105

تعارف : شاعر کشمیر -غلام احمد مہجور

کشمیری زبان کے مشہور شاعر پیرزادہ غلام احمد مہجور ۱۸۸۸ء میں تحصیل پلومہ کے گاؤں تری گام میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام پیراسداللہ شاہ تھا۔ جو اپنے حلقے میں ‘ اپنی بزرگی اور پرہیزگاری کی وجہ سے بہت ممتاز تھے‘ مگر غلام احمد مہجور نے پیری مریدی کا شغل اختیار نہ کیا بلکہ ذریعۂ معاش کے لیے ملازمت اختیار کرلی۔ ’’مہجور‘‘ کشمیری کے علاوہ فارسی میں بھی شعر کہتے تھے۔ انسانوں سے پیار‘ آزادیٔ فکر و عمل اور مناظر فطرت ان کی شاعری کے موضوعات ہیں۔ کلام کے دو مجموعے’’کلام مہجور‘‘ اور ’’پیام مہجور‘‘ چھپ چکے ہیں۔

مہجور کو علمِ جدید ‘ سیاسیات اور اقتصادیات سے بھی واقفیت تھی۔

علاّمہ اقبالؔ‘ پیر زادہ غلام احمد مہجور کی شخصیت سے واقف تھے۔ اقبالؔ کی شاعری اور پیام نے مہجور کی زندگی اور شاعری میں انقلاب پیدا کیا۔ اقبال جب کشمیر گئے۔ (جون۱۹۲۱ئ) تو مہجور سے بھی ملے اورانھیں ’’بزم ادیبانِ کشمیر‘‘ بنانے کا مشورہ دیاتھا تاکہ کشمیری زبان کے شاعر وادیب نئے نئے رحجانات اور خیالات سے واقف ہوکر اپنی آزادی کے لیے جدوجہد کریں۔ مہجور نے اقبالؔ کی نظموں : غنی کاشمیری‘ ساقی نامہ اور کشمیر کا سب سے زیادہ اثر قبول کیا۔ مہجور نے اقبالؔ کے طرز فکر کو اپنایا اور اگر یہ کہا جائے کہ مہجور علاّمہ اقبالؔ کے کلام و پیام کے کشمیری زبان میں ترجمان ہیں تو اس میں کوئی مبالغہ نہیں ہے۔ مہجور نے ئ؍اپریل ۱۹۵۲ء کو انتقال کیا اور وزیرِ اعظم شیخ عبداللہ کی خواہش پر سرکاری اعزاز کے ساتھ سری نگر میں حبہّ خاتون کے مزار کے متصل دفنایا گیا۔

ان کی شاعری میں کشمیر کے دیدہ زیب قدرتی مناظر، سرسبز و شاداب جنگلوں، برف پوش پہاڑوں ، وسیع و عریض کوہساروں اور ہرے بھرے میدانوں کی زبردست عکاسی کی گئی ہے۔ وہ اپنی سرزمین کی عظمت کے گرویدہ تھے۔ اسے ہر وقت پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ مہجور کی شاعری موضوعاتی شاعری ہے مگر ان کا انداز بیان سلیس اور خوبصورت انداز والا ہے۔ جس کی بنیاد انسانی ہمدردی پر رکھی گئی ہے۔ مہجور نے خیالات کو بڑے دلکش انداز سے قارئین تک پہنچایاہے۔ اور اپنے افکار و نظریات کی موثر عکاسی کی ہے۔ ان کی شاعری میں موضوع کے اعتبار سے سوچ کی گہرائی نظر آتی ہے۔

جس سے ان کی منظر نگاری یا عشقیہ اشعار میں بھی فکر و فلسفہ نظر آتا ہے۔ مہجور نے بہت کم عرصہ میں کشمیر سے باہر بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ۔ جنوبی کشمیر کے متری گام پلوامہ سے نکل کر وہ کشمیری شعر و ادب کے سرتاج بن گئے۔ ان کی ملاقاتیں یا روابط مولوی عبد اللہ شاہ بسمل، عفت لدھیانوی، دیوندر ستیارتھی، بلراج ساہنی سے بھی رہیں۔ انہوں نے دیوندر ستیارتھی کے کہنے پر کشمیری زبان میں نظم لکھنے کی شروعات کی۔ لو کچار، دل، وتستا، گریس کور، گل، ترانہ وطن ان کی مشہور نظمیں ہیں۔

کشمیری زبان میں آپ کی پہلی ہی غزل نے آپ کو مقبولیت کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔ کشمیر کے شہر و دیہات میں ہر جگہ اور ہر محفل میں آپ کا کلام گایا جانے لگا۔ یہاں تک کہ بڑے بڑے شعراء آپ کو ایک بہترین نیچرل شاعر کہنے لگے۔ ان  کے کلام میں سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں نہ تو کسی کی ہجو ملتی ہے اور نہ ہی کسی کی تعریف۔ اس میں مذہب یا سیاست کا بھی کوئی دخل نہیں۔ بلکہ خاص ادبی رنگ میں رنگاہواہے۔ عبد الاحد آزاد اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ مہجور کے کلام کی بڑی خصوصیت اس کی برجستگی ہے۔ یہ شاعری اس قدر فصیح ، برجستہ اور دلنشین ہے کہ ان کے اشعار امثال و اقوال کے طور پر پیش کئے جاتے ہیں۔ 

مآخذ:   ۱)      سلیم خان گمی‘ ’’اقبال اور کشمیر‘‘،ص:۱۴۹۔۱۵۰

          ۲)      محمد عرفان (مقالہ نگار)، ’’اقبال اور کشمیر‘‘ (مقالہ : ایم۔ فل اقبالیات) ص:۲۱۵۔۲۱۸

          ۳)      کلیم اختر، ’’اقبال اور مشاہیر کشمیر‘‘، ص:۱۲۵۔۱۳۴۔

غلام احمد مہجور کی شاعری

غزل ۱

ساقیا بےتاب کورتھس چاوتم لولک شراب
تروتم غم گیں دلس منذ سوزکھ اضتراب

واوصبحک ژاو باغس ستیِ پانس کیاہ اوٗنن
بلبلن کیتُ عیش وراحت راتہ موغلن کیت عزاب

آولن ژوٗرپیالہ ہیتھ پھیران نژاں راتس دوہس
دیتُ نہ آسن وأنی دری تمٔس اکھ قطرہ آب

منگہء نک تے ذاروپارُک وقت گوٗنوٗودوآرو
یس مژھن منْز روزِ سُے وونی کامیاب

ولولا جوشا حبابا اِضترابا ہیِمتا
پیدہ گژھِ یامت دلن اندر تہُ سے گوو انقلاب

مےون بڈٰی بب مالوجانِ ہیِتھ ترامہِ پأسٔن کنٔہ نٔہ آو
مال ہورُم جان چھم باقی کڈاں اتھ چھم حِساب

لچھِ بدٔی لکھ باغ چھاوان گُل نوں بلُبل گون
کیاہ حرج کیژن ہندی خانِ یوٗد سپدن خراب

غرضِہ پنِہ نہِ یِم چھ ملکچہ آزآدی برخلاف
وقت یلیۂ ثأبت کرِیٔکھ پنہِ نین شریٔن کیاہ دِن جواب

یک طرف روز تراو اتھِ اے دشمنِ گلزارِ قوم!
ژچھُم کُلہن سگ و تناون سانہِ کولہِ ونی پھیور آب

واو اسناواں گلن ؔمہجور وزِناواں دِلَن
یِم زامَہِ نِش بےخبر کیاہ گوٗو گوٗنہہ کیاہ گوٗ ثواب


غزل
 ۲

واوِ صبحکہِ یود ژِ واتک ملک امریکس ندرر
لیک سکس کونسلس منز حال سون وَن مختصر

وورِ مولاہ پانے اسہ بنیومت خانہِ دار
سانہِ رتہِ سِتی گوور چھاں پنہِ نین تہِ اسی روٗدی دربدر

اوس باپأریاہ تٔمس مدتس تَوے پوشس نہ کاہنہ
اہرمتیِ سندِستیِ وبسہ راںٔ اسی کم کم شیرِنر

ہیمُتک ہول گونڈ لکُو تم کاوِ آہن گرنبیاۓ
ڈیرہ گنڈنووکھ یتہ قصہ کورہس مختصر

یام ژول باپأری بب سون پست ہمت گوو سیٹھا
آے لاران سون گرِ ہمسایہ لولک شور وشر

وُیژپنن ہیتھ رات کیُت دراولوتہِ لوتہِ وورمول سون
أسی ژھنِن ہونین تہ ژول ترأوِن نہَ اَسہِ کُن پوت نظر

بے کسی ہندی سأنی آلو بُوزی بالَو سنگرو
آسمانن وود سیتھاا ھوو نیک اِنسان اثر

اَسہِ بچاوِنہ اکھ جماتھا آیہ لاراں آسمأنی
لتہِ مونجہ گییہ أسی سیٹھا دب لجٔ گھرس سأنس اندر

نیبرِ اوس وتہ کون گومت اندرِ موکلیو وکاروبار
بب تہِ ژول نب رُوٗدِ کھہہ نس سأنی حالت گییہ بتر

اکھ چھُ پاکستان وناں بیاکھا وناں وناں ہندوستان
یسہِ سَپُد فی الحال ڈأکستان یتھ مُلکس اندر

نجثتن اَسہِ ترأویتن ؤنی توکھ کیتُ تی چھُ جان
أسی کَرو پانَے ہکومت دعواتُتیے اوس موختصر

مُلکہِ منزِ کٔڈی توکھ یم
اسی سنبھالو گھرِ پنُن یم نیری تن سأری نبِر

دوہ کٔشی گیہ وقت لوٗگ تاریخ گردانی سَپز
اسی چھ وونی زانان توہہِ چھُو نتیس اندر کھوچر

غارتس سأنسِ کِرٔو تہی کوُت کالاہ امتحانأسی
أسی مَرَو؎ گأرس کھورنِ تل زاہنہ تہِ نوٗمراوَو نہ سَر

.