152

“آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ بہتر کرو” ٹیوٹر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا

ایسے وقت میں جب کہ دنیا فائیو جی انٹرنیٹ کا تجربہ کر رہی ہے پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں تیز رفتار انٹرنیٹ ایک سوالیہ نشان ہے۔ جہاں ایک جانب کورونا وائرس نے لوگوں کو گھروں تک محصور کر دیا ہے وہیں پاکستان کے بڑے شہروں سے آن لائن نوکری پیشہ افراد اور طلباء انٹرنیٹ کی رسائی اور رفتار کے متعلق کافی پریشان ہیں۔ اس حوالے سے منگل کے روز پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر بشمول گلگت بلتستان میں طلباء نے تیز ترین انٹرنیٹ تک رسائی کے لیے مظاہرے کیے اور ٹیوٹر پر ٹرینڈ بھی بنایا۔

ٹیوٹر پر تیز ترین انٹرنیٹ تک رسائی کے لیے بنائے گئے ٹرینڈ پر چند گھنٹوں میں بچیس ہزار سے زائد لوگوں نے ٹیوٹ کیے ان میں سے زیادہ تر وہ لوگ ہیں جو پاکستان یا بیرون ملک مقیم ہیں ۔زنیرہ نامی ٹیوٹر صارف نے لکھا کہ تقریبا پانچ سال ہو چکے ہیں آزاد کشمیر کے لوگ تیز رفتار انٹرنیٹ کے بغیر ہیں۔ طلباء کو آن لائن کلاسز میں پریشانی کا سامنا اور فور جی انٹرنیٹ کی اسپیڈ اسلام آباد کے ٹو جی انٹرنیٹ جتنی ہے۔

ایک اور صارف حمزہ نذیر نے لکھا کہ آزاد جموں کشمیر کے طلباء و طالبات کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ حکومت ان کو انٹرنیٹ کی بنیادی سہولت جلد از جلد فراہم کرے تاکہ یہاں کے طلباء و طالبات اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں جو کہ انٹرنیٹ کی عدم دستیابی کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہے۔

ایک ٹیوٹر صارف مدیحہ خان نے لکھا کہ میری فیملی کشمیر میں رہتی ہے اور میں اسلاما آباد میں کیونکہ مجھے آن لائن کلاسز لینی ہوتی ہیںمیں وہاں نہیں جا سکتی کیونکہ انٹرنیٹ سروس بہت خراب ہے

صحافی خواجہ کاشف میر نے لکھا کہ پرائیوٹ کمپنیز آزاد کشمیر میں فور جی کے نام پر عوام کو ٹو جی سے دھوکہ دے رہی ہیں۔ ہمیں آزاد کشمیر میں پاکستان کی طرح بیس سے چالیس میگا ہرٹز انٹرنیٹ سپید درکار ہے۔ پی ٹی اے آزاد کشمیر میں چار میگا ہرٹز سے زیادہ کی اجازت کیوں نہیں دے رہا؟ ایس سی او یا تو مسئلہ حل کرے یا الگ ہو جائے۔

ایک اور صحافی دانش ارشاد نے لکھا کہ آزاد کشمیر میں کسی نیوز لنک کو کھولنے کے لیے رات گیارہ بجے کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ شکایت کی جائے تو سننے والا کوئی نہیں ہوتا، الزام دوسروں پر ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

صحافی فیصل علی لکھتے ہیں “آزاد کشمیر کے طلباء و طالبات سمیت دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی میعاری انٹرنیٹ کی عدم فراہمی کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں طلباء کو تعلیمی بحران کا سامنا ہے تو کاروباری حضرات و دیگر شعبوں کے افراد کے روزمرہ جات بھی بری طرح متاثر ہیں”

واضع رہے کہ آزاد کشمیر میں پاکستانی آرمی کی ایک ذیلی تنظیم اسپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن کے پاس فور جی لائنسس ہے جو کہ صارفین کو بہتر نیٹ ورک اور انٹرنیٹ تک رسائی فراہم کرنے میں گزشتہ دس برسوں میں مکمل ناکام رہی ہے اس حوالے سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ پرائیویٹ کمپنیز کو بھی فور جی کے لائنسز کا اجراء کیا جائے اور انہیں دور دراز علاقوں تک نیٹ ورک فراہم کرنے کی بھی اجازت دی جائے