73

کلاشنکوف سے قلم تک کا سفر – دانش ارشاد

1989میں جب کشمیر میں عسکری جد و جہد شروع ہوئی تو عسکری تربیت کے حصول کیلئے بڑی تعداد میں نوجوانوں نے سرحد عبور کرکے پاکستانی زیر انتظام کشمیر کا رخ کیا ۔یہاں عسکری تربیت کے حصول کے بعد بیشتر نوجوان وادی واپس لوٹ گئے تاہم سینکڑوں نوجوان ایسے بھی ہیں جنہوں نے عسکریت کو مسئلہ کشمیر کا حل سمجھ کر سرحد عبور کر لی لیکن پھر مختلف وجوہات کی بناءپر ان کی ”گھر واپسی “ممکن نہ ہوسکی اور یہیں کے ہو کر رہ گئے ۔پاکستان اور پاکستانی زیر انتظام کشمیر ہجرت کے بعد یہ نوجوان کچھ وقت تک عسکریت کے ساتھ جڑے رہے لیکن بعد میں غم ہائے روزگار نے انہیں گھیر لیا اور انہوں نے تلاشِ رزق میں زندگی کے مختلف شعبوں میں قسمت آزمائی کی اورکامیابی ان کا مقدر ٹھہری ۔

ایسے ہی نوجوانوں میں ایک اچھی تعداد ایسے نوجوانوں کی تھی جنہوں نے پاکستان میں تعلیمی سلسلہ آگے بڑھاکر صحافت کے شعبہ کو کیرئر کے طور چن لیا اور قلم وکیمرے کو اپنا ہتھیار اور روزگار بنایا ۔ پاکستا نی زیر انتظام کشمیر اوراسلام آباد میں فی الوقت کم و بیش80 کشمیری صحافی ایسے ہیں جو کشمیر کی عسکری تحریک کے دوران یہاں منتقل ہوئے ۔ان میں بڑی تعداد اسلام آباد میں مقیم ہے اور مختلف میڈیا اداروں میں اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور پاکستان کی میڈیا انڈسٹری پر اپنی چھاپ چھوڑ چکے ہیں۔

مقصود منتظر فی الوقت آن لائن ویب سائٹ سٹیٹ ویوز کے چیف نیوز ایڈیٹر ہیں۔مقصود کا تعلق سوپور کے علاقہ زینہ گیر سے ہے۔مقصود دوستوں کے ہمراہ پکنک سے لوٹ رہے تھے کہ فورسز نے گرفتار کرلیا اور ایک بم دھماکہ کا الزام ان پر تھوپ دیا۔”میں نے زینہ گیر کے ایک متوسط خاندان میں آنکھ کھولی۔ کم وسائل کے باوجودگریجویشن کی۔ جیالوجی کا اچھا طالب علم تھا لیکن اس وقت کشمیریونیورسٹی میں جیالوجی مضمون میںماسٹرزکا شعبہ قائم نہیں تھا جس کے بعد جرنلزم اور ریاضی میں ماسٹرز کیلئے اپلائی کیا لیکن بدقسمتی سے دونوں کے داخلہ امتحان میں ایک ایک نمبر سے رہ گیا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں جیالوجی میں ماسٹرز ڈگری کیلئے فارم جمع کیا، جس وقت ایڈمیشن لیٹر گھر آیا، اُس وقت تک خوابوں کی یہ دنیا لٹ چکی تھی“۔قید و بند کے دوران انہیں اور ان کے ساتھیوں کی کافی تذلیل کی گئی، انہیں پاخانے صاف کرنے کا کام سونپا گیااور ذہنی ٹارچر کے مراحل سے گزارا گیا۔ ” اس طرح کے اور بھی کئی پے در پے واقعات ہیں جنہوں نے مجھے ایک پرامن شہری سے بندوق بردار بنا دیا“۔لیکن پاکستان پہنچنے پر وہ اعلی تعلیم کی طرف مائل ہوگئے اور اس دوران صحافت کی تربیت پائی۔ان کاکہنا ہے کہ انہوں نے بندوق چھوڑی ،عسکریت نہیں۔”دراصل ہر کشمیر ی(بشمول پاکستانی زیر انتظام کشمیر، گلگت بلتستان) مسئلہ کشمیر کی وجہ سے متاثر ہے۔ کوئی لاکھ چاہیے کہ وہ اس تحریک سے دور بھاگے لیکن بھاگنا ممکن نہیں۔ “

غلام محی الدین روزنامہ ”کشمیر پوسٹ “ کے ایڈیٹر ہیں۔ وسطی ضلع بڈگام سے تعلق رکھنے والے محی الدین کا کہنا ہے کہ 1988 میں وہ بارہویں کا امتحان پاس کر چکے تھے،اس دوران مسلم متحدہ محاذ کے بینر تلے سیاسی جدوجہد شروع کی تو الیکشن سے تبدیلی کی امید تھی لیکن جب نتائج تبدیل کر کے بھارت نواز لوگوں کو جتوایا گیا تو ردعمل کے کے طور پر شروع ہونے والی تحریک کا حصہ بنے۔

غلام محی الدین کہتے ہیں:”میں نے کالج میں داخلہ لیاتھا اور مسلم متحدہ محاذ کے مقامی امیدوار غلام محمد میر المعروف شمس الحق کے ساتھ وابستہ تھا ۔عسکریت جونہی شروع ہوئی تو میں نے بھی رخت سفر باندھ لیا او ر 1990 میں پاکستان آیا اور یہاں ”کے پی آئی“ سے منسلک رہا۔ اعلی تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ کئی میڈیا اداروں کے ساتھ وابستہ رہے اور2014 سے کشمیر پوسٹ میں بطور ایڈیٹر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

شبیرڈار پاکستان کے معروف میڈیا گروپ ”جنگ گروپ “کے الیکٹرانک ڈویژن ”جیو ٹی وی “ سے منسلک ہیں۔ان کا تعلق بھی سوپور کے علاقہ زینہ گیر سے ہے۔ وہ بتاتے ہیں ” مجھے عسکریت سے کوئی دلچسپی نہیں تھی اور عسکریت اسوقت جوائن کی جب عسکریت کا دم ٹوٹ رہا تھا“۔شبیر نے ابتدائی تعلیم اپنے علاقے زینہ گیر سے ہی حاصل کی۔

شبیر ڈار کہتے ہیں ”عسکریت میں شمولیت کا کوئی باضابطہ منصوبہ نہیں تھا اور عسکریت پر یقین رکھنے والوں سے کبھی کوئی ہم آہنگی یا ہمدردی نہیں رہی بلکہ آپ کو جان کر حیرت ہوگی میں نے ا ±ن ایام میں عسکریت میں شمولیت اختیار کی جب عملی طور پر کشمیر میں جہادی تنظیموں کا اثر بہت حد تک زائل ہوچکا تھا۔ اگر میں یہ کہوں کہ عسکریت دم توڈ رہی تھی تو معیوب نہیں ہوگا“۔

پھر بندوق کیوں کر اٹھائی ؟:” میرے والد جماعت اسلامی کے ایک سرگرم ر ±کن رہے ہیں۔ وہ ا ±ن چند لوگوں میں شامل ہیں جو تحریک آزادی کے ابتدائی دنوں میں جیل گئے۔ ہماری پوری فیملی اس صورت حال سے بہت زیادہ متاثر رہی۔ کشیدہ حالات اور فورسز کی طرف سے روز روز کی رکاوٹوں، مارپیٹ اور تشدد سے ایک عجیب ذہنی کیفیت تھی جسے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں دکھائی دے رہا تھا۔ بالآخر چند دوست مل بیٹھے اور عسکری سرگرمیوں میں نہ صرف حصہ لینے کی منصوبہ بندی ہوئی بلکہ عملی طور پر عسکری صفوں میں شامل ہونے کا فیصلہ بھی کیااور2000میں سرحد عبور کیِپاکستان آکر تعلیمی سلسلے کو ضرور آگے بڑھایا اور “میڈیا اسٹیڈیز”کی تعلیم حاصل کی۔اس وقت جیوٹی وی میں اپنی خدمات انجام دے رہا ہوں ۔ساتھ ساتھ لکھنے کا بھی سلسلہ جاری ہے۔مختلف اخبارات اورکئی ویب سائٹس کےلئے بھی مضامین لکھتا ہوں“۔

شبیر کو پاکستان سے کوئی گلہ نہیں بلکہ ان کا گلہ اپنوں سے ہے ۔وہ کہتے ہیں”ہمارا استحصال کسی اور نے نہیں، ہمارے اپنوں نے ہمارے ساتھ کیا۔ اگر ہم نے دو چار جماعتیں گھر سے نہ پڑھی ہوتیں تو یقین کریں ہم بھی آج کسی کونے میں پڑے ہوتے۔ ہمارے بڑھوں نے ہمارے کے بہتر مستقبل اور اپنے بہتر طرز زندگی کے لئے تحریک آزادی کشمیر کے نام پر لوٹ مار، بددیانتی اور خیانت کی۔ یہی وجہ ہے کہ ہم کسی بڑے ہدف کو حاصل کرنے میں تاحال ناکام رہے“۔

عسکریت کے بارے میں شبیر کہتے ہیں ”عسکریت ترک کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ ہماری اصل پہچان اور ہماری پہلی منزل تحریک آزادی کشمیر ہے تاہم آج کل کا زمانہ انٹرنیٹ کا زمانہ ہے، اسلئے ہمیں قلم چلانے والوں کی زیادہ ضرورت ہے۔بندوق چلانا ہماری مجبوری تھی لیکن قلم چلانا ہمارا فرض بھی ہے اور قرض بھی ہے“۔

نعیم الاسد پی ٹی وی سے منسلک ہیں ۔پلوامہ ضلع کے ترال علاقہ سے تعلق رکھنے والے نعیم نے1999میںسرحد عبور کی ۔کچھ وقت عسکریت کے ساتھ وابستہ رہنے کے بعد نعیم نے تعلیمی سلسلہ آگے بڑھایا اور صحافت میں ڈگری حاصل کی۔وہ کہتے ہیں”میرے لئے صحافت کوئی شوق نہیں بلکہ مجبوری تھی کیونکہ میں اس شعبہ میں آکر کشمیر مسئلہ کو اجاگر کرنا چاہتا تھااور اس عمل میں میرے بزرگوں نے ہر مرحلہ پر میری حوصلہ افزائی کی “۔نعیم کے مطابق کشمیر سے اسلام آباد تک کا سفر انتہائی خوشگوا ر گزرا اور وہ اس سفر سے لطف اندوز ہوئے ۔وہ کہتے ہیں”میڈیا میں رہ کر اپنی سطح پر کشمیر کاز کی خدمت کررہا ہوں اور میں کشمیر کو مستقبل قریب میں آزاد اور خود مختار ریاست کے طور دیکھنا چاہتاہوں“۔

غلام اللہ کیانی روزنامہ اوصاف کے ساتھ بطور کالم نگار منسلک ہیں۔ ان کا تعلق ضلع کپواڑہ کے کیرن علاقہ سے ہے اور اب اسلام آباد میںمقیم ہیں۔ ” میں نے کشمیر یونیورسٹی سے ماسٹرز کیا، دہلی سے پی جی ڈی سی اے کیااورپاکستانی زیر انتظام کشمیر ہجرت سے قبل IASکا پری امتحان پاس کر چکا تھا اورمینز کی تیاری کر رہا تھا۔یہاں آنے کے بعدآزاد کشمیر یونیورسٹی مظفر آباد سے ایک اور مضمون میں ماسٹرز کیا۔ غلام اللہ کیانی کہتے ہیں” میں بیک وقت عسکریت، سیاست اور سفارت کے استعمال اور ربط و ضبط کا حامی رہا ۔تاہم کبھی اسلحہ یا گولہ بارود کی تربیت نہیں لی اور نہ ہی بندوق اٹھائی۔ شروع میں اللہ ٹائیگرس کے بانی امیر غازی الیاس ، ائر مارشل نور خان، انجینئرطاہر محمود اور دیگر دوستوں کی دعوت پر تنظیم کے قلمی محاذ پر کام کیا“۔

اسلام آباد میں مقیم منقسم ریاست جموں وکشمیر کے عامل صحافیوں کی تنظیم ”کشمیر جرنلسٹس فورم “کے صدر عابد خورشید کہتے ہیں کہ ان کے فورم میں وادی سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کی تعداد80کے آس پاس ہے اور ان سبھی صحافیوں کا بندوق سے قلم تک کا سفر بھی دشوار گزار رہا۔اس کے باوجود انہوں نے ذ مہ دارانہ صحافت اور صحافتی یونینز میں اپنا بھرپورکردار نبھایا اور انہوں نے پاکستان کے صحافتی افق پر اپنا نام کمایا “تاہم ان کی خواہش ہے کہ وادی کشمیر کے صحافی صحافتی اقدار میں جس طرح اپنا کردار ادا کر رہے ہیں، اسی کا پر تو یہاں بھی نظر آنا چاہئے۔