210

عورت اور سماجی رتبے کی لڑائی

اس کائنات میں موجود کوئی بھی مظہر ازلی و ابدی نہیں ہے۔ کائنات میں کوئی بھی چیز  دیکھ لیجیئے یہ تبدیل ہوئی ہے اور ہو رہی ہے۔ آپ کے رسم و رواج، مذہب، سیاست، شناخت، عقیدے گو کہ کوئی بھی شہ دیکھ لیجیے ۔ یہ جیسی نظر آ رہی ہے، کل کو ایسی نہ تھی اورنہ  کل کو ایسی ہو گئی۔ سماج میں ہمیشہ نئے و پرانے کی جنگ موجود رہتی ہے۔ چیزیں بہتر سے بہترین کی طرف سفر کر رہی ہوتی ہیں، کبھی انقلابی تو کبھی ردانقلابی قوتیں برسراقتدار آتی رہی ہیں۔ ردانقلابی قوتوں نے ہمیشہ چیزوں کو روک کر رکھنے کی کوشش کی ہے۔اُن کی تعمیر و  نشونماء کو تخریب کاری میں تبدیل کرکہ جمود طاری کرنے کی کوشش کی ہے۔ اب مزدور خواتین کا دن آرہا ہے اسکی  وجہ سے پاکستان میں ایک بحث کا آغاز ہوا ہے۔ مختلف سلوگن سامنے آنے کے بعد انکی تعریف یا تنقید  جاری ہے۔ آئیں اسکا تاریخی بنیادوں پر تجزیہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ آخر تاریخ کن مراحل سے گزر کریہاں  تک پہنچی ہے۔

 عور ت کی سماجی حیثیت ہمیشہ سے مغلوب یا کمزور نہیں رہی بلکہ انسانی ارتقا کے ابتدائی سالوں میں مرد اور عورت میں کسی قسم کی سماجی و طبقاتی تفریق موجود نہیں تھی۔ انسان کا بنیادی تضاد فطرت سے تھا۔ موسم کی سختی  اور  خودسے  طاقتور جانوروں سے  محفوظ رہنے کے لیے انسان گروہوں کی صورت رہنا شروع ہوا۔ فطرت کے طاقتور ہونے کی وجہ سے انسان کا زیادہ وقت خوراک کی تلاش اور اپنی جان کی حفاظت میں صرف ہوتا رہا ہے۔ ایسے حالات میں انسانوں کے درمیان  صنفی و طبقاتی تقسیم کی گنجائش موجود نہ تھی۔ اس لیئے وہ لوگ جو سماجی و طبقاتی تقسیم کو ازلی سمجھتے ہیں ۔

اسکی کوئی دلیل یا جوازیت کم از کم انسانی تاریخ سے نہیں ملتی۔ ہان امور کی تقسیم شروع دن سے رہی۔ عورتیں بچوں کی نگہداشت اور دیکھ بھال کے لیے الگ سے وقت صرف کرنے پر مجبور تھیں اور مردوں کا زیادہ تر وقت شکار اور دفاعی نوعیت کے امور سر انجام دینے پر وقف ہوتا تھا۔عورت کے ہاتھوں زرعات کی بنیادیں استوار ہوئیں۔ عورت کا گھر،زمین سے جڑت(زراعت)  ، سماج ، بچوں کے ساتھ زیادہ وقت گزرنے کی وجہ سے عورت کی سماجی برتری کی بنیادیں استوار  ہوئیں  جوکہ بعد میں مادر سری سماج کو قائم رکھنے کی وجہ بنی۔جوکہ (مادر سری سماج ) ہزاروں سال تک قائم رہا۔ (مادر سری سماج   : ایسا سماج جہاں عورت کی حکومت تھی۔ زمین،وسائل و بچوں کی ملکیت عورت کے پاس تھی)۔

مگر یہ سب تب تک قائم رہا جب تک انسان کے ہاتھ ہتھیار نہ لگے، بلخصوص دہات سازی ۔ دہات سازی سے انسان نے  ایسے ہتھیار بنا لیے جن سے نہ صرف شکار کرنے میں آسانیاں پیدا ہوئیں بلکہ اپنی جانوں کی حفاظت بھی آسان ہو گئی۔ وہی وقت جو انسان پہرے داری و شکار کی تلاش  میں گزارتا تھا ، اسی وقت کو ہتھیار آنے کے بعد  دولت جمع کرنے میں صرف کرنےلگا۔ اب مادی وسائل و  ہتھیار کے استعمال کی وجہ سے کھانے پینے کی اشیاء میں اضافہ اور  مرد کا سماجی رتبہ بحال ہونے لگا۔  موسم گزر جانے کے بعدخوراک کی قلت نے بھوک کی نفسیات نے جنم دیا۔ جہاں سےخوراک و اشیاء  کو جمع کرنے کی ابتداء ہوئی جوکہ بعد میں جاکر ایک سخت  و گہری طبقاتی سماج کی بنیادیں ڈالنے کی وجہ بنی۔

پہلا طبقاتی سماج  غلامانہ نظام کے طور پر سامنے آیا۔ ذہنی اور جسمانی محنت کی تقسیم نے عورت کے  سماجی مرتبے کو جہاں  کمتر کرنے کے لیے سازگار حالات پیدا کیے وہیں انسانی نسل کو غلام بنانے کی بنیادیں بھی فراہم کیں۔زراعت کے بجائے غلاموں سے پیداوار کی جانے کی وجہ سے عورتوں کا پیداوار میں عمل دخل کم ہونے لگا۔جوکہ بعد میں انکو گھر تک محدود کرتا چلا گیا  اور بعد میں ،ملکیت کے رشتے سے بیدخل کر دیا گیا۔

نوبت یہاں تک آن پہچی کہ عورت بحیثیت شے کسی کی ملکیت میں چلی گئی۔ اب سوال زائد دولت کو نسلوں تک منتقل کرنے کا آیا۔ جسکی وجہ سے شادی، بیاہ و بندھن جیسی سماجی مظاہر نے جنم لیا اور اس مظہر کے ذریعہ سےنجی ملکیت  کو  اپنی نسل تک محدود کیا گیا۔ جوکہ بعد میں کنبہ ، قبیلے کی بنیاد بنتا چلا گیا۔ اور یوں مدرسری سماج کا خاتمہ ہوا اور پدرسری سماج معرضِ وجود میں آیا۔( پدرسری سماج: ایسا سماج جہاں مردوں کی حکومت ہو۔ زمین،وسائل و بچوں کی ملکیت مردکے پاس ہے)۔

 غلاموں نے ایک لمبی جنگ لڑنے کے بعد غلامانہ عہد کا خاتمہ کیا۔ غلامانہ عہد کے بطن سے جاگیرداری نے جنم لیا۔ جہاں  زمین سے پیداوار کی جانے لگی۔ زمین کی حفاظت اور جسمانی محنت کے لیے بڑے خاندان کی ضرورت محسوس کی جانے لگی۔جاگیردارانہ عہد کے اندرمرد زیادہ سے زیادہ شادیاں کرنے لگا۔ زیادہ بچے پیدا کرنے والی عورت کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا۔ اب عورت بچے پیداکرنے والی مشین بن کر رہ گئی۔ مگر اولاد کی ملکیت کھونے، نجی ملکیت کا کسی اور کے ہاں منتقل ہونے کے خوف کی وجہ سے عورت کے ساتھ تعلق کو مضبوطی سے ایک مرد تک ہی محدود کر دیا گیا۔

ہندوستان میں تو مرد کے مرنے کے بعد عورت کو تو جلا دیا جاتا تھا  یا تاحیات دوسری شادی کی اجازت  تک نہ دی جاتی تھی   تاکہ کل کو کسی اور کی اولاد اُسکی جائیداد کی وارث نہ بن جائے اور دولت مرد کی نسل  تک محدود رہے۔ سرمایہ داری نے جاگیرداری کی نسبت آزاد مقابلے کی فضا کو جنم دیا جسکی وجہ سے عورتوں نے صنعتوں میں قدم رکھنا شروع کیا اور اپنا کھویا ہوا سماجی رتبہ بحال کرنے کی طرف سفر شروع کیا۔یک زوجگی اور عورت  کو نجی ملکیت میں شراکت داری سرمایہ دارانہ عہد میں  دوبارہ وجود  میں آئی۔ جوکہ آج بھی برابری کی سطح پر نہیں آسکی۔

 1890ء کی دہائی فیمنزم کی سیاسی اصلاح متعارف کروائی گئی۔ (فیمنزم: صنفی بنیادوں پر سیاسی حقوق کی جنگ) ۔ جس نے عورتوں کی صنفی بنیادوں پر حقوق کی جنگ کا آغاز کیا۔   1911 میں امریکہ میں مزدور تحریک اور   سوشلسٹ پارٹی آف امریکہ نے اس دن کو منانے کی ابتدا کی تھی۔1911 میں اس دن کی تقریبات کا افتتاح Clara Zetkin جو کہ جرمن مارکسسٹ اور جرمن کمیونسٹ پارٹی کی ممبر نے کیا تھا۔ اس دن کو 1975 میں اقوام متحدہ نے بھی بنانا شروع کیا۔اور یوں اس کو بین الاقوامی طور پر عورتوں کے دن کے طور پر منایا جانے لگا۔  

دنیا کہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی عورت کو برابری کے حقوق ابھی تک  میسر نہیں آئے ہیں۔ دنیا کا کوئی ملک مکمل طور پر  نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے یہاں تک کہ امریکہ جیسا ملک جہاں عورت مرد کے شانہ بشانہ کام کرتی ہے مگر پھر بھی بے پناہ مسائل میں گھری نظر آتی ہے۔

جس کی چھوٹی سی مثال یوں دی جاسکتی ہے کہ بچے کی پیدائش پر امریکن عورت کو 12 ہفتے تک کی میٹرنٹی لیو دی تو جاتی ہے مگر وہ بنا تنخواہ (without pay) کے ہوتی ہے۔اس وجہ سے ایک کثیر تعداد بچے کی پیدائش کے 3/4 ہفتے بعد ہی اپنے کام پر واپس آجاتی ہے جو کہکسی بھی عورت کے لئے ایک انتہائی غیر صحتمند اور غیر انسانی سلوک ہے ۔

ماضی قریب میں  سویت یونین دنیا کا پہلا ملک تھا جس  نے عورتوں کو نہ صرف برابری کے حقوق دئیے بلکہ زچکی و ماہواری میں میں بھی (Paid) پیڈ چھٹیاں دی گئی ہیں۔ زچگی سے پہلے 56 دن اور زچگی کے بعد 56 دن پیڈ چھٹیاں دی گئیں۔ جتنے بھی سوشلسٹ و نیم سوشلسٹ ریاستیں ہیں وہ یہ تمام سہولیات آج بھی اپنی ریاست کو دے رہی ہیں اور یہ سب اسی نظام میں ہی ممکن تھا۔ کیونکہ انسانیت کی معراج ایک سوشلسٹ نظام میں ہی موجود ہے۔ جسکو مختلف اوقات میں مختلف سماجی حلقے پھلانگ کر اپنائیں گئے۔

سرمایہداری زائد  پیداوار کی وجہ سے منڈیوں کی تلاش کے لیئے سرحد پھلانگ کر آگئے بڑھتی گئی۔ ترقی کے بجائے منڈیوں کا پیداواری عمل تباہ کرتی رہی اور اپنا منافع کماتی رہی  یوں سامراجیت کی شکل میں ڈھل چکی۔(سرمایہداری کا استحصال سمجھنے کے لیئے یہ مثال کافی ہیکہ ہندوستان کے اقتدار میں 1600 کے بعد ایک ایسٹ انڈیا کمپنی حصہ دار رہی ہے۔ جبکہ 1707 سے 1857 تک براہ راست کمپنی حکمران رہی ہے اور یہاں کا پیداواری عمل تباہ کرکہ اسکو منڈی کے طور پر استعمال کرتی رہی ہے)۔

منڈیوں کی تلاش نے جنگوں کوجنم دیا  اور پوریے خطہ زمین پر ناہموار ترقی کی بنیادیں پڑیں ۔ ناہموار ترقی کی وجہ سے ہر جانب   کی تحریکوں، ترقی و شعور میں واضح  فرق موجود ہے۔

براہ راست سامراجی تسلط میں رہنے اور بعد میں مالیاتی اداروں کی شکار ریاست پاکستان میں بھی ناہموار ترقی موجود ہے۔  جہاں پسماندہ و جدید کے  گٹھ جوڑ  نے  یہاں مقامی و بین الاقوامی سرمایہدار و جاگیر دار کو تحفظ فراہم کرکہ رکھا ہے۔پاکستان میں جاگیردارانہ باقیات کی جکڑبندی کی وجہ سے یہاں کا پیداواری تعلق و شعور بھی جاگیردارانہ  رویوں کی  عکاسی کر رہا ہے۔جو  جدید دنیا سے کافی  پسماندہ ہے۔خواتین کے متعلق جو عمومی سوچ مردوں میں ہے بلکہ وہی خواتین میں بھی پائی جاتی ہے۔جاگیردارانہ شعور کی وجہ سے اُن کا ماننا ہیکہ ” خواتین، فطری طور پر کمزور، معاشی و سماجی طور پرکمتر اورمرد کے مرہونِ منت  ہوتی ہیں۔ ذہنی و تخلیقی سرگرمیوں سے لا تعلق محض ایک شے کی حیثیت رکھتی ہیں اوریہ حیثیت نہ تو کبھی تبدیل ہوئی ہے اور نہ ہو سکتی ہے۔ مگر تاریخ کا علم جمود نامی کسی چیز کو ثابت نہیں کرتا۔ خواتین کا خود اس سوچ کا شکار ہونے کی وجہ سے یہاں کوئی سماجی انقلابی شعور پنپ نہیں پارہا۔ جسکو تبدیل کرنے کے لیئے ایک انقلابی تنظیم کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں موجود فیمنزم کی  تحریکوں کو دیکھا جائے تو یہ ابھی کافی نئی نئی تحریکیں ہیں جوکہ این جی اوز کے ذریعہ سے چلائی جارہی ہیں ۔ چونکہ پاکستان صارف منڈی ہے تو یہاں نعرے بھی بیرونی دنیا سے لائے جارہے ہیں۔ عوامی مزاج، جاگیردارنہ ثقافت سے میل نہیں کھاتے جسکی وجہ سے تحریکیں عوامی جڑت بنانے میں ناکام ہیں۔ پاکستان کو ماضی قریب  میں ایک مخصوص شدت پسند ذہنیت نے استعمال کیا ہے۔ وہی ذہنیت عالمی سطح پر اسکی پہچان بنا ہوا ہے۔

پاکستان کے مفاد میں ہیکہ اب اس داغ کو دھویا جائے جسکے لیئے میڈیا، این جی اوز، سوشل ورکرز وغیرہ  کے ذریعہ ان موضؤعات پر   قومی سطح کی بحث کا آغاز کروا رہا ہے۔ یہ سب طریقہ کار پاکستان کی شدت پسند ذہنیت کا خاتمہ کرکہ اس میں لبرل پالیسیوں کے مطابق ردو بدل کرنے کا ہے۔ تاکہ عالمی سطح پر متاثر ساکھ بحال ہوسکے۔ اس ساری بحث میں اسکی طبقاتی حیثیت کو پس پردہ ڈال کر اسکی صنفی حیثیت کو سامنے لایا جارہا ہے۔

اندرون ملک بڑی چلاکی و ہوشیاری سے مزدور عورت کے عالمی دن کو عورت مارچ سے منسوب کروا کر اسکا طبقاتی پہلو غائب کرتا ہے اور اب تمام  میڈیا ہاؤس سے اسکی تشہیر کروائی جارہی ہے۔ جہاں اسکا اصل پہلو کہیں غائب سا ہو کر رہ گیا ہے وہیں اسکو عوامی حلقوں میں غیر مقبول بنایا جارہا ہے۔  پاکستان کا حکمران طبقہ قومی و بین الاقوامی سطح پر اپنے مقصد کو  پورا کرکہ کل کو  اس پنپتے شعور کو اپنی مرضی و  طبقے میں سمیٹ لے گا۔

ہمارے سماج کے عام آدمی و عورت کو سمجھنا چاہیے کہ یہ مسئلہ امیر عورت کا نہیں ہے بلکہ امیر عورت سیاست، اقتدار، مراعات ،تعلیم سب سے عمدہ طریقے سے  لطف اندوز ہو رہی ہے۔گوکہ اسکو بھی بہت سے مسائل سے دوچار ہونا پڑتاہے جسکی وجہ پیداواری عمل و رشتے سے  ہیں۔مگر اصل  مسئلہ غریب ، محکوم و مزدور عورت کا ہے۔ اس مسئلہ کو جنم اُسی طبقے نے دے رکھا ہے جو مزدور مرد کے وسائل، محنت و زندگیوںپر قابض ہے۔ اس جنگ کو مزدور عورت، محکوم قوموں کے اتحاد کے ساتھ  ہی فتح یاب کیا جاسکتا ہے۔

 مگر محنت کش عورت کو اس جنگ کو محض  پدر شاہی نظام تک محدودنہیں  کرنا چاہیے بلکہ   تحریک کو طبقاتی شعور سے آراستہ کرتے ہوئے سرمایہ داری کے خلاف کھڑا کرنا  ہوگا۔ بلکل ویسے ہی جیسے محکوم قوم کا مزدور  ایک ہی وقت میں قومی  و طبقاتی جنگ لڑ رہا ہوتا ہے۔

مزدور عورت کو اس تحریک کی قیادت سنبھالتے ہوئے  نہ صرف پدر شاہی کا خاتمہ کرنا ہوگا بلکہ اس تحریک کو انقلابی  تنظیم و تحریک کے ساتھ جوڑتے ہوئے سوشلسٹ انقلاب کی طرف بڑھنا ہوگا۔طبقاتی نظام سے چھٹکارا ہی حقیقی آزادی ہے اورمتبادل  راستہ ہے اور وہ صرف سوشلزم ہے۔