128

پشتنی باشندگی قوانین اور گلگت بلتستان

متنازعہ ریاست جموں کشمیر کی ایک اہم جغرافیائی اکائی ’گلگت بلتستان‘ کو مزید با اختیار بنانے کوششیں ہورہی ہیں تاہم گلگت بلتستان کے شہریوں کو ابھی تک یہ معلوم نہیں کہ وہ کہاں کے شہری ہیں کیونکہ فی الوقت نہ وہ پاکستانی شہری ہیں اور نہ ہی ریاست کے پُشتنی باشندے۔گلگت بلتستان میں پشتنی باشندگی قوانین1981سے معطل ہیںاور اب جبکہ مزید بااختیار بنانے کے نام پر انہیں پاکستانی شہری بنانے کی تیاریاں ہورہی ہیں تو یہ خود پاکستان کے لئے گھاٹے کا سودا ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ پشتنی باشندگی قوانین کی عدم موجودگی میں اس خطے کے20لاکھ عوام رائے شماری کی صورت میں اپنے ووٹ کا استعمال نہیں کرپائیں گے۔

غور طلب ہے کہ منقسم ریاست جموں کشمیر میں اسٹیٹ سبجیکٹ قوانین کے مطابق ریاست کے کسی بھی حصہ میں کوئی غیر مقامی شخص جائیداد خرید سکتا ہے،وسائل استعمال کر سکتا ہے اور نہ ہی سرکاری نوکری حاصل کر سکتاہے۔ اس قانون کا نفاذ 1927 میں مہاراجہ ہری سنگھ نے ریاست جموں کشمیر میں اس خطرے کے پیش نظر کیا تھا کہ یہاں کی آب و ہوا برطانیہ سے ملتی جلتی ہے اور کہیں انگریز یہاں آ کر سرکاری وسائل پر قابض نہ ہو جائیں اور موسم خوش گوار ہونے کی وجہ سے ہندوستان کے دوسرے علاقوں سے لوگ یہاں آ کر آبادنہ ہونے لگیں۔

اس قانون کا نفاذ 1947 تک ریاست جموں کشمیر کے تمام حصوں پر تھا جن میں گلگت بلتستان بھی شامل تھا۔ آج بھی اس قانون کا نفاذ بھارتی زیر انتظام کشمیر میں آرٹیکل 35A اور370کی صورت میں ہے جب کہ پاکستان زیر انتظام کشمیر میں 1927کو نافذ ہونے والے اسٹیٹ اسبجیکٹ رولز کے ساتھ اصل صورت میں موجود ہے تاہم گلگت بلتستان میں اس قانون کی خلاف ورزی ہو رہی ہے ۔ گلگت بلتستان میں یہ قانون عملاختم ہو چکا ہے۔یکم نومبر1947 کو جب گلگت بلتستان آزاد ہوا توکچھ دن خود مختار حکومت رہنے کے بعد یہ پاکستان کے صوبہ سرحد(خیبر پختونخواہ) کے انتظام میں آیا تھا۔

بعد ازاں 1949 میں معائدہ کراچی کے ذریعے اسے پھر سے ریاست جموں کشمیر کے حصے کے طور پر تسلیم کیا گیا لیکن اس کا انتظام پاکستان زیر انتظام کشمیر کے بجائے حکومت پاکستان کو دے دیا گیا، اس خطے کو گلگت بلتستان کے بجائے شمالی علاقہ جات کا نام دیا گیا اور انتظام چلانے کیلئے پاکستان کی جانب سے ایک پولیٹیکل ایجنٹ گلگت میں بھیجا گیا ۔ اس خطے کو شمالی علاقہ جات کا نام دیے جاتے ہی وہاں اسٹیٹ اسبجیکٹ رولز کی خلاف ورزیاں شروع ہو گئیں تاہم کسی نا کسی صورت یہ قانون 1981 تک موجود رہا ۔
1981 میں فوی آمر جنرل ضیا الحق نے مارشل لا دور میں شمالی علاقہ جات کو E زون قرار دیا اور پاکستان سیٹیزن شپ ایکٹ کے گلگت بلتستان میں نفاذ کے ساتھ کے اسٹیٹ اسبجیکٹ رولز مکمل معطل ہو گئے۔
سٹیزن شپ ایکٹ کے نفاذ کو بنیاد بنا کر 1994 میں الجہاد ٹرسٹ نامی ایک تنظیم کی طرف سے شمالی علاقہ جات( گلگت بلتستان اور چترال) کو آئین پاکستان کے تحت حقوق دینے یا پھر آئین پاکستان کے تحت نہ لانے پر سرحد بنانے کی درخواست دائر کی گئی تھی جس پر فیصلہ دیتے ہوئے 1999 میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے پانچ رکنی بنچ نے کہا تھا کہ شمالی علاقہ جات کے عوام کو آئین پاکستان کے تحت مکمل حقوق حاصل ہیں ان کو پاکستان کا شہری مانا جائے ، سیٹیزن شپ ایکٹ کے تحت وہ ٹیکس دیتے ہیں۔تاہم گلگت بلتستان میں نافذ امپاورمنٹ آرڈر 2009 کے تحت وہاں کے عوام کو صرف گلگت بلتستان کا شہری مانا گیا ہے۔

سٹیٹ اسبجیکٹ رولز کا نفاذ نہ ہونے کی وجہ سے جہاںگلگت بلتستان میں عوام روز اول سے مقامی وسائل سے محروم رہے وہیںغیر ریاستی افراد کو جائیدادوں کی الاٹمنٹ بھی کی گئی ۔اس وقت پاکستان کے کئی سیاستدانوں ، موجودہ اور سابق بیوروکریٹس کے علاوہ کئی غیر ریاستی باشندوں کی جائیدادیں گلگت بلتستان میں موجود ہیں۔اسی طرح نوکریوں میں مقامی افراد کا کوٹہ انتہائی کم رکھا گیا ہے۔ سٹیٹ سبجیکٹ کا نفاذ نہ ہونے کے باعث گلگت بلتستان میں سب سے زیادہ نقصان عدلیہ کے حوالے سے ہوا ہے ، جہاں غیر ریاستی افراد کو سپریم اپیلٹ کورٹ کا چیف جج مقرر کیا جاتا ہے اور لوگوں کو انصاف کی فراہمی میں مشکلات درپیش آتی ہیں۔

پاکستان زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان کے سیاسی راہنما ﺅں کی اکثریت سمجھتی ہے کہ گلگت بلتستان ریاست جموں کشمیر کا حصہ ہے اور اگر رائے شماری ہوتی ہے تو عمومی خیال یہ ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کا ووٹ پاکستان کو جا ئے گا لیکن جب وہاں اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے ۔
اگرگلگت میں پاکستان سٹیزن شپ ایکٹ لایا گیا یا صوبہ بنایا گیا توگلگت بلتستان کے عوام پاکستان کے شہری کہلائیں گے اور وہ مسئلہ کشمیر کے حل لیے لیے ممکنہ استصواب رائے میں ووٹ دینے کے اہل نہیں ہوں گے۔ اس سے مسئلہ کشمیر کی بین الاقوامی حیثیت متاثر ہو گی اور مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی پوزیشن کمزور ہوجائے گی کیونکہ ووٹ تو اسٹیٹ اسبجیکٹ رکھنے والوں نے دینا ہے نہ کہ پاکستان کے شہریوں نے ۔ 

پاکستان زیر انتظام کشمیر کے سابق وزیر اعظم سردار عتیق احمد خان کا کہنا ہے:” گلگت بلتستان میں داخلی طور پر الگ نظام دیا جا سکتا ہے تاہم مجموعی طور پر اسے ریاست جموں کشمیر سے الگ نہیں دیکھا جا سکتا۔ مہاراجہ کا سٹیٹ سبجیکٹ قانون ریاستی آبادی کا تناسب برقرار رکھنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اس کو کسی طور چھیڑا نہیں جا سکتا۔ مسلم کانفرنس اور نیشنل کانفرنس نے ریاستی تشخص کی ہمیشہ پہرہ داری کی ہے“۔ان کامزید کہنا تھا:” ہندوستان کشمیر میں پانچ لاکھ غیر ریاستی خاندانوں کو بسانے کی کوشش کر رہا ہے لیکن پاکستان دو غلطیاں کر رہا ہے۔ ایک یہ کہ پاکستان میں مقیم کشمیریوں کا دوہرے ووٹ کا حق ختم کرنے کی کوشش اور دوسری بڑی غلطی گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کی کوشش کرنا ہے۔اس سے واضح ہوتا ہے کہ استصواب رائے کیلئے ایک طرف ہندوستان اپنے ووٹ بنک میں اضافہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور دوسری طرف پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کے دوہرے ووٹ کا حق ختم کر نے اور گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے جیسے اقدامات سے پاکستان کے حق میں موجود تقریبا 50 لاکھ ووٹ کم ہو جائیں گے۔پاکستانی حکومت کے ایسے اقدامات کا فائدہ ہندوستان کو ہو گا“۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی حکومت اس وقت جو کر رہی ہے اس سے مسئلہ کشمیر کی بین الاقوامی حیثیت متاثر ہو گی اور پاکستان کی مسئلہ کشمیر پر پوزیشن کمزور ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست کے کسی حصے میں کوئی غیر ریاستی حقوق ملکیت حاصل کرنے کا مجاز نہیں ہے۔

ممبرگلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی نواز خان ناجی کا کہنا ہے کہ سازش کے تحت گلگت بلتستان کی ڈیمو گرافی تبدیل کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق گلگت بلتستان کو جو نیا نظام دیا جا رہا ہے اس کے تحت پاکستان سیٹیزن شپ ایکٹ کا اطلاق گلگت بلتستان میں بھی کیا جائے گا۔ (یعنی گلگت کے شہری بھی پاکستان کے شہری کہلائیں گے) نواز خان ناجی کا کہنا ہے کہ ایسا 1947 سے 2018 تک نہیں ہوا جو اب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پاکستان کے 1956,1962 اور 1973 کے آئین میں پوزیشن واضح ہے یہاں تک کہ پاکستان میں لگنے والے تمام مارشل لاءاور 2009 کو گلگت بلتستان کو ملنے والے سیٹ اپ کے تحت گلگت بلتستان کے شہری پاکستان کے شہری قرار نہیں دیے گئے لیکن اب ایسا کیا جا رہا ہے۔ان کے مطابق آبادیاتی تناسب میں تبدیلی سے مقامی آبادی کو تو نقصان ہو رہا ہے تاہم مستقبل میں پاکستان کے مفادات کو بھی شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

نواز خان ناجی کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان تنازع کشمیر کا حصہ ہے کہ اگر رائے شماری ہوتی ہے تو گلگت بلتستان کے عوام کا ووٹ پاکستان کو جا سکتا ہے لیکن جب وہاں اسٹیٹ اسبجیکٹ قانون کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے اور گلگت میں پاکستان سیٹیزن شپ ایکٹ لایا جا رہا ہے تو گلگت بلتستان والے رائے شماری میں اپنا ووٹ کیسے دے سکیں؟ کیونکہ ووٹ تو اسٹیٹ اسبجیکٹ رکھنے والوں نے دینا ہے نہ کہ پاکستان کے شہریوں نے ۔

جموں کشمیر پیپلز پارٹی کے سربراہ سردار خالد ابراہیم کہتے ہیں کہ جو حیثیت پاکستان زیر انتظام کشمیر کی ہے وہی گلگت بلتستان کی ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنرل ضیا نے اپنے دور میں گلگت بلتستان کو Eزون بنایا پھر مشرف نے اپنے دور میں اسے کشمیر کا حصہ قرار دیا، ایسے اقدامات پالیسی پر سوال اٹھاتے ہیں۔یہ بات ضرور ہے کہ پاکستان زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان میں پاکستانیوں سے زیادہ افغانیوں کی جائیدادیں موجود ہیں(جو اسٹیٹ اسبجیکٹ رولز کی خلاف ورزی ہے) لیکن ان کو کسی بھی طرح ریاست کا پشینی باشندہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

گلگت بلتستان میں جمعیت علمائے اسلام کے راہنما اور سابق مشیر وزیر اعظم پاکستان مولانا عطااللہ شہاب کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ گلگت بلتستان میں آبادیاتی تناسب تقسیم ہند کے فورا بعد سے ہی بگاڑا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کا نام 1949 میں ختم کر کے شمالی علاقہ جات رکھا گیا تب سے یہاں اسٹیٹ اسبجیکٹ قانون کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔عطا اللہ شہاب کے مطابق گلگت بلتستان میں اسٹیٹ اسبجیکٹ رولز کے نفاذ کی بات وہ لوگ کرتے ہیں جو گلگت بلتستان کو پاکستان کا پانچواں صوبہ بنانے کا مطالبہ بھی کرتے ہیں۔جب صوبے کا مطالبہ ہے تو اسٹیٹ اسبجیکٹ کی بات کرنا ایک تضاد ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آج تک کشمیر کے ساتھ رہنے کی بات کرنے والی گلگت کی کسی سیاسی جماعت نے اسٹیٹ اسبجیکٹ کے نفاذ کی بات نہیں کی جو حیرت انگیز ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے صدر امجد حسین ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ کشمیر کے تنازع کے حل کیلئے ہونے والے استصواب رائے میں وہی لوگ حصہ لے سکیں گے جن کے پاس پشتنی باشندہ سرٹیفکیٹ ہو گا لیکن اس وقت گلگت بلتستان کی 20 لاکھ آبادی میں کسی کے پاس پشتنی باشندہ سرٹیفیکٹ موجود نہیں، اس طرح ہم استصواب رائے میں ووٹ دینے کے اہل نہیں ہوں گے۔ہمیں عملاًمسئلہ کشمیر سے الگ کیا جا چکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کے اسٹیٹ سبجیکٹ رولز کی بحالی کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز کو سر جوڑ کر بیٹھنا چاہیے ورنہ کل اس سے بڑا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔

گلگت بلتستان یونائیٹڈ موومنٹ کے راہنما منظور پروانہ کہتے ہیں کہ اس وقت گلگت بلتستان میں کسی لینڈ ریفارمز کی بات کی جا رہی ہے،معلوم نہیں یہ کیسی ریفارمز ہوں گی اور یہ ریفارمز کون لائے گا؟ کیونکہ اسمبلی کے پاس تو یہ اختیارات موجود نہیں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں عوامی ملکیتی قانون (اسٹیٹ اسبجیکٹ رولز) کو بحال کرنے کی ضرورت ہے نہ کہ کسی قسم کی لینڈ ریفارمز کی۔ان کا کہنا تھا کہ اگر یہی صورتحال رہی تو گلگت بلتستان کے مقامی لوگ بے گھر ہو جائیں گے اور علاقے کا مالک کوئی اور ہو گا۔ اس لئے عوام کو اسٹیٹ اسبجیکٹ بحال کروانے کا مطالبہ کرناچاہیے۔