Usama Mumtaz 205

سوچنا ہے منع ، بولنا ہے منع

پورے پاکستان اور نام نہاد آزاد کشمیر میں عوام اور ایک اتھارٹیرین ریاست کا مقابلہ جاری ہے۔ عوام ریاست سے سوشل کنٹریکٹ اس لیے کرتے ہیں کے انکو بنیادی ضروریات اور جانی مالی تحفظ فراہم ہو اور اس کے بدلے وہ ریاستی قانون کے پابند ہوتے ہیں مگر موجودہ اتھاریٹیرین ریاست اور اس کے ادارے لوگوں کو بنیادی ضروریات کی فراہمی میں ناکام ہی نہیں ہوئے مگر اپنی ناکامی اور بلنڈرز چھپانے کو طاقت کا بے جا استعمال کر رہے ہیں اور عوام کی اظہار رائے کی آزادی بلکل صلب ہو چکی ہے۔

نام نہاد آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں پاکستانی قوانین تو اپلائی نہیں ہوتے لیکن ایکٹ 74 جیسے کالے کالونیل قوانین کی ذریعے بنیادی انسانی حقوق اور یونائیٹڈ نیشنز ہیومن رائٹس کونسل کی قراردادوں   کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ کالے قوانین کا استعمال کر کے لوگوں کو بنیادی حقوق کے لیے آواز اٹھانے سے روکنے اور خاموش کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ریاست پاکستان ہندوستانی مقبوضہ کشمیر میں گرفتاریوں پر واویلا اور اسے بھارت کا مقروع چہرہ سامنے آنے کی بات تو کرتی ہیں مگر اپنے زیر انتظام آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں حقوق کی آواز اٹھانے والوں پر غداری کے مقدمے درج کرتی ہے۔ 

عطاآباد جھیل کے متاثرین کا معاوضہ مانگنے پر بابا جان اور ان کے ساتھیوں کو عمر قید سنا دی گئی جب کے آزاد کشمیر میں آئے روز سیاسی بنیادوں پر گرفتاریاں اور غداری جیسے مقدمات ریاست جموں کشمیر کے باسیوں کو  سپرا نیشنل آرگنائزیشز  کے دیے گئے حقوق جن پر ہندوستان اور پاکستان عمل کرنے کے پابند ہیں انکی سنگین خلاف ورزی ہے۔ عوام اور ریاست کا سوشل کنٹریکٹ ایک دو طرفہ معاہدے کے ذریعے ہوتا ہے اور عوام اس معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں اپنے لوگوں کو ریاستی اداروں کی تحویل میں دیتی ہے تاکہ یہ معاہدہ چل سکے مگر جب ریاست اپنے کیے گئے وعدے وفا نہ کر سکے اور  معاہدے  کی خلاف ورزی کرے تو عوام اس معاہدے کو توڑنے کی مجاز ہوتی ہے۔

آج پاکستان میں ریاست جموں کشمیر کے منقسم حصوں میں تقسیم علاقوں میں موجود تمام لوگوں کو اس جنگ کا حصہ بننا چاھیے کیونکہ اگر آج اس اظہار رائے پر حملوں کو نہ روکا گیا تو اس نظام کی ریاست جو کے جبر کا آلہ ہے کل ہماری سوچوں پر بھی پابندی لگائے گی اور ہائی پولیٹکس  کی چکی میں عام عوام پس کے رہ جائے گی اور یہ جبر اپنی جڑیں اتنی مضبوطی سے پکڑ لے گا کے آپ کا چلنا  بولنا دشوار ہو کر رہ جائے گا۔

آج ریاست سے معاوضہ لینے والے لوگوں کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کے ریاستوں سے زیادہ لوگ میٹر کرتے ہیں اور ہر معاملے میں ریاست کے بلا تنخواہ سپاہیوں کو بھی یہ سمجھنا چاھیے کے عوام کے بغیر ریاست کے کیا معنی ہیں؟ اسلئے اگر وہ جبر وہ نا انصافی میں ریاست کا ساتھ دیں گے تو یہ اصل غداری ہو گی۔

عوام متحد اور متفق ہو کر ان جارحانہ حکومتوں اور ریاستوں سے اپنے حقوق با آسانی لے سکتی ہے اسلئے اس گھڑی میں سب لوگ یک زبان ہو کر بنیادی انسانی حقوق کی بحالی کے لیے جدوجہد کریں اور ثابت کریں کے طاقت کا سر چشمہ عوام ہوتی ہے اور بے شک ریاست کو کتنی ہی بیرونی دنیا سپورٹ کر رہی ہو۔ منظم اور متحرک عوام اپنے حقوق لینا جانتے ہیں اور فل حال آزادی حق رائے پر کوئی شب خون نہیں مارنے دیا جائے گا۔

کیا ڈر جو نور کی چاہت میں ہم کو بھی شب غم کھا جائے
کچھ لوگ ایسے بھی ہونگے جو صبح درخشاں دیکھیں گے