Abdul Hakeem Kashmiri 24

شرم بھی جنس نایاب ہوئی حکمرانوں کے لیے:عبدالحکیم کشمیری

پہاڑی کے دامن میں ایک گاؤں تھا۔ جب بھی کوئی مسافر گاڑی پہاڑ سے گرتی، گاؤں کے بااثر افراد اس کا سامان لوٹتے۔ یہی ان کا ذریعہ معاش تھا۔ ایک عرصہ گزرتا ہے کوئی حادثہ نہیں ہوتا۔ گاؤں کے سر پنچوں کا جٹ دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتا ہے ۔۔۔۔۔

اے پروردگار! ایک عرصہ ہوا کوئی گاڑی نہیں گری۔
اے خدا! ہم تیرے گناہ گار بندے ہیں ہم پر رحم کا معاملہ فرما، ورنہ ہم بھوکے مر جائیں گے۔
اے اللہ! باراتیوں سے بھری ہوئی بس گرا دے، جس میں عورتیں زیورات سے لدی ہوئی ہوں.
اے اللہ! کسی ولائیت پلٹ کی گاڑی حادثے کا شکار کر جس کا بیگ سامان اور جیبیں ڈالروں سے بھری ہوئی ہوں۔

زلزلہ 2005ء ہو یا کوئی اور حادثہ، آزاد کشمیر کے چھوٹے بڑے صاحبان اختیار کے لیے ہمیشہ انعامی بانڈز کا لکی نمبر ثابت ہوا۔ کہتے ہیں آفت زدہ علاقہ جرائم پیشہ افراد کی جنت ہوتا ہے۔ آزاد کشمیر پر مسلط طبقے نے اپنے عمل سے اسے درست ثابت کیا۔ سچ یہ ہے کہ کورونا وائرس سے بچاؤ کے نتیجے میں نافذ لاک ڈاؤن کلاک حکمران جماعت کی بے حسی کی ساعتوں کی گنتی کر رہا ہے۔

غالباً 23 مارچ 2020ء کو لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا۔
اچھا فیصلہ تھا۔
جو دنیا بھر کے ممالک نے کیا وہی اس ریاست کی حکومت نے کیا۔
حکومتی اعداد شمار کی فہرست کے مطابق 2 لاکھ 48 ہزار خاندان لاک ڈاؤن کی وجہ سے متاثر ہوئے۔
87 ہزار خاندان احساس پروگرام کی معمولی رقم سے فیض یاب ہوئے یا ہو رہے ہیں۔ بقیہ ایک لاکھ 71ہزار خاندانوں کے لیے حکومت آزادکشمیر نے اس عرصہ میں کیا کیا؟؟؟

احساس پروگرام کے مستحقین کے علاوہ باقی خاندانوں کو سوا مہینہ گزرنے کے باوجود امداد نہ مل سکی۔ وزیراعظم سے بات ہوئی کہ آپ کے پاس ترقیاتی فنڈز کے ساڑھے چھ ارب روپے پڑے ہوئے ہیں، اُس سے تین کام لیں۔

1. متاثرہ لوگوں کی مدد کریں
2. تاجروں کے لیے پیکج کا اعلان کریں اور
3. محکمہ صحت کو مضبوط کریں

میری گفتگو کے ردعمل میں وزیراعظم کی بدن بولی بتا رہی تھی کہ اس طرح کی تجویز میں اُن کی دلچسپی کا کوئی پہلو نہیں۔

حکومت نے اس سوا مہینے میں اپنے ترجمانوں کے ذریعے بھرپور پریس کانفرنسز کیں۔ اخبارات کی شہ سرخیوں سے اپنی کارکردگی پر مہر ثبت کروائی لیکن عملاً کیا ہوا؟

پی ایم سی ڈی پی بحال رکھا گیا۔
ممبران اسمبلی کی صوابدید پر سڑکوں کی تعمیر کا عمل بحال رکھتے ہوئے ہنگامی بنیادوں پر ٹینڈر کیے گئے۔
وزیراعظم اور اُن کے ترجمانوں کی طرف سے بار بار دعویٰ کیا گیا کہ وزیراعظم، کورونا سے نمٹنے کے سارے عمل کی خود نگرانی کررہے ہیں۔

نگرانی کیا ہوئی؟
آزادکشمیر کی لیبارٹریوں میں جو کورونا ٹیسٹ پازیٹو ظاہر کیے گئے، نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ اسلام آباد میں ان میں سے ایک معقول تعداد نیگیٹو ظاہر ہوئی۔ عباس انسٹی ٹیوٹ کی لیب گزشتہ دو ہفتوں سے خراب ہے۔ راولاکوٹ کی لیب کے نتائج لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنے کے مترادف ہیں۔ چونکہ وزیراعظم کا دعویٰ ہے کہ وہ اس سارے عمل کی خود نگرانی کررہے ہیں تو ہم کہہ سکتے ہیں یہ سارا کچھ اُن کی نگرانی میں ہو رہا ہے۔

ایک اطلاع جس کی میں تصدیق نہیں کر سکا وہ یہ ہے کہ حکومت آزادکشمیر کو اسلام آباد کی طرف سے کورونا ٹیسٹ کے لیے جو مشینری دی گئی وہ چین کی طرف سے پاکستانی حکومت کو بھیجی گئی تھی جو اسلام آباد نے پہلے سندھ حکومت کو دی۔ سندھ نے اُسے غیر معیاری قرار دے کر واپس کر دیا۔ بعدازں وہ مشینری آزادکشمیر کو دی گئی۔ اگر یہ درست ہے تو اس خطہ کے ہزاروں لوگوں کا دانستہ قتل عام میں اس خطہ کی حکومت شامل ہے۔ ایسا ہر عمل ناقابل معافی اور قابل محاسبہ ہے۔

جو وینٹی لیٹرز رولز معطل کرکے خریدے گئے اُن کے بارے میں بھی غیر مصدقہ اطلاعات ہیں کہ ابرار الحق (سابق گلوکار رہنما پی ٹی آئی) کے ٹرسٹ کے تحت قائم ایک ہسپتال میں ان وینٹی لیٹرز کو غیر معیاری قرار دے کر کباڑ خانے میں رکھا ہوا تھا۔ انہیں اُٹھا کر یہاں لایا گیا۔

ارباب اختیار کی غیر سنجیدگی، خامیاں، وسائل کی کمی یقینا ایک مسئلہ ہے لیکن ان مشکل حالات میں پونے دو لاکھ خاندانوں کے لیے مدد تو دور کی بات، ابتدائی ہوم ورک بھی نہ ہو سکا۔

صدر ریاست کیلئے 5 کروڑ کی گاڑی، دو مشیروں کے لیے اسی اسی لاکھ کی گاڑیاں، وزیراعظم کے سکواڈ کے لیے کم و بیش 90 لاکھ کی گاڑیوں کی خریداری کے لیے رقم سنٹرل ٹرانسپورٹ کو منتقل کرنا باعث شرم اور تکلیف دہ ہے۔

بڑے عہدوں پر بیٹھے ہوئے لوگ کردار سے بڑے ہوتے ہیں۔ افسوس ہمارے ہاں بڑی گاڑیاں، بڑے گھر اور لمبے چوڑے پروٹوکول بڑا دکھائی دینے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ اس سے بڑی احساس کمتری کیا ہوگی۔
صدر ریاست نے اگلے سال اپنے عہدے سے فارغ ہو جانا ہے۔ جاتے جاتے 5 کروڑ کی گاڑی قانونی ڈکیتی کے ذریعے حاصل کرنا شاید ان کے نزدیک ان کا حق ہے۔

مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اُن کی کارکردگی اتنی ہی ہے جتنی عمران خان کی حکومت کے لیے فردوس عاشق اعوان کی تھی۔ پڑھایا گیا سبق اچھی طرح سنانے پر اس طرح کے معمولی انعام نظام کی ضرورت ہیں۔ کسی مرکزی شاہ راہ پر حادثہ ہو، لوگ زخمی ہوں، تڑپ رہے ہوں اور کچھ نام نہاد مہذب اُن کی جیبیں خالی کررہے ہوں۔ اُن لوگوں کے بارے میں آپ کی جو رائے ہے میں آزادکشمیر کے حکمرانوں کے بارے میں وہی رائے رکھتا ہوں۔