135

ناز مظفرآبادی کا تخلیقی تسلسل

اس کے ہونٹوں پہ لمحہ بھر ٹھہری
تب غزل جا کے معتبر ٹھہری

ایک چینی دانشور لیوچی کا قول ہے شاعر ایک شکاری ہے جو زمین و آسمان کو ہیتوں کے قفس کا پابند کرتا ہے، ڈاکٹر سید عبداللہ کہتے ہیں کہ جب تجربہ اظہار کے قالب میں ڈھلتا ہے تو ہیت، وزن، آہنگ اور صورت ساتھ لاتا ہے لیکن اس صناعی میں شاعر کے شعور کو بھی دخل ہوتا ہے، ناز لفظ و معنی کا ایسا ہی صیاد جس کی صیادی میںان کے تخلیقی شعور کی خوبصورت جمالیات کا سلیقہ اور حسن ہے اور ان کا یہ شعری تجربہ ان کے اسی شعور کا عکس ہے جس کا آہنگ ہیت اوزان ان کے شعور سے غذا لیتے ہیں ناز صاحب سے شعری مجالس یا علاوہ ملاقات ہوئی تو بہت سی فنی نزاکتوں مضامینِ خیال عصری شعری شعور اور معاصرین کا ذکر جس انداز جس سلیقہ اور وسعت قلبی سے سنا ا س سے ناز سے صاحب کی ادبی رواداری لفظ و معنی کے اِدراک اور سماجی رویوں کا پتہ چلتا ہے کسی بھی بڑے شاعر کے ہاں ہمچو ما دیگرے نیست کا ہونا تعجب نہیں کہ شاعر کے پاس اس کی خودی بڑا اثاثہ ہوتی ہے یہ نہ ہو تو وہ تخلیق سے کیسے جڑا رہے اور جب شاعر شہرت و پذیرائی کے بھرپور عصر میں ہو تو یہ کیفیت اوربھی زیادہ ہونے لگتی ہے۔

ممکن ہے ان کی شاعری کے نفسیاتی شعور پہ راحیلہ خورشید کا تھیسس اور کتاب اس موضوع پہ بہت کچھ مواد لے آئے لیکن یہ جملہ معترضہ ان کے بڑے شاعر کی حثیت سے ان کے تہذیبی شعور کا حوالہ ہےیہ سطور ضمناً ہیںان کی شخصیت کا تجزیہ یا ان کے ادبی ود و قامت میں ان کی انکساری کی جڑیں ڈھونڈنا نہیں بس اتنا ہے کہ ناز صاحب اپنے سماجی تعلق اورروایات کو اپنے فن پہ قربان نہیں کرتے یہ ان کی شخصیت کا حسن ہے ان کے کئی مجموعہ شائع ہو کر قبولِ عام حاصل کر چکے ہیں وہ لمحہ موجود تک تخلیق سے وابستہ ہیں زیرِ نظر کتاب ان کے انہی ماہ و سال کے تخلیقی تجربوں کا انتخاب ہےماقبل بہت سے سٹوڈنٹ ان پہ تھیسس کر چکے ہیں اور کچھ کر رہے ہیں پاکستان کےمعتبر اشاعتی اداروں اور جامعات نے ان کتابوں کو شائع کیا بہت سے ادبی تذکروں میں ان کا کلام اور ان پہ مضامین لکھے جاچکے ہیں ادبی اُفق پہ ان کا یہ تحرک انتہائی مسرت کا باعث ہے ، کہ بدلتے تلخ و غیر یقینی حالات میں وہ یہ ترجمانی نہیں بھولے۔

وہ غزل کے شاعر ہیں اور غزل کے مضامین کے چناؤ ميں ان کا تخیل بہت فیاض ہے، ایک ملاقات میں اپنے دوست اخلاق حیدر آبادی کے حوالےسے. غزل کے موضوعاتی تناظر میں بات ہو رہی تھی اور خود بھی اس تشریح کے قائل ہیں کہ غزل کا ہر شعر ایک الگ مضمون ہے بل کہ کبھی کبھی تو ہر مصرعہ ایک مضمون ہوتا ہے۔مضامین آفرینی کی یہ جھلکیاں ان کے اشعار کا نقاب اوڑھے اپنے قاری کی منتظر ہیں کہ کوئی آگے بڑھے اور نقاب اُلٹےاس الھڑ عروسہ سے نبھاہ ناز کی تخلیقی مشاطگی کا خوبصورت عکس ہےاچھا قاری غزل کے جمالیاتی و عمرانی پیغام تک رسائی پا لیتا ہےناز کے یہ اشعار اپنے موضوعاتی کلچر میں ایک خوبصورت حوالہ ہیں مشاعروں میں قبولِ عام سے ہٹ کر اپنے اپنے متن میں بھی پر کیف آہنگ اور پیام کے لیئے ہوئے

بچھڑنے والے اگر ہوسکے تو لوٹ آؤ
اُسے کہیں گے اگر رابطہ بحال ہوا
مثال اور نہیں ہے بجز نبیؐ اکرم
ہے اک وہی جو زمانے میں بے مثال ہوا

اتنی شدت بھی کیا پیاس میں تھی
رات اتری ہوئی گلاس میں تھی
اس کا میں مستند حوالہ تھا
اس کی خوشبو میرے لباس میں تھی
کھا گئی وہ تری دعا کا اثرا
ک رعونت جو التماس میں تھی
اس کے چہرے پہ دیکھتا تھا میں
جامعیت جو اقتباس میں تھی
خوف طاری تھا شہر یاروں پر
خلقتِ شہر بھی ہراس میں تھی
شاعری تھی کہ کوئی رقاصہ
کس قدر مختصر لباس میں تھی

لیکن ناز کی شاعری اتنے مختصر لباس میں نہیں قدیم وکٹورین عہد کی خواتین کی طرح آٹھ دس لبادوں میں ہے جس کے بھید بھاؤ خاصا مشکل ہیں سو اس رقص کو دیکھنے کے لیے کچھ اور آنکھیں سینکیے

بے ساختگی و شگفتگی اور طنزِ ملیح
ترے عہدِ منصفی میں مری کر سکے حفاظت
نہ ضمانتی مچلکے، نہ بیان اعتراف
بڑے خرچ بچ گئے ہیںیہاں عدل کے منافی
مرے حق میں بھی دعا کر مرے یار اعتکافی
وہ یہ پوچھنا تھا اس کا صلہ بھی کوئی ملے گا
ترے عشق میں اُٹھائیں یہ جو اذیتیں اضافی
مرے شہر یار مجھ کو نہیںخلعتوں کا لالچ
مجھے زندہ رکھنے والی میری شاعری ہے کافی

یار اعتکافی کی تشبیہ کمال ہنرمندی ، اور لطیف طنز کی عمدہ مثال ہے منصفی نے کیا گل کھلائے ہیں کہ اللہ کی پناہ اس میں کچھ منصفوں کے مزاج اورکچھ ان کی اپنی ناآسودگیاں ،مزید ستم استغاثہ کے روایتی اورکرپٹ سسٹم کا ہے جہاں مظلوم داد رسی کے مرحلے کو پہنچ نہیں پاتا کہ اجل آن دبوچتی ہے کچہریوں میں اپنا مال آرام سکون اور عزت لٹاتا اپنا مقدمہ اپنی نسل کو وراثت میں دے جاتا ہےکتاب، اور نصاب اہم ہے لیکن علاوہ کی اپنی اہمیت ہے اور یہ علاوہ کیا ہے؟؟؟ بہت ہی معنی خیز ہے کہانی نہیںکہانیاں گھڑی جا سکتی ہیں یار لوگ اس رعایت سے چہرے آنکھیں اٹھاؤ گھماؤناز و ادا عشوہ و غمزہ جانے کیا کیا پڑھ لیں گےالتفات و گریز حبیب اگر کچھ بھی پڑھنے سے مناہی کر دے تو پھر کیا کریں شایدعشق کی چارہ گری کا یہ نسخہ بھی آگے کہیں ہو ۔بہرحال یہاں گیند قاری کی کورٹ میںپھینک کر شاعر بس تماش بیں رہ گیا ہےآپ کی منشا اورذوق پہ منحصر ہے چہرے پڑھتے ہیں نقاب دیکھتے ہیں، یا نقاب سے پرے کے جلوےفطرت بھی بھی اپنے ورق کھول کے بیٹھی ہے آسمان ہے ستاروں ماہتابوں کے ساتھ شب کا اپنا سحرسحر و صبا اور شبنم بھی ہے عشوہ و غمزہ کے آس پاس ٹھہرے رہنے کی خواہش بھی حقیقی ہے اور غمِ دوراں اورآشوبِ شہر بھی کچھ توجہ مانگتا ہے یہ سب ہم نصابی سرگرمیاں آپ کے تخیئل کے گھومنے گھامنے کے لیے دستیاب ہیں شاعر نے تو بس ایک سنگِ میل نصب کیا سفر تو آپ نے کرنا ہے۔

پڑھنے کو بہت کچھ ہے کتابوں کے علاوہ
کچھ اورپڑھو یار نصابوں کے علاوہ
سنتے یہاں جوگی کوئی آیا ہوا ہے
تعبیر بتاتا ہے جو خوابوں کے علاوہ
جو ناز کو پڑھتے ہیںوہ پھولوں کی دکاں سے
کچھ اور نہیں لیتے گلابوں کے علاوہ

کئی دنوں سے نہیں ہے، معاملہ کچھ بھی
نہ عرضِ حال نہ جھگڑا نہ مدعا کچھ بھی
کسی سے شکوہ شکایت نہ التجا کچھ بھی
تمہارے بعد نہیں ہے، یہ سلسلہ کچھ بھی

امید و نامیدی انسان کی نیچر میںدو کیفیتیں ہیں، یہ ہمیشہ ساتھ ساتھ چلتی ہیں بعض زمانوں کے لحاظ سے ان میں اتار و چڑھاؤ رہتا ہے موجودہ عصر کی حسیت میں امید زندہ تو ہےلیکن یاسیت کی اضافیت کا راج کچھ زیادہ ہے ناز صاحب جیسے رجائیت پسندوں کے ہاں بھی حالات کی کسی دم توڑتے لمحے میںیہ کیفیت در آتی ہے

تمہاری تو بس انگڑائی ہوئی تھی
ہماری جاں پہ بن آئی ہوئی تھی
یونہی اک روز وہ بازار آیا
پھر اس کے بعد مہنگائی ہوئی تھی

ناز کے شعروں میںسہج سے صبا کی طرح شگفتگی در آتی ہے واردات عشق واسوخت، گریز التفات جذبِ دروں اپنے خاص رنگ میں موجود ہے ۔ شعر ان کا فن ہی نہیںشعر ان کی روح میںرچا بسا ہے آورد کم آمد زیادہ تکلف کے بجائےبے ساختگی اورتخیئل کی فراوانی ہے یونہی بازار آنے پہ مہنگائیہوجانایا ایک اور شاعر نے کچھ یوںمضمون باندھا کہ

تم نے کان سے بندہ اتارا
تو سونے کا بھاؤ گرگیا

محبوب تو ہمیشہ شاعر کے مبالغہ اور لفاظی کی زد میںرہا ہے ناز اس صیادی سے کیسے باز. آسکتا ان کا رنگِ تغزل ہجرایا اوبرہا کا مارا ہے زمانے اوردل کادرد ان کے ہنر میں متوازی دکھائی دیتے ہیںغمِ جاں اورغم جہاں کا امتزاج ہے کوئی شاعر بہرحال ان کیفیات سے ماورا نہیں لیکن ترجیحات ذوق اورحالات کچھ فرق ڈال دیتے ہیں ناز کی نظموں میںشہر آشوب ہے وطن کا دکھ، اور ادھوری آزادی کی کسک ہے استحصالی رویوں پہ احتجاج ہے ان کی نظموں میںان کا شعورکشمیریوں پہ طویل تسلطاور سرابوں کا عکاس بن جاتا ہے ہر کشمیری شاعر نے اس دکھ کو ز بان دی ہے لیکن ناز نے اس چبھن کو اک اور آہنگ دیا بہت سی نظموں کے طرح اس مجموعہ میںشامل نظم ہجرت بھی اس کا ایک اظہار ہے

جہاں بھی قدرت کے بنائے ماحول کو ترقی و توانائی کے نام پہ چھیڑا گیا خوش نوا پرندوں کی ہجرت ٹھہر گئی پھر وہاںانسانوں اورمشینوں کا شور گیا،

پرندے جمع تھے دریا کنارے
کسی جلسے کا منظر لگ رہا تھا
یہاں اشجار کٹتے جارہے ہیں
شکاری گھات میں بیٹھے ہوئے ہیں
یہاںپانی پہ پہرے لگ گئے ہیں
ہماری پیاس بیچی جا رہی ہے
ہمارا دیس چھینا جا رہا ہے
ہمیںبے موت مارا جارہا ہے
یہاں انصاف بکتا ہے رفیقو
یہاں ہر چیز مہنگی ہورہی ہے
کوئی صورت نہیں اب زندگی کی
توہم سب متفق ہو اس بیاں سے
ہمارا کوچ بنتاہے یہاں سے

یہ ایک کثیر جہتی مضامین سموئے آگے بڑھتی نظم ہے ڈومیسٹک سطح پہ اسے خطے کے مقامی حالات ماحول کی تباہی جو انسانی آبادی اورمیگا پراجیکٹس کی وجہ سے آتی ہے سے بھی جوڑا جا سکتا ہےلیکن پرندوں کا احتجاجاور ہجرت کا فیصلہ انسانی المیوں بڑی طاقتوں کے فیصلوں ٹیکنالوجی کے ذریعے فطرت کو پامال کرنے کی صورتحال سے بھی منسلک ہےنظم انھی جہات کی غماز ہے انسان کی ترقی سے جڑے المیوں پہ بے جان مخلوق کا احتجاج ہمیشہ شاعر نے حرف کے پہناوے میںہمارے سامنے کینوس پہ ڈسپلے کیا ہے اس آس امید پہ کہ انسانی تقدیر کی وارث اندھی بہری قوتوں کی حرص کچھ کم ہو فطرت اور اس کا قصیدہ خواں انسان کچھ انسانیت کا مظاہرہ کرے

دیکھ ٹوٹا خمار کس کس کا
چھن گیا اقتدار کس کس کا
ایک اپنے قرار کی خاطر
اس نے لوٹا قرار کس کس کا
وہ تو مقروض ہے رویوں کا
وہ چکائے ادھار کس کس کا

اس کے ہونٹوں پہ لمحہ بھر ٹھہری
تب غزل جا کے معتبر ٹھہری

عصری حسیت جو لفظ ہر ایکٹ ہر ہنر اور ہر تخلیق میںدر آئی ہے ناز کے ہاں اس کا رنگ اورتیکھا چوکھا اورمنفرد ہے

برکت اُٹھی شجر نہیںرہا
اب تعفن اورگرد ہے
یہ عصر تو سب حسنِ فطرت کھا گیا

وہ جوئے شیر کہاں اب نہیں ہے قطرہ تک
کہ گروی رکھ دیا فرہاد نے بھی تیشہ تک
تمہارے عہد میں ہر شے سے اٹھ گئی برکت
کہ اب تو دیتا نہیںہے شجر بھی سایہ تک
تم آئینو کو یہاںکس لیے سجاتے ہو
ہمارے پاس نہیں ہے ہمارا چہرہ تک
دیا ہے میںنے جگر کا لہو چراغوں کو
انہیںنہیں ہے ہواؤں سے ناز خدشہ تک

شاعر مایوسی کی انتہا تک اپنے قاری کو لے جاتا ہے جہاںاپنا چہرہ تک پاس نہیں اور مایوسی کی انتہا سے امید کی سیڑھی پہ لاچھوڑتا ہےجب چراغوں کو ہواؤں سے ڈر نہیں کہ چراغ جگر کے لہو سے فروزاں ہیں ناز کی صلح جوئی کا رنگ بھی دیکھیئے

آپ کی بات مان لیتے ہیں
قصہِ دار تک نہیں جاتے
دشمنی حوصلے سے کرتے ہیں
آخری وار تک نہیں جاتے
ناز درویش طبع آدمی ہیں
شہ کے دربار تک نہیںجاتے

یہاں جو نکتہ ور بیٹھا ہوا ہے
پکڑ کر اپنا سر بیٹھا ہوا ہے

یہ عشق اب کا نہیںہے سدا کا اڑیل ہے
اسے لگام نہ دے بے لگام رہنے دے
عدو کا ہاتھ شہ رگ پر ہے میرے
وہ کہتے ہیں کہ کچھ دن اور دیکھو

شاعری میںشہ رگ کا استعارہ کشمیری شعراء کے ہاں خاص تاریخی تناظر میں ہے اس استعارے میں ایک قوم کی طویل اوردردناک داستاں سمٹی ہے جو آہوں سسکیوں کے ساتھ شجاعت و عزیمت کی عجیب کہانی ہے تخیئل،مطالعہ کائنات، شعورِذات اور تفحص تخلیق کی بنیاد ہے کوئی تخلیقی تجربہ ان بنیادوں کے بغیر کھڑا نہیںہوسکتاناز کا شعری تجربہ بھی انھی بنیادوں پہ کھڑا ہےان اسی کی شعری معنویت رمزیت اورمضمون آفرینی نے ان کی شعری کائنات کو خوبصورت بنا دیا ہے وہ غمِ جاں کی بات کرتے ہیں شہر یار کا ذکر اورخوباں کے ہجر و فراق کے شعر بھی کہتے ہیں لیکن ان کی شاعری کی روح غمِ انسان ہے سماج کے دکھ اور غلامی اور استحصال کا گہرا شعور ہے ان کی شاعری نقاد کی کسوٹی پہ دھیرج سے اترے گی وقت ان کی ریاضت اورمراقبے کی قدر کرے گاسماج کا ہر طبقہ ان کے شعر و اسلوب سے آشنا ہےطلبہ اساتذہ اورشعر و سخن سے آشنا. عام قاری ناز کی شاعری سے حظ اُٹھاتا متاثر ہوتا اور داد دیتا ہے اہلِ دانش علمی مراکز اور ادبی دبستانوں میں ان کے شعر کی گونج سنائی دے رہی ہےسمجھنے سراہنے کی صلاحیت اور فن پارے کی جمالیات کا احساس ادراک اورتفہیم تنقید ہے یہی چیز فن پارے کو قابلِ قبول بناتی ہےتنقیدی شعور سے آشنا لوگوں سے سماج کبھی بھی خالی نہیںرہا اگر ایسا ہوتا تو کوئی بھی فن پارہ زندہ نہ رہ پاتا، کوئی سماج کم یا زیادہ سخن فہم تو ہو سکتا ہے لیکن سخن فہمی سے خالی نہیںہوتا قدیم یونان، میسو پوٹیمیا بابل میں بھی جمالیاتی احساس پورے شعور کے ساتھ تھا ناز کا عصر بھی ان کے فن، شعر و شعریت سے نا آشنا نہیںرہ سکے گاناز کا تخلیقی سفر عمر اور زمانے کے ساتھ توانا ہوتا جا رہا ہے مقداراور معیار کے امتزاج اور خوبصورت توازن کے ساتھ وہ حرف و معنی کا وقار اوراعتبار قائم رکھے ہوئے ہیں

اس کے ہونٹوں پہ لمحہ بھر ٹھہری
تب غزل جا کے معتبر ٹھہری
ہم ایسے لوگ نہیں بار بار ہاتھ آتے
خرید لیجئیے بس واجبی سی قیمت ہے
خلوص بانٹتے پھرتے ہیں ناز لوگوں میں
کہ فی زمانہ اضافی یہی سہولت ہے

ناز نے غزل کے ناز کچھ یوں اُٹھائے کہ اب غزل کے غمزہ و ادا کی اس شہر میںدھوم ہے