آ کر رُک گئی اور نحیف سی آواز میں کہا۔ ’’چلیں بھائی‘‘
وہ دونوں جانے لگے میں نے انہیں آواز دے کر کہا’’رکو ‘‘ وہ رک گئے۔ میں نے پوچھا۔
’’مگر تم یہ سب کچھ کیسے جانتے ہو‘‘
اس نے جوب دیا’’ آپ بھول گئے شاید میں نے آپ کو بتا یا بھی تھا کہ میں ہی عبی ہوں اور یہ میری بہن ہے۔‘‘
اتنا کہنا تھا کہ وہ دونوں غائب ہو گئے اچانک گولیوں کی ’’ٹھل،ٹھل‘‘ کی آواز کے ساتھ ایک زنانہ اور ایک مردانہ چیخ کی آواز آئی اور میرے لئے یہ سمجھنا مشکل نہ تھا کہ یہ ان ہی کی چیخیں ہیں۔
میں ہڑبڑا کر اُٹھ بیٹھا میں شاید خواب دیکھ رہا تھا۔ میرا جسم پسینے سے شرابُور تھا۔
میں شاید خواب دیکھ رہا تھا مگر نہیں یہ خواب نہیں ہو سکتا کیوں کہ میرے کمرے کا دروازہ ابھی جیسے بند ہوا تھا اور مجھے اس کے بند ہونے کی آواز بھی آئی تھی اور پھر قدموں کی چاپ۔۔۔۔۔۔۔
میں نے جلدی سے اُٹھ کر بجلی کا بٹن آن کیا ۔دروازہ اندر سے بند تھا جیسے میں کر کے سویا تھا۔ میں آتما ،بھوت، پریت وغیرہ پر یقین نہیں رکھتا اور نہ ہی کبھی ان چیزوں سے ڈرہ ہوں۔ قدموں کی دور جاتی آواز مجھے آ رہی تھی میں جلدی سے دروازہ کھول کر قدموں کی آواز کے پیچھے بھاگا۔ وہاں کوئی نہیں تھا تاہم بارش ضرور ہوئی تھی اورابھی تک ہلکی ہلکی جاری تھی۔ میں واپس کمرے میں لوٹ آیا ارد گرد گہرا سکوت تھا اب مجھے ایک ایک بات سمجھ آ گئی تھی۔ عبی کو کیوں جلدی تھی؟ چیخوں کی آواز کس کی آ رہی تھی؟اس کے پاس وقت کیوں کم تھا؟ ایک ایک بات۔۔۔۔۔۔۔ اوراگر کچھ سمجھ نہیں آیا تھا تو وہ یہ تھا کہ میں نے واقعی خواب دیکھا تھا ، خیالات کی دنیا میں تھا یا پھر حقیقتاََ ایسا ہوا تھا کہ وہ مجھ سے ملے تھے۔ میں یہ بات آج تک اکثر سوچتا رہتا ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں