usman afsar 78

تعمیر و ترقی کے ہیرو – عثمان افسر

تصور کیجئیے بڑے بڑے بل بورڈز کے اوپر لکھا ہوا فرزندِ پنسلوانیا بائیڈن بھائی ساتھ کونے پہ لکھا ہوا انتہائی خوفناک قسم کا شعر دوسری طرف شیرِ نیویارک تعمیر و ترقی کے ہیرو اپنے دورِ اقتدار میں ریکارڈ ترقیاتی کام کروانے والے جناب ِ محترم ٹرمپ صاحب ساتھ میں درج دلکش نعرے واہ۔ الیکشن کمپین کے دوران پائپ کے بنڈل اور پانچ ہزار ڈالر کی سکیموں کے وعدے کرتے ٹرمپ صاحب اور دوسرے کونے پہ گلی اور نالیاں پکّی کرواکر ترقی کی شاہراہوں پہ دوڑانے کے منصوبے دیتے بائیڈن بھائی کیا دل کو چھو لینے والا منظر ہو نا ویسے ۔الیکشن کمپین کیسے چلائی جاتی ہے اسکے لیے ٹرمپ کو ہمارے قائدین کی خدمات لینی چاہئیں تھیں امریکی عوام کو پائپ کے بنڈل کے پیچھے لگا دو پانچ سا وہ پائپ تہریکتے(گھسیٹتے ) ہوئے ہیں گزار دیں گے کس کو پڑی مواخذے کی بات چھیڑے یا کوئی الزام تراشی کرنے کو وقت نکالے نا ہی کسی امن معائدے کے پیچھے بھاگ دوڑ کرنے کی ضرورت۔

منی ہیسٹ (LA CASA DE PAPEL)والے پروفیسر کو ہیسٹ کا آئیڈیا ہمارے حکمرانوں سے لینا چاہیے تھا آسان کارآمد صفر فیصد خطرہ نا قانون کے ہاتھ لمبے یا چھوٹے ہونے کا اندیشہ ۔سالوں سے ہیسٹ چل رہی ہے مجال ہے کسی کو شائبہ تک ہوا ہو کیا ہو رہا ہے ۔ہاں البتہ ماسک بدلتے رہتے ہیں اندر بندے وہی رہتے لیکن کسی بات کا خطرہ نہیں ہوتا بھرپور پروٹوکول کے ساتھ کام جاری رہتا ہے۔ پاکستانی زیرِ انتظام کشمیر کے الیکشنز نزدیک آرہے ہیں اور ازل سے اپنی رِیت پہ قائم قائدین الیکشنز کے قریبی دنوں میں عوام کے اندر بھرپور وعدے اور وعیدوں سمیت پائے جارہے ہیں ۔چار سال پہلے گزر جانے والوں کی تعزیت و فاتحہ خوانی کا سلسلہ خوش و خضوع سے جاری ہے اکثر قائدین شائد چوبیس گھنٹے باوضو بھی رہتے ہوں کسی بھی وقت کہیں بھی ختم شریف کی دیگ کا دھواں اُٹھتا نظر آسکتا ہے ۔

انڈیا،پاکستان اور ان دونوں کے زیرِ انتظام جموں کشمیر ان تینوں حصوں میں سیاست طریقہ کار ایک جیسا ہی ہے بلکہ یوں کہئیے طریقہِ واردات ایک جیسا ہے پانچ سالوں میں دو چار مہینے ظاہر و باطن سے عوام کی خدمت گزاری کا ڈھونگ بھریں عوام کو یہ یقین دلائیں کہ اب تک آپ کی جو زندگی ہم نے جہنم بنارکھی تھی اب اُسے ہم جنت سے تبدیل کرنے والے ہیں بشرط یہ کہ ووٹ کی پرچی پر ٹھپا ہمارے نام کا لگے ۔

بھارت و پاکستان میں جہاں ایک اہم رول ایک دوسرے کو ختم کرنے کے نعروں کا ہوتا ہے وہیں پہ پاکستانی زیرِ انتظام جموں کشمیر میں انتہائی اہم رول کالے پائپ کے بنڈل اور اسکیم کا ہوتا ہے اگر تو آپ اسکیم والی گیم بروقت کھیلنے کے ماہر ہیں تو آپ کو اسمبلی کی کرسی تک پہنچنے سے روکنے والی کوئی قوت فلوقت تو کرہِ ارض پر کہیں بھی نہیں ہے۔کالا پائپ مطلب کالا جادو اور ایسا جادو بھی جس کا کوئی توڑ نہیں بھلے آپ کسی پہنچ سے آگے پہنچی ہوئی سرکار کی مدد لیں یا آسام کے جنگلوں میں بھٹکتی روحوں کو پکڑ لائیں اس لفظ(کالا پائپ) کی تاثیر کے آگے بند باندھنے میں لاچار نظر آئیں ۔ اس کے علاوہ ایک اور تماشہ ہوتا ہے جو انتہائی دلچسپ بھی ہے بڑے بڑے بینرز لگنا شروع ہوتے ہیں جن میں ایک تحریر تواتر کے ساتھ نظر آتی ہے یا تو تحریر لکھنے والا بندہ ایک ہے یا بینر چھاپنے والا تحریر کچھ یوں ہوتی ہے ” ہم تعمیر و ترقی کے ہیرو فرزندِ کشمیر آئین سٹائنِ وقت جنابِ نیوٹن ایٹم بم آف فلاں شہر کو ایک لاکھ کے میگا پراجیکٹس کا اعلان کرنے پر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتے ہیں اور مکمل حمایت کا یقین دلاتے ہیں ” یہ پوچھنے کی کوئی زحمت نہیں کرے گا کہ کروڑوں روپے کے ملنے والے فنڈز کہاں جاتے ہیں کس پہ خرچ ہوتے ہیں کیوں ہوتے ہیں ۔

جگ حیران و پریشان ہے ایک لاکھ کے میگا پراجیکٹس کا سن کر۔پھر آپکی برادری کی تعداد بہت اہم ہے ان الیکشنز میں اگر آپ اکثریتی برادری سے ہیں تو یہ فرق نہیں پڑتا آپکی جماعت یا نظریہ کون سا ہے بھلے پولنگ کے ٹھیک ایک دن پہلے آپ اپنی جماعت تبدیل کرلیں حالانکہ الیکشنز کے خاتمے کے بعد برادری کی بنیاد پر جیتنے والے اپنی ہی براردی کا چار سال چھ مہینے بھرپور استحصال کرتے ہیں لیکن محسوس نہیں ہوتا۔ پھر آتی ہے باری ایڈجسٹمنٹ کی کہیں کہیں کوئی منسٹر صاحب کسی بندے کو میرٹ کو دھول کی طرح اُڑاتے ہوئے کسی کو ملازمت پہ لگوادیں گے اور اس احسان تلے اسکو خاندان سمیت دبا دیں گے اب پوری عمر ووٹ قائد کا نا آگے نا پیچھے۔حالانکہ روزگار مہیا کرنا قائد کی ذمہ داری تھی انکو کرسی تک پہنچایا ہی اس لیے جاتا ورنہ جو اسمبلی میں قانون سازی یا آئین سازی ہوتی ہے وہ کس سے ڈھکی چھپی ہے۔

قائدین بیس سال پہلے اعلان کی گئی سولنگ والی روڈ کی تختی کی طرف بار بار اشارے کرکے عوام کو اپنی کارکردگی دکھا کر پھولوں والے مالے پہننے اور پہننانے میں مصروف ہیں کارکنان بھی دھڑا دھڑا محبوب قائدین کے ساتھ لی گئی سلفیاں سوشل میڈیا پہ شئر کرکے طمانیت محسوس کررہے ہیں ۔یہ سلسلہ یونہی چلتا رہے گا آئیندہ چند ماہ تک پھر اگلے چار سال چھ ماہ تک ہم اس پُر کیف نظارے سے محروم رہیں گے اگر آزاد والا کشمیر باقی رہا تو ۔