160

لفظ پاکستان کس نے تخلیق کیا؟ عبدالبصیر تاجور

لفظ پاکستان کے حقیقی خالق کی بات کی جائے تو غالب کا شعر صورت احوال کی حقیقی عکاسی کرتا نظر آتا ہے۔

ہیں کواکب کچھ، نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکا،یہ بازی گر، کھلا

تاریخ کے اوراق تین مختلف لوگوں کو لفظ ِ پاکستان کی تخلیق کا دعویٰ دار قرار دیتے ہیں جس سے معاملہ متنازع ہو جاتا ہے۔ یہ سرقہ یا توارد والا معاملہ بھی نہیں بل کہ نہایت اہم تاریخ دستاویز کے استناد کا معاملہ ہے۔ محض سنی سنائی کے زور پر کسی ایک دعوے دار کو خالق قرار دینا تاریخ کے تقاضوں کے ساتھ خیانت ہے۔ ہم من حیث القوم تحقیق سے جی چرانے والے لوگ ہیں۔ ہماری سہل انگاری نارفتہ راہوں کی تحقیق کی بہ جائے تقلید کو ترجیح دیتی ہے۔

شیر مردوں سے ہوا بیشہ تحقیق تہی
رہ گئے صوفی و ملا کے غلام اے ساقی

جن تین شخصیات کے حوالے سے لفظ پاکستان کی تخلیق کی دعویٰ داری کا معاملہ سامنے آیا ہے ان کے اسمائے گرامی ہیں، خواجہ عبدالرحیم، چودھری رحمت علی، سید غلام حسن کاظمی۔ تینوں موقر شخصیات کا مختصر سوانحی جائزہ لیتے ہوئے لفظ ِپاکستان کے خالق حقیقی کا معما حل کرتے ہیں۔

سابق گورنر پنجاب خواجہ احمد طارق رحیم کے والد خواجہ عبد الرحیم لفظ پاکستان کی تخلیق کے حوالے سے پہلے دعویٰ دار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ ان کے مختصر سوانح کے آخر پر ان کے دعوٰی کی حقیقت پیش کی جائے گی۔ خواجہ عبدالرحیم پنجاب سے تعلق رکھنے والے آئی سی ایس افسر رہے ہیں۔ آئی سی ایس کی ٹریننگ کے لیے کچھ عرصہ ولایت بھی رہنا پڑتا تھا۔ اسی ٹریننگ کے سلسلے میں ہی خواجہ عبدالرحیم کی ملاقات چودھری رحمت علی سے ہوئی اور وہ کچھ عرصہ ان کے ساتھ ہم کمرہ بھی رہے جہاں پر ان کے تیسرے ساتھی صاحبزادہ شیخ محمد صادق منگزول ہوتے تھے۔ شیخ صادق منگزول کا تعلق بھی پنجاب ہی سے تھا۔ خواجہ عبدالرحیم مختلف انتظامی عہدوں پر پہلے حکومت برطانیہ اور تقسیم کے بعد حکومت پاکستان کے ماتحت کام کرتے رہے اور 5 نومبر 1974اس جہان فانی سے رخصت ہو گئے۔ آپ کو میانی صاحب لاہور کے قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔

تخلیق پاکستان کی دعویٰ داری اور اس کی حقیقت:

تخلیق ِ لفظِ پاکستان کے حوالے سے خود انہوں نے اپنی زندگی میں 1970میں ایوان نوائے وقت راولپنڈی میں ایک اجلاس میں بتایا تھا کہ لفظ پاکستان کے خالق وہ ہیں اور انہوں نے یہ لفظ پہلی مرتبہ خیبر یونین آف اسٹوڈنٹس کے ایک اجلاس میں استعمال کیا تھا۔

خواجہ عبدالرحیم کے خالق لفظ پاکستان ہونے کے حوالے سے تائیدی دعویٰ معروف ماہر لسانیات خالد احمد نے بھی اپنی کتاب ’دی برج آف ورڈز‘ میں بھی میں بھی کیا ہے۔ ” دی برج آف ورڈز ” کے مطابق پاکستان کا لفظ سب سے پہلے خواجہ عبدالرحیم نے تخلیق کیا تھا۔ اپنے دعویٰ کی تائید میں خالد احمد کا کہنا ہے کہ انہیں یہ بات سید افضل حسین کے صاحبزادے عظیم حسین نے بتائی تھی۔ خالد احمد کے مطابق عظیم حسین کا کہنا تھا جب خواجہ عبدالرحیم لندن میں مقیم تھے تو ایک دن سر اولف کیرو کی کتاب ’سوویت سلطنت‘ کا مطالعہ کرتے ہوئے ان کی نظریں ایک نقشے پر ٹک گئیں جس میں وسطی ایشیاء کی ایک ریاست کا نام قراقل پاک ستان تحریر تھا۔ یہیں سے انہوں نے لفظ پاکستان اخذ کیا۔خالد احمد نے اس بات کی تصدیق کے لیے سر اولاف کیرو کی محولہ بالا کتاب تلاش کی۔ انہیں اس کتاب کا 1950ء کا ایڈیشن دستیاب ہوا۔ خالد احمد کہتے ہیں کہ اس کتاب میں وہ نقشا بھی موجود تھا اور اس نقشے میں وہ نام بھی موجود تھا۔خواجہ صاحب نے اس انکشاف کا اظہار چوہدری رحمت علی کے سامنے کیا۔ چوہدری صاحب کو تحریک ملی اور انہوں نے ’ناؤ اور نیور‘ کے عنوان سے پمفلٹ شائع کردیا اور پاک ستان کے نام سے الگ وطن قائم کیے جانے کا مطالبہ کیا۔ خواجہ عبدالرحیم کے تخلیق کار ہونے کے حوالے سے تیسرا دعوی اشفاق بخاری کی کتاب چنار کلب فیصل آباد میں کیا ہے اور ” دی برج آف ورڈز ” والے الفاظ ہی استعمال کیے گئے ہیں سوائے اس بات کے کہ انہوں نے اولف کیرو کی کتاب کا نام قراقل پاک ستان لکھا ہوا ہے۔ جہانگیر خان کرکٹرکے حوالے سے بھی انہوں نے اسی دعویٰ کی تصدیق کی ہے کہ چودھری رحمت علی نے یہ لفظ خواجہ عبدالرحیم سے سنا تھا۔ اسی سلسلے میں علامہ اقبال کے ساتھ ملاقات کا ایک واقعہ بھی بیان کیا ہے. اس واقعے کا تصویری ثبوت بھی موجود ہے مگر لفظ پاکستان کے حوالے سے کہی گئی باتیں زبانی کے درجے میں آتی ہیں۔

حقیقت کیا ہے؟

تاریخی تفتیش کے مروجہ و مسلمہ اصولوں کی چھاننی میں سے جب تینوں دعووں کو گزارا جائے تو تینوں کی قلعی کھل جاتی ہے۔ خواجہ عبدالرحیم نے جو دعویٰ کیا اس کی تائید میں انہوں نے کوئی بھی تائیدی ثبوت پیش نہیں کیا اور نہ ہی تفصیل بتائی کہ خیبر یونین آف سٹوڈنٹس کے کس اجلاس میں، کس مقام پر اور کس ضمن میں انہوں نے لفظ پاکستان کا استعمال کیا۔ اس صورت حال میں ان کے دعویٰ کا مسلم الثبوت ہونا اندھے کی گواہی سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔

خالد احمد ایک ماہر لسانیات تو تسلیم کیے جا سکتے ہیں مگر تحقیق و تفتیش کے تقاضوں سے قطعاً نابلد ہیں۔ ان کی کتاب وینگرڈ پبلشرز نے 2001 میں شائع کی۔ اپنے دعویٰ کے ثبوت میں انہوں نے جس کتاب ” سوویت سلطنت” کا ذکر کیا ہے کہ جسے پڑھتے ہوئے خواجہ عبدالرحیم کو 1932 میں پاکستان کا نام ذہن میں سوجھ گیا تھا وہ کتاب 1932میں چھپی ہی نہیں تھی۔ آ پ کو یہ جان کر حیرت ہو یا ہنسی آئے مگر یہ تلخ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ سر اولف کیرو کی کتاب سوویت ایمپائر کا پہلا اڈیشن 1953 میں شائع ہوا تھا جب پاکستان کو بنے ہوئے بھی چھے سال ہو چکے تھے۔ کتاب کے پبلشر کا نام میک ملن اینڈ کمپنی تھا اور مذکورہ کتاب کا دوسرا ایڈیشن 1967 میں شائع ہوا تھا۔ اور اس سے بھی مضحکہ خیز بات جو بالکل واضح کر دیتی ہے کہ مصنف اصول تحقیق سے کلیتاً نا آشنا ہے کہ انہوں نے قارا قلپق کو ترکی زبان کا لفظ قرار دیا ہے اور قراقل پاک لکھا ہے۔ مصنف کو ترکک لفظ کی وجہ سے تسامح ہوا ہے۔ ترکک ان پینتیس عدد زبانوں کے اس گرو ہ کو کہا جاتا ہے جو دریائے آمو کے پار سے لے کر ایشیائے کوچک کے درمیان بولی جاتی ہیں۔ یہ لفظ بھی قراقل پاک کی بہ جائے دو لفظوں قارا اور قلپق کا مرکب ہے۔ مقامی یا ازبک تلفظ قو را گول پستان بنتا ہے۔

اسی طرح اشفاق بخاری نے تو تاریخ کا قیمہ کرتے ہوئے سر اولف کیرو کی کتاب کا نام ہی قراقل پاک لکھ مارا ہے اور اسی کو لفظ پاکستان کی وجہ تسمیہ بھی قرار دے کر کسی انجانی مجبوری کے تحت سہرا خواجہ عبدالرحیم کے سر منڈھنے کی بے سرو پا کوشش کی ہے۔ جو کتاب ہی 1953 میں سوویت ایمپائر کے نام سے پہلی مرتبہ چھپی اشفاق بخاری نے بنا کسی تحقیق کے مکھی پر مکھی مارتے ہوئے اسے 1930 سے پہلے کی قرار دیا ہے۔ یہ تو ویسا ہی کہ ایک چرسی قبرستان میں بھنگ کے سوٹے لگا رہا تھا۔ اچانک پولیس کا چھاپہ پڑ گیا۔ چرسی کو ہڑبڑاہٹ میں اور کچھ نہ سوجھا تو ایک قبر سے لپٹ کر رونے گیا۔ ایک سپاہی نے ڈپٹ کر پوچھا کہ یہاں کیا کر رہے تو اس نے کہا والد کی قبر پر فاتحہ پڑھ رہا ہوں۔ سپاہی نے نشان دہی کی کہ قبر تو بہت چھوٹی ہے، کسی آٹھ نو سال کے بچے کی لگتی ہے تو چرسی کا جواب آج تک تاریح نے محفوظ رکھا ہے کہ میرے والد کا بچپن میں ہی انتقال ہو گیا تھا۔

خواجہ عبدالرحیم استعداد والے شخص تھے۔ آئی سی ایس افسر ہونا ان کی لیاقت کی مبینہ دلیل ہے۔ عین ممکن ہے کہ چودھری رحمت علی نے انہی کے توسط سے لفظ پاکستان سنا ہو مگر یہ تمام زبانی باتیں ہیں۔ ان کو کسی بھی صورت میں استناد کا درجہ نہیں دیا سکتا۔ تائید میں لکھی گئی دونوں مذکورہ بالا کتب کی اشاعت اکیسویں صدی میں ہوئی ہے ۔ 1997 میں خواجہ عبدالرحیم کے بیٹے کا گورنر پنجاب ہونا بھی اسی سلسلے کی ایک طاقت ور کڑی ہے۔ یہ الگ بات غالباً فرمائش پہ تاریخ کا قیمہ کرتے ہوئے مصنفین کرام نے اس نکتے پر غور نہ کیا کہ گوگل جیسے ” علامہ کل ” کا دور دورہ ہو گا اور ایک کلک پر سارے تاریخی جھول اور لیپا پوتیاں سامنے آ جائیں گی۔ اور یہ بات بھی مد نظر رہے کہ خواجہ عبدالرحیم کی بابت 1932 کا دعویٰ کیا جاتا ہے کہ لفظ پاکستان انہوں نے اولف کیرو کی کتاب سے اخذ کر کے چودھری رحمت علی کے کانوں میں ڈالا۔ لہذا اس تمام معاملے کی مکمل تحقیق پیش کر دی جاتی ہے۔

اب آتے ہیں تخلیق پاکستان کے دوسرے دعویٰ دار چودھری رحمت علی کی طرف۔ دوسرے دونوں دعوے داروں کی نسبت چودھری رحمت علی کے نام بحثیت خالق ِ لفظِ پاکستان زیادہ گونجتا رہا۔ اس کی دوسری وجہ ان کی پمفلٹ ناؤ آر نیور یقینا ہو گا مگر پہلی بڑی وجہ ایک بڑے برصغیری قبیلے کا فرد ہونا ہے۔ چودھری رحمت علی 16نومبر1897کو پنجاب کے ضلع ہوشیار پور میں پیدا ہوئے۔میٹرک کی تعلیم اینگلو سنسکرت ہائی اسکول جالندھر سے حاصل کرنے کے بعد 1918میں لاہور اسلامیہ کالج سے بی اے کیا۔ محمد دین فوق کے اخبار کشمیر گزٹ میں اسسٹنٹ ایڈیٹر کی حیثیت سے اپنے پیشہ ورانہ کیرئیر کا آغاز کیا۔ 1928ء میں ایچی سن کالج میں اتالیق بھی مقرر ہوئے۔ 1930 کے اواخر میں انگلستان چلے گئے اور جنوری 1931ء میں انھوں نے کیمبرج کے کالج ایمنویل میں شعبہ قانون میں اعلٰی تعلیم کے لیے داخلہ لیا۔ کیمبرج اور ڈبلن یونیورسٹیوں سے قانون اور سیاست میں ڈگریاں حاصل کیں۔

دوسری گول میز کانفرنس کے موقع پر اپنا مشہور پمفلٹ Now or Never”۔”اب یا کبھی نہیں ”شائع کیا جس میں لفظ” پاک ستان” استعمال کیا گیا۔ اسی پمفلٹ کی بنیاد پر رحمت علی لفظ پاکستان کی تخلیق کے دعویٰ دار ہیں۔ اس کتا اس کے بعد برصغیر کے طلبہ پر مشتمل ایک تنظیم پاکستان نیشنل لبریشن موومنٹ کے نام سے قائم کی۔ انہوں نے پاک ستان، بنگلستان اور عثمانستان کے نام سے تین الگ مسلمان ممالک کا نقشا بھی پیش کیا۔ ان کے نقشے والے پاک ستان میں کشمیر، پنجاب دہلی سمیت، سرحد، بلوچستان اور سندھ شامل تھے۔ جبکہ بنگلستان میں بنگال، بہار اور آسام کے علاقے تھے اس کے علاوہ ریاست دکن کو عثمانستان کا نام دیا۔ انہوں نے انگلستان میں رہ کر قیام پاکستان کے لیے بہت دوڑ دھوپ کی اور اپنے مقصد کے ابلاغ کے لیے پمفلٹس کی تقسیم کا مہذب راستا اختیار کیا۔ رحمت علی قرارداد لاہور کے تاریخی جلسے کا حصہ نہیں تھے۔ پاکستان کا قیام ان کے نقشے کے مطابق نہ ہو سکا تھا لہذا تین بڑے ممالک کی جگہ ایک چھوٹا سا پاکستان لینے پر جناح پر برہم تھے اور انہیں قائد اعظم کی بہ جائے مشہور نارویجن غدار ابراہام قوئزلنگ کے نام پر قوئزلنگ اعظم کہتے تھے۔

یاد رہے کہ قوئزلنگ نے اپنی قوم کا ساتھ دینے کی بجائے نازیوں کا ساتھ دیا اور نازیوں کا نمائندہ بن کر اپنی قوم پر حکمرانی کی۔ قیام پاکستان کے بعد رحمت علی دو مرتبہ پاکستان آئے مگر نامساعد حالات کی وجہ سے واپس انگلستان جا کر رہنے کو ترجیح دی۔ تین ممالک کی بہ جائے ایک چھوٹا سا پاکستان حاصل کر لینا ان کے خواب کی تعبیر نہ تھا اور وہ اس پر نہایت دلبرداشتہ تھے۔انگلستان میں آپ 114 ہیری ہٹن روڈ پر رہائش پذیر تھے۔ زندگی کے آخری ایام کس مہ پرسی میں گزرے۔ 3فروری1951کو ایولائن نرسنگ ہوم میں وفات پائی۔ تکلیف دہ امر یہ ہے کہ 17 روز تک کولڈ اسٹوریج میں ان کا بے جان لاشہ دیار غیر میں لاوارث پڑا رہا۔ رکھ لی مرے خدا نے مری بے کسی کی شرم کا معاملہ بھی یوں ہوا کہ اٹھارہویں روز پاکستانیوں کی بہ جائے دو مصری طلبہ نے 20 فروری، 1951ء کوان کی تکفین کر دی۔ تکفین و تدفین کے دو سو پونڈ کا قرض تحریک پاکستان کے اس رہنما کی لاش پر رہا اور انہیں کیمبرج کے قبرستان کی قبر نمبر بی – 8330 میں لا وارث کے طور پر امانتاً دفن کر دیا گیا۔

حقیقت:

یہ ناقابل تردید دستاویزی حقیقت ہے کہ 28 جنوری 1933ء کو 3 ہمبر اسٹون روڈ، کیمبرج سے شائع ہونے والے پمفلٹ میں چودھری رحمت علی نے پاک ستان کا لفظ استعمال کیا تھا۔ اسی بنیاد رحمت علی کو لفظ پاکستان کی تخلیق کاری کا دعوی تھا۔ اب یہ لفظ خود ان کی اپنی ذہنی اختراع تھا یا خواجہ عبدالرحیم نے ان کے کان میں ڈالا، دستاویزی ثبوت بہر حال چودھری رحمت علی کے حق میں ہے۔ اس سلسلے میں دو پہلو نہایت قابل اعتنا ہیں۔ چودھری رحمت علی نے پاکستان کی بہ جائے پاک ستان کا لفظ پیش کیا تھا اور دوسرا پہلو یہ کہ لفظ پاک ستان کی پیشکاری میں محمد اسلم خان خٹک صاحبزاد ہ شیخ محمد صادق منگزول، اور عنایت علی خان بھی برابر کے شریک تھے کیوں کہ پمفلٹ ان چاروں کے دستخطوں سے جاری ہوا تھا۔ لفظ پاک ستان کے کریڈٹ سے دیگر تینوں اشخاص کو محروم رکھنا تاریخی خیانت ہو گی۔ چودھری رحمت علی پمفلٹ ناؤ آر نیور کے علاوہ ڈیوائن گائیڈنس کے بھی مصنف ہیں۔

لفظ پاکستان کی تخلیق کے تیسرے دعویٰ دار کا نام غلام حسن شاہ کاظمی ہے۔ سید غلام حسن کاظمی کا تعلق کشمیر کی سرزمین سے تھا۔غلام حسن کاظمی 24 ستمبر 1905ء کو طوری شریف ضلع ایبٹ آباد میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم بارہ مولا سے حاصل کرنے کے بعد مزید تعلیم کے لیے سید غلام حسن شاہ کاظمی لاہور چلے گئے۔ لاہور میں اپنے ماموں سید لعل حسین کاظمی کے پاس قیام پذیر ہوئے۔سید لعل حسین کاظمی انقلابی فطرت کے مالک تھے۔ سرکاری ملازم ہونے کے باوجود انقلابی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے اور اسی بنیاد پر ہزارہ بدر کر دیے گئے تھے۔ ان کا جنوں فارغ نہ بیٹھا اور لاہور جا کر مولانا ظفر علی خان کے مشہور اخبار زمیندار سے وابستہ ہوگئے۔ حکومت کے خلاف سچ لکھنے پر لعل حسن کاظمی کو جیل ہوئی تو مولانا ظفر علی خان نے سید غلام حسن شاہ کاظمی کو زمیندار کی مجلس ادارت میں شامل کرلیا۔بھانجا بھی ماموں کی روش پر قائم رہا۔ افغانستان میں انگریزوں کی پالیسیوں کے حوالے سے ایک اداریہ تحریر کیا اور حکومتِ وقت پر سخت تنقید کی۔ حکومت نے غلام حسن شاہ کاظمی کو بھی گرفتار کرلیا اور 2 سال قید بامشقت کی سزا سنائی۔1926-27 کا عرصہ مختلف جیلوں میں کاٹنے کے بعد رہائی ملی۔ رہائی کے بعد کچھ ماہ سری نگر میں ایک اخبار کی ادارت کی۔ ایک سخت اداریہ لکھنے کی پاداش میں سری نگر بھی چھوڑنا پڑا اور بمبئی کی راہ لی۔وہاں ایک ناشر مظفری اینڈ کمپنی، تاجران کتب، بھنڈی بازار کے ساتھ مل کر کام شروع کر دیا۔

مختلف تجربات کے بعد ان کے دل میں اپنا ہفت روزہ یا ماہنامہ نکالنے کی جوت بھی تھی اور سری نگر یا ایبٹ آباد دو الگ ترجیحات بھی تھیں۔ سری نگر کا آپشن اس لیے ترک کرنا پڑا کہ مہاراجہ نے پہلے بھی ان پر پابندی لگائی تھی۔ ان ایبٹ آباد ہی بچتا تھا انہوں نے یکم جولائی 1928ء کو اپنے ایک تعلق دار عزیز چشتی کے توسط سے ایبٹ آباد سے پاکستان نام کے ایک ہفت روزہ اخبار کے اجراء کے لیے ڈیکلئیریشن کی درخواست دی۔ درخواست ڈپٹی کمشنر ہزارہ نے مسترد کرتے ہوئے بذیل ریمارکس کے ساتھ واپس کر دی۔

’درخواست گزار کو مطلع کیا جاتا ہے کہ یہ مسئلہ ابھی مزید تفتیش اور تحقیق کا متقاضی ہے۔ جونہی اس درخواست پر کوئی فیصلہ ہوا، درخواست گزار کو مطلع کردیا جائے گا۔‘

21 مئی 1929ء کو غلام حسن شاہ کے بھائی سید میرن شاہ نے ایک مکتوب کے ذریعے غلام حسن شاہ کو مطلع کر دیا کہ پاکستان اخبار کے اجرا کی منظوری نہیں مل سکی۔ مایوس ہونے کی بہ جائے غلام حسن کاظمی نے ڈیکلئریشن کے لیے کوشش جاری رکھی۔ 1935ء میں انڈیا ایکٹ کے نفاذ کے ایک نئی امید کے ساتھ انہوں نے بعد ایک مرتبہ پھر ہفت روزہ پاکستان کے اجراء کی درخواست داخل کردی۔ اس مرتبہ وہ کامیاب رہے اور یوں یکم مئی 1936ء کو ایبٹ آباد سے ہفت روزہ پاکستان کی اشاعت کا آغاز ہوگیا۔ہفت روزہ پاکستان نے بہت کم زندگی پائی۔ دو سال بعد اس اخبار کو وزیر اعلی سرحد ڈاکٹر خان نے بند کر دیا۔ آخر پر مظفرآباد کے ایک نواحی موضع ٹھنگر شریف میں جابسے اور تصنیف و تالیف میں جت گئے۔ ہندوستان بھر کے چوٹی کے ہم عصر مشاہیر کے ساتھ آپ کا مراسلت کا نہایت توانا سلسلہ تھا۔ بہت سی زبانوں پر عبور رکھنے کے علاوہ آپ نے متفرق و متنوع موضوعات پر بہت سی کتب بھی لکھیں اور 14 ستمبر 1984ء کو انتقال کیا اور ٹھنگر شریف میں ہی دفن ہوئے۔

حقیقیت:

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا لفظ سب سے پہلے غلام حسن شاہ کاظمی نے ہی استعمال کیا۔ اگرچہ یہ لفظ ایک ہفت روزے کے لیے استعمال کیا گیا تھا اور بعض محققین کے نزدیک اغلب امکان اس بات کا بھی ہے کہ چودھری رحمت علی نے خواجہ عبدالرحیم سے سننے کی بہ جائے غلام حسن شاہ کاظمی یا ان کے کسی عزیز کے توسط سے سنا اور اسے پانچ سا ل بعد اپنے پمفلٹ کا حصہ بنایا کیونکہ اس عرصے میں چودھری رحمت علی بھی ہندوستان میں ہی مقیم تھے۔ یہ امکان قرین قیاس نہیں لگتا کیوں کہ چودھری رحمت علی کا ایبٹ آباد آنے کا کوئی ثبوت نہیں ملتا اور اس سے بھی بڑھ یا توانا اور ناقابل تردید حقیقت اپنی جگہ موجود رہتی ہے کہ چودھری رحمت علی نے سید غلام حسن کاظمی کے پانچ سال بعد بھی اپنے پمفلٹ میں لفظ پاکستان PAKISTAN نہیں بل کہ لفظ پاک ستان PAKSTAN ٓاستعمال کیاتھا۔ ان کا پمفلٹ آج بھی موجود ہے اور سرکاری ریکارڈ کا حصہ ہے۔ اسی طرح میرن شاہ 21 مئی 1929 کا خط آج بھی موجود ہے جو واضح کر دیتا ہے کہ چودھری رحمت علی کے پاک ستان کے مقابلے میں سید غلام حسن شاہ کاظمی نے پاکستان کا لفظ پانچ سال پہلے تخلیق اور پیش کیا تھا۔

تصویری ریکارڈ اور ثبوت پیش خدمت ہیں۔ ثبوت ہائے متونی بھی موجود ہیں۔ کسی کو اگر معلومات درکار ہوں ہوں تو رابطہ کر سکتا ہے۔