193

سویڈن: کورونا وائرس کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرنے کا دعوی

کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے کی سویڈن کی حکمت عملی یہ ہے کہ آبادی کو وائرس کا مقابلہ کر کے قوت مدافعت حاصل کرنے دی جائے، اس لیے ملک کھلا ہوا ہے اور کاروبار زندگی رواں دواں ہے۔

سویڈن کی یہ حکمت عملی شدید تنقید کی زد میں بھی ہے، ماہرین اسے خطرناک کہہ رہے ہیں اور اسے روسی رولٹ کھیلنے کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے۔

اس وقت جبکہ پورا یورپ لاک ڈاؤن میں ہے سویڈن دنیا کا واحد ملک ہے جس کا خیال ہے کہ کمزور قوت مدافعت رکھنے والوں کو الگ تھلگ کر کے باقی آبادی کورونا کا سامنا کرے اور اس کے خلاف ایمیونٹی حاصل کر لے۔

ملک کے آبائی امراض کے سب سے بڑے ماہر ڈاکٹر اینڈرز ٹینگل کا کہنا ہے کہ یہ حکمت عملی کام کرتی دکھائی دے رہی ہے اور ملک کے دارالحکومت سٹاک ہوم میں چند ہفتوں کے دوران باقی آبادی میں قوت مدافعت حاصل کر لیں گے۔

سی این بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کورونا کے نئے مریضوں کے حوالے سے سٹاک ہوم کے اردگرد ہم ایک ہموار سطح پر پہنچ گئے ہیں اور ہرڈ ایمیونٹی کے اثرات دیکھ رہے ہیں، جبکہ باقی ملک میں صورتحال مستحکم ہے۔

ملک میں کسی بھی مرض کے خلاف قوت مدافعت ویکسین کے ذریعے حاصل کی جاتی ہے اور جب 60 فیصد آبادی اس سطح پر پہنچ جائے تو اسے ہرڈ ایمونٹی حاصل کرنے میں کامیابی قرار دیا جاتا ہے۔

کورونا کی ویکسین ابھی تک تیار نہیں ہوئی اس لیے سائنسدان جائزہ لے رہے ہیں کہ کیا وائرس کا سامنا کر کے ملکی آبادی میں قوت مدافعت پیدا کی جا سکتی ہے۔

ابھی تک یہ سوال بھی موجود ہے کہ کیا قوت مدافعت پیدا ہونے کے بعد کورونا کا مرض دوبارہ بھی لاحق ہو سکتا ہے یا ہمیشہ کے لیے اس سے نجات مل جائے گی۔

ٹیگنل کا کہنا ہے کہ اب تک کے اعداوشمار کے مطابق سٹاک ہوم کی 20 فیصد آبادی میں قوت مدافعت پیدا ہو چکی ہے اور اس بات کا امکان ہے کہ چند ہفتوں میں باقی افراد بھی یہ صلاحیت حاصل کر لیں۔

انہوں نے کہا کہ سویڈن میں زیادہ سے زیادہ ٹیسٹ کرنے کے باوجود نئے کیسز کی تعداد میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ بڑی عمر کے افراد کے لیے مخصوص اداروں میں اموات کی شرح زیادہ ہے اور ہم اس کی تحقیق کر رہے ہیں۔

ایک کروڑ آبدی پر مشتمل سویڈن میں اب تک 15 ہزار 3 سو مریض سامنے آئے ہیں، ان میں سے بیشتر کا تعلق سٹاک ہوم سے ہے، باقی ملک میں آبادی بکھری ہوئی ہے اس لیے وہاں کورونا کا پھیلاؤ زیادہ نہیں ہے۔

سویڈن میں اپنے ہمسائیہ ممالک، فن لینڈ اور ڈنمارک، کی نسبت کورونا کے مریض دگنی تعداد میں سامنے آئے ہیں، فن لینڈ میں 4000 جبکہ ڈنمارک میں 8 ہزار مریض سامنے آئے ہیں۔

تاہم ان کی آبادی سویڈن سے آدھی ہے اس لیے مریضوں کی شرح تقریباً برابر ہے، البتہ اموات کی تعداد میں بہت فرق ہے۔

ڈنمارک میں اب تک 370 اور فن لینڈ میں 141 افراد کورونا سے ہلاک ہوئے ہیں جبکہ سویڈن میں یہ تعداد دو ہزار کے لگ بھگ ہے۔

سویڈن میں ہر ہفتے 20 ہزار افراد کا ٹیسٹ کیا جا رہا ہے اور ٹیگنل کے مطابق اگلے چند ہفتوں میں ٹیسٹ کی ہفتہ وار شرح ایک لاکھ تک پہنچ جائے گی۔