مظفرآباد: جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے حکام کے ساتھ مذاکرات کے لیے دی گئی 8 جولائی کی ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد 15 جولائی کو مظفرآباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کر دیا ہے۔
اعلان کے مطابق لانگ مارچ راولاکوٹ سے شروع ہوگا اور پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کی طرف بڑھے گا۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے لیے مقررہ مدت کے دوران مطالبات پر کوئی بامعنی پیش رفت نہ ہونے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔
اس سے قبل عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے خبردار کیا تھا کہ اگر 8 جولائی تک حکومت کی جانب سے سنجیدہ مذاکرات نہ کیے گئے تو تحریک اپنے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔ عرب نیوز کے مطابق کمیٹی رہنماؤں نے پہلے ہی کہا تھا کہ اگر حکومت نے مذاکرات کے ذریعے حل کی طرف پیش رفت نہ کی تو مظفرآباد کی طرف مارچ کیا جا سکتا ہے۔
عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات میں حکومتی اصلاحات، سیاسی نمائندگی، عوام کو معاشی ریلیف، حکمران طبقے کی مراعات میں کمی اور پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کے لیے مخصوص 12 قانون ساز نشستوں کا خاتمہ شامل ہے۔ کمیٹی کا مؤقف ہے کہ یہ نشستیں پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر کے سیاسی عمل پر اثر انداز ہوتی ہیں، حالانکہ ان کا انتخاب اس خطے سے باہر ہوتا ہے۔
یہ لانگ مارچ ایسے وقت میں اعلان کیا گیا ہے جب پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر کے مختلف علاقوں میں گزشتہ کئی ہفتوں سے بے چینی پائی جا رہی ہے۔ اس سے قبل خطے کے مختلف شہروں اور قصبوں میں احتجاج، ہڑتالیں، سڑکوں کی بندش اور مظاہرے دیکھنے میں آئے، جن کے دوران مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حالیہ دنوں میں مظفرآباد سمیت کئی علاقے ہڑتال کے باعث مفلوج رہے۔ حکام نے سیکورٹی فورسز تعینات کیں اور عوامی ایکشن کمیٹی کے کئی سینئر رہنماؤں کے خلاف مقدمات بھی درج کیے۔
پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر کی حکومت نے جون میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو خطے کے انسدادِ دہشت گردی قانون کے تحت کالعدم تنظیم قرار دیا تھا۔ حکومت نے الزام لگایا تھا کہ کمیٹی کی سرگرمیاں امن و امان اور سلامتی کے لیے نقصان دہ ہیں۔ تاہم عوامی ایکشن کمیٹی نے اس پابندی کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عوام کے حقوق کے لیے چلنے والی تحریک ہے۔
حکام اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ وہ کئی معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہیں، تاہم بعض آئینی معاملات، جن میں مہاجرین کے لیے مخصوص نشستوں کا مسئلہ بھی شامل ہے، قانونی اور قانون سازی کے عمل کے ذریعے ہی حل ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب احتجاجی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حکومت عوام کے بنیادی مطالبات پر سنجیدہ پیش رفت کرنے میں ناکام رہی ہے۔
15 جولائی کے لانگ مارچ کے اعلان کے بعد انتظامیہ پر دباؤ میں مزید اضافہ متوقع ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب کئی اضلاع میں کشیدگی پہلے ہی برقرار ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور شہریوں نے انٹرنیٹ کی بندش، گرفتاریوں، سڑکوں کی بندش اور احتجاج کے دوران طاقت کے استعمال پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔
رائٹرز کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی وسیع پیمانے پر کریک ڈاؤن، انٹرنیٹ بندش، بڑی تعداد میں گرفتاریوں اور طاقت کے مہلک استعمال پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔
15 جولائی کے لانگ مارچ کے اعلان پر حکومت کی جانب سے فوری طور پر کوئی تفصیلی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم حکومت ماضی میں یہ کہہ چکی ہے کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے، لیکن عوامی نظم و ضبط میں خلل ڈالنے یا سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
آئندہ چند روز اس حوالے سے اہم سمجھے جا رہے ہیں کہ آیا فریقین دوبارہ مذاکرات کی طرف بڑھتے ہیں یا حالات ایک اور ممکنہ تصادم کی طرف جاتے ہیں۔ فی الحال عوامی ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ اگر اس کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو لانگ مارچ مظفرآباد کی طرف روانہ ہوگا۔