Abdul Hakeem Kashmiri 99

پاکستانی زیر انتظام میں آئینی تبدیلی کی بازگشت | عبدالحکیم کشمیری

2لاکھ22ہزار236مربع کلو میٹر پر مشتمل متنازعہ ہمالین ریاست ”جموں کشمیر“تین ایٹمی قوتوں کے درمیان تقسیم ہے۔4اگست2019 کو ہندوستانی حکومت اپنے زیر انتظام ایک لاکھ ایک ہزاردوسو چھتیس مربع کلو میٹر پر مشتمل جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل کرکے اُسے اپنا حصہ بنا لیا۔

پاکستان کے زیر انتظام جموں وکشمیر دوانتظامی سیٹ اپ پر مشتمل ہے۔72971مربع کلو میٹر گلگت بلتستان 28اپریل 1949کو پاکستان نے اپنے زیر سایہ تشکیل دی گئی ”حکومت آزادجموں کشمیر“سے معاہدہ کراچی کے تحت اپنی علمداری میں لیا۔ 13296مربع کلو میٹر،آزادجموں کشمیر کو ایک نیم خودمختار حیثیت دے کر تحریک آزادی کشمیر کا بیس کیمپ قراردیا،جبکہ 33952مربع کلو میٹر رقبہ چین کی عملداری میں ہے۔

گلگت بلتستان کا نظام 1949سے1975تک برطانیہ کے بنائے ہوئے قانون ایف آرسی (فرنٹیر کرائم ریگولیشن)کے تحت چلایا گیا۔ 1975میں ایف سی آر کا خاتمہ کرکے دیوانی اور فوجداری قوانین کا اطلاق گلگت بلتستان پر کیا گیا۔1999میں گلگت بلتستان میں قانون ساز کونسل کا قیام عمل میں لا کر 49مختلف شعبوں میں قانون سازی کے اختیارات تقویض کیے گئے۔سال 2009ستمبر میں حکومت پاکستان نے گلگت بلتستان میں سیاسی معاشی انتظامی اور عدالتی اصلاحات پر مشتمل ایمپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر 2009نافذ کیا جس کے تحت اس خطے میں پہلی مرتبہ انتخابات ہوئے۔ صوبائی طر ز کی حیثیت کے تحت وزیر اعلیٰ اور گورنرکے عہدے تخلیق کیے گئے اس کے ساتھ 15اراکین پر مشتمل کونسل تشکیل دی گی، جس کے چیئرمین عہدے کے لحاظ سے وزیراعظم پاکستان مقرر ہوئے۔گر چہ آرڈر 2009کے تحت گلگت بلتستان اسمبلی کو کچھ محدود اختیارات دئیے گئے مگر حقیقی اختیار کا مرکز اسلام آباد ہی رہا۔

سال 2018میں اصلاحاتی آڈرز 2018 کے ذریعے گلگت بلتستان میں آئین پاکستان کے تحت سٹیزن ایکٹ1951نافذ کیا گیا،گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی ”گلگت بلتستان اسمبلی ”کہلائی۔ گلگت بلتستان کو ”ارسا“ سمیت تمام مرکزی اداروں میں شامل کیا گیا،چیف کورٹ کا نام تبدیل کرکے ہائی کورٹ رکھا گیا،سپریم کورٹ آف پاکستان کا دائر کار گلگت بلتستان تک بڑھایا گیا، جی بی کونسل کو مشاورتی کونسل کی حیثیت سے برقرار رکھا گیا اور وزیراعظم پاکستان کو گلگت بلتستان میں وہی اختیارات حاصل ہوئے جو دیگر صوبوں کے متعلق انہیں حاصل ہیں۔

گلگت بلتستان کے تیسرے پارلیمانی انتخابات کے حوالے سے اُس وقت بحران پیدا ہوا جب نگران حکومت کے حوالے سے آرڈر 2009،آرڈر 2018میں کسی شق کا وجود تک نہ تھا۔اسلام آباد حکومت نے اس سلسلہ سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع اور ساتھ ہی وزیر اعظم پاکستان کی زیر صدارت اجلاس میں الیکشن تر میمی ایکٹ کو گلگت بلتستان تک وسعت دی گئی۔

ہندوستان کے اقوام متحدہ میں مقدمے اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق گلگت بلتستان متنازعہ ریاست جموں کشمیر کا حصہ ہے مگر سی پیک اور دیگر اسٹرٹیجک ضرورت کے پیش نظر حکومت پاکستان مسلسل اصلاحات کے نام پراسے آئینی حصار میں لے رہی ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام آزادجموں کشمیر منقسم ریاست کے چھ فیصد رقبے پر مشتمل ہے پاکستانی ارباب اختیار ہمیشہ ریاست جموں کشمیر کی جدوجہد آزادی کا بیس کیمپ کہتے ہیں۔13296مربع کلو میٹر پر مشتمل آزادجموں کشمیر کاپاکستان سے آئینی انتظامی رشتہ عبوری آئین 1974کے تحت قائم ہے،24اکتوبر1947کو اس خطہ میں پاکستان کی حمایت سے آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کی قیادت میں بااختیار حکومت قائم کی گئی جس میں صدر،چیف آف آرمی سٹاف اور وزیر دفاع کے عہدے موجود تھے۔ 1950کے بعد پاکستان کی طرف سے مختلف رولز آف بزنس کے ذریعے اس خطے کا نظام چلایا گیا۔1970کے ایکٹ کے ذریعے کچھ اختیارات ضرور دیے گے مگر یہ عرصہ صرف چار سال پر مشتمل تھا۔سال 1974 میں آزاد کشمیر کو عبوری آئین 1974 دیا گیا عبوری آئین کے تحت مختلف شعبوں کے 56امور میں سے 52امور کشمیر کونسل کو دئیے گئے اسی عشرے میں ٹیکسزکی وصولی کا اختیار ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے کشمیر کونسل کو منتقل ہوا۔

1985میں آزادجموں کشمیر کو پارلیمانی نظام کے تحت لایا گیا جس کا تسلسل اب تک جاری ہے۔سال2018میں اسلام آبادمیں قائم مسلم لیگ نواز کی حکومت نے مظفرآباد کو کچھ اختیارات دینے کی رضا مندی دی۔ 31مئی 2018کو جس مسودے پر اتفاق ہوا وہ آزادکشمیر کے عبوری آئین میں 13ویں ترمیم کی شکل میں سامنے آیا، قانون ساز اسمبلی سے 13ویں ترمیم کی منظوری کے بعد کشمیر کونسل کی حیثیت مشاورت تک محدود ہوگئی۔متوازی قانون سازی، ترقیاتی اور غیر ترقیاتی بجٹ کے اختیارات کونسل سے واپس آزادکشمیر حکومت کو منتقل ہوئے۔13ویں ترمیم کو پاکستان مخالف قراردیتے ہوئے 14ویں ترمیم کیلئے لابنگمیں ایک مخصوص گروہ متحرک رہا،واقفان حال کہتے ہیں پاکستان کے وزیر قانون نے وزیر اعظمآزادکشمیر پر دباؤ ڈال کر 14ویں ترمیم کے لیے مجبور کرنے کی کوشش کی۔

اسلام آباد مظفرآباد چپقلش کی بازگشت میں 17جون 2020 کو سوشل میڈیا کے ذریعے 14ویں ترمیم کا مبینہ مجوزہ مسودہ منظر عام پر آیا۔مجوزہ مسودے کے پیرا گراف 17میں لفظ ”ریاست“کی جگہ ”آزادجموں کشمیر“شامل کرنے کی تجویز ہے، ایک سابق ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ اس طرح حکومت پاکستان جہاں ریاست جموں کشمیر کے بھارتی کنٹرولڈ حصے پر دعوے سے دست برداری کی طرف بڑھ رہی ہے وہاں آہستہ آہستہ آزاد کشمیر کو اپنے قومی دھارے میں لانے کی پیش رفت بھی کر رہی ہے۔

گرچہ مجوزہ مسودے کے حوالے سے حکومت آزادکشمیر کا سرکاری موقف سامنے نہیں آیا،البتہ ایک وزیر حکومت کا کہنا تھا کہ ”ہم سے حلف لیا گیا ہے کہ جب تک مسودے پر مکمل اتفاق نہیں ہوتا اس بارے میں کسی کو نہ بتایا جائے” نام نہ بتانے کے وعدے پر وزیر حکومت نے یہ بھی انکشاف کیا کہ جو اصل مسودہ ہے وہ آزادکشمیر کی موجودہ حیثیت مکمل ختم کر دے گا۔

باخبر ذرائع کے مطابق 14ویں ترمیم کے مجوزہ مسودے کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان،ایف بی آر،نیب،ایف آئی اے کا دائرہ اختیار آزادکشمیر تک بڑھایا جائے گا۔الحاق پاکستان کی مخالف جماعتوں پر پابندی،اظہار رائے کو محدود کردیا جائیگا،آزادجموں کشمیر کے قدرتی وسائل پر قانون سازی کا اختیار کونسل کو منتقل ہو جائے گا۔ایک اعلیٰ سیاسی شخصیت کے مطابق حکومت آزاد کشمیر کو 14 ویں ترمیم پر اتفاق کے لیے صرف دو ہفتوں کا وقت دیا گیا ہے۔اسلام آباد کی طرف سے مزید آئینی اختیارات کے حصول کی پیش رفت کے مقابلے میں مظفرآباد کے حکمرانوں کے پاس صرف ایک دلیل ہے کہ پاکستان کے حقیقی ارباب اختیار کوئی ایسا قدم نہ اُٹھائیں جس سے اسلام آباد اور دہلی کے اقدامات ایک جیسے نظر آئیں۔