16

20جنوری 1990 ،کشمیری پنڈت اور پس منظر

#جواداحمدپارسؔ
ریاست جموں کشمیر صدیوں سے امن و محبت کا گہوارہ رہی رہی 1586 کے بعد 1846 تک یہ قوم مختلف غیر کشمیری قوموں کی غلامی میں رہی ہے جن میں مغل ،افغان اور سکھ بالترتیب ہیں۔ ان دو سو ساٹھ سالوں میں اس قوم نے مل کر تو کبھی انفرادی حیثیت سے بلارنگ نسل و مذہب ان حملہ آوروں کے خلاف جدوجہد کی ہے۔ جب پنجاب کے سکھوں اور انگریزوں کی لڑائی شروع ہوئی تو کشمیر ی قوم جو کہ پہلے خالصہ سرکار کے خلاف سرگرم تھی اب انگریز حکومت کے خلاف بھی لڑنا شروع کر دیا۔ معائدہ امرتسر کے بعد جدید ریاست جموں کشمیر کی بنیادی پڑی تو کشمیر قوم گرچہ حکمرانوں کے خلاف لڑتی رہی مگر ریاست کے کسی حصے میں مذہبی لسانی یا نظریاتی بنیادوں پر لڑائی نہیں ہوئی۔ڈوگرہ خاندان کے خلاف کچھ کشمیری مسلم راہنماؤں نے شورش کی کوشش کی مگر اس شورش کی کوئی بڑی پزیرائی نہ مل سکی یہاں تک کہ تیرہ جولائی 1932 میں سرینگر کا وہ واقعہ بھی اس قوم کے مذہبی بنیادوں پر زیادہ تقسیم نہ کر سکا جس میں بائیس کشمیری مسلمان صرف ایک اذان کے پیچھے جان دیتے رہے۔ مسلم کانفرنس نے گرچہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ابھارنے کی کوشش کی اور منافرت کو ہوا دینے کی سعی لاحاصل کی مگر جلد ہی اسی کی بغل سے نیشنل کانفرنس نکل آئی جس نے پھر سے ریاست جموں کشمیر کے ہر شہری کی بلا رنگ و نسل و مذہب بات کرنا شروع کر دی۔
۲۲ اکتوبر 1947 میں ریاست جموں کشمیر پر قبائلی حملہ ہوا تو ریاست میں غیر مسلموں کا قتل عام کیا جانے لگا۔ اس وقت ہمسایہ ممالک کی تقسیم ، پنجاب ، بنگال اور آسام میں انسانی نسل کشی نے کشمیری قوم پر بھی وہی اثرات مرتب کیے جو اس وقت ہر انسان سماج کی مذہب کی نفسیاتی نظر سے دیکھنے لگا تھا مگر مظفرآباد میں ہی کئی کشمیری مسلم خاندانوں نے غیر مسلم خاندانوں کی حفاظت کی بلکہ ان کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں بھی دیں جس کی ایک مثال مظفرآباد میں کشمیری غیر مسلموں کے جان بچانے والے ماسٹر عبدالعزیز ہیں جن کو قبائلیوں نے بعد میں قتل کر دیا تھا۔ انہوں نے چار سو غیر مسلم کشمیر خواتین کو اپنے گھر میں پناہ دی ہوئی تھی۔قبائلی کشمیر پر قبضہ تو نہ کر سکے تاہم کشمیر کو تقسیم کردیا یہ تقسیم بھی جغرافیائی بنیادوں پر ہوئی نہ کہ مذہبی بنیادوں پر کشمیر میں بقائے باہمی،محبت ، امن اور بھائی چارے کی جو فضا تھی وہ اس کے بعد بھی قائم رہی۔
اسی کی دہائی میں ریاست جموں کشمیر اور خاص کر صوبہ کشمیر میں مذہبی انتہا پسندی کی نئی لہر نے انگڑائی لی یہ وہ دور تھا جب ایک طرف امریکہ کے تعاون سے افغانستان میں القائدہ سوویت یونین کے خلاف لڑائی لڑ رہی تھی ، پاکستان میں ایک آمر ضیاء الحق کی حکومت تھی جس نے خطے میں اسلامی جنگ کا آغاز کر رکھا تھا یوں کشمیری نسل کا خصوصا مسلمانون کا خون بھی بھارت کے خلاف اپنی آزادی کے لیے کھول رہا تھا واضح رہے کہ کشمیریوں کی یہ جدوجہد اول روز سے ہی جاری تھی جب بھارت نے سرینگر ہوائے اڈے پر قدم رکھے تھے۔ اس وقت سے ریاست میں ہندوستان کے خلاف مسلسل کبھی عسکری تو کبھی پرامن بنیادوں پر تحریک کو استوار کیا جاتا رہا تھا۔ اسی ہی کی دہائی میں بھارت نے معروف کشمیر آزادی پسند راہنما مقبول بٹ کو رویندرا مہاترے جس کا قتل برطانیہ میں کچھ کشمیری نوجوانوں نے کیا تھا کو تہاڑ جیل دہلی میں پھانسی دے کر شہید کر دیا۔ جس سے بھارت کے خلاف کشمیریوں کے دلوں میں نفرت مذید بڑھی۔ جبکہ اسی عرصے میں سرینگر میں انتظامی عہدوں پر بھی مسلسل جنگ کا سا ماحوال رہا جسے بعد میں مذہبی رنگ دے کر انجام پذیر کرنے کی کوشش کی گئی۔
1986 میں میں کشمیر میں غلام محمد شاہ کو فاروق عبداللہ کی جگہ وزیر اعلی بنا دیا گیا جس نے نیو سول سیکرٹیریٹ جموں میں شاہ مسجد کے نام سے ایک عظیم الشان مسجد بنانے کا اعلان کیا اس جگہ پر ہندووں کا بقول یہ مندر کی جگہ تھی اس مسئلے کو لے کر جموں میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے جس کے جواب میں کشمیر میں غلام محمد شاہ نے ’’اسلام خطرے میں ہے‘‘ کا نعرہ بلند کیا ۔ یوں کشمیر میں مسلمانون اور ہندوؤں کے درمیان کشیدگی شروع ہو گئی دونوں قوموں کے مذہبی جذبات مجروح ہو رہے تھے جس کے نتیجے میں سوپور ، ونفون، اننت ناگ، لکبھون، سالار اور فتح پور میں ہند و کمیونٹی کے مندر اور ملکیت کو نقصاں پہنچایا گیا ۔ رفتہ رفتہ یہ مسئلہ سر چڑھ کر بولنے لگا ۔ اگلے ہی سال کشمیر میں الیکشن ہوئے تو بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات لگائے گئے نیشنل کانفرنس اور انڈین نیشنل کانگریس نے مل کر حکومت بنائی ۔
اسی دوران جولائی 1988 میں افغانستان میں طالبان کی فتح سے متاثر ہو کر جموں کشمیر لبریشن فرنٹ نے کشمیر میں بھارت کے خلاف مسلح جدوجہد کا آغاز کر دیا ۔ بعض محققین کا خیال ہے کہ اس تحریک کو بھارت نے اپنے خلاف سے موڑنے کے لیے مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی جس میں وہ کسی حد تک کامیاب بھی رہا ۔ ستمبر انناوے میں بھارتی جنتا پارٹی کے ایک سرگرم راہنما تکا لعل ٹپلو کو سرینگر میں کئی لوگوں کے سامنے دن دہاڑے سرعام قتل کر دیا گیا جس نے کشمیر میں مذہبی جنگ کو مزید ہوا دی اس وقت تک کشمیر میں تقریبا ڈیڑھ لاکھ پنڈت بس رہے تھے جنہیں یکدم اپنے غیر محفوظ ہونے کا احساس ہونا شروع ہو گیا حالانہ کہ عام دیہی حالات میں کوئی خاص فر ق دیکھنے میں نہیں آیا تھا۔ اسی دوران کشمیر میں مسلح جہادی گروہ بڑھنے لگے اور کشمیر کی نوجوان نسل دھڑا دھڑ ان جہادی گروہوں کا حصہ بننے لگی۔
چار جنوری 1990کو کشمیر کے ایک لوکل اردو اخبار آفتاب اور اس کے اگلے دن الصفحہ میں حزب المجاہدین کی طرف سے ایک پریس ریلیز جاری کروائی گئی جس میں کشمیر ی غیر مسلم پنڈتوں کو کشمیر کو فی الفور چھوڑنے یا پھر موت کے لیے تیار ہو جانے کا حکم دیا گیا۔ 19جنوری 1990کو کشمیر میں گورنر راج لگا دیا گیا جس کے خلاف فارو ق عبداللہ نے استعیفی دے دیا۔ جس کی وجہ سے حالات کشیدہ ہو گئے اور اسی روز کشمیری پنڈتوں کا جن میں مسلمان اور غیر مسلم دونوں شامل تھے قتل عام کیا گیا۔ اس وقت کشمیر میں تقریبا ڈیڑھ لاکھ کے لگ بھگ کشمیری پنڈت آباد تھے جنہوں نے ایک ہی رات میں اپنے گھر ، مال مویشی ، دوست احباب اور جائیداد چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور ہندوستان میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ جبکہ ایک اندازے کے مطابق قریبا ساڑھے چھ سو کشمیری پنڈتوں کو اس روز قتل کیا گیا۔ بھارت میں انتہا پسند جماعتیں اس اعداد و شمار کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتی رہی ہیں۔ اس قتل عام کے بعد تقریبا ایک لاکھ کشمیر پنڈت بے گھر ہوئے۔
وجوہات کچھ بھی رہی ہوں مگر آج ایک مرتبہ پھر کشمیری مسلمان کشمیری پنڈتوں کو ان کے گھروں میں واپس خوش آمدید کہہ رہے ہیں ان کی جائیدادیں واپس کر رہے ہیں پرانی دوستیاں بحال ہو رہی ہیں آئے روز ایسی کئی مثالیں دیکھنے کو مل جاتی ہیں جس میں کشمیری قوم مذہب و نسل سے بالاتر ہو کر ایک سماجی نظام میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور مدد کرتے ہیں ۔ وہ وقتی شورش سامراج کی ایک گھناؤنی سازش تھی جس کے بارے میں ہر صاحب عقل کشمیری جانتا ہے اس کا نام لکھنے کی ضرورت نہیں ہے یہ وہی لوگ ہے جنہوں نے کشمیرکو تب مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوشش کی اور آج پھر اسی کوشش میں لگے ہوئے ہیں کبھی اسلام کے نام پر ، کبھی جہاد کے نام پر، کبھی لسانیات کے نام پر تو کبھی زبردستی کے رشتوں کے نام پر۔ آج ہر کشمیری یہ کہہ رہا ہے کہ کشمیر ہر اس کشمیری کا ہے جو انی سو سنتالیس میں ریاست جموں کشمیر کا شہری تھا اور اسے حق حاصل ہے کہ وہ اپنی مرضی و منشا کے مطابق ریاست میں رہے ۔ مجھے امید ہے کہ ریاست جموں کشمیر کی قوم بلالحاظ رنگ و نسل و مذہب اسی امن اور بھائی چارے کی فضا کو قائم و دائم رکھے گی اور جلد جموں کشمیر دنیا کے نقشے پر ایک آزاد و خود مختیار ریاست کی حیثیت سے اظہر من الشمس ہو گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں