151

وزیر اعظم پاکستان نے 5 اگست 19 کے بعدمسئلہ کشمیر لبریشن فرنٹ کو ناکامی کی وجہ قرار دے دیا

جمعہ کے روز وزیر اعظم پاکستان نے پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے دارلحکومت مظفرآباد کا دورہ کیا جہاں انہو ں نے چین کے ساتھ کوہالہ پروجیکٹ پر چین کے ساتھ معاہدوں پر دستخط کیے۔ اس موقع پر انہوں نے سیز فائر لائن کے رہائشیوں کے لیے احساس کیش پروگرام کی تقریب سے خطاب کیا ۔

انہوں نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر روایتی طور پر بھارتی وزیر اعظم نے ہٹلر کہا اور آر ایس ایس پر بات کی۔

وزیر پاکستان نے کہا کہ 5 اگست 2019 کو بھارت نے اپنے زیر انتظام جمون کشمیر کی انتظامی پوزیشن تبدیل کر کے بین الاقوامی قراردادوں کی خلاف ورزی کی ۔ انہوں نے پانچ اگست کے بعد پاکستان کی فارن پالیسی کا ذمہ دار لبریشن فرنٹ کے جسکول دھرنے کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہماری پالیسی کامیاب ہو رہی تھی لیکن کچھ لوگوں نے آزادی مارچ کر کے اسے ناکام بنا دیا ۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم پاکستان نے تب بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر کی طرف کسی بھی پیش قدمی کو ترک کرنے کا کہا تھا اور ایسا کرنے والے کو کشمیریوں اور پاکستانیوں کا دشمن قرار دیا تھا۔

واضح رہے کہ پانچ اگست کے بعد پاکستان کے پالیس سازوں نے قومی سطح پر بھارتی حکومت کے اس عمل کے خلاف ہر جمعہ کو احتجاج کیا تھا۔

وزیر اعظم پاکستان نے ایک ایسے وقت میں آزاد جموں کشمیر کا دورہ کیا ہے جو یہاں چودہویں ترمیم کے چرچے ہو رہے ہیںجبکہ دوسری جانب کشمیری عوام پہلے ہی کوہالہ ہائیڈوپاور پروجیکٹ کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں۔

قبل ازیں نیلم جیلم ہائیڈرو پروجیکٹ سے مظفرآباد شہر کا درجہ حرارت دو ڈگری تک بڑھا اور کئی بیماریاں بھی شہر میں وارد ہوئیں جبکہ محققین کا کہنا ہے کہ کوہالہ ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کے بعد مظفر اباد شہر رہنے کے قابل نہیں رہے گا۔