امامہ خان 81

غدار بمقابلہ ٹھیکیدار

تقریباََ ایک ماہ پہلے پاک فوج کے شعبہ اطلاعات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور کی طرف سے کی گئی پریس کانفرنس میں قبائلی علاقہ سے اٹھنے والی امن پسند اور بنیادی حقوق کے حصول کی آواز پی،ٹی ،ایم کے خلاف چند ثبوتوں کے ساتھ کاروائی کا عندیہ دیا گیا ۔”ٹائم اپ فار پی،ٹی ،ایم” جیسے الفاظ جنرل غفور نے ادا کیے اور ساتھ میں اس تحریک کو لیڈ کرنے والے لوگوں پر غداری اور ‘را’ اور’این ڈی ایس’ سے پیسے لینے کا الزام بھی لگادیا۔چونکہ ہماری تاریخ میں غداری جیسے الزامات بہت عام ہیں ۔ہر وہ شخص جو ‘ہمیں’ پسند نہیں، اس کا کام پسند نہیں یا اس کا ہماری چاپلوسی سے معذرت کرنا پسند نہیں یا پھر کوئی فوجی ادارے کا سویلین کاموں میں مداخلت کرنے پر آواز اٹھائے تو وہ بھی غدار کہلاتا ہے۔چونکہ علی وزیر اور محسن داوڑ فوج کے سیاسی دخل اندازی کے خلاف ہیں اور فاٹا میں مزید بارہ سیٹوں پر پی،ٹی،ایم کی جیت کی نوید سے ایک ادارہ سخت پریشان ہے اور اسے کاونٹر کرنے کیلئے غداری کا ٹیگ لگانے سے کوئی بہتر آپشن نہیں ہے ۔ثبوت کی ضرورت ہماری عوام کو ویسے بھی نہیں کیونکہ ہمارا اللہ اور رسول کے بعد ایک ہی ادارے پر کامل ایمان ہے ۔

پڑھے لکھے نوجوان ففتھ جنریشن وار کے شوشے کے پیچھے بہت سے تلخ حقائق سے نا آشنا ہیں ۔پی،ٹی ، ایم کی تحریک قبائلی علاقہ جات میں ہوئے فوجی آپریشن کے بعد حرکت میں آئی۔قبائلی علاقے پروکسی وار اور سنگین دہشت گردی کا شکار رہے ہیں۔فوجی آپریشن کے ذریعے ان علاقوں کو آزاد کروایا گیا ہے ۔قبائلیوں نے اس جنگ میں بہت قربانیاں دیں اور ان کا نقصان ناقابل تلافی ہے ۔ قبائلی علاقے میں امن کے بعد ریاستی پالیسی جب ڈھگمگائی تو پی،ٹی ایم نے جنم لیا ۔ اپنے بنیادی حقوق کی فریاد لے کر یہ لوگ کبھی اسلام آباد ،کبھی لاہور اور کبھی کراچی آئے مگر ریاست نے کوئی خاطر خواہ توجہ نہ دی ۔ اس سب کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان لوگوں میں غم وغصہ بڑھا اور انہوں نے براہ راست پاکستان فوج کو نشانہ بنایا ،اور ”یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے” کہ نعرہ تلے یکجاں ہوئے۔ اس نعرہ کی تفصیل میں نہیں جائوں گا مگر یہ ضرور ہے کہ جو ظلم سہتا ہے وہ بہتر جانتا ہے کہ ظالم اور جابر کون تھا۔ 

9/11 کے نیتیجے میں امریکی حکام کو فوجی اڈے دینے کے بعد دہشت گردی کی جو لہر چلی اس نے پاکستان کو کھوکھلا کر کے رکھ دیا ہے۔ افغانستان سے آپریٹ ہونے والے دہشت گرد گروپوں نے پاکستان کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔اس میں ایک جماعت ٹی ٹی پی جس کا ذکر عام آئے روز ہوتا ہے یہ جماعت ایسے گروہ پر مشتمل تھی جو اندرونی تھا ۔محسود قبیلے کے بہت سے لوگ اس جماعت میں شامل تھے ۔لیکن پھر ایک وقت آیا جب جنرل مشرف نے یہ کہا کہ بیت اللہ مسعود ہمارا ہیرو تھا۔ہزاروں لوگ قتل کرنے والا بیت اللہ مسعود ہیرو اور امن کی بات کرنے والا، آئین و قانون کی بالا دستی کا خواہش مند منظور پشتین غدار ہے۔ ریاستی پالیسی میں اس سے بڑی کنفیوزنگ بات اور کوئی نہیں ہے ۔ قبائلی علاقوں میں ابھی تک چھوٹے دہشت گرد گروپ موجود ہیں اور کچھ مقامات پر فوج آپریشن جاری کر رکھے ہوئے ہے ۔

 چند روز پہلے ہی قبائلی علاقے میں چار لوگوں کو گھر سے سیکورٹی اداروں نے اٹھایا اور وجہ یہ بتائی گئی کہ یہ لوگ وہاں موجود کسی دہشت گرد گروپ کی مدد کررہے تھے ۔یہ لوگ پی،ٹی،ایم کی تحریک میں بھی پیش پیش تھے ۔ محسن داوڑ اور علی وزیر اسلام آباد سے چلے اور ان لوگوں کے گھروں تک جانے کا ارادہ کیا اور احتجاج کی کال دی ۔ یہ لوگ وہاں پہنچتے اس وقت تک ایک قافلہ ان دونوں لیڈران کے ساتھ تھا ۔غور طلب بات ہے کہ یہ لوگ کئی چیک پوسٹس کراس کر کے ایک چیک پوسٹ پر پہنچے جہاں سے آگے جانے کے لیے وہاں موجود سپاہیوں نے اجازت دینے سے انکار کر دیا ۔کیونکہ یہ وہی علاقہ تھا جہاں احتجاج ہونا تھا ۔اس پر سپاہیوں اور علی وزیر کے درمیان تلخ کلامی ہوئی ۔مگر یہ بات واضح تھی کہ جلسے کے لیے آئے کسی بھی فرد کے پاس کسی قسم کا اسلحہ موجود نہیں تھا اور اگر تھا بھی تو پیچھے کی چیک پوسٹس بھی پاکستان فوج کی ہی تھیں ”را” یا ”این ڈی ایس” کی نہیں جو اسلحہ سمیت گزرنے کی اجازت دی گئی ۔سچائی تو یہ ہے کہ تلخ کلامی کے بعد اچانک فائرنگ شروع ہوئی اور یہ فائرنگ تیسرے گروپ کی طرف سے کی گئی۔ یہ گروپ اب کسی ادارے کی پے رول پر تھا یا پھر کوئی انتشاری ہے یہ تو تفصیل آنے کے بعد ہی پتہ چلے گا۔ پراکسی وارعلاقوں میں آپریشنز کی نویت کو سمجھنے والے یہ بہتر بتا سکتے ہیں کہ اس واقعے میں ایک تیسرا گروپ ملوث ہے ۔

اس سب میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس نوگو ایریا میں سے چار لاشیں برآمد ہوئی ہیں اور قوی امکان ہے کہ یہ وہی لوگ ہیں جنہیں فوج نے گھر سے اٹھا یا تھا برحال ابھی شناخت جاری ہے ۔اگر یہ بات سچ ثابت ہوئی تو خطرناک حد تک ریاست کے گلے پڑ سکتی ہے ۔ یہ سب حقیقت عوام سے پوشیدہ رکھی گئی اور میڈیا کے ذریعہ جھوٹ پھیلایا گیا کہ یہ حملہ علی وزیر کے کہنے پر ہوا۔تاہم یہ کہنا بھی غلط ہے کہ کارکنان پر فائرنگ اور تیرہ لوگوں کی موت اور 45کے زخمی ہونے کی وجہ اس چیک پوسٹ پر موجود سپاہیوں کی بندوقوں سے نکلنے والی گولیاں ہیں۔یہ سب مفادات کا کھیل ہے اور اس کھیل میں بہت سے دشمنوں سے بھی کام لیا جا سکتا ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ اس واقعے کی انکوائری کرائی جائے اور حقائق سامنے لائے جائیں۔ علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے جائیں اور فوری طور پر رہا کیا جائے۔ اب تک کی ویڈیوز کے مطابق جنرل غفور کا یہ الزام کہ یہ حملہ علی وزیر نے کرایا ہے سراسر جھوٹ اور عوام کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔

پی،ٹی ،ایم کے مطالبات بہت جائز اور حقیقی ہیں ۔اگر کسی کو یہ لگتا ہے کہ ریاست بہت اچھے طریقے سے ان معاملات کو ڈیل کر رہی ہے تو اس کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ ریاست نے امن کمیٹی میں وہی لوگ لا کر بٹھائے ہیں جو پانچ سال پہلے دہشت گرد گروپوں کے سربراہ تھے ۔پی،ٹی ،ایم کا اعتراض یہ ہے کہ پاکستانی عوام کے یہ قاتل آج کیسے کسی ریاست کے سگے ہو گے اور اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ یہ لوگ ہمارے مفادات اور مطالبات کا دفاع کریں گے ۔ جرگے کی کیا آئینی حیثیت ہے؟ اگر کل کو ایک پارٹی مگر جاتی ہے تو پھر کیا ہو گا؟ اس کے بعدمسنگ پرسن کا مسئلہ بھی بہت اہم ہے ۔ لینڈ مائینز کا مسئلہ بنیادی انسانی حقوق کے زمرے میں آتا ہے ۔ منظور پشتین کا یہ مطالبہ کرنا کہ ہر کام آئین و قانون کے مطابق ہونا چاہیے جبکہ جرگے کو کوئی آئینی حیثیت حاصل نہیں ہے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ یہ سلسلہ ختم کیا جائے اور ریاست آئین و قانون کے مطابق ان کے مطالبات کو حل کرے تا کہ سند رہے۔ڈی جی آئی ایس آئی اور وزیر داخلہ(چھوٹے شاہ جی اور بڑے شاہ جی ) سے گزارش ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور اس معاملے پر متاثرہ لوگوں کے مطالبات حل کریں۔

اگر بین الاقوامی سپورٹ کے ثبوت موجود ہیں تو انہیں قانونی طریقے سے عدالت میں لا کر سزا دی جائے۔اس ٹھیکیدارانہ رویے اور غداری کے سرٹیفکیٹ بنانے والی کمپنی نے ملک کو پہلے بھی بہت نقصان پہنچایا ہے اور اب کی بار یہ رویہ قبائلیوں کو پھر سے ہتھیار اٹھانے کیلئے مجبور کر رہا ہے ۔1971ء کے سانحے سے اگر کچھ سبق سیکھ لیا جائے تو اب بھی بہتری کی گنجائش ہے ۔اس وقت کا ڈی جی آئی ایس آئی جنرل اکبر بنگالیوں کو ‘حرامی’کہہ کر بلاتا تھا ۔ جنرل ایوب کی بنگال الگ تحریک شروع کر نے کے پیچھے بھی بنگالیوں کے لیے نفرت تھی۔ایوب خان نے حسن غداری کیس میں مجیب الرحمن کو جیل میں ڈالا اور عوام نے اسے غدار مان لیا جبکہ دو سال بعد ایک اور ڈکٹیٹر آیا اور اس نے مجیب الرحمن کو جیل سے نکالا اور الیکشن لڑایا اور وہ اکثریت سے جیت گیا۔

نواب مری کو غدار کہہ کر افغانستان ہجرت کرنے پر مجبور کیا گیا مگر پھر ایک وقت آیا جب جنرل ضیاء خود انہیں لینے افغانستان گیا اور واپس پاکستان آنے کی درخواست کے ساتھ ساتھ غداری کا سرٹیفکیٹ منسوخ کرنے کی یقین دہانی بھی کروائی ۔یہ غداری اور ‘را’ کا ایجنٹ کا ٹیگ بہت پرانا ہے ۔تاریخ کو مد نظر رکھتے ہوئے میری آج کی فوجی قیادت اور خاص طور پر جنرل غفور سے درخواست ہے کہ یہ نہ ہو کل کو آپ کی اولاد میں سے کسی کو منظور پشتین ،علی وزیر یا محسن داوڑ کواسلام آباد کے کسی سرکاری دفتر میں سیلوٹ کرنا پڑ جائے ۔لہذا اس معاملے میں دل و دماغ کو ٹھنڈا رکھنے اور اپنے اندر کے ٹھیکیدارنہ رویے کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔۔ہماری تاریخ ایسے ڈھیروں واقعات سے بھری پڑی بے۔  

جذباتی پاکستانی عوام سے یہ گزارش ہے کہ خداراہ حقیقت اور مفروضوں میں فرق کرنا سیکھیں ۔پشتونوں سے نفرت کےجو بیج آپ کے سینوں میں بوئے گئے ہیں انہیں ختم کریں۔تصویر کے دونوں رخ دیکھیں اورپھر فیصلہ کریں کیا صحیح ہے اور کیا غلط ہے.سی ایم کے پی کے کی جانب سے پہلے بیان میں ان لوگوں کو دہشت گرد اور را فنڈڈ کہنے کے بعد آج اس واقعے میں ہلاک ہونے والے افراد کے لیے 25 لاکھ اور زخمیوں کے لیے 10 لاکھ روپے امداد کا اعلان یہ ثابت کرتا ہے کہ حکومت اور آئی ایس پی آر کی طرف سے ان لوگوں پر جھوٹ اور غلط بیانی کا سہارا لے کر الزام لگایا گیا تھا ۔ لولی لنگڑی عمران حکومت سے کسی بہتری کی امید نا ممکن ہے۔خاص طور پر یہ معاملہ ان کی پہنچ سے دُور ہے۔ن لیگ اور پی پی کو اس معاملے میں احتیاط سے سیاسی طور پر چلنا ہو گا کیونکہ کراے کی عمران سرکار آج ہے کل نہیں اور اگر کوئی مسئلہ ہوتا ہے تو عمران کے پتلی گلی سے نکلنے کے بعد حسب معمول فوجی ادارے کے بے قصور ہونے پر گالیاں آنے والی حکومت ن لیگ یا پی پی کو پڑنی ہیں ۔جنرل باجوہ تو خود کہہ چکے ہیں کہ پی،ٹی ،ایم کے مطالبات جائز ہیں اور دو تین لوگوں سے اختلاف ہے ۔لہذا پوری قوم کا پی،ٹی ،ایم کی پور ی جماعت کو غدار اور را فنڈڈ کہنا اپنے بڑوں کی کہی گئی باتوں کی نفی تصور ہوگا۔

جب تک عوام باشعور نہیں ہوگی یہ سلسلہ ایسے ہی چلتا رہے گا اور ایک ادارہ اپنی اجارہ داری کو مزید مضبوط کرنے کی کوشش کرے گا ۔عوام اگر تین جنگیں ہارنے والی فوج ، 71میں بنگال توڑنے ،فوجی اڈے غیر ملکیوں کو دینے والے ادارے کو معاف کر کے اب بھی اسے ملک کی آخری امید سمجھ سکتی ہے تو اس فوج کے معاون خاص اسی ادارے کے مفادات کے جنگ لڑنے والے پشتون بھائیوں کی امن کی طرف پیش قدمی اور ایک ادارے کی اجارہ داری اور مزید چاپلوسی نہ کرنے کی خواہش کابھی خیر مقدم کرنا چاہیے۔

قصور وار دونوں طرف کے بڑے ہیں ۔آج بھی ریاست اور ادارے اس قسم کا سلوک اور آئینی فیصلے نہیں کر رہے جو کہ حق بنتا ہے ۔قبائلیوں کا  مزدور سپاہیوں کو گالیاں دینا بھی غلط ہے اور اگر کوئی انتشار یا ریاستی اداروں کے خلاف کھڑے ہونے کو مسائل کا حل سمجھتا ہے تو یہ بھی غلط ہے اس سے صرف نفرت بڑھے گی اورامن وسلامتی کا راستہ رُکا رہے گا ۔ تمام اسٹیل ہولڈرز سے گزارش ہے کہ وہ اس معاملے میں اپنا کردار ادا کریں اور قبائیلیوں کو آئینی اور قانونی دائرے میں لانے میں اپنا کردار ادا کریں۔