94

پاکستان اور چین کی ابی جارحیت شروع ہو چکی – افضال سلہریا

اس وقت جب ساری دنیا کورونا سے نمٹنے کیلے تگ و دو میں مصروف ہے لیکن پاکستانی زہیرانتظام آزاد کشمیر میں چین اور پاکستان اپنی ہوس ملک گیری کی خواہش میں مظفرآباد میں دریاے نیلم پر غاصبانہ قبضہ کرنے کے بعد دریاےُجہلم کا رخ تبدیل کرنے کے انسان دشمن گھناونے منصوبے پر عمل درآمد کا اعلان کر دیا ہے واضع رہے کہ دریائے نیلم کی جبری بندش کہ 2008س سے قوم پرست اور سول سوساہٹی سراپا احتجاج ہے جبکہ گزشتہ دو سال سے دریا بچاو کمیٹی مسلسل احتجاج کر رہی ہے جبکہ 85 روزہ دھرنا بھی دیا گیا اور ریاست کی اعلی عدلیہ میں بھی اپنا کیس پیش کر کہ انصاف کے منظر ہیں

لیکن اس ساری صورتحال کا افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ آزاد کشمیر کے وزیراعظم فاروق حیدر خان اور دارلحکومت سے ممبر اسمبلی افتخار گیلانی نے واپڈہ اور چینی کمپنی کے سہولت کار ہونے کا کردار ادا کر رہے ہیں ۔فاروق حیدر خان نے مظفرآباد پریس کلب سمیت دریا بچاو کمیٹی کے احتجاجی دھرنے میں متعدد بار اعلان کیا کہ دریاؤں کا رخ تبدیل نہیں ہونے دیا جاے گا لیکن ہوس اقتدار میں اندھے حکمران اپنے حقیر مفادات کیلے دریاؤں کا رخ تبدیل کر کہ مظفرآباد کی تاریخ مٹانے سمیت دس لاکھ انسانوں کا ماحولیاتی قتل کر رہے ہیں

پاکستان اور چین جموں کشمیر میں اپنا غاصبانہ قبضہ کرنے کیلے بھارت سے دو ہاتھ آگے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، بھارت ایک لاکھ کا قاتل ہے تو پاکستان اور چین دس لاکھ انسانوں کے ماحولیاتی قتل عام پر عمل پیرا ہے

بھارت اگر انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں کر رہا ہے تو پاکستان بھارت سے دوگنا زیادہ شہری و انسانی حقوق پامال کر رہا ہے

بھارت اگر کشمیریوں کی املاک کی تباہی اور وسائل کی لوٹ مار کر رہا ہے تو پاکستان بھارت سے دس گناہ زیادہ ریاستی عوام کے وسائل لوٹ رہا ہے

آج پاکستان اور چین دریائے جہلم کا رخ تبدیل کرنے کا معاہدہ کر رہے ہیں ہم ان دونوں غاصب قابض ممالک سے معصومانہ سوال کر رہے ہیں کہ یہ دریا محمد علی جناح یا چو این لاہی کے دادا وراثت ہیں ؟؟ اگر جواب نہیں میں ہے تو ہم دریائے جہلم کے رخ کی تبدیلی جیسے گھناونے معاہدے کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں