38 روزہ احتجاجی تحریک میں جاں بحق افراد کی تعداد 41 سے تجاوز، سینکڑوں افراد حراست میں

مظفرآباد: جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JKJAAC) کی احتجاجی تحریک کے دوران گزشتہ 38 روز میں ہونے والے دھرنوں، احتجاجی مظاہروں، جھڑپوں اور سکیورٹی […]

پونچھ ڈویژن میں جھڑپیں، پانچ افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات

راولاکوٹ / بلوچ / تراڑکھل: پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر کے پونچھ ڈویژن میں پیر کی رات سے منگل کی صبح تک پیش آنے […]

پنے رام – افسانہ

“کتی کے بچے! یہ بتاؤ کہ پہلے تمھاری شلوار اتار کر شروع کریں یا تمھاری ماں کی شلوار اتاریں؟؟” یہ جملہ پنے رام کے کانوں […]

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا 15 جولائی کو مظفرآباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان

مظفرآباد: جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے حکام کے ساتھ مذاکرات کے لیے دی گئی 8 جولائی کی ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد 15 […]

انڈیا پر تنقید کرنے والی انڈین پروفیسر کی انڈین شہریت منسوخ

وہ امریکی کانگریس کے سامنے کشمیر میں انسانی حقوق کی زبوں حالی اور سیاسی صورت حال پر بیان دے چکی ہیں

شری رام سیناکا تین کشمیری طلبا کی زبان کاٹنے پر 3 لاکھ روپے انعام کا اعلان

ساوتھ ایشین وائر کے مطابق مبینہ طور پر کہا جاتا ہے کہ انہوں نے بدھ کے روز گڈگ میں منعقدہ ایک پروگرام میں یہ خیالات دیئے اور کہا ، “ملک دشمنوں کے لئے یہاںکوئی جگہ نہیں ہے”۔

پاکستانی زیر انتظام کشمیر: چودہویں آئینی ترمیم کی بازگشت،عوامی حلقوں میں تشویش

ہندوستان کی طرح پاکستان کا ریاست میں مالیاتی اداروں کو براہ راست رسائی دینا انتہائی بے چینی پیدا کر دینے والا عمل ہو گا جس سے عوام میں پائی جانے تقسیم اور ضم کرنے کے حوالے سے ہائی جانے والی تشویش میں مزید اضافہ ہو گا.

چپاتیوں میں خط چھپا کر والدہ سے رابطہ کیا: التجا مفتی

محبوبہ مفتی کی بیٹی التجا اقبال کی جانب سے شیئر کئے گئے پیغام میں گزشتہ چھ ماہ سے مقبوضہ وادی میں ہونے والی انسان حقوق کی خلاف ورزیوں کا تذکرہ کیا گیا ہے۔

یکجہتی کشمیر فقط سرکاری ڈرامہ

پاکستان میں اب کشمیر اور اس سے جڑے ہوئے کسی مسئلے کا نام یا تو فیشن کے طور پر لیا جاتا ہے یا پھر حب الوطنی اور مزہبی جذبات سے مجبور ہو کر وگرنہ پاکستانیوں کو اس مسئلے سے سرے سے کوئی لگاؤ ہے ہی نہیں، شاید یہی وجہ تھی کہ عمران خان نے بھی دو جمعے بے وضو یکجہتی کرنے کے بعد توبہ کر لی تھی۔

نوے فیصد کشمیری خود مختاری کے خواہاں ہیں: سروے رپورٹ

ریوٹر لکھتا ہے “مسلم اکثریت والے شہر سے صرف تین فیصد کا خیال ہے کہ انہیں پاکستان میں شامل ہونا چاہیے جبکہ سات فیصد ہندوستانی حاکمیت کو ترجیح دیتے ہیں”