عورت اور سماجی رتبے کی لڑائی

پہلا طبقاتی سماج غلامانہ نظام کے طور پر سامنے آیا۔ ذہنی اور جسمانی محنت کی تقسیم نے عورت کے سماجی مرتبے کو جہاں کمتر کرنے کے لیے سازگار حالات پیدا کیے وہیں انسانی نسل کو غلام بنانے کی بنیادیں بھی فراہم کیں۔

شری رام سیناکا تین کشمیری طلبا کی زبان کاٹنے پر 3 لاکھ روپے انعام کا اعلان

ساوتھ ایشین وائر کے مطابق مبینہ طور پر کہا جاتا ہے کہ انہوں نے بدھ کے روز گڈگ میں منعقدہ ایک پروگرام میں یہ خیالات دیئے اور کہا ، “ملک دشمنوں کے لئے یہاںکوئی جگہ نہیں ہے”۔

پاکستانی زیر انتظام کشمیر: چودہویں آئینی ترمیم کی بازگشت،عوامی حلقوں میں تشویش

ہندوستان کی طرح پاکستان کا ریاست میں مالیاتی اداروں کو براہ راست رسائی دینا انتہائی بے چینی پیدا کر دینے والا عمل ہو گا جس سے عوام میں پائی جانے تقسیم اور ضم کرنے کے حوالے سے ہائی جانے والی تشویش میں مزید اضافہ ہو گا.

یکجہتی کشمیر فقط سرکاری ڈرامہ

پاکستان میں اب کشمیر اور اس سے جڑے ہوئے کسی مسئلے کا نام یا تو فیشن کے طور پر لیا جاتا ہے یا پھر حب الوطنی اور مزہبی جذبات سے مجبور ہو کر وگرنہ پاکستانیوں کو اس مسئلے سے سرے سے کوئی لگاؤ ہے ہی نہیں، شاید یہی وجہ تھی کہ عمران خان نے بھی دو جمعے بے وضو یکجہتی کرنے کے بعد توبہ کر لی تھی۔

چین میں کورونا وائرس کی بنیادی وجہ چمگادڑ کی یخنی ہو سکتی ہے:ماہرین

اس وائرس کے پھیلنے کی وجہ چمکادڑ کی یخنی بتائی جارہی ہے۔چین کے صوبے ووہان میں ایک بڑی مارکیٹ میں ممنوعہ جانوروں کا گوشت کھلے عام فروخت ہوتا ہے

نوے فیصد کشمیری خود مختاری کے خواہاں ہیں: سروے رپورٹ

ریوٹر لکھتا ہے “مسلم اکثریت والے شہر سے صرف تین فیصد کا خیال ہے کہ انہیں پاکستان میں شامل ہونا چاہیے جبکہ سات فیصد ہندوستانی حاکمیت کو ترجیح دیتے ہیں”

سی پیک کیلئے تقسیم جموں کشمیر؟

دسمبر 2019میں عسکری پس منظر کے حامل آزادکشمیر کے سابق صدر سردار انور خان سے ایک طویل نشست ہوئی‘انتہائی محتاط گفت گو کے باوجود سردار انور خان نے یہ تسلیم کیا کہ کشمیر کے بارے میں غیر مقبول فیصلہ کیا جا رہا ہے۔

2020 میں پاکستان کی ترقی کی شرح 3.3 سے کم ہو کر 2.1 رہنے کی پیشن گوئی

اسلام اباد: جنوبی ایشیائی ممالک میں آئندہ برس ترقی کی شرح، بھارت 5.7 سے بڑھ کر 6.6 ، پاکستان کی3.3 سے کم ہوکر2.1 رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

زائرہ وسیم کو ہراساں کرنے والے شخص کو 3سال قید کی سزا

زائرہ وسیم کو دوران پرواز سوتے میں ہراساں کیا گیا تھا جس کی شکایت انہوں نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر کی تھی،

قدرتی سانحے اور ہم

بدترین انتظامی صلاحیتیں، سیاسی عدم استحکام، جمود کا شکار عقائد، قدرتی رویوں پر انحصار، زندگی کی بے لچک سچائیوں سے انحراف نے ہمیں سطحی انسان بھی نہہیں رہنے دیا ہے۔ ہم نے ہر وہ کام کیا ہے یا کرنے دیا ہے جو ہماری مجموعی تباہی و بربادی کی راہیں ہموار کرتا ہے۔

پاکستانی زیر انتظام کشمیر وادی نیلم مین مختلف واقعات میں اب تک 40افراد جاں بحق ہونے کی اطلاعات

مظفرآباد (کشمیریت)پاکستانی زیر انتظام کشمیر وادی نیلم مین مختلف واقعات میں اب تک 40افراد جاں بحق ہونے کی اطلاعات آ رہی ہیں۔

بھارت میں افلاس سے تنگ خاتون کی 150 روپے میں بال فروخت کرنے کے بعد خود کشی کی کوشش

رپورٹ کے مطابق اہل محل اور رشتہ داروں کی جانب سے مدد نہ کیے جانے کے بعد خاتون نے محلے میں بال خریدنے کے لیے آنے والے شخص کو محض 150 روپے میں اپنے سر کے بال فروخت کردئیے۔

پاکستان :دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم کی تعمیر کیلئے فنڈ ریزنگ کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ

’’انصاف فار یو‘‘ نامی ادارے کے بانی اور پاکستانی نژادبرطانوی بزنس مین فرنیچر اِن فیشن کے چیف ایگزیکٹیو اسد شمیم نے وزیر اعظم عمران خان اور سُپریم کورٹ آف پاکستان سے دیامر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم کی تعمیر کیلئے برطانیہ میں ہونے والی فنڈ ریزنگ کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کردیا۔

فاروق حیدر آزاد کشمیر کے آخری ممکنہ وزیر اعظم ہو سکتے ہیں

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں ایسے اشارے دیے گئے ہیں کہ وہ موجودہ “آزاد” جموں کشمیر کے آخری وزیر اعظم ہوں گے. عین ممکن ہے کہ آنے والے وقت میں آزاد کشمیر کی موجودہ آئینی حیثیت کو تبدیل کر دیا جائے.

سوئیڈن کا بھارت سے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اٹھانے کا مطالبہ

سوئیڈن کے بادشاہ نے بھارت سے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اٹھانے کا مطالبہ کر دیا۔بادشاہ ان دنوں بھارت کے دورے پر ہیں،سوئیڈن کے بادشاہ گستاؤ نے مقبوضہ کشمیر پر مشروط ثالثی کی پیشکش کی

مقبوضہ کشمیر میں پابندیوں سے متعلق ہر سوال کا جواب دیا جائے: بھارتی سپریم کورٹ

جسٹس ، سبھاش ریڈی اور بی آر گیائی پر مشتمل بنچ نے کہا:مسٹر مہتا آپ کو درخواست دہندگان کے ذریعہ اٹھائے گئے ہر سوال کا جواب دینا ہوگا ۔

بھارتی زیر انتظام کشمیر1989 سے اب تک 30 سالوں میں42 ہزار لوگ ہلاک ہوئے: بھارتی وزیر داخلہ

کشمیر میڈیا سروس کی ویب سائٹ کے مطابق 1989 سے اب تک 95464 افراد ہلاک ہوئے ہیں جو کہ بھارتی وزیر داخلہ کی بتائی ہوئی تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔

جہیز کے قانون سمیت 164 مرکزی قوانین بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر میں نافذ

تنظیم نو قانون کے تحت سخت ترین جہیز مخالف قانون بھی نافذ ہوچکا ہے جبکہ اس قانون کے تحت 5 سال تک کی سزا ہوسکتی ہے۔

اقوام متحدہ اور بین الاقوامی صحافیوں کو کشمیر جانے کی اجازت دی جائے: ٹام لینٹوس ہیومن رائٹس کمیشن کا بھارت سے مطابلہ

تاشفین قمر کا کہنا تھا کہ سماعت کے موقع پر سوال و جواب کے دوران ایک موقع پر پوچھا گیا کہ کشمیری کیا چاہتے ہیں۔ جواب میں، بقول ان کے، سماعت میں موجود کچھ شرکا نے آزادی کے حق میں نعرے لگائے۔

2018 میں آزاد کشمیر مین مقبوضہ کشمیر سے زیادہ جمہوری پابندیاں تھیں، فریڈم ان ورلڈ 2019 رپورٹ

فریڈم ہاوس کی رپورٹ میں سال دو ہزار اٹھارہ کے دوران بھارت کے زیر انتظام کشمیر کو جمہوری آزادیوں کی درجہ بندی میں 49 ویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔ یعنی وہاں جزوی طور پر آزادیاں حاصل تھیں۔ جبکہ پاکستان کے زیر انتطام کشمیر میں جمہوری آزادیوں کا درجہ 28 رہا، یعنی آزادیاں حاصل نہیں رہیں۔

بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر: حالیہ برف باری سے چار لاکھ سے زائد باغ مالکان کو نقصان

ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق انہوں نے کہا کہ محکمہ باغبانی اور محکمہ مال مل کر اس پورے نقصان کا بھر پور طریقے سے تخمینہ لگا کر کاشتکاروں کو معاوضہ فراہم کریں گے۔

بھارتی مقبوضہ کشمیر: سوپور میں 5 افرادگرفتار

چند روز قبل ضلع گاندربل اور بانڈی پورہ میں دو الگ الگ واقعات میں 3 نوجوانوں کو ہلاک کیا گیا تھا۔

یاسین ملک کے خلاف مقدمے کی سماعت 3دسمبرتک ملتوی

اس سے قبل جموں میں واقع ٹریرزم اینڈ ڈسرپٹیو ایکٹیوٹیز ایکٹ (ٹاڈا)کی خصوصی عدالت نے یاسین ملک کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیا تھا اور پولیس کو انہیں 11 ستمبر سے قبل عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت دی تھی۔

بھارت کا ایک اور مگ 29 جنگی طیارہ گر کر تباہ ہو گیا۔

خیال رہے کہ ستمبر میں بھی بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں بھارتی ائیرفورس کا مگ 21 طیارہ گر کر تباہ ہو گیا تھا۔

بھارت کے 65 ممالک میں 265 جعلی میڈیا ادارے بے نقاب

ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق یورپی یونین کے ڈس انفو لیب نے اپنی ویب سائٹ پر کہا کہ ان سنڈیکیٹڈ خبروں میں ، ہمیں غیر متوقع طور پر پاکستان میں اقلیتوں کے خلاف پروپیگنڈے کے ساتھ ساتھ ہندوستان سے متعلق دیگر معاملات سے متعلق مضامین ایک بڑی تعداد ملی۔

ہندوستان کے خلاف ناگاز (لینڈ) مزاحمت کی تاریخ

14 اگست کو یہ ناگالام قومی سوشلسٹ کونسل ہی نہیں تھی جس نے ناگا لینڈ کا ایک الگ پرچم لہرایا جو اب ناگاز کا مستقل پرچم بن چکا ہے بلکہ اسے دیگر باغی گروہوں نے بھی لہرایا اور ان شہریون نے بھی اپنے گھروں پر لہرایا جنہیں اکثر پولیس پرچم گرانے کے جرم میں پکڑ کر لے جاتی تھی۔

مسئلہ کشمیر پر امریکہ نے اپنی پوزیش تبدیل نہیں کی: امریکی معاون نائب وزیرخارجہ

ان کا کہنا تھا کہ کشمیر میں گزشتہ دو ماہ کے دوران کئی ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ سینکڑوں لوگوں کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت بغیر کسی الزام کے نظربند کیا گیا ہے۔

مقبوضہ کشمیر ؛ تین ماہ میں ایک لاکھ سے زائد افراد نے اپنی ملازمت کھوئی

سیاحت کا شعبہ جس سے تقریباًپانچ لاکھ افراد کاروزگار وابستہ ہے ، سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے ۔ سیاحت کے شعبے میں اب تک ملازمتوں میں پچاس ہزارکے قریب کمی کی اطلاع ملی ہے۔ اگر صورتحال میں بہتری نہیں آئی تو تعداد بڑھ سکتی ہے۔ وادی میں1100 ہوٹلوں میں سے تقریبا 80 فیصد تین ماہ سے بند ہیں۔

مقبوضہ کشمیر میں یورپی یونین کے وفد کو دورے کی اجازت دینے پر ہندوستانی حکومت پر شدید تنقید

ہندوستان کی کمیونسٹ پارٹی (مارکسسٹ) (سی پی آئی ایم)نے الزام لگایا کہ یورپی یونین سے تعلق رکھنے والے پارلیمنٹیرین کے غیر سرکاری گروپ ، جس کے بی جے پی سے روابط ہیں ، کو بھارتی سیاسی جماعتوں سے زیادہ ترجیح دی گئی ہے۔

چیئرمین پی این اے ذولفقار راجہ کی 22 اکتوبر پولیس تشدد پر پریس کانفرنس

چیئرمین نے کہا کہ پی این اے کے بنیادی اہداف پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ ھم مرحلہ وار اپنی منزل تک پہنچنے کیلئے جدوجہد جاری رکھیں گے۔

سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو سرکاری بنگلے خالی کرنے کا نوٹس

بھارتی حکومت نے عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو یکم نومبر تک اپنے سرکاری بنگلے خالی کرنے کا نوٹس دیا ہے۔ اب تک وہ جموں وکشمیر اسمبلی اراکین پنشن ایکٹ 1984 کی وجہ سے اس پراپرٹی میں رہ سکتے تھے ۔

سیز فائر لائن پر کشیدگی کی وجہ سے ہزاروں خاندان ہجرت کر رہے ہیں:سابق وزیر تعلیم میاں وحید

انہوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ سیز فائر لائن کے خلاف ورزیوں اور دونوں اطراف سے گولا باری کو فی الفور بند کیا جائے ۔

بھمبر: سیز فائر لائن پر کشیدگی، مزید تین زخمی

سیز فائر لائن پر حالیہ دنوں میں کشیدگی کے باعث دو درجن سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں املاک کا نقصان اس کے علاوہ ہے

نومنتخب کینڈین نائب وزیر اعظم جگمیت سنگھ کشمیریوں کے حق میں بول پڑے

“میں آج کی شام کشمیر کے لوگوں کے بتانا چاہتا ہوں کہ میں جو ناانصافی لوگوں کے ساتھ ہو رہی ہے اس کے خلاف آپ کے ساتھ کھڑا ہوں، میں ناانصافی کے خلاف کھڑا ہون اور میں انڈیا جو بھی کشمیر میں کر رہا ہے اس کی مذمت کرتا ہوں”

22 اور 27 اکتوبر کے درمیاں اٹکی ریاستی تاریخ

ستائیں اکتوبر 1947 کو بھارتی وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے پاکستانی وزیر اعظم لیاقت علی خان کو بھیجے گئے ایک ٹیلی گرام میں لکھا
“میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اس ہنگامی صورتحال میں کشمیری امداد کا سوال بھارت کے ریاست پر اثر انداز کرنے کے کسی بھی طریقے سے ترتیب نہیں کیا گیا ہے. ہمارے نقطہ نظر جس نے ہم بار بار عوام کو بتایا ہے یہ ہے کہ کسی بھی متضاد علاقے یا ریاست میں رسائی کا سوال پر وہاں کے لوگوں کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق فیصلہ کیا جائے اور ہم اس نظریے پر عمل کریں “

جنسی خواہشات پوری کرنے کے لیے خواتین کو فوج میں بھرتی کیا جاتا ہے، مستعفی ڈپٹی کمانڈنٹ نے بھارتی فوج کا پول کھول دیا

بھارت کے ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کرونا جیت کور نے بتایا کہ بھارت کی سرحدی فورس انڈو تبتن بارڈر پولیس (آئی ٹی بی پی) میں ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی کوشش کی گئی تھی جس کی وجہ سے انہوں نے آئی ٹی بی پی میں ڈاکٹر کے عہدے سے استعفی دیا

21توپوں کی سلامی تو بنتی ہے

محترم فاروق حیدر خان کی طرف سے نامزد بدعنوان آفیسران تین سال سے نہ صرف بھرپور راحت میں ہیں بلکہ ترقیابی سے بھی فیض یاب ہوئے۔سینکڑوں نہ سہی درجنوں مثالوں میں ایک مثال ڈپٹی وزیر اعظم راجہ امجد پرویز کی ہے جو ان ہی تین سال میں نامزد بدعنوان آفیسران کی فہرست میں سے نکال کر پرنسپل سیکرٹری کے عہدے پر فائز کیے گئے۔

کشمیری نزاد برطانوی صحافی تنویر احمد احتجاج پر مظفرآباد سے گرفتار

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق تنویر احمد کو لال چوک مظفرآباد سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔

کیا ہری سنگھ بزدل تھا؟

قبائلیوں کی حملے کے وقت ہری سنگھ کی کل دس ہزار کی فوج تھی جس کے پاس وسائل کی کمی تھی جبکہ قبائلیوں کی پست پناہی پاکستان کی فوج، سابق آرمی سروسز، کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ ہندوستان اور انگریز بھی شامل تھے ان کی یہ دلیل سرحدی گاندھی کے حوالے سے رد بھی نہیں کی جا سکتی ہے کیونکہ باچا خان گاندھی کے قریبی دوست تھے ہو سکتا ہے ریاست جموں کشمیر ہتھیانے کے چکر میں انہوں نے کوئی چال چلی ہو ۔

سیز فائر لائن فائرنگ: دونوں اطراف میں چار ہلاک ، سات زخمی؛ املاک کو شدید نقصان

مقامی صحافیوں کی رپورٹس کے مطابق شاہراہ نیلم پر بھارتی گولہ باری کی زد میں‌آکر عظمت نامی ایک ڈرائیور ہلاک ہو گیا، جبکہ اٹھمقام کے گاؤں لالہ میں‌ گولہ باری کی زد میں‌آکر گل زرین ولد علم دین اور اسکا دس سالہ بیٹا سلطان ولد گل زرین ہلاک ہو گئے.

ہم بندوق تو نہیں اُٹھا سکتے

چند مناظر جو کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کیے۔ایک ویڈیو کلپ میں پولیس لوگوں کو ایک ہوٹل کی دوسری منزل سے اتار کر بے رحمانہ تشدد کرتی ہے،ایک اور ویڈیو کلپ ایک شخص جو پرامن اور خالی ہاتھ کھڑا تھا اس کے سر میں اچانک ایک پولیس والے نے زور دار ڈنڈامارا جس کے بعد مذکورہ شخص ذبح کیے ہوئے مرغ کی طرح چند سیکنڈ کیلئے ہاتھ پاؤں مارتا ہے اور پھر ساکت ہو جاتا ہے

یزید چوک مظفرآباد بمقابلہ لال چوک سری نگر

میرے دائیں طرف والے بیڈ پر ان کے جسم نے جھرجھری لی. میں نے جس شخص کو ڈاکٹر سمجھ کر اس قریب مرگ شخص کو دیکھنے کا کہا تو پتا چلا وہ بھی مظاہرین میں سے ہے اور نیم زخمی ہونے کی وجہ سے لایا گیا ہے. ڈاکٹر اور نرسز ڈی سی یا پولیس کی اجازت کے بارے میں بحث کرتے رہے. اس قریب مرگ شخص کے وارث کے لیے آوازیں دیتے رہے. اور دو منٹ بعد بلا اجازت ہی جب کیس دیکھنے پر اتفاق ہوا

ریاست جموں کشمیر پر قبائلی حملہ اور پاکستانی لشکر کشی

16 یا 17اکتوبر کو پاکستان فوج کا ایک کرنل شاہ سرےنگر میں الحاق پاکستان کی دستاویز اٹھائے مہاراجہ سے ملنا چاہتا تھا مہاراجہ کے وزیر اعظم نے اسے یہ کہا کہ پاکستان حکومت خوراک کی ترسیل شروع کرے تو وہ اس بارے میں سوچ سکتے ہیں ۔ کرنل شاہ کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور وہ اس بات پر ڈٹا رہا کہ کشمیر جلد سے جلد پاکستان سے الحاق کرے

لبریشن فرنٹ کا دھرنا ختم ہو گیا ، اثرات دیر پا ہوں گے

ڈاکٹر توقیر گیلانی اپنی پوری فیملی کے ساتھ مارچ اور دھرنے میں موجود رہے۔ ان کے علاوہ بھی کئی لوگ اپنے خاندان بھر کو لے کر دھرنے میں پہنچے ہوئے تھے جہاں رات کو سونے کے لیے ننگی دریاں، تکیوں کے جگہ برتن اور چھت کی جگہ کھلا آسمان یا ٹینٹ تھا جس میں دونوں جانب سے جہلم کی یخ بستہ ہوائیں رات کے پچھلے پہر داخل ہوتی تھی۔ دھرنے میں موجود شرکاءہردم پرجوش تھے

میر پور: چیئر مین پی این اے کی حکومتی وفد سے ملاقات، کشمیر چھوڑ دو تحریک کے حوالے سے مذاکرات

حکومتی وفد نے یقین دلایا کہ پی این اے کے پرامن و جمہوری احتجاجی مارچ کو کہیں بھی نہیں روکا جائے گا کیوں کہ ہم جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں۔ اس لیے آزادی پسند، جمہوریت پسند، پرامن اتحاد میں شامل پارٹیوں کو اپنی سوچ و فکر کے مطابق اس نوعیت کی سرگرمیاں کرنے کا حق حاصل ہے۔

پی این اے نے21 اکتوبر آزادی مارچ کو حتمی شکل دے دی

اجلاس میں‌فیصلہ کیا گیا ہے کہ بائیس اکتوبر کو یونیورسٹی گراؤنڈ سے اسمبلی سیکرٹریٹ کی طرف پرامن مارچ کیا جائیگا، اور اسمبلی سیکرٹریٹ کے سامنے احتجاجی جلسہ کرتے ہوئے اپنے پروگرام و مطالبات رکھے جائیں گے جبکہ اسی موقع پرآئندہ کی حکمت عملی کا بھی اعلان کیا جائیگا.

سوچ زار ایک تاثر – مریم مجید ڈار کے افسانوی مجموعے پر اظہر مشتاق کا تبصرہ

حرافہ کا عنوان دیکھ کر ایسا لگتا ہےکہ یہ اس سماج کے ناپسندیدہ اور ناقابل قبول کردار کی کہانی ہے مگر مکمل افسانے کے مطالعے کے بعد غربت اور فاقہ زدہ گھر کی ایک ایسی کہانی ملتی ہے جس کے کردار سماج میں موجود ہیں مگر ان پر بات کرنا مناسب نہیں سمجھا جاتا۔ حرافہ کا اختتام ڈرامائی اور سبق آموز ہے

4 اکتوبر ۔۔۔ نظریاتی ابہام- شفقت راجہ

تیسری سیاسی قوت مہاراجہ ہری سنگھ تھا جو ریاست کی اس پیچیدہ صورت حال کے پیش نظر ریاست کے بھارت و پاکستان میں سے کسی ایک کیساتھ الحاق کی بجائے ریاستی خودمختاری کا خواہشمند تھا لیکن برصغیر کی مجموعی اور ریاست کی اندرونی طوفانی سیاست میں شدید
دباو کا شکار تھا۔

72 سال اور ستر دن۔۔۔۔۔۔۔!!!!

اقوامی متحدہ کے ذیلی ادارے میں کی گئی تقریرکے بعد بھی مودی تو کجا بھارتی دفترِ خارجہ کے نمائندگان کو بھی پچھاڑنے میں ناکام نظر آئے (نیت پر شک نہیں کیا جاسکتا)۔ اوائل روز میں پاکستانی دفتر خارجہ سے یہ دعوٰی بھی سننے کو ملا کہ اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق کے 50 سے زائد ممالک کی حمایت بھی حاصل کر لی گئی ہے، یار لوگوں کی خوشی کی انتہا نہ تھی کہ ایک دن یہ عقدہ کھلا کہ مذکورہ کونسل کے ارکان کی تعداد ہی 47 ہے تو ماتھا ٹھنکا کہ الٰہی ماجرا کیا ہے

کُردّوں کا مُعمہ

۲۰۱۳ میں ISIS داعش کی خطہ(عراق،شام ) میں دہشتگردانہ کاروائیوں اور مختلف علاقوں میں قبضہ کے خلاف کُر د ، مقامی حکومتوں اور امریکہ کے اتحاد کا حصہ بن گئے ، یوں دھشتگردی کے خلاف جنگ میں نہ صرف حصہ دار بنے بلکہ کئی علاقوں میں اکیلے داعش کو شکست دیتے ھوئے آزاد کروایا۔ ۔۔۔۔

سیز فائر لائن پر بھارتی جارحیت، ایک کشمیری ہلاک تین زخمی

مقامی افراد نے اس دوران بتایا کہ نیلم ویلی مین تین مختلف مقامات، کنڈالشاہی، اٹھمقام اور کیرن میں فضا میں بھارتی ڈرون بھی دیکھے گئے ، یہ تیس منٹ سے ایک گھنٹہ تک پاکستانی زیر انتظام ریاست جموں کشمیر کی حدود میں رہے۔

لبریشن فرنٹ دھرنا: انتظامیہ نے ختم کرنے کی ڈیڈ لائن دے دی

دھرنا مظاہرین کی سیکورٹی پرمعمور پولیس فورس کو ہائی الرٹ سگنل جاری کردیا ! دھرنے میں شریک خواتین کو تحویل میں لینے کے لیے آزادکشمیر لیڈی پولیس کو بھی سول انتظامیہ نے ہاٸیر کر لیا، ذرائع

خود مختاری سے رائے شماری: آفتاب احمد

اُس جوان کا واویلا تھا جو عالمی سامراج کا ضمیر جھنجھوڑنے سے زیادہ اپنوں کی بے حسی کا ماتم کر رہا تھا۔ اُسے شکوہ تھا کہ آزادی کے لیئے دو چار دن کا نہیں، دو چار سالوں جتنا لانگ مارچ کرنے کا عزم ہونا چائیے۔ اُسے اپنوں سے گِلہ تھا کہ ہماری پیاس بیچی گئی۔ ہمارا فرات بیچا گیا۔ اب ہمارے لہو کو بیچنے کا پلان بن رہا ہے۔ الغرض اُس کے ایک ایک لفظ سے اخلاص اور وطنیت کی خوشبو آ رہی تھی۔

لبریشن فرنٹ کی کال پر ہزاروں کشمیری چکوٹھی سیز فائر لائن پر کل پہنچیں گے

دوسری جانب لبریشن فرنٹ کے آزادی کشمیر مارچ کو چکوٹھی سے سیزفائر لائن توڑ کر مقبوضہ کشمیر میں داخل ہونے کی کوشش ناکام بنانے کے لیے پولیس نے چناری جسکول پل پر بھاری کنٹینر لگا کر شاہراہ سری نگر بند کر دی ہے ۔ اور گاڑیوں کو روکنے کیلئے کنٹینر اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کرکے شرکاء مارچ سے نمٹنے کی تیاری کر لی گئی ہے۔

پی این اے کیا ہے اور پی این اے کے اغراض و مقاصد کیا ہیں

جموں کشمیر پیپلز نینشل الائس نے 21 اکتوبر کو مظفرآباد کی جانب احتجاجی مارچ کی کال دے رکھی ہے جس کے بعد مظفرآباد پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں ہی مطالبات کی تسلیم کیے جانے تک دھرنا دیا جائے گا۔

عمران خان کی جنرل اسمبلی میں تقریر، مسئلہ کشمیر پر کوئی ٹھوس لائحہ عمل سامنے نہیں آیا، پی این اے

پی این کے رہنماوں نے واضح کیا کہ ہم کسی بھی طور ریاست کی تقسیم کو کبھی بھی قبول نہیں کریں گے اور مادر وطن کی وحدت کیلئے ہر قربانی دیتے ہوئے بھرپور مزاحمت کریں گے ۔

اگر آپ یہ کام کرتے ہیں تو آپ کے ساتھ کیا ہو سکتا ہے

– اگر آپ حیران ہیں کہ اس پوسٹ کو زیر بحث لانے کی کیا ضرورت ہے تو آپ بد دیانت ہیں، آپ اپنے فائدے کی غرض سے بڑی آسانی سے معاشرے میں خرابیاں پیدا کریں گے۔

مزدوری از سعادت حسن منٹو

اُونچے مکان کی کھڑکی میں سے مل مل کا تھان پھڑپھڑاتا ہوا باہر نکلا، شعلے کی زبان نے ہولے ہولے اسے چاٹا۔ سڑک تک پہنچا تو راکھ کا ڈھیر تھا۔ “پوں پوں، پوں پوں” موٹر کے ہارن کی آواز کے ساتھ دو عورتوں کی چیخیں بھی تھیں۔

اب رائے شماری نہیں خود مختاری

ریاست جموں کشمیر کی قومی خود مختاری سے قبل ریاست کے اندر کسی قسم کی رائے شماری اول تو ناممکن ہے اور اگر ممکن بنا بھی لی جاتی ہے تو دو غاصب قوتوں کے ہوتے ہوئے صحیح نتائج حاصل کرنا ناممکن ہے

نہتے لڑکوں سے خوف زدہ حکمران

بھارت اپنے زیر قبضہ علاقوں میں جو ظلم کر رہا ہے اس کی وجہ آزادی کا مطالبہ ہے جس کی سزا بھارت کے نزدیک گرفتاریاں اور تشدد ہے ۔۔۔آپ کے نزدیک بھی اگر آزادی کا مطالبہ جرم ہے تو پھر فرق آپ خود کریں ہم کہیں گے تو گستاخی ہو گی۔

آزادی مارچ میں گئے ایک غیر سیاسی نوجوان کے تاثرات

آزادی مارچ کے دوران تمام ساتھی جو ایکدوسرے کو جانتے تک نہیں تھے لیکن ایکدوسرے کا اتنا خیال رکھ رہے تھے کہ جیسے یہ ایک ہی گھر کے لوگ ہوں۔ انکا ڈسپلن اور انکی انسانیت مجھے پسند آئی۔ کچھ شرپسندوں نے پولیس پر پتھراؤ کیا تو انہوں نے سب کو کہا کہ یہ ہمارے ہی اپنے لوگ ہیں, یہ آرڈر کے غلام ہیں, ان پر پتھر مت برساؤ۔ اگر پتھر مارنے ہیں تو IG کو مارو جس نے اسلام آباد میں بیٹھ کر انکو حکم صادر کیا ہے۔

پاکستانی زیر انتظام کشمیر ، نوجوان نے سیز فائر لائن پار کر کے آزاد کشمیر کا جھنڈا لہرا دیا، گولی سے زخمی

تفصیلات کے مطابق تاجران اور سول سوسائیٹی کی کال پر کوٹلی کے علاقے چڑھوئی سے سیز فائر لائن کی طرف احتجاجی ریلی نکالی گئی جس میں سینکڑوں افراد شریک ہوئے۔

لندن: کشمیری مظاہرین نے فاروق حیدر، چوہدری یاسین اور بیرسٹر سلطان کو خطاب سے روک دیا

لندن میں کشمیری تنظیموں اور مقامی افراد کی جانب سے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کے لیے سماجی کارکنوں اور حامیوں کو لندن میں جمع ہونے کی اپیل کی گئی تھی۔

لندن: مشتعل مظاہرین نے بیرسٹر سلطان چوہدری کے کپڑے پھاڑ دیے

بیرسٹر سلطان کی مظاہرے میں شرکت کی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہیں لیکن انہیں مظاہر ے کے دوران ناخوشگوار صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔

منٹو اور کرشن چندر کا کشمیر

آج کشمیر کے بنیادی حوالے دو ہیں: ایک اس کا فطری حُسن اور دوسرے اس کی سیاسی صورتِ حال۔ کشمیر کے ان دو عاشقوں میں سے کرشن چندر کشمیر کے فطری حسن کے متوالے ہیں تو سعادت حسن منٹو کے کشمیر کے حوالے سے دو مشہور افسانے اس کے سیاسی پس منظر کے بارے میں ہیں۔

کیا پاکستان بھی کشمیریوں کی ہمدردیاں کھو رہا ہے؟

ٓآپ کوہالہ سے پار ہوں تو ہر چہرے پر تنوع اور سنجیدگی ہے۔ جونہی لائن آف کنٹرول کی جانب بڑھتے جائیں گے یہ سنجیدگی پریشانی میں تبدیلی ہوتی جائے گی ۔ میر پور سے لے کر تاﺅ بٹ تک لوگ ایک ہی سول کر رہے ہیں ۔کیا ہو رہا ہے اور کیا ہونے جا رہا ہے ؟ مگر ظاہر ہے ان سوالات کے جواب فی الحال کسی کے پاس بھی نہیں ہیں۔

بھارت کے لیے فضائی حدود بند کرنے کا فیصلہ ابھی نہیں کیا ہے، پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

وزیر خارجہ کا کہنا تھاکہ بھارت کے لیے ابھی فضائی حدود بند کرنے کا فیصلہ نہیں ہوا، اس حوالے سے سوچ بچار کے بعد فیصلہ ہوگا اور اس پر وزیراعظم تمام صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کریں گے۔

پاکستانی زیر انتظام جمون کشمیر “کشمیر چھوڑ دو” کے نعروں سے گونج اٹھا

پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں ترقی پسند اور قوم پرست تنظیموں پر مشتمل جموں کشمیر پیپلز نیشنل الائنس کے زیر اہتمام ”جموں کشمیر چھوڑ دو تحریک“ کا آغاز کر دیا گیا ہے،

امریکی صدر کا کشمیریوں کے متعلق بیان اور کنفیوزن

امریکی صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس کے دوران واشگاف الفاظ میں کہا کہ “کشمیری میں لوکھوں لوگ بستے ہیں جو کسی دوسرے […]

چلئیے ۔ شملہ ہی چلیں

دوطرفہ باہمی مشاورت سے مناسب وقت پر دونوں ممالک کے سربراہان اور نمائندگان کی ملاقات میں دیرپا امن، دوطرفہ تعلقات میں معمول، جنگی قیدیوں (فوجی و سول) کے تبادلہ، تنازعہ “ جموں کشمیر کے حتمی تصفیہ” اور سفارتی تعلقات کی بحالی کے طریقہ کار پر مذاکرات کریں گے۔

سلامتی کونسل اجلاس کا جشن کب تک؟

پاکستان کا خیال ہے کہ اقوامِ متحدہ کی قراردادیں آج بھی اس مسئلے کے حل میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔ مگر کیا کیا جائے کہ کشمیر کے بارے میں سلامتی کونسل کی تمام قراردادیں اقوامِ متحدہ چارٹر کے باب ششم کے تحت منظور کی گئی ہیں۔

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں قوم پرست اتحاد نے “جموں کشمیر-چھوڑ دو” تحریک چلانے کا اعلان کر دیا۔ اعلامیہ جاری

ریاست جموں کشمیر کی دوکروڑ عوام کی مرضی اور منشاہ کے بغیر مسلط کیے جانے ہر فیصلہ کیخلاف بھر پور مزاحمت کی جائے گی ۔ ہندوستانی حکومت کی طرف سے یک طرفہ طورپر 35Aکاخاتمے کے بعد حکومت پاکستان بھی بھارت کے ساتھ شملہ معاہدہ سمیت دیگر دوطرفہ معاہدات سے دستبرداری کا اعلان کرے۔

بھارتی فوج نے سری نگر میں نقل و حرکت پر دوبارہ پابندی عائدکردی، جھڑپوں میں 24 افراد زخمی ہوگئے

سرینگر: بھارتی فوج نے سری نگر میں نقل و حرکت پر دوبارہ پابندی عائدکردی، جھڑپوں میں 24 افراد زخمی ہوگئے بھارتی حکام نے پولیس اور […]

بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر میں کرفیو کے دروان اب تک چار ہزار سے زائد کشمیری گرفتار

معروف عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے حکومتی ذرائع کے حوالے بتایا ہے کہ بھارتی فورسز نے پانچ اگست سے اب تک کرفیو کے دوران چار ہزار سے زیادہ کشمیریوں کو گرفتار کیا ہے۔

بھارتی مقبوضہ جمون کشمیر میں کیا ہو رہا ہے، آنکھوں دیکھا حال پڑھیے

بھارتی سول سوسائٹی کے وفد نے اپنی رپورٹ میں مزید کہا ہے ”سینکڑوں چھوٹے بچوں کو ان کے گھروں سے آدھی رات کو اٹھالیا گیا۔ اس عمل کا واحد مقصد لوگوں میں خوف وہراس پیدا کرنا ہے۔ بعض لڑکیوں اور خواتین نے شکایت کی کہ پولیس کارروائی کے دوران سکیورٹی فورسز نے ان کے ساتھ دست دراز ی بھی کی۔”

مسئلہ کشمیر اور اقوام متحدہ کا کردار

جنوری 1951؁ء میں آزادانہ اور غیر جانبدارانہ استصواب رائے کو ممکن بنانے کے لیے دولت مشترکہ کے وزرائے اعظم نے ہرممکن سفارتی کوشش کی کہ وہ دونوں ملک فوجوں کو غیر مسلح کرنے اور انخلا پر رضامند ہو جائیں۔ اس ضمن میں انہوں نے دونوں ملکوں کے سامنے درج ذیل تجاویز پیش کیں کہ وہ ان میں سے کسی ایک کو تسلیم کر لیں۔

ریاست جموں کشمیر کی موجودہ حیثیت تبدیل نہیں کی جا سکتی ہے۔ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ

ترجمان نے بتایا کہ سیکریٹری جنرل نے 1972ء کے سمجھوتے کا حوالہ دیا ،جس میں بھارت اور پاکستان کے درمیان باہمی تعلقات سے متعلق امور کا ذکر ہے، جسے شملہ معاہدے کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں کلاؤڈ برسٹ سے جہلم ویلی میں پانچ افراد جاں بحق

حادثہ میں جان بحق ہوئے گہل جبڑا کے مضافاتی علاقے اورنی بن ڈبر ڈھوک میں کلاوڈ برسٹ ہوا علاقے میں کیمونیکیشن نظام مکمل مفلوج ہو گیا

آرٹیکل 370 کی تنسیخ کے بعد اب مستقبل کیا ہو گا؟

ریاست جموں کشمیر کا ریاستی تشخص ختم کرنے کا بھارتی اقدام اگر سپریم کورٹ میں چیلنج ہوتا ہے تو یقینا بھارتی حکومت یہ مقدمہ ہار جائے گی اور بھارتی زیرانتظام جموں کشمیر اپنی جولائی 2019 کی پوزیشن پر واپس آ جائے گی

کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے پر جذباتی فضاء …مگر!!

عبوری آئین 1974بلکہ 13ویں ترمیم کے بعد آزادکشمیر کے پاس جو اختیارات ہیں انہیں دیکھا جا سکتا ہے؟کہ آزادکشمیر کہاں کھڑا ہے۔۔۔۔دلچسپ بات یہ 1954میں جب آرٹیکل 370سامنے آیا تو مخالفت کی گئی آج ختم ہوا پھر بھی مخالفت۔اس پار کی آئین ساز اسمبلی کو تو 5اگست 2019کو قانون ساز اسمبلی میں بدلا گیا ہمارے ہاں تو پہلے دن سے قانون سازاسمبلی ہے۔

عالمی قوتیں تقسیم کا فیصلہ کر چکی ہیں

سی پیک پر دستخط کے بعد عالمی منظر نامہ تبدیل ہونا شروع ہوا ، گلگت بلتستان میں لوگوں کو سزائیں شروع ہوئی ، پی او جے کے کے اندر بھی سختی بڑھی ، جی بی میں سٹیٹ سبجیکٹ پہلے سے دفن ہوچکا تھا اب انڈین زیر انتظام حصہ میں 35 a اور 370 کے خاتمے پر بات شروع ہونے لگی۔ وادی اور گلگت میں جبر بڑھ رہا ہے گرفتاریاں ہورہی ہیں

برصغیر میں انتہا پسندی کا رجحان اور تاریخ

اس قوم کو لگتا ہے جو کشمیر میں دہشتگردی ہوتی ہے وہ جہاد ہے اور اس سے کشمیر آزاد ہو جائے گا ۔ یہان پر طالبان دہشت گرد ہوتے ہیں کشمیر میں جہادی اور اسلام کی سر بلندی کے لیے قربانی اور شہادت کا نام دیا جاتا ہے۔ ابھی کل سے شروع ہونے والی گولہ باری مجال کہ کوئی ٹی وی پر بات کرے نیلم میں کل سے ہونے والی گولہ باری میں تین کشمیری شہید ہوئے درجنوں زخمی ہوئے اس کے علاہ بہت سارے مکان بھی جل گئے۔

ریاست جموں کشمیر : جنت میں جہنم کا منظر

شملہ و تاشقند معاہدوں کے بعد ریاست جموں کشمیر کو عالمی اداروں نے بھی پس پشت ڈال دیا۔ انسانی حقوق کی رپورٹ شائع ہوا کرتی تھی مگر عالمی ساز باز سے اب کی بار اسکو بھی روک دیا گیا۔
یہاں مختلف اوقات میں مختلف مگر جاندار تحریکوں نے جنم لیا مگر کوئی مستقل تنظیم نہ ہونے کے باعث بزور طاقت ہندوستان و پاکستان کی طرف سے کچل دیا گیا۔

لطیفوں کی دنیا : عبد الحکیم کشمیری

2200کرپشن کے مقدمات کی فائلیں دفتر داخل ہو گئیں ۔ کوئی ایک نامزد سیاستدان گرفتار نہیں ہوا ، جس پر سب سے زیادہ الزام عائد کیے گئے تھے اسے اپوزیشن لیڈر بنا دیا ۔۔۔ یہ جنوری 2019کی بات ہے جب اڑھائی سال بعد اعلان کیا کہ میں احتساب نہیں کروں گا۔۔۔ہے نا زبردست لطیفہ

سیز فائر لائن پر بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ سے دو کشمیری ہلاک

ابتدائی اطلاعات کے مطابق فائرنگ سے پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے وادی نیلم میں دو شہری ہلاک ہو گئے جن میں ایک خاتون بھی شامل ہیں۔ ہلاک ہونے والے نعمان ولد مطیع اللہ کا تعلق شاردہ جبکہ بسمہ بی بی ولد غلام مرتضی کا تعلق کٹھہ چوگلی سے تھا جو وادی نیلم کے دو گاؤں ہیں۔

پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں جاری پن بجلی منصوبے اور ماحولیاتی مسائل

پاکستان کی واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے 2011 میں پاکستان زیر انتظام کشمیر کے ادارہ برائے تحفظ ماحول سے ایک مشروط عدم اعتراض سرٹیفکیٹ کے حصول کے بعد نیلم جہلم پن بجلی منصوبہ پر کا م شروع کیا۔ مذکورہ منصوبہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے عبوری آئین 1974 کی شقوں کے کے مطابق نہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی آئین سازاسمبلی میں موضوع بحث بنا اور نہ ہی پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی حکومت کیطرف سے پیشگی اجازت لی گئی۔

بائیس لاشیں کافی ہیں، سیاست زندہ باد

شیر کشمیر اور رئیس الاحرار، آج ہر سٹیج سے 1931 کے شہدا کا مشن جاری رکھنے کے اعلانات ہونگے، لیکن انکا مشن کیا تھا؟ جو ریڈنگ روم پارٹی اور ینگ مینز مسلم ایسوسی ایشن کا تھا؟ وہی مشن آج بھی ریاستی و غیر ریاستی، روایتی و غیر روایتی سب جماعتیں جاری رکھے ہوئے ہیں، بائیس لاشیں کافی ہیں، سیاست زندہ باد

لمحوں نے خطا کی تھی:دانش ارشاد

دوسری طرف کشمیر کی قیادت کی گلگت بلتستان کے حوالے سے بیان بازی ایک سوالیہ نشان ہے۔ کیا آج بھی کشمیری قیادت ہوش کے ناخن نہیں لے گی؟

یہ مآب لیچنگ نہیں پولیٹکل لیچنگ ہے

جھار گھنڈ میں ۲۲ سالہ تبریز انصاری کو چوری کا الزام لگا کر قتل کیا گیا۔تاہم یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ کیا چوری کی سزا بھارت میں قتل ہے؟

کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اقوامِ متحدہ کی نئی رپورٹ جاری

غیرقانونی حراست اور نام نہاد محاصرے اورآپریشن انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا موجب اور سنگین مسئلہ بن چکے ہیں۔ جیسا کے بھارتی زیر انتظام کشمیر میں خصوصی اختیارات کے حامل ادارے کر رہے ہیں۔

سوچنا ہے منع ، بولنا ہے منع

ریاست پاکستان ہندوستانی مقبوضہ کشمیر میں گرفتاریوں پر واویلا اور اسے بھارت کا مقروع چہرہ سامنے آنے کی بات تو کرتی ہیں مگر اپنے زیر انتظام آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں حقوق کی آواز اٹھانے والوں پر غداری کے مقدمے درج کرتی ہے۔

کوکا کولا پینے کے بعد پہلے ایک گھنٹے میں کیا ہوتا ہے؟

وگوں کی ایک بڑی تعداد کوکا کولا انتہائی شوق سے پیتی ہے لیکن کیا آپ جانتے ہیں کوکا کولا پینے کے بعد پہلے ایک گھنٹے میں آپ کے جسم کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟ اور اس کے کتنے منفی اثرات ہیں؟

پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں قوم پرستوں پر بغاوت اور غداری کے مقدمے درج

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے وائس چیئرمین راجہ مظہر ایڈوکیٹ کا کہنا تھا کہ بھارت اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر، گلگت بلتستان اور اقصی چین کشمیر کا حصہ ہیں اور ان کے مستقبل کا فیصلہ ہونا باقی لہذا یہاں بغاوت کے مقدمات بنتے ہی نہیں اور ان کی جماعت کشمیر کی آزادی اور دونوں ممالک کی افواج کے انخلا کی بات کرتی ہے جو اقوام متحدہ کی عین قرادادوں کے مطابق ہے۔

کیا آزادکشمیر کی محدود شناخت بھی دائو پر ہے

وزیراعظم اپنے ارباب اختیار سے دوٹوک انداز میں یہ بات بھی کریں کہ انتظامی رشتوں کے معاہدوں کی توہین ایسا عمل ہے جس سے نفرت جنم لے گی ، احساس محرومی بڑھےگا۔۔۔۔۔۔۔اور اس کے نتائج کبھی بھی اچھے نہیں ہوتے۔

آزاد کشمیر حکومت کا نیلم ویلی میں جنگلات کے کٹاؤ کا خطرناک منصوبہ

نیلم ویلی کے جنگلات صرف نیلم ویلی ہی کے نہیں آزاد کشمیر، پنجاب اور سندھ کی بقاء کے بھی ضامن ہیں جنگلات کے خاتمے کا یہ خطرناک منصوبہ ہر حال میں روکنا ہو گا وگرنہ چند برس بعد خطہ میں جنگلات کا صرف نام باقی رہ جائے گا۔

تماشائی اور تماشا

جس ضرورت کے لیے آپ 9ارب 50کروڑ خرچ کر رہے ہیں اس کا بجٹ صرف 50کروڑ کا ہندسہ ہے ، پھر اتنے بڑے نظام اور اتنے بڑے بجٹ کا فائدہ۔۔۔۔۔ کیا دیہی علاقوں میں صحت کی سہولیات ہیں

پیڑ کاٹنے آئے ہیں کچھ لوگ میرے گائوں میں

پیڑ کاٹنے آئے ہیں کچھ لوگ میرے گائوں میں
ابھی دھوپ تیز ہے بیٹھے ہیں اس کی چھائوں میں

حکومت آزادکشمیر بجٹ 2019-20۔ایک جائزہ > عبدالحکیم کشمیری

حکومت آزادکشمیر کی طرف سے مالی سال 2019-20کے لیے پیش کردہ بجٹ کے حوالے سے ذمہ داران یا ارباب اختیار کے بارے میں اگر بات کی جائے تو یہ جملہ روز روشن کی طرح درست ہے کہ ان کی بھوک اخلاقیات کے سانچوں میں نہیں ڈھل سکی

پاکستانی زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت نے آئندہ مالی سال کےلئے 121 ارب کا بجٹ پیش کر دیا، بجٹ خسارہ پچیس ارب ہوگا

آئندہ مالی سال کیلئے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں 11فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔شاہرات کیلئے 9ارب90کروڑ10لاکھ، تعلیم کیلئے2ارب67کروڑ،صحت کیلئے75کروڑ تجویز کیے گئے ہیں۔ گریڈ 1سے 16تک کے ملازمین کی تنخواہوں میں 10،گریڈ17سے 20تک افسران کی تنخواہوں میں 5اور پنشن میں 10فیصد اضافہ تجویز کیاگیا ہے۔

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی کا بجٹ آج پیش کیا جائے گا

آزاد کشمیر کے نئے مالی سال 20-2019 کا بجٹ آج اسمبلی میں پیش کیا جائے زرائع کے مطابق بجٹ کا کل حجم ایک کھرب اور انیس ارب مختص کئے جانے کا امکان ہے ۔

مظفرآباد: دریا بچاؤ تحریک – وجوہات اور مطالبات

نیلم جہلم ہائیڈرو الیکٹرک پراجیکٹ کا کام سال 2008ء میں شروع ہوا۔ اس کی ابتدائی ماحولیاتی تجزیاتی رپورٹ سال 1996ء میں ایک نارویجین کنسلٹنٹ فرم NORPLAN نے تیار کی جسے بعد ازاں جعلسازی سے سال 2010ء میں قابل قبول شکل دے کر ادارہ تحفظ ماحولیات آزاد جموں و کشمیر سے سال 2011ء میں مشروط عدم اعتراض سرٹیفکیٹ حاصل کیا گیا۔

آزاد جموں کشمیر کے قدرتی وسائل پر ایک نظر

جنگلات صرف ازاد کشمیر سے سالانہ پانچ لاکھ سے زیادہ درخت کاٹ لیے جاتے ہیں جنکی مالیت 53ارب 75کروڑ روپے بنتی ہے اسکے علاوہ موسمی حالات اورآگ سے 05 کروڑ پودۓ ضائع ہو جاتے ہیں صرف اس لکڑی کی اسمگلنگ روک کر اگر فرنچیر بنانے کی فیکڑیاں لگای جاہیں

نریندرہ مودی کا نیا بھارت

دنیا کے بدلتے سیاسی حالات اور خاص طور پر پیسیفک ایشیاء کی بدلتی سیاسی پالیسی کو مدنظر رکھتے ہوئے سب ایشیائی ممالک کی نطر بھارت کے عام انتخابات پر تھیں

پی ٹی ایم اور غداری کے فتوے

اب ہوتا کچھ یوں ہے کہ یہ سب کچھ جو اوپر بیان کیا گیا انسان اپنے انفرادی اور اجتماعی فائدے کے لیے کرتا ہے اور اگر انسان کی بنائی ہوئی کسی چیز سے اس کو فائدے کے برعکس نقصان پہنچنے لگے تو وہ اس کو توڑنے یا ختم کرنے میں بھی دیر نہیں کرتا۔ گھر اگر بوسیدہ ہوجائے تو گرا دیا جاتا ہے اور نیا بنا دیا جاتا ہے۔

ٹیٹوال کا کتّا – از سعادت حسن منٹو

ہوائی جہازوں کا کوئی خطرہ نہیں تھا ۔ تو پین ان کے پاس نہ ان کے پاس ‘ اس لئے دونوں طرف بے خوف و خطر آگ جلائی جاتی تھی ۔ ان سے دھوئیں اٹھتے اور ہواؤں میں گھل مل جاتے ۔ رات کو چونکہ بالکل خاموشی ہوتی تھی ۔

کلاشنکوف سے قلم تک کا سفر – دانش ارشاد

ایسے ہی نوجوانوں میں ایک اچھی تعداد ایسے نوجوانوں کی تھی جنہوں نے پاکستان میں تعلیمی سلسلہ آگے بڑھاکر صحافت کے شعبہ کو کیرئر کے طور چن لیا اور قلم وکیمرے کو اپنا ہتھیار اور روزگار بنایا ۔ پاکستا نی زیر انتظام کشمیر اوراسلام آباد میں فی الوقت کم و بیش80 کشمیری صحافی ایسے ہیں

کشمیر کیا بنے گا؟

کشمیر کو علاقے میں ایک مکمل غیر جانبدار ریاست ہونا چاہیے جو پڑوسی اور دیگر ملکوں کے معاملات سے مکمل الگ تھلگ رہے لیکن جہاں ممکن ہو تنازعات کے حل میں متحاربین کی سہولت کاری کرے۔کشمیر اور اہلِ کشمیر کی سلامتی کی ضمانت اس کے ان پڑوسیوں پر فرض ہو گی جواس کے محتاج ہیں۔ وہ کشمیر کو ایک پارک تسلیم کریں اور جس طرح پارکس بلاتخصیص ہرخاص وعام کے لیے کھلے ہوتے ہیں

گلگت بلتستان امپاورمنٹ آرڈر 2018کیا ہے؟

گلگت بلتستان میں اندرونی خلفشار وغیرہ کو بنیاد بنا کر پاکستانی وزیراعظم ایمرجنسی نافذ کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔
ایمرجنسی کے نفاذ پر گلگت بلتستان کی حکومت کے تمام انتظامی اختیارات پاکستانی وزیراعظم کو منتقل ہو جائیں گے۔ جو ان کا خود استعمال کرے گا یا گورنر کو اختیار دے۔

زینب، فریال اور فرشتہ کا مجرم کون؟

ہم باآواز بلند مجرم کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کی مانگ کرتے ہیں، اس کی موت یا سزائے موت سے ہماری اجتماعی بے حثی اور ضمیر کی تشنگی ختم ہو جاتی ہے۔ ہماری غیرت جو چند لمحوں کے لیے جاگتی ہے اس کی تشفی ہو جاتی ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہم نے برے کو ختم کر کے برائی کو ختم کر دیا ہے۔

اسدالدین اویسی سمیت 22 مسلم امیدوار کامیاب

بھارت میں حالیہ ہونے والے انتخابات کے ووٹوں کی گنتی گزشتہ روز کی گئی۔ بھارتی ٹی وی اور الیکشن کمیشن کے مطابق انتہائی دائیں بازوں کی سیاسی جماعت بھارتی جنتا پارٹی زیادہ نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔

کشمیر: جنگجو کمانڈر ذاکر موسیٰ ہلاک

مئی (یو این آئی) جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے ڈاڈسرہ ترال میں جمعرات کی شام ہونے والے ایک تصادم میں انصار غزوۃ الہند نامی تنظیم کے کمانڈر ذاکر موسیٰ سمیت دو جنگجوئوں کو ہلاک کیا گیا

پیرامڈز کے بارے میں دلچسپ باتیں

جب ہم پیرامڈ کی بات کرتے ہیں تو ہر کوئی مصر، غذا کی سطح مرتفع اور قاہرہ کے باہر تین بلندو بالا پیرامڈ کے بارے میں سوچتا ہے۔تاہم، کیا آپ جانتے ہیں کہ سینٹرل امریکہ میں 1000 سے زائد پیرامڈ ہیں؟

معائدہ امرتسر، متفرق و متضاد پہلو

معاہدہ امرتسر بلا شبہ ریاست جموں کشمیر کی تشکیل و تعمیر کی بنیاد بنا، جہاں اہل علم اس کی اہمیت و افادیت سے بخوبی واقف ہیں وہیں تاریخ و سیاست سے نابلد ایسے لوگ یا گروہ بھی موجود ہیں جو تاریخی حقیقتوں کا انکار کرتے ہوئے جہاں اس معاہدہ پر غیر انسانی ہونے کا لیبل لگاتے ہیں وہیں اس کی غلط اور من مانی تشریحات کرتے ہوئے غیر منطقی

پاکستان کا گلگت بلتستان اور کشمیر پر تضاد: وسعت اللہ خان

اگرچہ کشمیر اور گلگت بلتستان کے جغرافیائی حجم میں ایک اور آٹھ کا فرق ہے اور متنازعہ ہونے کے سبب دونوں علاقے پاکستان کے آئینی وفاق کا تکنیکی اعتبار سے باضابطہ حصہ نہیں بن سکتے لیکن یکساں متنازعہ حیثیت ہونے کے باوجود کشمیر اور گلگت بلتستان سے ایک جیسا آئینی ،قانونی ، انتظامی و سیاسی برتاؤ جانے کیوں ضروری نہیں سمجھا گیا۔

مسئلہ کشمیر میں تیسرا انتخاب: لبنی ہارون

“خودمختار کشمیر” ریاست جموں و کشمیر کے دونوں حصوں میں ایک ابھرتے ہوئے رحجان کی صورت اختیار کر گیا ہے جو مسئلہ کشمیر کے حل میں تعطل سے نمایاں ہوا ہے، اس کو مجموعی طور پر تھرڈ آپشن کہا جاتا ہے.

مسئلہ کشمیر، ہیرو ازم اور فلسفہ جہاد

اب ہمیں اس بات کا فیصلہ کرنا ہو گا کہ آخر ہم چاہتے کیا ہیں، کشمیریوں کی نسل کشی یا پھر مسئلہ کشمیر کا پرامن طریقے سے حل، اگر ہم جماعت اسلامی کے جہاد والے فلسفے پر عمل کرتے رہے تو بعید نہیں کہ آمدہ دس سے پندرہ سال میں ویلی کے اندر صرف عورتیں بچ جائیں گی اور سب مرد بھارتی فوج کی گولی کا نشانہ بن جائیں گے۔

پشتنی باشندگی قوانین اور گلگت بلتستان

سٹیٹ اسبجیکٹ رولز کا نفاذ نہ ہونے کی وجہ سے جہاںگلگت بلتستان میں عوام روز اول سے مقامی وسائل سے محروم رہے وہیںغیر ریاستی افراد کو جائیدادوں کی الاٹمنٹ بھی کی گئی ۔

استحصال کیا ہے؟

ہم روز مرہ زندگی میں استحصال کا لفظ بیسیوں بار سنتے ہیں۔ استحصال کرنے والوں کو برا سمجھتے ہیں اور استحصال زدگان سے ہمدردی کرتے ہیں۔

منجمد سوچيں نسلوں کی دُشمن؛ رضوان اشرف

بڑے دماغ جو تجزيہ کرتے ہيں اُنکی عملًا اہميت صديوں بعد بھی ويسے ہی ہوتی ہے جيسے کہ آج کا تجزيہ ہو۔ اسکی ايک وجہ استحصال کے بنيادی اصولوں کا تبديل نہ ہونا بلکہ محض شکليں بدلنا ہے۔

لبریشن فرنٹ پر بھارتی پابندی

یوں بھی کشمیری بھارت سے ویسے بھی کسی خیر کی توقع کم ہی رکھتے ہیں۔اتنا بڑا ملک ہونے اور خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت سمجھنے والا بھارت اس قسم کے ہتھکنڈوں کی مدد سے کشمیریوں کے جائز اور مبنی بر حق مطالبے کونظر انداز نہیں کر سکتا۔بھارت کوایسے غیر سنجیدہ فیصلوں سے اجتناب کرنا چاہیے

تو زندہ ہے تو زندگی کی جیت پر یقین رکھ ؛ احسن علی

آئنسٹائن نے بھی بہت سی پیشن گوئیاں کی جن میں سے ایک یہ تھی کہ اگر میرا کشش ثقل کا نظریہ درست ہے تو اس کائنات میں ایسے اجسام بھی موجود ہوں گے جو اتنے وزنی ہونگے کہ روشنی کے زرات بھی اس کے اندر گم ہو جائیں گے۔

کشمیری سماج اور حصول تعلیم کی دوڑ

ایسے حالات میں حاصل کردہ علم اور علم کی دوڑ میں برتری حکمران طبقے کہ مفاد میں تو ہو سکتا ہے لیکن عام عوام اپنی زندگیوں میں اس سے کوئی پائدار فائدہ نہیں اٹھا سکتی.

قومی آزادی کی تحریک اور فکری ابہامات ؛ عذیر شفقت

ریاست جموں کشمیر کی بالعموم اور بالخصوص پاکستانی مقبوضہ جموں کشمیر کی آزادی پسند پارٹیاں
جب ریاست کے مسلم و غیر مسلم عناصر کے اشتراک پر اپنی قومی تحریک کو استوار کرتے ہوئے وطن
کی آزادی کی جدوجہد کرتی ہیں تو مختلف فکری ابہامات کی ترویج کر کے عوام کی وسیع پرتوں کو اس
وطنی آزادی کی تحریک سے دور رکھنے کی سعی کی جاتی ہے۔ گزشتہ ستر سالوں سے پاکستانی
مقبوضہ جموں کشمیر میں بالخصوص اور بالعموم ریاست کے دیگر حصوں میں ازبس یہ فکر منتقل کی
گئی ہے

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ رول موجودہونے کا دعویٰ کردیا۔

جمعہ کے روز ہفتہ وار نیوز بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان نے کہا ہے کہ بھارت گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کو بنیاد بناتے ہوئے وہاں ترقیاتی کاموں کو یرغمال بنانا چاہتا ہے جسے ترجمان نے ناقابل قبول قرار دیا ۔ انہوں نے مزید کہا ہے بھارت کی مذکرات سے مسلسل انکار کی وجہ سے مسئلہ کشمیر پر کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی ہے۔

-کاکاٹیوں کا ہیرا اور ریاست جموں کشمیر مدثر شاہ

1751 میں اس کے پوتے نے احمد شاہ ابدالی کو اپنی فوجی مدد کے بدلے میں کوہ نور ہیرا دے دیا، یوں کوہ نور ہیرا افغانوں کی ملکیت میں چلا گیا، احمد شاہ ابدالی کی وفات کے بعد کوہ نور اس کے بیٹے شاہ تیمور اور پھر اس کے بیٹے شاہ شجاع کی ملکیت میں چلا گیا، شاہ شجاع کو اس کے بھائی شاہ محمود نے بغاوت کر کے معزول کر دیا،

مہاراجہ پرتاب سنگھ : ترقی اور اصلاحات کے چالیس سال-مدثر شاہ

پرتاب سنگھ نے کوہالہ سے بارہمولا تک جہلم ویلی کارٹ روڈ کی تعمیر شروع کی جو 1889 میں مکمل ہوئی، بعد ازاں 1897 میں اس سڑک کو سرینگر تک پہنچا دیا گیا، یہ ریاست جموں کشمیر میں تعمیر ہونے والی پہلی سڑک تھی، اس کے بعد جموں اور سرینگر کے درمیان بانیہال کارٹ روڈ تعمیر کی گئی جو 1922 میں آمدورفت کے لئے کھولی گئی، ان سڑکوں کے علاوہ دیگر بیشمار سڑکیں بھی تعمیر کی گئیں جو سرینگر کو گلگت، لیہہ اور دیگر بہت سے علاقوں سے ملاتی تھیں، ان سڑکوں کی تعمیر سے عوام الناس کو بہت فائدہ پہنچا، اس امر کا اندازہ ایسے لگایا جا سکتا ہیکہ پرتاب سنگھ کے دور سے قبل ریاست جموں کشمیر میں بیل گاڑی/ٹانگہ حتٰکہ ہتھ ریڑھی تک موجود نہ تھی

ریاست جموں کشمیر کی عدلیہ اور نظام انصاف |مدثر شاہ

ایک متحرک، موثر اور آزاد عدلیہ ملکی انتظام و انصرام میں ایک بنیادی حیثیت رکھتی ہے، ریاست جموں کشمیر کی تشکیل کے بعد گلاب سنگھ […]

خول اترا تمہارا تو

2014 میں ایک طلباء تنظیم نے روایتی قوم پرست بیانیہ میں موجود خامیوں اور تضادات کی نشاندہی کرتے ہوئے بھارت اور پاکستان کے سرکاری بیانیوں کے چربہ کو رد کرتے ہوئے ایک مقامی جوابی بیانیہ کی تشکیل پر کام شروع کیا جو مکمل طور پر ایک “ایکیڈیمک” طرز پر آگے بڑھ رہا تھا کہ اچانک کچھ لوگ ایک مکمل اور خالص علمی و تاریخی بحث میں خاندانوں اور قبیلوں کی لڑائی لڑنا شروع ہو گئے،

سیز فائر لائن پر زندگی کیسے گزرتی ہے

اندھیرا چھٹتے ہی آپ کو پتا چلتا ہے کہ آپ کے ہمسائے میں رہنے والے ستر سالہ بزرگ رات کو باہر نکلے تھے واپس نہیں لوٹے صبح ان کی گولی لگی لاش سامنے والے کھیت سے ملی ہے ۔ انوار صاحب کے بچے صبح اسکول جا رہے تھے راستے میں وین پر گولا لگا ڈرائیور ہلاک ہو چکا ہے دو بچے بھی ساتھ ہی داعی اجل کو لبیک کہہ گئے باقی کہ ہسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں۔

للہ دید…. کشمیر میں مخلوط تمدن کی علامت

نائیلا علی خان کشمیر کی ملی جلی تہذیب کی درخشاں علامت للہ دید کا وجود ہے جس کو کشمیر کے ہندو اور مسلمان یکسان طور […]

قوم ، ریاست اور قومی شناخت

قوم کا بنیادی تصور انسانوں کا ایسا گروہ ہے جو نسل ،زبان، تہذیب وثقافت، تاریخ ، مذہب ،علاقائی یا جغرافیائی حدود کے بندھن میں ایک […]

مسئلہ کشمیر۔ نظر ثانی کا تقاضہ

دوسری جنگ عظیم کے بعدبرصغیر سمیت دنیا بھر کی محکوم اقوام میں سیاسی شعور نے نئی کروٹ لی اور وہ حقوق کیلئے آواز اٹھانے لگے دوسری جانب توسیع پسند سامراجی سلطنتوں کو بھی سیاسی و معاشی بدحالی نے گھیرا تو انہوں نے دنیا کے مختلف خطوں سے بوریا بستر سمیٹنا شروع کر لیا۔

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا 15 جولائی کو مظفرآباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان

مظفرآباد: جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے حکام کے ساتھ مذاکرات کے لیے دی گئی 8 جولائی کی ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد 15 […]

پاکستانی زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں عوامی رائے، خودمختاری کا مطالبہ اور ریاستی پالیسی: مختلف سروے رپورٹس کا جائزہ

پاکستانی بیوروکریسی اور حکمران اشرافیہ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں عوام کی ایک قابلِ ذکر […]

ٹرمپ شاید وینزویلا سے روایتی جنگ نہیں چاہتے ہیں۔

اس وقت واشنگٹن میں سب سے بلند آواز میں پوچھا جانے والا سوال یہ ہے کہ کیا ڈونلڈ ٹرمپ وینزویلا پر حملہ کرنے جا رہے […]

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال اور مہاجر نشستوں کا مسئلہ

آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں پاکستان میں آباد مہاجرین کے لیے مخصوص 12 نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ، جو مشترکہ عوامی […]

دہشت گردی ایک نوآبادیاتی اصطلاح

دہشت گردی کا تصور عموماً ایک غیر جانبدار اور آفاقی اصطلاح کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، لیکن درحقیقت یہ ایک گہری سیاسی اور […]

انڈیا پر تنقید کرنے والی انڈین پروفیسر کی انڈین شہریت منسوخ

وہ امریکی کانگریس کے سامنے کشمیر میں انسانی حقوق کی زبوں حالی اور سیاسی صورت حال پر بیان دے چکی ہیں

انڈین حکومت نے تنقید کرنے پر پروفیسر کو گرفتار کرلیا

گزشتہ روز اشوکا یونیورسٹی کے شعبۂ سیاسیات کے سربراہ اور ایسوسی ایٹ پروفیسر علی خان محمودآباد کو دہلی میں “آپریشن سندور” کے تناظر میں ایک سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ایک ٹویٹ کی وجہ سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔