Abdul Hakeem Kashmiri 110

مسئلہ جموں کشمیر بدلتا ہوا سیاسی اور جغرافیائی موسم

زمینی حقائق یہ ہیں کہ مسئلہ جموں کشمیر حل ہو چکا جو علاقہ جس کے پاس ہے وہ اس کا۔

خواب یہ ہیں کہ 1947کی ریاست جموں کشمیر کی وحدت بحال ہو،اہل جموں کشمیر کو ان کی خواہشات کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے موقع دیا جائے۔خواب اور حقائق میں 180ڈگری کا فرق ہے۔منقسم کشمیر کے ہر دو اطراف طاقت کے مراکز کے یکساں مزاج اور اقتدار پرست کشمیری سیاستدانوں کے اجتماعی وقار سے عاری سوچ کی وجہ سے 73سال میں بہت کچھ بدل چکا ہے۔

سرینگر گلگت بلتستان اور مظفرآباد کی الحاق نواز لیڈر شپ مقامی اقتدار کے حصول میں تحریک آزادی اور متنازعہ حیثیت کو بطورٹول استعمال کر تی رہی اور اس کمزوری کو دہلی اور اسلام آباد اپنے مقاصد کیلئے استعمال کر تے رہے یوں شہ رگ اور اٹوٹ انگ سے جڑی حق خود ارادیت 73سال کی پریکٹس کے بعد اب مستقل تقسیم کی شکل میں سامنے آرہی ہے۔2لاکھ 22ہزار مربع کلو میٹر پر محیط ریاست جموں کشمیر کے صرف چھ فیصد حصے پاکستان کے زیر انتظام آزادکشمیر میں سٹیٹ سبجیکٹ (پشتنی باشندہ ریاست کا سرٹیفکیٹ)موجود ہے۔اطلاعات ہیں کہ اب 14ویں ترمیم کے ذریعے پاکستان کے زیر انتظام آزادکشمیر میں وحدت جموں کشمیر کی واحد علامت اسٹیٹ سبجیکٹ رولز تبدیل کیے جا رہے ہیں۔ریاستی شناخت کی علمبردار سیاسی جماعتوں اور ان کے قائدین کیلئے یہ ایک بڑا چیلنج ضرور ہے مگر مالی اور شخصی کمزوریوں کے شکار روایتی سیاستدانوں کیلئے اسلام آباد کے سامنے پورے دم سے کھڑا ہونا اس سے بھی بڑا مسئلہ ہے۔

کیا مظفرآباد اپنی محدود عنایت کی گئی شناخت بچانے میں کامیاب ہو جائے گا اس سوال کا سادہ سا جواب ہے……………… نہیں …………اس لئے کہ مظفرآباد کے حکمرانوں نے قبیلائی اور علاقائی تعصبات کی آبیاری کی جس کے نتیجے میں تاریخی پس منظر،قومی شناخت،شہداء کی قربانیاں،نسل نو کے نزدیک ان سوالوں کی کوئی اہمیت نہیں۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر (آزادکشمیر)کو تحریک آزادی کا بیس کیمپ کہا جاتا ہے مگر عملاً الحاق پاکستان کا بیس کیمپ ہے۔جہاں تمام پریکٹس الحاق پاکستان کیلئے کی جاتی ہے۔صدر،وزیراعظم،وزراء الحاق پاکستان کا حلف اٹھاتے ہیں اور جو الحاق پاکستان کی شق پر دستخط نہ کرے وہ الیکشن نہیں لڑ سکتا۔بھارت کے زیر قبضہ کشمیر میں الحاق ہندوستان کا حلف اٹھانے والے ہی مقامی اقتدار حاصل کرتے ہیں۔گلگت بلتستان میں بھی یہی صورتحال ہے۔

اقتدار کی کشمکش میں اختیارات سے دستبرداری کی داستان بھی عجیب ہے۔28اپریل 1949کے معاہدہ کراچی میں گلگت بلتستان اور آزادکشمیر(پاکستان کے زیر انتظام کشمیر)دو انتظامی یونٹس میں تقسیم کرنے کے ساتھ آزادکشمیر کے سیاستدانوں کو مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے فیصلہ سازی کے اختیارات سے بھی دستبردار ہونا پڑا۔

سرینگر کی خصوصی حیثیت کا سقوط گرچہ 5اگست 2019کو ہوالیکن اس سے قبل سرینگر کی خصوصی حیثیت عملاً ختم ہو چکی تھی۔صرف سٹیٹ سبجیکٹ رولز موجود تھے،جس کے نتیجے میں کوئی بھی ہندوستانی وہاں زمین نہیں خرید سکتا تھا اور نہ ہی سرکاری ملازمت حاصل کر سکتا تھاوہ قانون بھی گزشتہ سال ختم کر کے بھارت نے اپنے زیر قبضہ جموں کشمیر کو اپنا حصہ بنا لیا۔گلگت بلتستان میں گزشتہ صدی کی آٹھویں دہائی میں اسٹیٹ سبجیکٹ رولز ختم ہو گئے تھے۔

گلگت بلتستان آرڈر 2009اور پھر 2018کے تحت گلگت بلتستان کی حیثیت پاکستان کے 4صوبوں کے برابر کر دی گئی۔ اب صرف چھ فیصد پاکستان کے زیر انتظام آزادکشمیر کی نیم خود مختار کچھ نہ کچھ حیثیت باقی ہے جس میں مرحلہ وار آئندہ چند سال میں کھلی مگر سوئی ہوئی آنکھوں اور بند ذہنوں کے ساتھ دیکھے خوابوں کو دفن کرنے کی تیاریاں ہیں ۔ آزادکشمیر میں زیر بحث مجوزہ 14ویں ترمیم شاید اختتامی مرحلے سے پہلے کا مرحلہ ہے۔اسلام آباد کی یقیناً یہ خواہش ہوگی کہ معاملات کا ممکن حد تک خوش اسلوبی سے اختتام کرنے کیلئے نرم اور لچکدار حکمت عملی اختیار کی جائے کہ کشمیر شناخت کی آخری چنگاری بھی راکھ میں بدل جائے۔

فیصلہ ساز حلقوں میں اب یہ سوال زیر بحث نہیں کہ آزادکشمیر کو تحریک آزادی کشمیر کا بیس کیمپ مان کر مزید اختیارات دئیے جائیں سرینگر میں عسکریت کی طویل المدت منصوبہ بندی کی جائے۔اب صرف ایک ہی سوال زیر بحث ہے کہ آزادکشمیر کو کس حیثیت سے پاکستان کا حصہ بنایا جائے۔پنجاب اور کے پی کے میں ادغام یا گلگت بلتستان کی طرح صوبہ بنا کر ……بدلتے ہوئے سیاسی اور جغرافیائی موسم کے مقابلے میں پاکستان کے زیر انتظام آزادکشمیر کے سیاستدان بند گلی میں کھڑے جبر ناروا کو تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں رکھتے ۔ مزاحمت کی بات تو کی جاتی ہے لیکن جاننے والے یہ جانتے ہیں کہ یہ مزاحمت ایک شعلہ نیم جاں کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہوگی۔ہاں اگر تھوڑی بہت مزاحمت ہوئی بھی تو اسلام آباد مالی معاملات سے ہاتھ کھینچنے کا آپشن استعمال کر سکتا ہے‘جس کے بعد مظفرآباد،اسلام آباد سے درخواست کرتا ہوا نظر آئے گاکہ جس قدر جلد ممکن ہو اس حصے کو پاکستان کے دھارے میں شامل کیا جائے۔

رہی بات مکمل آزادی کی بات کرنے والوں کی وہ اگر ایک فیصد لوگ جو پینتالیس ہزار بنتے ہیں سڑکوں پر لے آئیں تو امید کی جا سکتی ہے کہ شاید جو غیر مقبول فیصلہ ہونے جا رہا ہے وہ کچھ عرصہ کیلئے رک جائے لیکن گزشتہ تین چار دہائیوں کا ریکارڈ گواہ ہے کہ مکمل آزادی کا علمبردار پوری کوشش کے باوجود مستقل بنیادوں پر کسی بڑے اجتماع کا انعقاد کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔

1990اور1992کا ایل او سی مارچ،5اگست 2019کے بعد جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کا جسکول دھرنا یا اس سے قبل لبریشن فرنٹ کا تیتری نوٹ مارچ‘یقینا یہ بڑے اجتماعات ضرور تھے لیکن اس قدر نہیں کہ جغرافیائی تبدیلیوں کے راستے میں رکاؤٹ بن سکیں۔ سو 73 سال میں بحیثیت قوم ہم نے جس عملی کردار کا مظاہرہ کیا نتائج عین مطابق ہیں ۔۔۔قومی غیرت آزادی وقار شناخت ہمارے نزدیک ثانوی حیثیت بھی نہیں رکھتی تھیں لہذا اپنا شناختی کارڈ بدلنے کی تیاری کیجئے