Shafqat Raja Jammu Kashmir 125

ترمیم میں ترمیم – شفقت راجہ

متنازعہ ریاست جموں کشمیر و لداخ کے پاکستانی زیر انتظام حصہ”آزادجموں وکشمیر یا آزادکشمیر“کا آئینی و انتظامی ڈھانچہ ہمیشہ ہی سے ایک نازک موضوع رہا ہے جسے دراصل حکومت پاکستان اور ”حکومت آزادکشمیر“ کے درمیان 1949میں طے پانے والے معاہدہ کراچی میں باقاعدہ ترتیب دیا گیا تھا۔ آزادکشمیر بظاہر ایک ریاستی نمونہ ہوتے ہوئے بھی کوئی مقتدر ریاست نہیں ہے کہ یہ توقع رکھی جائے کہ وہ اس مقتدر حیثیت کے مطابق اپنے لئے کوئی آئینی و انتظامی ڈھانچہ خود مرتب کر سکے۔ اس ضمن میں پاکستان کے کیبنٹ سیکرٹری غلام اسحاق خان کا 11 مئی1971کی ہدایات کا خلاصہ اہمیت کا حامل ہو سکتاہے کہ جس میں کیبنٹ ڈویژن کے24 جون1970کے اعلامیہ میں آزادکشمیر کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا گیاگو کہ آزادکشمیر پاکستانی آئین کے آرٹیکل 1(2)(b) کے مطابق پاکستان کا حصہ نہیں تاہم اس کیساتھ باقی صوبوں کی طرح ہی برتاو ہونا چاہئے۔ پاکستان کے وزرا(مالیات، زراعت، تعلیم،صحت، صنعت و تجارت) کو آزادکشمیر کا دورہ کرنا چاہئے اور وہاں کے مسائل سے آگاہ ہونا چاہئے۔ آزاد کشمیر کی ترقی اور انتظام کو صرف کشمیرڈویژن کا معاملہ نہیں بلکہ اسے ملک کی ایک اور انتظامی اکائی کی طرح دیکھا جانا چاہئے۔ کشمیرڈویژن وہاں کے سیاسی معاملات او ر مسلہ کشمیر کے حوالے سے اپنا کام جاری رکھے اور دیگر مرکزی وزرا حکومت بھی اپنے متعلقہ محکمانہ امور میں ملک کی دیگر اکائیوں کی طرح آزادکشمیر میں بھی اپنے اسی اختیار کیساتھ کردار ادا کریں۔ آزادکشمیر حکومت کی ترقیاتی میدان میں پالیسی کیلئے مسلسل رابطہ کیلئے وہاں مرکزی حکومتی افسران کے دورے ہوں جس میں آزادکشمیر حکومت کے روزمرہ انتظامی معاملات میں مداخلت بھی نہ ہو اور اصل مقصد وہاں کے مسائل کا حل اور لوگوں کے معاشی حالات میں بہتری ہونی چاہئے۔

اسی لئے پاکستان میں ہونے والی تمام سیاسی و انتظامی تبدیلیوں کا برائے راست اثر آزادکشمیر پر بھی پڑتا ہے۔ ستر کی دہائی میں پاکستان میں صدارتی سے پارلیمانی نظام میں تبدیلی کو آزادکشمیر تک بڑھاتے ہوئے یہاں ایکٹ1970کے صدارتی نظام کو ایکٹ1974 کے تحت اسمبلی اور کونسل کی تشکیل کیساتھ دو ایوانی پارلیمانی نظام میں تبدیل کیا گیا۔ انچاس (49) ممبران پر مشتمل ایوان زیریں یعنی قانون ساز اسمبلی کے اکتالیس (41) منتخب ممبران میں سے بارہ ممبران مہاجرین جموں کشمیر مقیم پاکستان کی نمائندگی کرتے جبکہ پاتچ خواتین نشستیں، ایک نشست علما مشائخ، ایک سمندرپار اور ایک ٹیکنوکریٹ نشست کو ممبران اسمبلی کے ذریعے منتخب کیا جاتاتھا۔ اسی طرح ایوان بالا یعنی کشمیرکونسل میں چھ ممبران کو آزادکشمیر اسمبلی منتخب کرتی جبکہ پانچ ممبران کو وزیراعظم پاکستان نامزد کرتا ہے جو خود بھی ممبر ہوتا ہے اور اسکے علاوہ صدر آزادکشمیر، وزیراعظم آزادکشمیر یا اسکا نامزد نمائندہ اور وزیرامورکشمیر بھی کونسل کے ممبر ہوتے ہیں۔ کشمیر کونسل کا چیرمین وزیراعظم پاکستان جبکہ صدر آزاد کشمیر وائس چیرمین ہوتا ہے۔اختیارات کی تقسیم میں پاکستان کی وفاقی حکومت سے متعلقہ اقوام متحدہ (UNCIP) امور، خارجہ، دفاع، کرنسی سمیت تھرڈ شیڈول میں باون (52) امور کو کشمیر کونسل کی قانون سازیہ فہرست میں رکھا گیا اور ان کے علاوہ دیگر امور میں قانون سازی کا اختیار آزادکشمیر اسمبلی کے حصے میں آیا۔ اختیارات کی یہ تقسیم ایسی تھی جوکہ وزیراعظم پاکستان سمیت دیگر وفاقی وزرا کی کشمیر کونسل میں موجودگی سے ہی عیاں ہوتی ہے جس کی وجہ سے آزادکشمیر اسمبلی اور حکومت ہمیشہ اپنی بے اختیاری کا ماتم کرتے رہے ہیں۔ آزادکشمیر میں اکثر وہی سیاسی جماعت برسراقتدار آتی ہے جس کی حکومت وفاق میں ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ جولائی2016کے انتخابا ت کے بعد آزادکشمیر میں بھی راجہ فاروق حیدر کی قیادت میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت قائم ہو گئی۔ اسمبلی اور کونسل کے درمیان اختیارات میں توازن لانے کیلئے حکومت آزادکشمیر اپنی ساری کوششوں کے بعد2018میں تیرہویں ترمیم کی منظوری حاصل کرنے میں اس آخری دن کامیاب ہو ئی جس دن پاکستان میں مسلم لیگ(ن) کی وفاقی حکومت اپنا بوریا بستر سمیٹ چکی تھی اور اس طرح یہاں ایکٹ سے آئین کا ابتدائی سفر شروع ہو گیا۔ مذکورہ تیرہویں ترمیم 2018 کی منظوری سے اختیارات میں آزادکشمیر اسمبلی اور حکومت زیادہ نہ بھی سہی تاہم پہلے سے کافی بہتر حیثیت اختیار کر گئی اور اسمبلی ممبران کی تعداد53 ہو گئی، ٹیکس ریونیو کے امور پر آزادکشمیر کے اختیار نے حکومت کو کافی حد تک خودکفالت کے راستے پر ڈال دیا ہے۔ تھرڈ شیدول کو پارٹ A اور پارٹ B کی شکل میں دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیاجس کے پہلے حصہ(A)میں شامل امور پر قانون سازی کا مکمل اختیار وفاقی حکومت پاکستان کا جبکہ دوسرے حصہ(B) میں شامل امور پر آزادکشمیر اسمبلی وفاق کی منظوری کیساتھ قانون سازی کر سکتی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر اور آڈیٹر جنرل کی تعیناتی کو بھی کونسل کی بجائے چیرمین کونسل کی مشاورت کیساتھ منسلک کر دیا گیا اور کونسل کو ایک طاقتور ادارے سے ایڈوائزری باڈی (مشاورتی) بنا دیا گیا تھا۔ اس ترمیم سے پہلے متوازی حکومت کی حیثیت رکھنے والی کشمیر کونسل کے ممبران اور ملازمین کیلئے یہ نئی حیثیت قبول کرناخاصا مشکل تھا کیونکہ ان میں وفاقی وزرا بھی شامل تھے جو حکومت آزادکشمیر کو کبھی جوابدہ نہیں ہو سکتے تھے۔

اگست 2018 میں پاکستان میں عمران خان کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آئی اور کچھ عرصہ بعد ہی حکومت آزادکشمیر اور وفاقی حکومت پاکستان کے درمیان تیرہویں ترمیم میں انہی کونسل کے اختیارات کی رسہ کشی کی افواہیں اڑنے لگیں اور انکے زیراثر بعض اوقات وزیراعظم آزادکشمیر کی زبان بھی پھسلنے لگی اور آخرکار چند دن پہلے یعنی وسط جون میں وہ جن چودہویں ترمیم کے ابتدائی مسودہ کی شکل میں بوتل سے باہر آ گیاہے۔ مجوزہ ترمیمی مسودہ نے آزادکشمیر کے سیاسی، سماجی اور علمی حلقوں میں نئی بحث کا آغاز کر دیا ہے۔ آئین میں ترمیم بظاہر تو الفاظ کا ہیرپھیر ہوتا ہے مگر وہ کھیل دراصل نئی تشریحات کو بھی جنم دیتا ہے۔ الفاظ ہی کے گورکھ دھندے میں الجھے مجوزہ مسودہ کی ادھوری شکل کے اچانک درشن ہوتے ہی مختلف حلقوں کی طرف سے متفرق ردعمل بھی سامنے آ رہا ہے جو اکثر افواہوں اور قیاس آرائیوں پر مشتمل ہے۔ چلیں ان مجوزہ ترمیمی الفاظ یا جملوں کو آئین کی دستاویزی سطور میں رکھ کر دیکھتے ہیں کہ اسکی مکمل تصویر کیا بنتی ہے۔

آرٹیکل 4 (حقوق): مجوزہ ترمیمی مسودہ 2020میں پہلی ترمیم آرٹیکل 4کے پیراگراف 7 کیلئے رکھی گئی ہے۔ ایکٹ1974میں یہ پیراگراف Freedom of Association یعنی تنظیم (انجمن) کی آزادی سے منسوب ہے جس کی تشریح یوں ہو سکتی ہے کہ (1) ہر باشندہ ریاست کو تنظیم بنانے یا اسکا ممبر بننے کا حق حاصل ہے بشرطیکہ اس میں ضابطہ کار کے تحت کوئی قانونی پابندی (رکاوٹ) نہ ہو۔

(2) کسی بھی باشندہ ریاست یا تنظیم کو اجازت نہیں کہ وہ ایسی متعصبانہ تشہیر اور سرگرمیوں میں شامل ہو کہ جو نظریہ الحاق پاکستان کے منافی (نقصان دہ) ہوں۔

تیرہویں ترمیم 2018 کے بعد اسی پیرا گراف کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ (1)ہر باشندہ ریاست کو تنظیم بنانے یا اسکا ممبر بننے کا حق حاصل ہے البتہ اس کا انحصار پاکستان اور آزادکشمیر کی حاکمیت اعلیٰ و سالمیت اور ضابطہ کار کے تحت قانونی پابندیوں (رکاوٹ) سے جڑا ہے (یعنی پاکستان و آزادکشمیر کی حاکمیت و سالمیت اور ضابطہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے تنظیم سازی کی اجازت ہے)۔

(2) ہر باشندہ ریاست جو آزاد جموں و کشمیر کا ملازم نہیں ہے وہ تنظیم بنانے یا اسکا ممبر بننے کا حقدار ہے البتہ اس کا انحصار ریاست کی حاکمیت اعلیٰ یا سالمیت سے جڑی قانونی پابندیوں کیساتھ منسلک ہے (یعنی ریاست کی حاکمیت اعلیٰ و سالمیت سے جڑے ضابطہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے تنظیم سازی اور سرگرمیوں کی بھی اجازت ہے)۔ اگر حکومت (آزادکشمیر) کسی تنظیم کے قیام یا اسکی سرگرمیوں کو ریاست کی حاکمیت اور سلامتی کے خلاف قرار دیتی ہے تو حکومت (آزادکشمیر) پندرہ دن کے اندر اس معاملے کو سپریم کورٹ میں لے جائیگی جس کا اس معاملے میں فیصلہ حتمی ہوگا۔ (3) کسی بھی فرد یا تنظیم کو اجازت نہیں کہ وہ ایسی متعصبانہ تشہیر اور سرگرمیوں میں شامل ہو کہ جو نظریہ الحاق پاکستان کے منافی (نقصان دہ) ہوں۔ (4) ہر سیاسی تنظیم مالی ذرائع کیلئے جوابدہ ہو گی۔

مجوزہ چودہویں ترمیم 2020 میں بھی تیرہویں ترمیم ہی کی درج بالا ذیلی شقوں میں جہاں لفظ ٌحکومتٌ استعمال ہوا ہے اس کیساتھ لفظ ٌپاکستانٌ کا اضافہ کیا گیا ہے جس کی تشریح یوں کی جا سکتی ہے کہ اگر حکومت پاکستان کسی تنظیم کے قیام یا سرگرمیوں کو پاکستان اور آزادکشمیر کی حاکمیت اعلیٰ و سلامتی کے منافی قرار دیتی ہے تو ٌ حکومت پاکستانٌ پندرہ دن کے اندر اس معاملے کو سپریم کورٹ میں لے جائیگی جس کا فیصلہ حتمی ہو گا۔ کسی فرد یا تنظیم کو اجازت نہیں کہ وہ ایسی متعصبانہ تشہیر اور سرگرمیوں میں شامل ہو کہ جو نظریہ الحاق پاکستان کے منافی (نقصان دہ) ہوں۔ ہر سیاسی تنظیم مالی ذرائع کیلئے جوابدہ ہو گی۔ (لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہو جائیگا کہ حکومت پاکستان آخر آزادکشمیر کے اس معاملے کو کونسی سپریم کورٹ میں لے جائیگی کیونکہ اس ضمن میں پاکستان اور آزاد کشمیر کی سپریم کورٹس کی اپنی اپنی علاقائی عملداری بھی اہم ہے)۔

اس کے بعد اگلی مجوزہ ترمیم بھی اسی آرٹیکل 4 کے پیراگراف 17جس کا عنوان “Safeguard against discrimination in sevices” ملازمتوں میں تفریق کے خلاف تحفظٌ ہے۔ ایکٹ 1974 میں آزاد جموں کشمیر کی کسی بھی ملازمت کیلئے اہلیت رکھنے والے باشندہ ریاست کیساتھ نسلی، مذہبی، ذات یا جنس کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں ہو گی بشرطیکہ کوئی ملازمت کسی مخصوص جنس کیلئے مختص کی گئی ہو۔

تیرہویں ترمیم 2018 میں اس شق میں کچھ اضافہ یوں کیا گیا کہ آزاد جموں کشمیر کی کسی بھی ملازمت کیلئے اہلیت رکھنے والے باشندہ ریاست کیساتھ نسلی، مذہبی، ذات، جنس یا جائے پیدایش کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں ہو گی بشرطیکہ کوئی ملازمت کسی مخصوص جنس اور اسکی کارکردگی کی بنیاد پرمختص کی گئی ہو اور جو اسامی مخالف جنس کیلئے مناسب نہ ہو۔

بشرطیکہ اسمبلی کے قانون کے مطابق کسی مخصوص پسماندہ طبقہ یا علاقہ کا اس مختص ٌ ریاست کی ملازمت ٌ کی شکل میں ازالہ کیا گیا ہو۔

چودہویں مجوزہ ترمیم 2020 میں اسی شق میں ٌ ریاست کی ملازمت ٌ میں ریاست کی جگہ ٌآزاد جموں و کشمیرٌلکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ جس پر خطے میں پائے جانے والے موجودہ حالات، افواہوں اور شکوک و شبہات کے پیش نظر لوگوں میں نئے خدشات اور تحفظات کو بھی جنم دیا ہے اور اس پر مختلف حلقوں کی طرف سے خاصا ردعمل بھی سامنے آ رہا ہے (کہ ریاست لفظ ہٹانے کا مقصد کیا ہو سکتا ہے)۔

اس پر میری ذاتی رائے یہ ہے کہ ادھورے مسودہ میں الفاظ یا جملوں کی تبدیلی کیساتھ اسی تشہیر نے آزادکشمیر میں ا فواہوں کو جنم دیا ہے اس ذیلی شق میں اس تبدیلی سے فرق نہیں پڑتا کیونکہ آئین میں ریاست کا لفظ بار بار استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے میں ریاست کے معاملے میں وطنیت اور شناخت سے جذباتی اپنائیت رکھنے والے ہر طبقہ فکر کے باشندگان ریاست سے گزارش کرتا ہوں کہ اپنی ریاست کیلئے آپ کا یہ جذبہ پاکیزہ اور انمول ہے تاہم آپ کا ذمہ دارانہ رویہ ہی ریاست جموں کشمیر اور اس میں بسنے والے مجبور، مظلوم و محروم باشندگان ریاست کی نجات کا ذریعہ بھی ہے اسلئے ادھوری معلومات پر فوری ردعمل سے پرہیز کیجئے۔ دوسری طرف میں قانون، ٓئین اور آئینی ترامیم میں چندلوگوں کی تقدیر لکھنے والوں سے بھی پوچھنا چاہتا ہوں کہ چند لوگوں کی انا اور ضرورتوں کیلئے الجھائے گئے الفاظ کے گورکھ دھندوں میں غیرضروری لیاقت اور کارکردگی دکھانے سے کچھ گریز کیجئے۔ تیرہویں ترمیم والوں نے بھی اس شق کے پہلے حصے میں جہاں آزاد جموں و کشمیر لکھا تھا تو دوسرے حصے میں بھی ریاست کی بجائے آزاد جموں و کشمیر ہی لکھتے یا دونوں حصوں میں ریاست لکھتے یا دونوں ایک ساتھ ہی لکھ دیتے۔ اسی طرح اب ان چودہویں ترمیم کے کاتبوں سے بھی سوال ہے کہ جب یہ آئین ہی آزادجموں و کشمیر کیلئے ہے اور اس کی مقامی حکومت کیساتھ آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر لکھا جاتا ہے تو اگر وہاں ٌ ریاست ٌ کے لفظ کو تبدیل نہ بھی کیا جاتا تو یہاں کونسے مغالطے جنم لے لیتے (البتہ درستگی میں کوئی حرج بھی نہیں ہے)۔

آرٹیکل19 (حکومتی عملداری): اس آرٹیکل میں ایکٹ 1974کے مطابق آزادکشمیر کی حکومتی عملداری میں اسمبلی کو قانون سازی کا اختیار رکھنے والے امور میں اس طرح وسعت حاصل ہوگی کہ جس میں آرٹیکل(3) 31 میں شامل امور( اقوام متحدہ، دفاع و سلامتی، کرنسی، خارجہ) کیساتھ تضاد نہ ہو اور کونسل کے بنائے قوانین کیساتھ بھی مطابقت ہو۔ حکومت اپنے جن امور پر چاہے کونسل کی منظوری سے انھیں کونسل یا اسکے افسران کے سپرد کر سکتی ہے۔

تیرہویں ترمیم کے مطابق حکومت آزادکشمیر کی عملداری کو اسمبلی کو قانون سازی کا اختیار رکھنے والے امور اور تھرڈ شیڈول پارٹ B کے امور تک اس طرح وسعت حاصل ہوگی کہ جس میں آرٹیکل(3) 31 میں شامل امور کیساتھ تضاد نہ ہو اور تھرڈ شیڈول میں آرٹیکل 31(3) کے امور کیساتھ بھی مطابقت ہو۔ ریاستی عوام کی سماجی اور معاشی بہبود کیلئے حکومت(آزادکشمیر) ریاست کے اندر اپنے جن امور کو چاہے وہ حکومت پاکستان کی منظوری سے پاکستان کے اداروں کے سپرد کر سکتی ہے۔ حکومت پاکستان بھی تھرڈ شیڈول پارٹ B میں شامل امور کو متعلقہ حکومت (آزادکشمیر) کے سپرد کر سکتی ہے۔ حکومت پاکستان اور حکومت (آزاد جموں و کشمیر) کے درمیان ایسا (انتظامی) تعلق ہوگا جیسے آرٹیکل 31(3) اور11مئی1971کے کیبنٹ ڈویژن ضابطے میں اس خطے کی خصوصی سیاسی حیثیت کے مطابق آشکارہ ہے اور یہی ان دونوں حکومتوں کے درمیان تعلقات میں رہنما اصول ہیں۔

چودہویں ترمیم کے مطابق آزادکشمیر کی حکومتی عملداری کو اسمبلی کی قانون سازی کا اختیار رکھنے والے امور اور تھرڈ شیڈول کی کونسل لسٹ کے امور تک اس طرح وسعت حاصل ہوگی کہ جس میں آرٹیکل-(3),(4) 31 میں پاکستانی ذمہ داری میں شامل امور کیساتھ تضاد نہ ہو اور تھرڈ شیڈول کی کونسل لسٹ کے امور پر منظور شدہ قوانین کیساتھ بھی مطابقت رکھتی ہو۔

آرٹیکل 21) آزاد جموں و کشمیر کونسل(: ایکٹ1974کے مطابق اس کشمیر کونسل کے ممبران میں وزیراعظم پاکستان، صدرآزادکشمیر، وزیراعظم آزادکشمیر (یا نمائندہ)، وفاقی وزیر امور کشمیر کے علاوہ پانچ ممبران وزیراعظم پاکستان کے نامزد کردہ اور چھ ممبران آزاد کشمیر اسمبلی سے منتخب شدہ ہونگے۔ جس کا چیرمین وزیراعظم پاکستان اور وائس چیرمین صدر آزاد کشمیر ہو گا۔ کونسل کی عملداری ان تمام امور تک وسعت رکھتی ہے جن پر کونسل کو قانون سازی کا اختیار حاصل ہے۔ کونسل کسی خالی نشست کے باوجود اپنے معاملات کو چلانے کیلئے قانون قاعدے وضع کر سکتی ہے اور کونسل کی کسی بھی کارروائی کو اس بنیاد پر غلط (خلاف قانون) قرار نہیں دیا جا سکتا کہ اس کارروائی میں کوئی ایسا فرد شامل تھا اور انتخاب (ووٹ) میں حصہ لیا جو اسکا استحقاق نہیں رکھتا تھا۔ کونسل سے منظور شدہ بل کو چیرمین کی منظوری کے بعد صدر آزادکشمیر کی منظوری کی بھی ضرورت نہیں ہوتی اور وہ قانون نافذالعمل ہوتا ہے۔

تیرہویں ترمیم 2018میں کونسل کی ساخت (ممبران) تو وہی رہی البتہ اس کے اختیارات پر مشتمل سات سے تیرہ تک کی ذیلی شقوں کو حذف (خارج) کر دیا گیااور اس میں نیا آرٹیکل 8 شامل کیا گیا جس میں کونسل کو ایک ایڈوائزری باڈی (مشاورت کیلئے) بنایا گیا جو آرٹیکل 31-(3) کے تحت حکومت پاکستان کی ذمہ داریوں میں شامل اقوام متحدہ سے متعلقہ امور میں مشاورت دے گی۔

مجوزہ چودہویں ترمیم مین سب آرٹیکل 8 کاتبادلہ اور تبدیلی کرتے ہوئے کہ کونسل کو تھرڈ شیڈول میں شامل تمام امور پر قانون سازی کا اختیار حاصل ہے، ان امور میں آزاد کشمیر حکومت کی عملداری آرٹیکل 19(1) کے مطابق ہو گی یوں کونسل کے اس پرانے کرادار اور اختیارات کو واپس بحال کر دیا گیا اور نو سے بارہ تک مزید چار ذیلی شقوں کا اضافہ تجویز کیا گیاہے جن سے تیرہویں ترمیم کیساتھ خارج شدہ شقوں کے ان اختیارات کو بھی واپس لایا گیا اور جہاں بھی وزیراعظم پاکستان (چیرمین کونسل) کا ذکر ہو گا اس سے مراد کوئی بھی فرد جو بحیثیت چیف ایگزیکٹو وہ اختیارات استعمال کر رہا ہو گا۔

آرٹیکل22 (قانون ساز اسمبلی): ایکٹ 1974 کے مطابق قانون ساز اسمبلی کی انچاس (49) نشستیں ہوا کرتی تھیں جنہیں تیرہویں ترمیم 2018میں ترپن (53) کیا گیا تھا اور اب مجوزہ چودہویں ترمیم 2020 میں بارہ مزید علامتی نشستوں کے ساتھ پینسٹھ (65) کیا گیا ہے جس میں بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر کیلئے 5 (وادی کشمیر)، 5 (جموں) ا ور 2 (لداخ) کیلئے مختص نشستیں ہیں جو خالی رہیں گی اور اس حصے کی آزادی اور پھر انتخابات تک یہ نشستیں اسمبلی کے کسی انتخابی عمل کی گنتی میں شامل نہیں ہونگی۔

آرٹیکل 31 (قانون سازی اختیار): ایکٹ 1974 کے مطابق کونسل تھرڈ شیڈول میں شامل امور پر اور اسمبلی ان امورکے علاوہ آزادکشمیر کے علاقہ، باشندگان ریاست اور کونسل افسران سے متعلقہ امور پر قانون سازی کر سکتی ہے جبکہ کونسل یا اسمبلی حکومت پاکستان کی ذمہ داریوں میں شامل امور پر قانون سازی کرنے کا اختیار نہیں رکھتیں۔

تیرہویں ترمیم 2018کے مطابق اسمبلی کو تمام امور پر قانون سازی کا جزوی اور مشروط اختیار حاصل ہے۔ تھرڈ شیڈول کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پارٹA میں شامل امور حکومت پاکستان کے اختیار میں ہیں جن پر اسمبلی قانون سازی نہیں کر سکتی جبکہ پارٹ B میں شامل امور پر حکومت پاکستان کی منظوری سے اسمبلی قانون سازی کر سکتی ہے۔ ٹیکس ریونیو بھی آزاد کشمیر اسمبلی کے اختیار میں ہے اور قرآن و سنت کی تعلیمات کے منافی کوئی قانون نہیں ہوگا۔

مجوزہ چودہویں ترمیم 2020 میں دراصل سابقہ ایکٹ 1974 ہی کی اسی آرٹیکل 31 کو دہراتے ہوئے کونسل کو تھرڈ شیڈول میں شامل امور پر قانون سازی کا اختیار واپس ہو گیاہے۔
آرٹیکل 35 ایکٹ 1974 کے مطابق کونسل اور چیرمین کونسل کی منظوری کے بعد کوئی بھی بل خودبخود قانون بن جاتا ہے جسے صدر آزاد کشمیر کی منظوری کی ضرورت نہیں رہتی۔ تیرہویں ترمیم میں اس آرٹیکل کو خارج کر دیا گیا تھا اور اب مجوزہ چودہویں ترمیم میں اسے واپس شامل کیا گیا ہے۔

آرٹیکل 41 (آرڈیننس): صدر (آزادکشمیر) ضروری حالات کے مطابق کوئی آرڈیننس اسمبلی یا کونسل میں لا سکتا ہے جسے منظوری پر اسمبلی ایکٹ یا کونسل ایکٹ ہی سمجھا جائیگا۔ تیرہویں ترمیم میں اس کیلئے کونسل کے کردار کوختم کرتے ہوئے یہ اضافہ ہوا کہ اسمبلی کی منظوری سے اس آرڈیننس میں مزید چار ماہ کا اضافہ بھی کیا جا سکتا۔ چودہویں ترمیم میں اب کونسل کے اس سابقہ کردار کی بحالی کی تجویز آئی ہے۔

آرٹیکل 41-A کا اضافہ(عدلیہ تقرری): مجوزہ چودہویں ترمیم میں اس آرٹیکل کے اضافہ کیساتھ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے جج صاحبان کی تقرری کیلئے نیا طریقہ کار وضع کیا گیا ہے جس میں آزاد جموں و کشمیر جوڈیشل کمیشن کا قیام تجویز کیا گیا۔ سپریم کورٹ میں کسی جج کی تقرری کیلئے وہ جوڈیشل کمیشن میں چیف جسٹس کے علاوہ دو سینئر ترین جج صاحبان اور آزادکشمیر بار کی طرف سے نامزد کردہ سینئر وکیل شامل ہونگے جو کمیشن کثرت رائے کے مطابق سنیارتی کی بنیاد پر تقرری کیلئے تین رکنی پینل کی لسٹ وزیراعظم آزاد کشمیر کو بھیجے گا جس کی تجویز پر صدر(آزادکشمیر) جج کی تعیناتی کریگا (سنیارٹی کی مطلوبہ مدت کو دس سے پندرہ اور تین سے پانچ سال تک بڑھایا گیا ہے)۔ جو سینئر ترین جج امیدوار ہو گا وہ کمیشن کا ممبر نہیں ہو گا۔ ہائی کورٹ میں ججز کی تقرری میں اس کمیشن میں چیف جسٹس ہائی کورٹ اور ایک سینئر ترین جج کا اضافہ کیا جائیگا۔ (بادی النظر میں جوڈیشل کمیشن کے قیام کی یہ تجویز مثبت ہو سکتی ہے)۔

آرٹیکل 42 (عدلیہ): ایکٹ 1974میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور جج صاحبان کی تقرری سنیارٹی کی بنیاد پر صدر (آزادکشمیر) کشمیر کونسل کی مشاورت سے کرتا ہے اور تیرہویں ترمیم میں بھی یہی طریقہ کار بحال رکھا گیا ہے جبکہ مجوزہ چودہویں ترمیم میں بھی سنیارٹی کی بنیاد پر جوڈیشل کمیشن کی سفارشات اور وزیراعظم (آزاد کشمیر) کی مشاورت کیساتھ صدر(آزاد کشمیر) اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تعیناتی کرے گا۔ مجوزہ ترمیم میں کونسل کی مشاورت کی شرط کو ختم کر دیا گیا ہے۔ آرٹیکل 43 میں بھی ہائی کورٹ میں ججز تقرری کیلئے بھی یہی طریقہ کار تجویز کیا گیا ہے۔

آرٹیکل 50 (الیکشن کمیشن)۔ ایکٹ 1974 کے مطابق چیف الیکشن کمشنر اور آڈیٹر جنرل (Article 50-A) کی تقرری صدر (آزادکشمیر) کشمیر کونسل کی مشاورت سے کیا کرتا تھا جبکہ تیرہویں ترمیم میں یہ تقرری چیرمین کونسل کی مشاورت کیساتھ منسلک کی گئی جسے اور اب مجوزہ چودہویں ترمیم میں بھی اسے بحال رکھتے ہوئے چیرمین کونسل کے الفاظ کا وزیراعظم پاکستان کیساتھ تبادلہ کی تجویز رکھی گئی ہے۔

مجوزہ چودہویں ترمیم کے آخر میں آرٹیکل 31(3) کی روشنی میں 33 امور (subjects) پر مشتمل تھرڈ شیڈول کی نئی فہرسٹ مرتب کی گئی ہے جن امور پر قانون سازی کا سیدھا اختیار آزاد جموں و کشمیر قانون سازی اسمبلی کے پاس پہلے یا اس وقت بھی نہیں ہے۔

اس سلسلے میں پہلے آزادکشمیر کے نمائندہ سیاستدانوں کی خدمت میں عرض ہے کہ وہ عوام کے منتخب نمائندے ہیں اسلئے انھیں بھی اپنے رویہ میں تھوڑی تبدیلی کی ضرورت ہے جس میں کبھی کبھار اپنی مٹی اور عوام کیساتھ وفاداری اور اپنے لئے خودداری کا مظاہرہ بھی کر لیا کیجئے۔ پاکستان کے ارباب اختیار سے گزارش ہے وقت کی نزاکت کو سمجھئے حالات کے تقاضوں کے مطابق آئینی ترامیم ایک معمول کا عمل ہے تاکہ ملکی نظام اور عوامی مشکلات کا بھی ازالہ کیا جا سکے۔دنیا بدل چکی ہے اور اقتدار و اختیار کی نچلی سطح تک منتقلی کا عمل عوام تک بہتر سہولیات کی فراہمی میں کامیاب ثابت ہوا ہے۔ ہمارے پاس تو منتخب بلدیاتی نظام ہی نہیں ہے۔ پاکستان کے زیرانتظام آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان متنازعہ ریاست جموں کشمیر و لداخ ہی کے منقسم حصے ہیں۔ اگست 2019 میں بنیادپرست بھارتی حکومت نے اپنے زیرانتظام جموں کشمیر و لداخ کے آئینی و انتظامی ڈھانچے کو مسمار کرتے ہوئے ریاستی عوام کوسیاسی، سماجی، معاشی، انسانی اور بنیاد ی حقوق سے بھی محروم کر دیا ہے۔ بھارت کی ان آئینی و انتظامی تبدیلیوں کے پردے میں انسانیت سوز گھناونی حرکتوں نے ایک طرف بھارتی سیکولرزم اور جمہوریت کے سارے پردے چاک کئے اور اسے پوری دنیا کے سامنے ننگا کیا ہے تو دووسری طرف اس پورے جنوبی ایشیاکو خطرات سے بھی دوچار کر دیا ہے۔ لداخ میں بھارت اور چین انہی انتظامی تبدیلیوں کی وجہ سے جنگ کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ اس پورے خطے ہی کے حالات نازک ہیں جن میں کوئی بھی ملک اس وقت اندرونی کمزوریوں کا متحمل ہرگز نہیں ہو سکتا۔ قومی مفادات کے حصول کی دوڑ میں معاشی طاقتوں کے ممکنہ دنگل کیلئے متنازعہ جموں کشمیر و لداخ کے متوقع میدان جنگ میں بھارت چین اور پاکستان جیسی جوہری طاقتیں ایک دوسرے کے سامنے تیار کھڑی ہیں۔ ریاست کے باقی متنازعہ خطوں کی طرح پاکستانی زیر انتظام دونوں متنازعہ ریاستی خطوں یعنی گلگت بلتستان اور آزاد جموں کشمیر کے لوگ بھی بے یقینی اور ہیجانی کیفیت کا شکار ہیں اور کہیں سے بھی کسی معمولی تبدیلی کی خبر یا افواہ بھی ان کیلئے نئے شبہات اور خدشات کا سبب بنتی ہے۔

آزاد جموں کشمیر اور گلگت بلتستان میں انکی متنازعہ آئینی حیثیت کی روشنی میں مثبت انتظامی تبدیلیاں ضرور کیجئے کہ جن سے ان دونوں خطوں کی محرومیوں کا ازالہ ہو سکے نہ کہ محض چند افراد کی خواہشات کی تسکین کیلئے عام لوگوں کے ادھڑے ہوئے خواب بھی ان سے چھین لئے جائیں۔ دونوں متنازعہ خطوں میں آئینی اور انتظامی اصلاحات لائی جائیں تاکہ اس نظام سے لوگوں کا مرتا ہوا اعتما د پھر سے زندہ ہو سکے اورجس کیلئے سب سے اہم یہ کہ پہلے ان دوخطوں کی متنازعہ آئینی حیثیت کا باقاعدہ تعین کیا جائے اور اعتماد سازی کے عمل کو آگے بڑھاتے ہوئے ان دونوں خطوں کو بھی مکمل سیاسی آزادی اور اندرونی خودمختاری کیساتھ عوام کیلئے ایسا شفاف مشترک (یامختلف) بااختیار نظام تشکیل دیا جائے کہ جس میں انہی لوگوں کے منتخب نمائندے علاقائی اور عوامی ضروریات کے مطابق اپنے لئے آئین کی ترتیب اور ترمیم کا حق استعمال کر سکیں۔ آزاد جموں و کشمیر کے ایکٹ 1974 میں تیرہویں ترمیم نے آزاد کشمیر اسمبلی اور حکومت کو اتنا بھی بااختیار ہرگز نہیں بنایا البتہ مستقبل کیلئے امید ضرور بندھائی ہے جس امید کو بلاجواز اس مقصد کیلئے توڑنے کی کوشش جاری ہے کہ جس میں کشمیر کونسل کے وہ امور یا اختیارات تیرہویں ترمیم میں دراصل وزیراعظم حکومت پاکستان کو منتقل ہوئے تھے وہی چودہویں ترمیم کے ذریعے واپس کونسل کیساتھ منسلک کر دئے جائیں مگر اس سے اس پسماندہ خطے کے لوگوں کی زندگی پر کونسی مثبت تبدیلی آئیگی کیونکہ ان کیلئے تو موجودہ آئین اور انتظام میں بھی تاحال ایسا کچھ بھی نہیں ہے جو انکی بنیادی ضروریات اور سہولیات کو پورا کر سکے تو چودہویں ترمیم میں بھی ان کی زندگی میں آسودگی کا کونسا سندیسہ ہے جو اپنی اس ابتدائی شکل میں محض تیرہویں ترمیم کی ضد اور ازخود بظاہر اسی ترمیم میں ترمیم ہے۔۔

“The people made the Constitution, and the people can unmake it. It is the creature of their will, and lives only by their will.”
John Marshal