141

مظفرآباد: عوامی تحفظات دور کیے بغیر کوہالہ پروجیکٹ پر کام شروع

مظفرآباد (عبدالحکیم کشمیری ) طاقتور اداروں نے آزادکشمیر مظفرآباد کے لوگوں کے تحفظات دور کے بغیر کو ہالہ پراجیکٹ پر کام شروع کردیا مظفرآباد شہر ایک اور دریا سے محروم ہو جائے گا۔

دریائے جہلم کا رخ تبدیل کرنا شہریان مظفرآباد کے ساتھ دشمنی کے مترادف ہو گا۔ کوہالہ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کا معاملہ عدالت العظمیٰ میں زیر کار ہے جس دوران پراجیکٹ پر کسی قسم کی پیش رفت آزاد کشمیر کی عدلیہ، مقننہ اور یہاں کے عوام کی توہین سمجھی جائے گی۔ حکومت اور واپڈا نے تاحال عدالت العالیہ کے ایک بھی حکم پر عملدرآمد نہیں کیا جو مقتدر طبقات کے نزدیک عدلیہ کی حیثیت کو واضح کرتا ہے۔

دریا بچاؤ کمیٹی نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ اور کوہالہ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے تمام معاملات سے مکمل طور پر آگاہ ہے۔ کشمیریوں کے مستقبل کو بعض لوگوں کی ذاتی طمع کے لیے کسی دوسری قوم کے پاس گروی رکھنے نہیں دیا جائے گا۔

ان خیالات کا اظہار آج دریا بچاؤ کمیٹی کے نمائندہ اجلاس میں امجد علی خان ایڈووکیٹ، شوکت نواز میر، میر افضال سلہریا، شاہد اعوان، ذوالقرنین نقوی ایڈووکیٹ، واثق نذیر، عمر خان، زاہد کاظمی, شبیر شاہ، فیصل جمیل کاشمیری، عمران میر، عمران پنڈت اور دیگر نے کیا۔

شرکاء اجلاس نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ باوجود عدالتی احکامات کے واپڈا کی جانب سے مظفرآباد میں ایک بھی پراجیکٹ شروع نہیں کیا گیا حتیٰ کہ حکومت آزاد جموں و کشمیر کے ساتھ بجلی منصوبوں کا کوئی معاہدہ کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی گئی جو اس حقیقت کا عملی اظہار ہے کہ واپڈا اور متعلقہ ادارے حکومت آزاد کشمیر اور عدلیہ کو ذرہ برابر اہمیت دینے کو تیار نہیں۔

اداروں کی جانب سے اس نوع کی لاقانونیت خطرناک مضمرات کی حامل ہو سکتی ہے جس پر حکومتی حلقوں کو سنجیدگی دکھانے کی ضرورت ہے۔ دریا بچاؤ کمیٹی دریائے نیلم اور دریائے جہلم سے جڑے تمام معاملات پر پہلے دن سے متفکر ہے۔ شہریان مظفرآباد کے حقوق پر سودا بازی کرنے والوں کو معاف نہیں کیا جائے گا۔