125

کشمیر کیا بنے گا؟

کشمیر کیا بنے گا؟یہ سادہ ساسوال1948میں کشمیر کی سیاست میں اس وقت پیدا ہوا تھا جب آدھے جموںکشمیر پر پاکستان اور آدھے پر بھارت کا قبضہ ہو چکا تھا۔اس کے جواب میں کچھ کشمیری اسے پاکستان کا حصہ بنانے کے حامی تھے،کچھ بھارت بنانے کے اور کچھ اس کی پرانی آزاد وخود مختار حیثیت برقرار رکھتے ہوئے اسے مکمل آزاد ملک بنانے کے خواہشمند تھے۔بیرونی قابضین نے اس سوال کو بہت مقبول کیا اور اس کی مدد سے72سالوں تک کشمیری قوم کو تین بڑے حصوں میں تقسیم کیے رکھا۔آج بھی سوشل میڈیا پر نوجوان اس سوال کو اہم سمجھ کر اسے دھراتے رہتے ہیں۔بظاہر یہ سوال بڑا جاندار لگتا ہے لیکن عملی طور پر یہ ایک احمقانہ سوال ہے کیونکہ کشمیر نے کچھ نہیں بننا،اس نے کشمیر ہی رہنا ہے۔نہ بھارت اسے پاکستان کو دے سکتا ہے نہ پاکستان بھارت کے حق میں دستبردار ہو گااور نہ ہی اس کی موجودہ دہشتناک صورت حال مستقل قائم رہ سکتی ہے۔جلد یا بدیر اسے ایک آزاد ملک بننا ہی ہے ،بات اس کے ماحول کی ہے کہ اسے کیسا ہونا چاہیے۔

جموں کشمیر میں جاری غارت گری کو چھ دھائیوں تک دنیا سے چھپایا گیا لیکن سوشل میڈیا کی نعمت نے کشمیریوں کی زبوں حالی دنیا کے سامنے اجاگر کر نے کے ساتھ ساتھ کشمیری نوجوان کو بھی یہ بات اچھی طرح سمجھا دی ہے کہ اگر انہوں نے اپنی قوم کو جبرِ مسلسل سے بچانا ہے تو انہیں اسے ایک آزاد ملک بنانا ہی ہوگا۔اس معلومات کے بعد کشمیری نوجوان حصول آزادی کے لیے متحد ہو رہے ہیں۔کشمیریوں کی گزشتہ دو نسلوں کی آزادی کے لیے ہرطرح کی جدوجہد کو پاکستان نے جان بوجھ کر ناکام بنایا تھاجبکہ وہ تحریکیں صرف بھارتی قبضے کے خلاف تھیں۔پاکستان کے منفی رویّے اور مسئلے کے بارے میںسوشل میڈیا سے حاصل شدہ معلومات نے کشمیریوں پر بلا شک و شبہہ ثابت کر دیا تھا کہ کشمیر کی غلامی اور برے حالات کا واحد ذمہ دار پاکستان ہے۔اس نے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کر کے اسے مسئلہ بنا رکھا تھا۔ماضی کی تحریکوں میں حریت پسندوں کے پاس میڈیا نام کی کوئی چیز ہی نہیں تھی لیکن موجو دہ تحریک میں وہ مکمل طور پر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔اب کی بار ان کی تحریک کو روکنا یا ناکام بنانا نہائت ہی مشکل ہو گا۔

کشمیری شعور اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے۔انہیں علم ہو چکا ہے کہ ان کی جائداد پاکستان کے ناجائز قبضے میں ہے اور اسے انہوں نے اسے واپس لینا ہے۔اب انہیں ہمدرد بن کر بے وقوف بنانا آسان نہیں ہو گا۔ایسے حالات میں جب آزادی کی کرنیں نہیں پورا سورج طلوع ہوتا نظر آ رہا ہے تو یہ سوال کہ ”کشمیر کیا بنے گا؟©“بہت ہی اہمیت اور نزاکت اختیا ر کر جاتا ہے۔اس سوال کا جواب آزادی سے پہلے پہلے تلاش کرنا ضروری ہو گا بصورت دیگر آزادی کے بعد پاکستان کی طرح کشمیری قوم بھی کئی سالوں تک اس بات پر الجھی رہے گی کہ کشمیر کو کیا بننا چاہیے۔لہٰذا ضروری ہے کہ ابھی سے طے کر لیا جائے کہ کشمیر کو کیا بنایا جائے گا؟۔

ویسے تو بنیادی طور پر اس عقدے کو حل کرنااور اس سوال کا جواب تلاش کرنا کشمیری دانشوروں اور حریت پسندوں کا کام، بلکہ ذمہ داری ہے لیکن ایک عام آدمی کی نظر میں کشمیر صرف ایک زمین کا ٹکڑا نہیں ہے بلکہ یہ دنیا کی نصف کے قریب آبادی کو زندگی دان کرنے والا کرشماتی خطہ ءارض ہے۔دنیا کے سب سے بڑے پہاڑی سلسلے قرقرم،ہمالیہ اور ہندوکش اسی سر زمین پر واقع ہیں۔ارد گردکے سمندروں سے اٹھنے والے بادل جب ان پہاڑوں سے ٹکراتے ہیں تو یہاں بے تحاشا بارش اور برف باری ہوتی ہے۔یہاں دنیا کے کچھ عظیم اور قدیم گلیشیئرز موجود ہیں۔ ان سے نکلنے والا اور بارشوں سے آنے والا پانی بھارت ،پاکستان اور چین کے زیریں علاقوں کی طرف بہ کر وہاںکی زمینوں کو سیراب کرتا ہے جس سے زندگی نمو پاتی اور پھلتی پھولتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ کشمیر کے اڑوس پڑوس میںکرہ ارض کی آدھی آبادی بس رہی ہے۔

کشمیر کی غلامی کے نتیجے میں غاصبوں کے ہاتھوںہونے والی لوٹ مار نے اس خطے کے قدرتی اور فطری ماحول کو زبر دست نقصان پہنچایا ہے۔قدرت کی اس شاہکار نعمت کے ساتھ ظلم و زیادتی کے نتیجے میں بھارت اور پاکستان کو پانی کی قلت کی شکل میں مرض الموت لاحق ہو چکا ہے۔اگر انہوں نے اس خطرے کا احساس بر وقت نہ کیا تو وہ دن نظروں سے اوجھل نہیں جب پانی کا آخری قطرہ بھہ بہہ جائے گا اور پاکستان بھارت کی زمین ایک صحرا میں بدل جائے گی۔یہ حالات کشمیری قوم کے لیے بھی ایک بڑے خطرے سے کم نہیںہیں۔کشمیر کو اس کا پانی ہی دنیا کی جنت بناتا ہے اور اگر یہ پانی یہاں سے ختم ہو گیا تو کشمیری کہاں جائیں گے؟

کشمیر کے اندر گزشتہ 25/30سالوں سے زیر زمین پانی کی سطح تیزی سے گرتی جا رہی ہے۔ صدیوںپرانے چشمے اور نالے اتنے خشک ہو گئے ہیں کہ اب ان میں انسانی آبادیاں بستی جا رہی ہیں۔صوبہ جموں کے مغربی علاقے کوٹلی میں1990میں زیر زمین پانی کی سطح 50/60فٹ تھی،2000میں یہ سطح 100/120فٹ جب کہ 2018میں مزید گِر کر 180فٹ ہو گئی ہے۔ گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار بھی ماضی کے مقابلے میں بہت تیز ہو چکی ہے۔اس گراوٹ کا گراف دیکھ کر مستقبل کے حالات کو دیکھا اور سمجھا جا سکتا ہے۔

دنیا کے رجحانات، جنوب مشرقی ایشیا اور خاص طور پر جموں کشمیرکے ماضی ، حال اور جغرافیے کو دیکھ کر اس بات کا تعین کرنا کہ کشمیر کو کیا ہونا چاہیے ،زیادہ مشکل نہیں لگتا۔مملکتِ جموں کشمیردنیا کی دیگر ریاستوں کی طرح چل ہی نہیں سکتی۔اس کو اگر معقول طریقے سے نہ چلایا گیا توماحول کے نقصان کے ساتھ ساتھ اربوں انسانوں کی زندگیاں بھی نابود ہونے کا خدشہ رہے گا۔عام آدمی کے خیال کے مطابق ریاست جموں کشمیر کو ایک پارک یا باغ کی حیثیت میں ہونا چاہیے تا کہ کشمیر کے پڑوس اور باقی دنیا میں رہنے والے محنت کش جب کام کاج سے تھک جائیں تو یہاں آکر قدرتی ماحول میں آرام کر سکیں۔یہاں عالمی معیار کے تعلیمی ادارے ہوں جو آنے والی نسلوں کو تعلیم وتربیت مہیّا کریں۔یہاں جدید ترین ہسپتال ہونے چاہییں جہاں دنیا بھر کے مریض علاج کروانے آ سکیں۔کشمیر دنیاوی تنازعات سے مبرّا ہونا چاہیے جہاں دنیا بھر کے سائنسدان اورسیاستدان پُر امن ماحول میں بیٹھ کر اپنے مسائل پر بحث کر سکیں۔یہاں دنیا بھر کے شعراءادباءاور فنکار آکر فطرت کے حسین نظاروں کے درمیان بیٹھ کر نئے نئے موضوعات اور خیالات اخذ کر سکیں۔ساری دنیا کے کاروباری لوگ اپنے معاملات کشمیر کی جنت میں بیٹھ کر طے کیا کریں۔ماحول کو خالص رکھنے کے لیے کشمیر میں ہر قسم کی مصنوعی کھادوں اور کیمیکلز کے استعمال پر مکمل پابندی ہو۔یہاں آلودگی پیدا کرنے والی کسی قسم کی صنعتیں نہ ہوں۔

کشمیری اپنی دھرتی پر لکڑی،کوئلہ ،گیس اور تیل کی بجائے زیرو پالوشن والی بجلی ایندھن کے طور پر استعمال کریں۔کشمیر کے فلک بوس پہاڑوں سے بہہ کر آنے والا پانی لامحدود بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔کشمیری عوام کو مفت بجلی مہیا ہو اور اضافی بجلی ہمسایہ ممالک کو فروخت کی جائے۔اس علاقے میں فقط ایسی انڈسٹری ہو جو بجلی سے چلتی ہو۔کشمیر کے لوگوں کا صرف ایک ہی کام ہو کہ وہ یہاں آنے والوں کی خدمت خاطر کریں،ان کے آرام سکون کا خیال رکھیں اور انہیں ضرورت کی اشیاءفراہم کریں۔کشمیر کے پانی کے صارف ممالک کی مدد سے بارش اور گلیشیئرز کا پانی ذخیرہ کرنے کے انتظامات کیے جائیں تا کہ انہیں ضروریات کے مطابق بر وقت پانی کی مطلوبہ مقدار مہیّا کی جا سکے۔یہاں پڑنے والی برف کو ذخیرہ کرنے کے ساتھ ساتھ گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار کو کم کرنے کے طریقے اپنائے جانے کے ساتھ ساتھ ان کے رقبے کو بڑھا کر پرانے درجے پر لانے کی کوششیں کی جائیں۔۔یہاں پر جنگل اور باغات بنائے جائیں ،جھیلیں آباد کی جائیں اور کھیلوں کے عالمی مقابلوں کاا نتظام کیا جائے۔

کشمیر کو علاقے میں ایک مکمل غیر جانبدار ریاست ہونا چاہیے جو پڑوسی اور دیگر ملکوں کے معاملات سے مکمل الگ تھلگ رہے لیکن جہاں ممکن ہو تنازعات کے حل میں متحاربین کی سہولت کاری کرے۔کشمیر اور اہلِ کشمیر کی سلامتی کی ضمانت اس کے ان پڑوسیوں پر فرض ہو گی جواس کے محتاج ہیں۔ وہ کشمیر کو ایک پارک تسلیم کریں اور جس طرح پارکس بلاتخصیص ہرخاص وعام کے لیے کھلے ہوتے ہیں اسی طرح کشمیر بھی ساری دنیا کے لیے کھلا ہو۔کشمیری بھارت کو روس اور افغانستان تک اور پاکستان کو چین اور روس تک غیر عسکری مقاصد کے لیے سڑک کا راستہ فراہم کریں ۔کسی پڑوسی ملک کوفوجی مقاصد کے لیے کشمیر کا نام،زمین اور فضا استعمال کرنے کی اجازت ہو نہ ہی کسی متنازعہ شخصیت کو کشمیر میں پناہ دی جائے۔ملک کے اندر کسی قسم کی انتشاری سیاست بازی،مذہبی منافرت اور فرقہ واریت کا چلن نہیں ہونا چاہیے۔الغرض کہ کشمیر میں کوئی ایسا عمل نہیں ہونا چاہیے جو کسی آنے والے مہمان کوکو ڈسٹرب کرے۔یہ صرف ایک پارک ہو جہاں لوگ اپنی تھکن اتارنے اور تازگی حاصل کرنے آئیں۔الغرض جموں کشمیر ایک مذاکراتی میز ہو جہاں بیٹھ کر لوگ اپنے تنازعات حل کیا کریں۔اس کے علاوہ کشمیر کوکچھ نہیں بننا چاہیے۔