Abdul Hakeem Kashmiri 303

سی پیک کیلئے تقسیم جموں کشمیر؟

‎ریاست جموں کشمیر کے حوالے سے 5اگست 2019؁ء کے بعد بھارتی اقدامات اور اس کے ردعمل میں پاکستان اور آزادکشمیر کے حکمرانوں‘سیاستدانوں اور فیصلہ ساز قوتوں کا طرز عمل بتاتا ہے کہ تحریک آزادی کے بیس کیمپ کے دعوے دارمظفرآباد کے سیاست دان مستقبل میں اپنے شناختی کارڈ پر جو پتہ لکھیں گے وہ صوبہ ہزارہ ضلع مانسہرہ تحصیل مظفرآباد ہوگا۔5اگست 2019کے بعد آزادکشمیر کے باخبر سیاستدانوں سے گفت و شنید بتا رہی ہے کہ کشمیر کو تقسیم کرنے کا فیصلہ ہو چکا ہے۔فیصلہ ساز قوتوں نے اس فیصلے میں ریاست جموں کشمیر کے لوگوں کو رسماً بھی شامل کرنا مناسب نہیں سمجھا، قابل ذکر سیاست دان جنہیں اطلاع دینا ضروری تھا انہیں بھی صاف اور واضح پیغام دیا گیا کہ اس کی مخالفت کی اجازت نہیں۔ چیدہ چیدہ واقعات اور امور اس منظر کی عکاسی کرتے ہیں۔مثلاًکچھ لوگ شاید وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان کے اس بیان کو ایک مہم جوئی سمجھتے ہوں یا اسے کوئی اور رنگ دے رہے ہوں لیکن سچ یہ ہے وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر جانتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے حتمی فیصلہ ہو چکا ہے۔آخر کیا وجہ ہے انتہائی ذمہ دار عہدے پر بیٹھ کر فاروق حیدر کو یہ کہنا پڑا کہ میں آخری وزیراعظم ہوں ۔

کشمیر بنے گاپاکستان کا نعرہ لگانے والی جماعت مسلم کانفرنس کے قائد سردار عتیق احمد خان ایک دم رائے شماری کے نظریے پر آجاتے ہیں اپنے دوستوں کارکنوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ رائے شماری کا مطالبہ کریں۔صدر آزادکشمیر سردار مسعود خان،سپیکر اسمبلی شاہ غلام قادرکا یہ کہنا کہ پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس اہل جموں کشمیر کے قتل عام میں بھارت کے ساتھ برابر کے شریک ہیں‘ارباب اختیار ہندوستان نواز لیڈر شپ کا مثبت انداز میں ذکر نہ کریں۔شاہ غلام قادر نے اس کے لئے لفظ glorifyاستعمال کیا ہے۔سردار مسعود خان کے گزشتہ ہفتے کے بیانات بھارت نواز کشمیری لیڈر شپ کے خلاف ہیں اور ان کا موقف 13جنوری 2020کو کل جماعتی کانفرنس کے اعلامیے کے متضاد ہے۔کل جماعتی کانفرنس میں قابل ذکر بات یہی تھی کہ منقسم ریاست جموں وکشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں،مکتبہ فکر اور لوگوں کے درمیان رابطوں کو بحال کیا جائے گا تاکہ ریاست جموں کشمیر کو مستقل تقسیم سے بچایا جا سکے۔سردار مسعود”بااختیارنمائندہ“ ہیں ان کی طرف سے روایتی ہٹ دھرمی کی ترجمانی مستقل تقسیم کشمیر کی آئینہ دار ہے ۔

دسمبر 2019میں عسکری پس منظر کے حامل آزادکشمیر کے سابق صدر سردار انور خان سے ایک طویل نشست ہوئی‘انتہائی محتاط گفت گو کے باوجود سردار انور خان نے یہ تسلیم کیا کہ کشمیر کے بارے میں غیر مقبول فیصلہ کیا جا رہا ہے۔ 18جنوری 2019کو حریت کانفرنس آزادکشمیر چیپٹر کے اہم رہنما یوسف نسیم نے جو منظر کشی کی ہے وہ دل ہلا دینے والی ہے۔یوسف نسیم کا کہنا تھا ہم حریت والوں کے ہاتھ پاؤں بندھے ہیں۔ہم سچ بولیں گے تو کھائیں گے کیا؟ہم مجبور ہیں،ہمیں بے غیرت بنا دیا گیا ہے۔درج بالا حقائق کی روشنی میں اگر دیکھا جائے تو کشمیر کے حوالے سے ریاست جموں کشمیر کی دستیاب لیڈر شپ آج ایسی بند گلی میں دھکیل دی گئی ہے جہاں سرینگر کی عملی حمایت غداری ہے۔اس قدر بے بسی کیوں؟۔5اگست 2019کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی گئی‘اس کے ردعمل میں آزادکشمیر کے سیاست دانوں کے پاس تند و تیز بیانات کے علاوہ کوئی آپشن نہیں تھا،آزادکشمیر کے سیاستدانوں کو اس کی بھی اجازت نہیں ملی کہ وہ ایل او سی کی جانب کوئی بڑا مارچ کر سکیں۔مشکل کے ان لمحات میں آزادکشمیر کے سیاستدان عملی طور پر طاقت ور ارباب اختیار کے سامنے سرنگوں ہو گے۔

کشمیر ناقابل تقسیم …………کوئی غیر مقبول فیصلہ تسلیم نہیں کریں گے…………کشمیر کے چپے چپے کی حفاظت کریں گے اور دیگر اس طرح کے بیانات اس خطہ کے لوگوں کے اجتماعی ضمیر کو مطمئن کرنے کیلئے متفقہ اور طے شدہ حکمت عملی ہے۔5اگست 2019کو ریاست جموں کشمیر کے بھارت کے زیر قبضہ حصے کی خصوصی حیثیت ختم کی گئی اس سے پہلے 2009میں گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت ختم کر نے کی کوشش کی گئی اور اب آزادکشمیر کی خصوصی حیثیت سوالیہ نشان ہے؟کیا سرینگر سے دستبرداری کے بعد آزادکشمیر کے سیاستدان اور لوگ اپنی خصوصی حیثیت کو بحال رکھنے میں کامیاب ہوں گے؟کیا دھواں دار بیانات کی ماسٹراور بڑے بڑے القاب کی حامل ہماری دستیاب لیڈر شپ ہمیشہ کی طرح ایک شٹ اپ کال کی مار ٹھہرے گی؟کیا انہیں اس کا ادراک ہے کہ مستقل کا منظر نامہ کس قدر خوفناک ہے۔حقیقت ہماری دستیاب لیڈر شپ کا مزاج اس خاتون کی طرح ہے جسے پوچھا گیا کہ اگر کوئی تمہارے ساتھ زبردستی نازیبا سلوک کرے تو تم کیا کرو گی تو اس کا جواب تھا کہ میں جبر کے ان لمحات سے لطف اٹھاؤں گی۔
‎منقسم جموں کشمیر کی لیڈر شپ نے ہمیشہ اپنے اقتدار کیلئے حقائق سے پردہ پوشی کی‘شیخ عبداللہ سے لے کر فاروق حیدر تک آر پار کہ تمام الحاق نواز سیاست دانوں نے مسئلہ کشمیر کو اپنے اقتدار کیلئے استعمال کیا اور خود ہمیشہ بطور ٹشو استعمال ہوے ۔

سات دہائیوں کی تاریخ آزادکشمیر میں انتہا پسند مذہبی گروہوں کی آبیاری کی گئی،کبھی ایک مسلک کو آگے کیا گیا کبھی دوسرے کو‘قومیتوں کے مقابلے میں قومیتوں کو کھڑا کیا گیا۔ ترتیب دئیے گئے بیانیے کی مخالفت کرنے والوں کو نشان عبرت بنایا گیا،خود ساختہ حب الوطنی کی آڑ میں ذاتی مفاد کی تکمیل کی گئی اور اس عاقبت نااندیش روش کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل اور خرابیوں کو دشمن کی سازش قرار دیا گیا،ہمارے سیاستدانوں نے ہمیشہ اس طرح کے مقاصد کیلئے اپنے کندھے پیش کیے۔ دائرے کی قیدی من پسند حکمت عملی کے خوفناک نتائج جہاں تقسیم کشمیر کی حتمی شکل میں سامنے آرہے ہیں وہاں ملک پاکستان کیلئے مستقبل میں خطرناک مسائل جنم لیں گے ……یہ وقت ہے زمینی حقائق کا خندہ پیشانی سے سامنا کیا جائے …………مسئلہ جموں کشمیر کے حوالے سے مخصوص سوچ سے باہر نکل کر تمام تر فریقین کیلئے قابل قبول اقدامات اگر نہ اٹھائے گئے تو مستقبل میں اس کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ناقابل قبول اقدامات کو بناوٹی جملوں اور گھسے پٹے بیانات سے سہارا دینے سے مسائل حل نہیں ہوں گے …………ایسے حالات میں جب بے بسی کھل کر سامنے آچکی ہے،سیاسی اور سفارتی جدوجہد بھی طے شدہ بیانیے کا بھرم رکھنے کیلئے کی جا رہی ہے۔لو اور دو کے معاملے میں بھی بات چیت قابل پذیرائی نہیں جو موجود ہے اسے بچانا بھی مسئلہ بنا ہوا ہے ۔ متبادل راستہ ایک ہی ہے کہ اہل جموں کشمیر پر اعتماد کیا جائے ……انہیں اپنا مقدمہ دنیا کے سامنے رکھنے کیلئے آگے کیا جائے۔

آئیے دیکھتے ہیں جو منظر نامہ تشکیل دیا جا رہا ہے اس کے نتائج کس قدر خوفناک ہوں گے۔ہمارے ہاں یہ خیال ہے کہ مسئلہ کشمیر سری نگر کی وجہ سے پیدا ہوا،پاکستان ہندوستان دونوں کی خواہش تھی کشمیر بالخصوص سرینگرجوجموں کشمیر کا دل ہے ان کے حصے میں آئے۔میں ذاتی طور پر اسے درست نہیں سمجھتا‘میرے نزدیک 1947میں مسئلہ جموں کشمیر گلگت بلتستان کی وجہ سے پیدا ہوا اور آج بھی اصل مسئلہ گلگت بلتستان ہے۔سری نگر اور مظفرآباد نہیں۔لیکن یہ ذہن میں رہے کہ گلگت بلتستان کے طویل المدت مفادات کا تعلق سرینگر اور مظفرآباد سے جڑا ہوا ہے۔سرینگر سے دست برداری اور مظفرآباد کے ادغام کے بعد میدان جنگ گلگت بلتستان میں منتقل ہو جائے گا۔اس میدان جنگ کے بڑے کھلاڑی چین،امریکہ،ہندوستان اور روس ہوں گے اور ممکن ہے اقتصادی حالات کی وجہ سے ماضی کی طرح کے کچھ اور ایسے فیصلے تسلیم کرنا مجبوری بن جائے جن میں خواہش کے مطابق مفادات کا تحفظ نہ ہو۔

‎1947میں تو کمزور ہندوستان سامنے تھا،پھر بھی اقوام متحدہ کی قراردادوں میں کشمیر سے تمام فوج نکالنے پر رضا مندی اختیار کرنا پڑی۔آج ہندوستان پہلے سے کافی طاقت ور ہے اور اس کے ساتھ ساتھ جب دیگر طاقتوں کے مفادات کا کھیل سامنے آئے گا تو یہ جنگ پہلے سے زیادہ مشکل ہو جائے گی۔موجودہ جیو پولیٹیکل صورتحال کے پس منظر کی روشنی میں دیکھا جائے تو مستقبل کا منظر نامہ کچھ یوں بنتا ہے۔
‎26مارچ 1935 گلگت کے شمال اور شمال مغرب کے علاقے چلاس گوپس،یاسین،اشکومن،دارل اور تانگیر پر مشتمل 14سو 80مربع میل علاقہ برطانیہ نے 60سال کیلئے مہاراجہ ہری سنگھ سے لیز پر لیا۔ایک ایسی عالمی طاقت جس کی سلطنت اس وقت کم و بیش 3کروڑ 30لاکھ مربع کلو میٹر پر محیط تھی۔آخر اسے گلگت بلتستان کا کچھ حصہ ساٹھ سال کے لئے لیز پر لینے کی ضرورت کیوں پڑی؟تاریخ کا علم رکھنے والے جانتے ہیں کہ برطانیہ اور سوویت یونین (موجودہ روس)کے درمیان نو آبادیات کے حوالے سے ٹکراؤ کی کیفیت تھی‘اسی لئے برطانیہ نے سوویت یونین کا راستہ روکنے کیلئے یہ علاقہ ایک معاہدے کے تحت اپنی براہ راست عملداری میں شامل کیا۔

گلگت بلتستان وہ چوراہا ہے جس کی جغرافیائی اہمیت کا ہماری دستیاب لیڈر شپ کو کبھی احساس نہیں ہوا یہ ایک ایسا خطہ ہے جس کے ایک طرف سنٹرل ایشیاء کے ممالک قازقستان، ازبکستان، کرغزستان، افغانستان، ترکمانستان،تاجکستان واقع ہیں‘40لاکھ مربع کلو میٹر پر محیط یہ ممالک قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں،دنیا کا 15فیصد یورینیم 5فیصد گیس،4فیصد کوئلہ اور 3فیصد تیل صرف اس چھوٹے سے خطے میں موجود ہے۔وسائل پر اختیارات کی بین الاقومی چپقلش کے تناظر میں گلگت بلتستان کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔چین کی مغربی ایشیاء یا مشرق وسطیٰ کے ممالک تک رسائی کا مختصرترین راستہ گلگت بلتستان کے مرہون منت ہے‘مشرق وسطیٰ کے ممالک اردن،ایران،ترکی،سعودی عرب، یمن، بحرین، قطر،کویت، عمان،لبنان، اسرائیل،شام، متحدہ عرب امارات،سائپرس، مصر 72لاکھ مربع کلو میٹر پر محیط ان علاقوں اور ان سے متصل جنوبی افریقہ کی منڈیوں تک شارٹ کٹ روٹ سی پیک ہے جس کی ابتداء گلگت سے ہوتی ہے۔

اس وقت چین عالمی تجارت کے لئے جو راہداری استعمال کر رہا ہے وہ شنگھائی سے آبنائے ملاکا کاسمندری علاقہ ہے جو ساوتھ چائنہ سے انڈونیشیاء سمارٹرا،جنوبی تھائی لینڈ سے ہوتا ہوا آبنائے ہرمز تک جاتا ہے‘ چین 77فیصد آئل اسی راستے سے منگواتا ہے ایک عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق چین کو سی پیک روٹ سے سالانہ 71بلین ڈالر کی بچت ہوگی‘ادارے کی رپورٹ کے مطابق شنگھائی پورٹ سے کاشغر کا سفر 5ہزار 1سو 50کلو میٹر ہے‘کاشغر سے گوادر کا فاصلہ 28سو کلو میٹر ہے جبکہ براستہ گوادر عمان کی بندرگاہ صلالہ تک یہ فاصلہ 41سو 98کلو میٹر بنتا ہے جبکہ شنگھائی آبنائے ملاکا کے روٹ کا فاصلہ 16ہزار 312کلو میٹر ہے۔اسی طرح سعودی عرب کی بندرگاہ جدہ کا فاصلہ 18ہزار 7سو 46کلو میٹر ہے جو کم ہو کر 6ہزار 7سو 39کلو میٹر رہ جائے گا۔شوائخ بندرگاہ کویت کا فاصلہ 18ہزار 2 سو 88کلو میٹر ہے جو کم ہو کر 4ہزار 5سو 45کلو میٹر رہ جائے گا۔یورپی ملک نیدر لینڈ کی بندرگاہ روٹر ڈیم کا فاصلہ 27ہزار 3سو 72کلو میٹر ہے جو کم ہو کر 15ہزار 3سو 66کلو میٹر رہ جائے گا۔

جرمنی کی بندرگاہ ہمبرگ کا فاصلہ 27ہزار 8سو 87کلو میٹر سے کم ہو کر 15ہزار 8سو 88کلو میٹر اور فرانس کی بندرگاہ لی ہاوے جس کا فاصلہ 26ہزار 8سو 69کلو میٹر ہے وہ کم ہو کر 15ہزار 8سو 83کلو میٹر رہ جائے گا۔کاشٖغر سے یہ مال براستہ گلگت سی پیک گوادر اور گوادر سے عمان،سعودیہ،کویت نیندرلینڈ،جرمنی اور فرانس تک جائے گاجس سے چین کو چالیس فٹ کے کنٹینر پر اوسطاً 13سو 57سے 18سو57 ڈالر تک سفری اخراجات میں بچت ہوگی۔گلگت کے ایک طرف چین ہے جو دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے۔پاکستان چین تجارت کا حجم کم و بیش 12ارب ڈالر کے قریب ہے جس میں پاکستان کو 10ارب ڈالر کے خسارے کا سامنا ہے۔چین اور ہندوستان کے درمیان 2018کے اعداد و شمار کے مطابق 95ارب ڈالر کی تجارت ہوتی ہے جس میں بھارت کو 53ارب ڈالر خسارے کا سامنا ہے۔چین کا بیلٹ اور روڈ منصوبے میں 65ممالک شامل ہیں جس میں جنوبی ایشیاء،مشرق وسطیٰ اور پھر وہاں سے افریقہ اور یورپ تک رسائی کیلئے واحد راہداری گلگت بلتستان ہے۔حال ہی میں چین نے امریکا سے تجارتی جنگ کے بعد ایک معاہدہ کیا ہے جس کے تحت چین امریکا سے سالانہ2سو ارب ڈالر کی اشیاء خریدے گا اس وقت امریکا چین سے سالانہ539ارب ڈالر کی اشیاء خریدتا ہے اس طرح امریکہ کو چین کے مقابلے میں 419ارب ڈالر کے خسارے کا سامنا ہے اس وقت دنیا میں دفاع،ٹیکنالوجی اور مارکیٹوں پر غلبے کی دوڑ ہے۔

قوموں کے درمیان اب معاشی جنگوں کا دور ہے اور ہم ایک ایسی جگہ موجود ہیں جہاں سے چین کا 5ٹریلین ڈالر کے قریب مال پوری دنیا میں جائے گا۔کیا ریاست جموں کشمیر کو تقسیم کر کے گلگت بلتستان کو عالمی طاقتوں سے بچایا جا سکے گا؟کیا تقسیم کشمیر اور گلگت بلتستان پر پاکستان کی مستقل عملداری کے حوالے سے ہندوستان سے اگر کوئی معاہدہ ہوا ہے وہ اس کی پاسداری کرے گا؟کیا ارباب اختیار یہ نہیں سمجھتے کہ چین کی بڑھتی ہوئی معیشت کا راستہ روکنے کیلئے امریکا گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کا فائدہ نہیں اٹھائے گا؟عالمی طاقتوں کے ان مفادات کا مقابلہ پاکستان اور اہل جموں کشمیر مل کر ہی کر سکتے ہیں۔گلگت بلتستان اور آزادکشمیر کی لیڈر شپ کو اس کا ادراک کرنا ہوگا کہ وہ معاشی سرگرمیوں کے چوراہے میں بیٹھے ہوئے ہیں اگر انہوں نے کوئی کمزوری دکھائی تو نئی نسل انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی اور بالخصوص پاکستانی ارباب اختیار کو اپنی مجبوریاں بالائے طاق رکھتے ہوئے یہ ذہن میں رکھنا ہوگا کہ سری نگر سے دستبرداری گلگت بلتستان سے دستبرداری ہے۔

سی پیک کی خاطر تقسیم کشمیر کا اگر کوئی پس پردہ فیصلہ ہو چکا ہے تو اس پر نظر ثانی کی جائے۔‎کرنا پڑے گی۔ناقابل قبول اقدامات کو بناوٹی جملوں اور گھسے پٹے بیانات سے سہارا دینے سے مسائل حل نہیں ہوں گے …………ایسے حالات میں جب بے بسی کھل کر سامنے آچکی ہے،سیاسی اور سفارتی جدوجہد بھی طے شدہ بیانیے کا بھرم رکھنے کیلئے کی جا رہی ہے۔لو اور دو کے معاملے میں بھی بات چیت قابل پذیرائی نہیں جو موجود ہے اسے بچانا بھی مسئلہ بنا ہوا ہے ۔ متبادل راستہ ایک ہی ہے کہ اہل جموں کشمیر پر اعتماد کیا جائے ……انہیں اپنا مقدمہ دنیا کے سامنے رکھنے کیلئے آگے کیا جائے۔آئیے دیکھتے ہیں جو منظر نامہ تشکیل دیا جا رہا ہے اس کے نتائج کس قدر خوفناک ہوں گے۔

ہمارے ہاں یہ خیال ہے کہ مسئلہ کشمیر سری نگر کی وجہ سے پیدا ہوا،پاکستان ہندوستان دونوں کی خواہش تھی کشمیر بالخصوص سرینگرجوجموں کشمیر کا دل ہے ان کے حصے میں آئے۔میں ذاتی طور پر اسے درست نہیں سمجھتا‘میرے نزدیک 1947میں مسئلہ جموں کشمیر گلگت بلتستان کی وجہ سے پیدا ہوا اور آج بھی اصل مسئلہ گلگت بلتستان ہے۔سری نگر اور مظفرآباد نہیں۔لیکن یہ ذہن میں رہے کہ گلگت بلتستان کے طویل المدت مفادات کا تعلق سرینگر اور مظفرآباد سے جڑا ہوا ہے۔سرینگر سے دست برداری اور مظفرآباد کے ادغام کے بعد میدان جنگ گلگت بلتستان میں منتقل ہو جائے گا۔اس میدان جنگ کے بڑے کھلاڑی چین،امریکہ،ہندوستان اور روس ہوں گے اور ممکن ہے اقتصادی حالات کی وجہ سے ماضی کی طرح کے کچھ اور ایسے فیصلے تسلیم کرنا مجبوری بن جائے جن میں خواہش کے مطابق مفادات کا تحفظ نہ ہو۔

‎1947میں تو کمزور ہندوستان سامنے تھا،پھر بھی اقوام متحدہ کی قراردادوں میں کشمیر سے تمام فوج نکالنے پر رضا مندی اختیار کرنا پڑی۔آج ہندوستان پہلے سے کافی طاقت ور ہے اور اس کے ساتھ ساتھ جب دیگر طاقتوں کے مفادات کا کھیل سامنے آئے گا تو یہ جنگ پہلے سے زیادہ مشکل ہو جائے گی۔موجودہ جیو پولیٹیکل صورتحال کے پس منظر کی روشنی میں دیکھا جائے تو مستقبل کا منظر نامہ کچھ یوں بنتا ہے۔
‎26مارچ 1935 گلگت کے شمال اور شمال مغرب کے علاقے چلاس گوپس،یاسین،اشکومن،دارل اور تانگیر پر مشتمل 14سو 80مربع میل علاقہ برطانیہ نے 60سال کیلئے مہاراجہ ہری سنگھ سے لیز پر لیا۔ایک ایسی عالمی طاقت جس کی سلطنت اس وقت کم و بیش 3کروڑ 30لاکھ مربع کلو میٹر پر محیط تھی۔آخر اسے گلگت بلتستان کا کچھ حصہ ساٹھ سال کے لئے لیز پر لینے کی ضرورت کیوں پڑی؟تاریخ کا علم رکھنے والے جانتے ہیں کہ برطانیہ اور سوویت یونین (موجودہ روس)کے درمیان نو آبادیات کے حوالے سے ٹکراؤ کی کیفیت تھی‘اسی لئے برطانیہ نے سوویت یونین کا راستہ روکنے کیلئے یہ علاقہ ایک معاہدے کے تحت اپنی براہ راست عملداری میں شامل کیا۔

گلگت بلتستان وہ چوراہا ہے جس کی جغرافیائی اہمیت کا ہماری دستیاب لیڈر شپ کو کبھی احساس نہیں ہوا یہ ایک ایسا خطہ ہے جس کے ایک طرف سنٹرل ایشیاء کے ممالک قازقستان،ازبکستان،کرغزستان،افغانستان،ترکمانستان،تاجکستان واقع ہیں‘40لاکھ مربع کلو میٹر پر محیط یہ ممالک قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں،دنیا کا 15فیصد یورینیم 5فیصد گیس،4فیصد کوئلہ اور 3فیصد تیل صرف اس چھوٹے سے خطے میں موجود ہے۔وسائل پر اختیارات کی بین الاقومی چپقلش کے تناظر میں گلگت بلتستان کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

چین کی مغربی ایشیاء یا مشرق وسطیٰ کے ممالک تک رسائی کا مختصرترین راستہ گلگت بلتستان کے مرہون منت ہے‘مشرق وسطیٰ کے ممالک اردن،ایران،ترکی،سعودی عرب، یمن، بحرین، قطر، کویت،عمان،لبنان،اسرائیل،شام،متحدہ عرب امارات،سائپرس، مصر 72لاکھ مربع کلو میٹر پر محیط ان علاقوں اور ان سے متصل جنوبی افریقہ کی منڈیوں تک شارٹ کٹ روٹ سی پیک ہے جس کی ابتداء گلگت سے ہوتی ہے۔اس وقت چین عالمی تجارت کے لئے جو راہداری استعمال کر رہا ہے وہ شنگھائی سے آبنائے ملاکا کاسمندری علاقہ ہے جو ساوتھ چائنہ سے انڈونیشیاء سمارٹرا،جنوبی تھائی لینڈ سے ہوتا ہوا آبنائے ہرمز تک جاتا ہے‘ چین 77فیصد آئل اسی راستے سے منگواتا ہے ایک عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق چین کو سی پیک روٹ سے سالانہ 71بلین ڈالر کی بچت ہوگی‘ادارے کی رپورٹ کے مطابق شنگھائی پورٹ سے کاشغر کا سفر 5ہزار 1سو 50کلو میٹر ہے‘کاشغر سے گوادر کا فاصلہ 28سو کلو میٹر ہے جبکہ براستہ گوادر عمان کی بندرگاہ صلالہ تک یہ فاصلہ 41سو 98کلو میٹر بنتا ہے جبکہ شنگھائی آبنائے ملاکا کے روٹ کا فاصلہ 16ہزار 312کلو میٹر ہے۔

اسی طرح سعودی عرب کی بندرگاہ جدہ کا فاصلہ 18ہزار 7سو 46کلو میٹر ہے جو کم ہو کر 6ہزار 7سو 39کلو میٹر رہ جائے گا۔شوائخ بندرگاہ کویت کا فاصلہ 18ہزار 2 سو 88کلو میٹر ہے جو کم ہو کر 4ہزار 5سو 45کلو میٹر رہ جائے گا۔یورپی ملک نیدر لینڈ کی بندرگاہ روٹر ڈیم کا فاصلہ 27ہزار 3سو 72کلو میٹر ہے جو کم ہو کر 15ہزار 3سو 66کلو میٹر رہ جائے گا۔جرمنی کی بندرگاہ ہمبرگ کا فاصلہ 27ہزار 8سو 87کلو میٹر سے کم ہو کر 15ہزار 8سو 88کلو میٹر اور فرانس کی بندرگاہ لی ہاوے جس کا فاصلہ 26ہزار 8سو 69کلو میٹر ہے وہ کم ہو کر 15ہزار 8سو 83کلو میٹر رہ جائے گا۔کاشٖغر سے یہ مال براستہ گلگت سی پیک گوادر اور گوادر سے عمان،سعودیہ،کویت نیندرلینڈ،جرمنی اور فرانس تک جائے گاجس سے چین کو چالیس فٹ کے کنٹینر پر اوسطاً 13سو 57سے 18سو57 ڈالر تک سفری اخراجات میں بچت ہوگی۔گلگت کے ایک طرف چین ہے جو دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے۔پاکستان چین تجارت کا حجم کم و بیش 12ارب ڈالر کے قریب ہے جس میں پاکستان کو 10ارب ڈالر کے خسارے کا سامنا ہے۔چین اور ہندوستان کے درمیان 2018کے اعداد و شمار کے مطابق 95ارب ڈالر کی تجارت ہوتی ہے جس میں بھارت کو 53ارب ڈالر خسارے کا سامنا ہے۔

چین کا بیلٹ اور روڈ منصوبے میں 65ممالک شامل ہیں جس میں جنوبی ایشیاء،مشرق وسطیٰ اور پھر وہاں سے افریقہ اور یورپ تک رسائی کیلئے واحد راہداری گلگت بلتستان ہے۔حال ہی میں چین نے امریکا سے تجارتی جنگ کے بعد ایک معاہدہ کیا ہے جس کے تحت چین امریکا سے سالانہ2سو ارب ڈالر کی اشیاء خریدے گا اس وقت امریکا چین سے سالانہ539ارب ڈالر کی اشیاء خریدتا ہے اس طرح امریکہ کو چین کے مقابلے میں 419ارب ڈالر کے خسارے کا سامنا ہے اس وقت دنیا میں دفاع،ٹیکنالوجی اور مارکیٹوں پر غلبے کی دوڑ ہے۔ قوموں کے درمیان اب معاشی جنگوں کا دور ہے اور ہم ایک ایسی جگہ موجود ہیں جہاں سے چین کا 5ٹریلین ڈالر کے قریب مال پوری دنیا میں جائے گا۔کیا ریاست جموں کشمیر کو تقسیم کر کے گلگت بلتستان کو عالمی طاقتوں سے بچایا جا سکے گا؟

کیا تقسیم کشمیر اور گلگت بلتستان پر پاکستان کی مستقل عملداری کے حوالے سے ہندوستان سے اگر کوئی معاہدہ ہوا ہے وہ اس کی پاسداری کرے گا؟کیا ارباب اختیار یہ نہیں سمجھتے کہ چین کی بڑھتی ہوئی معیشت کا راستہ روکنے کیلئے امریکا گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کا فائدہ نہیں اٹھائے گا؟عالمی طاقتوں کے ان مفادات کا مقابلہ پاکستان اور اہل جموں کشمیر مل کر ہی کر سکتے ہیں۔گلگت بلتستان اور آزادکشمیر کی لیڈر شپ کو اس کا ادراک کرنا ہوگا کہ وہ معاشی سرگرمیوں کے چوراہے میں بیٹھے ہوئے ہیں اگر انہوں نے کوئی کمزوری دکھائی تو نئی نسل انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی اور بالخصوص پاکستانی ارباب اختیار کو اپنی مجبوریاں بالائے طاق رکھتے ہوئے یہ ذہن میں رکھنا ہوگا کہ سری نگر سے دستبرداری گلگت بلتستان سے دستبرداری ہے۔سی پیک کی خاطر تقسیم کشمیر کا اگر کوئی پس پردہ فیصلہ ہو چکا ہے تو اس پر نظر ثانی کی جائے۔