67

پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی سیاسی معیشت پر ایک بحث

تحریر، دانش خان
مترجم : کامران نصیر

پاکستان میں مہنگائی اور اشیائے خورد نوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، لیکن اس کا اثر سب سے زیادہ آزاد کشمیر پر پڑا ہے. پچھلے کچھ ماہ میں اشیاء خورد نوش اور گندم وغیرہ کی قیمتوں میں تیس فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے بے شمار تعداد میں لوگ احتجاج کے لیے نکل آئے.

عموماً دیہی علاقہ جات میں، شہری علاقوں کی نسبت مہنگائی زیادہ اثرات مرتب کرتی، تاہم آزاد کشمیر کی آبادی کا ستر فیصد دیہی آبادی پر مشتمل ہونے کے باعث یہ علاقہ جات زیادہ نقصان میں رہے، مزید برآں آزاد کشمیر خاص پہاڑی علاقہ اور خطہ ہے، جہاں آمد ورفت کا بنیادی ڈھانچہ پسماندہ اور ٹوٹا پھوٹا ہے جس کی وجہ سے ترسیل کی مد میں قیمت زیادہ ادا کرنا پڑ تی ہے، جس کے باعث آزاد کشمیر کے عوام کو خطہ پاکستان کے علاقوں کے عوام کی نسبت زیادہ قیمت ادا کرنا پڑتی ہے. اس لیے یہ محض رائج مہنگائی نہیں بلکہ اس سے ذیادہ قیمت ادا کرتے ہیں، جس نے آزاد کشمیر کے عوام کو سڑکوں اور گلیوں میں احتجاج کے لیے آنے پر مجبور کیا ہے.

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ احتجاج اور مظاہرے عام عوام اپنی قیادت میں، دیہی علاقوں اور بازاروں کی کمیٹیاں وغیرہ بنا کر مشترکہ طور پر کر رہے ہیں، ایکشن کمیٹیاں وہ غیر رسمی، غیر دستوری عوامی کمیٹیاں ہیں جس میں عوام مشترکہ طور پر اپنے مقاصد طے کرتے اور ان کی تکمیل کے لیے عملی طریقہ کار ترتیب دیتے. یہ عمل انھیں ایک خاص حیثیت بخشتی ہے اور اس چیز کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ نہ صرف بیدار اور اعلیٰ شعور کے مالک ہیں بلکہ بغیر کسی ریاستی، اداراجاتی اور شخصی امداد کے بغیر خود کو منظم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں. کیا یہ عوامی اور بنیادوں سے اٹھی تحریک آزاد کشمیر اور پاکستان کو اپنی پالیسیوں میں ٹھوس تبدیلیاں کرنے پر مجبور کر سکے گی؟. اس کا فیصلہ ہونا باقی ہے.

عالمی عہد میں مائیکرو لیول معشیت میں تبدیلیاں، علاقائی اور عالمی سطح پر تبدیلیوں کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں. نیو لبرل معاشی اسٹریکچر کی ذوال پزیری، اشیاء کی قیمتوں میں ہو شرابا قیمتوں میں اضافے کی صورت میں سامنے آ رہی ہے. جس کا مرکز اشیاء کی غیر مناسب فراہمی اور سبسڈی کا خاتمہ ہونا ہے. جس کے باعث چھوٹے ددجہ کے کسان مشکلات کا شکار ہیں. یہ صورت حال نہ صرف پاکستان میں ہے بلکہ جنوبی ممالک، ہندوستان وغیرہ میں بھی حالیہ صورتحال تشکیل پائی ہے.

آزاد کشمیر میں احتجاج اور مظاہرے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ دو اہم عامل اس سے متاثر ہوئے ہیں یعنی چھوٹے کاشتکار اور کم وسائل والے صارفین جنوبی ایشیا میں نیو لبرل پالیسیز کا خت شکار رہے.

تاریخی طور پر آزاد کشمیر ایک خود انحصار اور خود بقائی ذرعی معشیت رہی ہے. جس میں خاندانی زمینیں ہی معشیتی بقا کا وسیلہ رہی ہیں. ایک ہی خاندان کے مردوں اور خواتین کے لیے روزانہ اکٹھے کام کرنا ایک عام سی بات تھی، دوسرے الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے خاندانی / قرابت داری اس مشترکہ محنت کے عمل کا حصہ رہی.

پاکستانی میں نیو لبرل معاشی پالیسیز کی وجہ سے آزاد کشمیر میں بے روزگاری بہت زیادہ بڑھی جس نے نا صرف بے شمار مرد حضرات گلف کے بیرون ممالک ہجرت کرنے پر مجبور کیا اور آزاد کشمیر کے خاندان اور برادری پر قائم معاشی نظام کے ماحول کو بری طرح متاثر کیا، بلکہ الٹا آزاد کشمیر کو ایک نئی صارف منڈی میں تبدیل کر دیا جو بیرونی دنیا کی تبدیلیوں سے زیادہ متاثر ہونے لگی.

بیرون ممالک سے سرمایہ کی ترسیل اب آزاد کشمیر کے اکثریتی خاندانوں کی معشیت کا وسیلہ بن چکی ہے, کیوں کہ آزاد کشمیر کی معشیت پاکستان کی منڈی کے ساتھ ساتھ گلف ممالک کی منڈیوں سے زیادہ جڑ چکی ہے. لہٰذا آزاد کشمیر عالمی معشیت و سیاست میں انتہائی غیر محفوظ ہو گیا ہے. گلف ممالک مین کرونا کے باعث شدید مندی کی وجہ سے پاکستان کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر بھی برابر متاثر ہوا ہے. وباء کی وجہ سے آزاد کشمیر میں جو صورتحال خراب ہوئی، احتجاجوں کی ایک وجہ یہ بھی ہے.زرعی پیداوار پر مرتب اعدادوشمار اس چیز کا اظہار کرتے ہیں کہ پنجاب کی بارانی زمینوں کی نسبت آزاد کشمیر کی زمینیں کم پیداواری ہیں۔ آزاد کشمیر کی زمینوں میں کیمیائی کھادوں کا استعمال کم بے۔ جس کے باعث نامیاتی خوراک اور اشیاء کی بھی قلت ہے۔ جو کے بہتر ہو سکتی ہے۔ لیکن ادادہ جاتی امداد اور جدید زخیرہ اندوزی کے وسائل کی عدم دستیابی کے باعث یہ مشکل ہو چکا ہے اور اس زرعی معشیتی اسٹریکچر کو دوبارہ چلانے کے لیے ان مسائل کا حل ہونا ضروری ہے۔

آزاد کشمیر میں نوجوانوں کی بیروزگاری کی شرح حکومتی/دفتری اعدادوشمار کے مطابق 30 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ اس لیے پالیسی سازوں کے لیے یہ ایک اہم وقت ہے کہ آزاد کشمیر کی خاص معاشی ترقی پر ترجیعی بنیادوں پر کام کریں ۔ اس کام کو دیہی علاقہ جات میں چھوٹی صنعتوں کی حوصلہ افزائی اور نشوونما کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔ جو علاقائی بنیادوں پر ہی لوگوں کے لیے روزگار فراہم کریں گی۔جس کے باعث بہت سارے طریقوں سے چھوٹی صنعت:، زراعت اور زرعی پیداوار اور صنعت و کارخانوں کے درمیان ایک ربط کا زریعہ ہو سکتی ہے۔

اس کے علاوہ سیاسی اور ادارہ جاتی فیصلہ سازی کے ذریعے نیو لبرل معاشی سٹرکچر سے علاقائی اور چھوٹی سطح کے معاشی سٹرکچر کی طرف تبدیلی کی ضرورت ہے۔جس کا مرکز سماجی ہمواری اور مشترکہ سماجی بقا ہو گی۔