Abdul Hakeem Kashmiri 108

تابعداری کا لطف بھی کمال ہوتا ہے

چہرے کی وہ کیفیت جب دیکھنے والا یہ اندازہ نہ لگا سکے کہ سامنے بیٹھا ہوا شخص ہنس رہا ہے یا رو رہا ہے کم و بیش ”آزاد جموں وکشمیر؟“کے مہاراج ایسی ہی صورتحال سے دوچار ہیں۔
بے بسی کی بھی بے بسی شاید ایساتماشا کم دیکھنے کو ملے۔

قانون سازی کا لشکر (ممبران قانون ساز اسمبلی)بحیثیت مجموعی مزاحمت کے ہنر سے ناآشنا ہے۔اجتماعی حمیت شاید اس کنکریٹ عمارت کی فاؤنڈیشن میں کہیں مرکھپ گئی ہے۔

گھٹا ٹوپ رات،جنگل کا سفر،جانے والے سے پوچھا گیا اگر شیر آگیا تو کیا کرو گے۔جواب آتا ہے ………………جو کرنا ہے شیر نے کرنا ہے میں نے کچھ نہیں کرنا…………

موجودہ صورتحال فکری لام بندی کے دعویداروں کیلئے ڈیزاسٹر ہے۔لیکن ”باکمال لوگوں کی لاجواب خصلت“دیکھئے……عزت و حرمت کی توہین سے لطف اندوزی رہبری کا واحد وصف بے نقاب ہوتا ہے
”آزادی کا بیس کیمپ“…………مگر آئین سازی کا اختیار نہیں قانون سازی کے محدود اختیارات کو مزید محدود کرنے کے مائنڈ سیٹ کے آگے سجدہ ریز۔۔۔۔

دنیا بھر کے خطوں میں آئین کس کیلئے بنایا جاتا ہے ……؟ لوگوں کیلئے …………

کس سے مشاورت کی جاتی ہے؟…………لوگوں سے

آئین حق حکمرانی کا اختیار کسے دیتا ہے؟ لوگوں کو ۔۔۔۔

کسی بھی آئین کو کسی بھی خطہ میں نافذ کرنے کیلئے وہاں لوگوں سے رائے لی جاتی ہے۔

آزاد جموں وکشمیر میں رولز آف بزنس آئے …………مشاورت ہوئی؟عبوری آئین 1974آیا عوام میں زیر بحث آیا؟

اور اب مجوزہ 14ویں ترمیم کو پوشیدہ رکھا جارہا ہے؟جو مجوزہ مسودہ مارکیٹ میں مشتہر کیا گیا،باخبر کہتے ہیں کہ حکومت آزادکشمیر کا اسلام آباد کی طرف سے بھیجے گئے مسودے کا متبادل ہے۔

بتایا جاتا ہے اسلام آباد کی طرف سے بھیجا گیا 14 ویں ترمیم کا مسودہ گلگت بلتستان آرڈر 2018کے قریب تر ہے۔

یوں 14ویں ترمیم کے بعد مظفرآباد سرینگر دہلی اور اسلام آباد میں کوئی فرق نہیں رہے گا۔

اطلاعات ہیں کہ 14ویں ترمیم نامی سنہری زنجیر کے خدوخال عوام تو عوام اسمبلی ممبران سے بھی خفیہ رکھنے کے احکامات ہیں ۔

کیا یہ وہ رشتہ ہے جس کی بنیادیں لا الہ الا للہ پر قائم ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے؟

کیا شہ رگ کے دعوے کی عملی شکل یہی ہے ؟کیا یہ تعلق یہ رشتے آزادکشمیر کے لوگوں کو بھیڑ بکریاں ثابت نہیں کرتے؟

ہاتھ پاؤں باندھ کر تابعداری خریدنے والے سوداگروں کو ماضی کے حادثوں سے سبق سیکھنا چاہئیے۔

ناقابل اعتبار رویے خود ناقابل اعتبار ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہیں

کیا ایسا کوئی بھی دستور مسلط کرنا جائز ہے جس کے بارے میں 99.99فیصد لوگوں کو معلوم ہی نہ ہو

سادہ سے گزارش ہے۔
جو بھی آئین مجبوری کے تحت اسلام آباد یہاں نافذ کرنا چاہتا ہے اسے پبلک کیا جائے اس پر بحث ہو۔طویل بحث کے بعد رائے لی جائے

ہاں اگر
اسلام آباد دہلی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے 4اگست 2019کی طرح کوئی مہم جوئی کرنا چاہتا ہے تو کر لے،اس توہین سے مزے لینے کے علاوہ ہمارے پاس کوئی آپشن نہیں۔
جبر کے لمحات سے لطف اٹھانا۔۔۔۔ہم کئی صدیوں سے ترقی یافتہ ہیں۔