241

یہ دستور زبان بندی – جلال الدین مغل

نا معلوم افراد نے مظفرآباد میں صحافی دوست عبدالحکیم کشمیری کا راستہ روک کر مشورہ دیا ہے کہ روش بدل لو، ورنہ اٹھا لیے جاو گے یا غائب ہو جاو گے۔ آزاد جموں و کشمیر نامی اس خطے میں بس کچھ گنی چنی زبانیں اور قلم باقی ہیں جو بے لاگ ہیں- باقی ‘مُثبت صحافت’ کی مصلحت کا شکار ہیں یا پھر سرکاری اور سیاسی پریس ریلیزوں کی ترسیل کو صحافت کہ معراج جان کر اپنی ‘پیشہ ورانہ’ خدمات کی انجام دہی میں کوہلو کے بیل کی طرح جُتے ہیں۔

جو عبدالحکیم کشمیری جیسے بے لاگ ہیں ان کی زباں بندی کے متنوع حربے اختیار ہو رہے ہیں- سائبر کرائم کی ایف آئی آر، ہتک عزت اور توہین عدالت کے نوٹس وغیرہ تو چلو پھر کہیں نہ کہیں آئین اور قانون کے دائرے میں ہیں- مگر یہ راستہ روکنا، ٹیلی فون پر دھمکیاں دینا اورہراساں کرنا بھلا کون سا قانون ہے اور کس ریاست کا آئین؟

طارق نقاش توہین عدالت کا کیس بھگت رہے ہیں۔

امیرالدین مغل کو ایک عرصے تک چیک پوسٹوں پر روک کر ہراساں کیا گیا۔

عبدالحکیم کشمیری کو راستہ روک کر دھمکی دی گئی۔

خود مجھے گذشتہ ماہ ایک شناسا مقتدر شخصیت اپنا ‘خصوصی خیال’ رکھنے کا مشورہ دے چکے ہیں۔

اس خطے میں ویسے ہی بڑی محتاط صحافت کرنا پڑتی ہے اور کئی ‘بڑی’ خبروں کوحفظ ماتقدم کے طور پردانستہ نظرانداز کرنا پڑتا ہے- قومی اخبارات اور ٹی وی چینل ویسے ہی آزاد کشمیر کی خبروں کو بہت ہی کم ترجیح دیتے ہیں- ڈاک ایڈیشن میں جو چھپتا ہے وہ کوہالہ، آزاد پتن، دھان گلی اورمنگلا کے اس پار ہی پڑھا جاتا ہے۔ ٹی وی چیلنز وہی ٹکر چلاتے ہیں جو راولپنڈی سے جاری ہوتا ہے۔

بس چند ہی لوگ ہیں جو سوشل میڈیا یا بین الاقوامی میڈیا کو استعمال کر کے دلیل وبراہین یا شواہد کی بنیاد پر عوامی معاملات پر ہوئی سودہ بازیوں کو ریکارڈ اور تاریخ کا حصہ بناتے ہیں۔ انہیں بھی ڈرانا دھمکانا، راستہ روکنا اور ہراساں کرنا کوئی بہت اچھا شگون نہیں۔

اب تو بین الاقوامی میڈیا کے پاکستان میں موجود آوٹ لیٹس بھی بتدریج ‘مثبت صحافت’ کی طرف لوٹ رہے ہیں- ان اداروں سے وابستہ صحافی دوستوں کے ساتھ بات چیت یا اس عرصے میں شائع ہونے والی ان کی کہانیوں سے کم از کم یہی تاثرملتا ہے۔

زباں بندی کا یہ چلن خطے کو پریشر ککر میں بدل رہا ہے۔ سماجی گھٹن مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ریاستی بیانیہ نوجوانوں کے دل و دماغ میں جبراً ٹھونسا جا رہا ہے۔ کوئی بھی سوچنے سمجھنے والا دماغ زبردستی ٹھونسی گئی کسی چیز کو قبول نہیں کرتا، بھلے وہ کوئی خوشبو ہی کیوں نہ ہو۔ وقتی خاموشی دل و دماغ میں کئی ابہام پیدا کرتی ہے اور اس کے نتیجے میں گھٹن بتدریج بڑھتی چلی جاتی ہے۔ گھٹن کے نتیجے میں دباو یا پریشرجنم لیتا ہے۔ پریشر ضرورت سے زیادہ ہو جائے تو دھماکہ ہو جاتا ہے اور پھر دال، رائتہ سب پھیل جاتے ہیں۔

چند سال قبل صحافی دوست حارث قدیر کے اخبار روزنامہ مجادلہ کی بندش پر ایک تبصرے میں لکھا تھا کہ:
‘سماجی ماحول میں موجود اس گھٹن کو دور کرنے کے لیے ضروری ہے کہ یہاں کے نوجوانوں کو کھل کر اپنی بات کرنے کا موقع دیا جائے۔

ریاست اور سیاست دونوں ان نوجوانوں کو سننے کا حوصلہ پیدا کریں۔ ان کی استدلال کو تسلیم کیا جائے یا پھر دلائل سے قائل کرنے کا اہتمام کیا جائے نہ کہ طاقت، دھونس اور دھکمی سے دبانے کا انتظام۔

کیونکہ طاقت کے استعمال سے ہوئے ہر عمل کا ایک رد عمل ہوتا ہے۔
اس کے بالکل برابر، مگر مخالف سمت میں۔
یہ قانون قدرت بھی ہے اور سائنس کا اصول بھی۔’

فیس بک پوسٹ