114

فیرن اور کانگڑی، کشمیری ثقافت کے اٹوٹ انگ اورشہہ رگ

تقافت نہ صرف کسی قوم کی پہچان ہوتی ہے بلکہ اسے معاشرے کی نبض اور دھڑکن بھی تصور کیا جاتا ہے۔ فن و ثقافت سے ہی معاشرے کے عروج و زوال ، حالات و واقعات اور تاریخ کا پتہ چل جاتا ہے۔

دراصل ثقافت کا عروج و زوال ہی کسی قوم یا معاشرے کی ترقی یا پسماندگی کی ایک دلیل ہے۔ تقافت کے حوالے سے خطہ کشمیرخوش قسمت رہا ہے ۔ قدرتی حسن کے حوالے سے جہاں یہ خطہ بے مثال اپنا الگ مقام و مرتب رکھتا ہے وہیں یہاں آباد قوم کی صدیوں پرانی ثقافت میں بھی کوئی ثانی نہیں۔ اس امر سے بھی انکار نہیں کہ بیرونی طاقتوں اور جابروں نے کشمیر اور اس کی ثقافت کو مٹانے کی کئی کوششیں کیں لیکن وہ اپنےہربار ناکام رہے ۔ گزشتہ کئی صدیوں سے کشمیریوں کی بنیادی حق آزادی تو بار بار سلب کی گئی لیکن کوئی جابر کشمیریوں سے ان کی پہچان، زبان اور ثقافت چھین نہ سکا ۔وہ اس لیے کیونکہ اس خطے کی جغرافیہ ، موسم ،حالات اور یہاں آباد لوگوں کے اپنی تقافت سے بے حد لگا نے بڑی بڑی طاقتوں کے کلچر کو یہاں پاوں جمانے نہیں دیا۔

یہاں کا طرز زندگی ، زبان ،لباس اور کھانے ہمیشہ خطے کی دیگر اقوام اور ممالک سے یکتا اور منفرد رہے ہیں ۔۔ کشمیری ثقافت کا اہم فیرن اور کانگڑی بھی اس کی ایک بے مثال نظیر ہیں۔ فیرن اور کانگڑی صدیوں سے چلی آرہی ثقافت کے حقیقی معنوں میں اٹوٹ انگ اور شہہ رگ ہیں۔فیرن یا پھیرن کشمیری مرد و خواتین کے مخصوص روایتی لباس کا نام ہے ۔یہ جموں کشمیر کے لوگوں کا پسندیدہ اورقدیم دور سے مروجہ لباس ہےجو عموما سردیوں میں پہنا جاتا ہے ۔ فیرن اطرافی چاکوں کے بغیر ایک ڈھیلا ڈھالا عبایا یا چوغہ نما لباس ہے جس کے آستینیں بھی کشادہ ہوتی ہیں ۔

فیرن عام کپڑوں یعنی شلوار قیمض یا پینٹ شرٹ کے اوپر زیب تن کیا جاتا ہے ۔لفظ فیرن یا پھیرن کی اصل کے بارے میں کوئی شواہد نہیں ملتے البتہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ فارسی کے لفظ ۔۔پیراہن ۔۔ کی بگڑی ہوئی شکل ہے جس کے معنی لباس کے ہیں۔ یہ لباس پندرہویں صدی عیسوی سے پہلے بھی کشمیری ثقافت کا اہم حصہ رہا ہے۔ انیسویں صدی تک روایتی فیرن کی لمبائی پاوں تک ہوتی تھی لیکن جدت اس کی لمبائی پرخوب اثر انداز ہوئی ۔ اب جدید شکل میں یہ گھنٹوں تک یا اس سے تھوڑا زیادہ ہوتا ہے۔۔عمومی طور پر مرد کا فیرن سادہ ہوتا ہے جبکہ خواتین کے فیرن میں وقت کے ساتھ ساتھ سائز اور ڈیزائن میں تبدیلی آتی رہتی ہے۔ خوبصورت کشیدہ کاری اور بیل بوٹوں کی کڑھائی کشمیری خواتین کے فیرن کا ایک لازمی جز ہے۔ یہ عموما ریشی دھاگوں یا سنہرے تار سے کاڑھے گئے پھول ہوتے ہیں۔

روپہلے تار کی کشیدہ کاری کو کشمیری زبان میں طلے(طلا) کا کام کہا جاتا ہے۔ طلے والے فیرن کو ۔۔طلا دار فیرن کہا جاتا ہے ۔ ماضی قریب میں اس کی بڑی دھوم رہی ہے تاہم اب یہ فیشن ذرا پرانا ہوگا ۔ وادی کشمیر خوبصورت میں اپنی مثال آپ ہے لیکن یہاں کا سرد موسم بھی کسی تعارف کا محتاج نہیں ۔ اکتوبر سے اپریل تک یہاں کڑاکے کی سردی پڑتی ہے ۔ برفباری خوب ہوتی ہے ۔ یخ بستہ ہواں کے اس موسم میں فیرن حقیقی معنوں میں ڈھال کا کام کرتا ہے۔یہ پورے بدن کو ڈھانپے رکھتا ہے۔ خصوصا برفباری کے دوران یہ مکمل حفاظتی لباس ہے۔ موسم سرما کا فیرن اون یا موٹے کپڑے سے بنایا جاتا ہے جو گرم کوٹ ،جکیٹ یا چادر کا کام دیتا ہے۔ اس کے اندر کانگڑی رکھ کر جسم کو حرارت دی جاسکتی ہے ۔یہ لباس وادی کشمیر ، خطہ چناب اور وادی نیلم میں زیادہ پہنا جاتا ہے۔ یہ لباس گرمیوں میں بھی زیب تن کیا جاتا ہے ۔ لیکن اس موسم کیلئے کپڑا کا چنا مختلف ہوتا ہے۔ بھارت کی طرح اس کے پیش رو قابضین نے کشمیر کے اس قدیم اور منفرد لباس پر کئی بار وار کیے لیکن کامیاب نہ ہوئے ۔

2018 میں مودی سرکاری نے سرکاری دفاتر میں فیرن کے استعمال پر پابندی عائد کی لیکن کشمیریوں نے اس اقدام کو جوتے کی نوک پر رکھا ۔ پابندی کو ہزاروں سال پرانی تہذیب پر یلغار قرار دیتے ہوئے اسے یکسر مسترد کیا ۔ حتی کہ سرکاری ملازمین نے بھی دوٹوک کہا کہ کشمیریوں سے صدیوں پرانی مقامی روایت کوئی چھین نہیں سکتا۔کشمیریوں کی صدیوں پرانی شناخت فیرن کو ختم کرنے کی جتنے منصوبے بنائے گئے اتنی ہی یہ تقافت مقبول ہوئی ۔۔۔ سری نگر، سوپور، بارہ مولہ ،اسلام آباد ، ترال ، کپواڑہ ،بانڈی پوری اور وادی چناب کے اضلاع میں فیرن کے نت نئے ڈیزائن دستیاب ہیں ۔یہاں کے نوجوان جہاں خود کو سردی سے محفوظ رکھنے کیلئے فیرن پہنتے ہیں وہیں اسے بیرونی سازشوں کے توڑ کیلئے ہتھیار کے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں ۔

کشمیر کو ہڑپ کرنے بھارت کے حالیہ اقدامات کے بعد یہ ثقافت توقع سے زیادہ زور پکڑ رہی ہے اور اب بیرون ملک آباد کشمیری بھی وادی سے فیرن منگواتے ہیں اور باقاعدہ بیس جنوری کو اس لباس کو زیب تن کرکے ۔۔۔فیرن ڈے ۔۔۔ مناتے ہیں ۔ دنیا گلوبل وولیج بن گئی اور آئے روز بدلتے فیشن کے دور نے کئی قوموں کی ثقافتیں نگل لی لیکن آزادی کی طلب گار کشمیری قوم کی آن اور شان فیرن آج بھی اپنی پہچان برقرار رکھا ہوا ہے ۔

جدید دور میں بھی فیرن کی طلب وہی ہے جو ماضی میں تھی ۔ کشمیر کل بھی اسے فخر سمجھتے تھے اور آج بھی ۔کانگڑی بھی کشمیر کے کلچر کا ایک اہم حصہ ہے ۔سردیوں میں فیرن اور کانگڑی کو لازم و ملزوم سمجھاجاتاہے ۔

کانگڑی روایتی کشمیری ہتھ انگیٹھی کا نام ہے یہ ایک بید کی بنی ٹوکری کی طرح ہوتی ہے جس کے اندر مٹی کا ایک پیالہ سا رکھا ہوتا ہے ۔ اس کے اندر گرم سرخ کوئلے ڈال کر فیرن کے اندر پکڑے رکھے ہیں ۔شدید سردی میں کانگڑی کسی نعمت سے کم نہیں ۔ یہ ایک موبائل مشین ہے جہاں چاہیےاسے اپنے ساتھ رکھا جاسکتا ہے ۔ اس کی کئی اقسام ہیں۔ سردیوں سے بچاو کیلئے اگر چہ جدید آلات بنائے گئے لیکن کشمیر میں
کانگڑی کا آج بھی کوئی نعم البدل نہیں ۔ جدید دور میں بھی یہ اپنی اہمیت برقرار رکھی ہوئی ہے ۔