Abdul Hakeem Kashmiri 104

21توپوں کی سلامی تو بنتی ہے

محکمہ تعلقات عامہ کی طرف سے جاری ہونے والی وزیر اعظم آزادکشمیر فاروق حیدر خان کی گفتگو ”آئین کی بالادستی قانون کی عملداری جمہوریت اور تحریک آزادی کیلئے جب تک زندہ ہوں آواز بلند کرتا رہوں گا‘ہر ادارے کو اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے آئین میں انتظامیہ عدلیہ اورمقننہ کے اختیارات طے شدہ ہیں اگر سب اپنی حدود میں رہ کر کام کریں تو مسائل پیدا نہیں ہوتے“

اگر لفاظی دیکھی جائے تو آب زر سے لکھنے کے قابل …………مگر جولائی 2016سے اکتوبر 2019تین سال تین ماہ کا عرصہ فاروق حیدر خان کے دعوے کے برعکس ہے۔عبوری آئین کی کوکھ سے حاصل محدود انتظامی اختیارات کے استعمال میں غفلت اور غیر سنجیدگی کے خلا کو لفظوں سے بھرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

محترم فاروق حیدر خان کی طرف سے نامزد بدعنوان آفیسران تین سال سے نہ صرف بھرپور راحت میں ہیں بلکہ ترقیابی سے بھی فیض یاب ہوئے۔سینکڑوں نہ سہی درجنوں مثالوں میں ایک مثال ڈپٹی وزیر اعظم راجہ امجد پرویز کی ہے جو ان ہی تین سال میں نامزد بدعنوان آفیسران کی فہرست میں سے نکال کر پرنسپل سیکرٹری کے عہدے پر فائز کیے گئے۔

تین سال میں مستقل چیئرمین احتساب بیورو کا تقرر نہ ہو سکا۔احتساب بیورو میں موجود 2000سے زائد مقدمات کی تحقیقات کے بعد فائلیں بند ہونے کی باز گشت ہے۔بدعنوانی کے بڑے اسکینڈل کسی ایک میں قانون کی عمل داری دیکھنے کو نہیں ملی۔ابتدائی ایام میں اصلاحات کے لئے ایک کمیٹی بنائی گئی تھی۔مبینہ اطلاعات ہیں کہ وہ کمیٹی سفارشات مرتب نہیں کر سکی۔،مان لیتے ہیں اگر سفارشات مرتب ہوئی ہیں تو کہاں ہیں اور ان پر عمل کیوں نہیں ہوا؟؟؟……چیف سیکرٹری کے پاس 8گاڑیاں ہیں کیا چیف سیکرٹری صاحب8گاڑیوں کا استحقاق رکھتے ہیں۔سیکرٹری مالیات کے زیر استعمال7گاڑیاں ہیں۔کیا آزادکشمیر ایک کھلی چراگاہ ہے؟؟دو چار وزراء کو چھوڑ کر ایک بڑی تعداد کا اختیارات اور مراعات سے تجاوز قانون پر عمل درآمد ہے؟؟؟

وزیر لوکل گورنمنٹ نے جس طرح گڈ گورننس کو اپنی پرخطر بھاری مونچھوں سے خوفزدہ کر کے اپنے رشتہ دار بھرتی کروائے وہ جہاں ریاست کے ہزاروں نوجوانوں کیلئے باعث تشویش ہے وہاں اس آئین و قانون کی ماں بہن ایک ہوئی جس کی عملداری کا دعویٰ ہمارے مبینہ چیف ایگزیکٹیو راجہ فاروق حیدر خان کر رہے ہیں۔

قانون پر عمل داری کا موجودہ منظر نامہ بھی انتہائی دلچسپ ہے۔عبوری آئین کی کتاب کہہ رہی ہے چیف ایگزیکٹیو ”راجا صاحب“(فاروق حیدر خان)ہیں زمین حالات اگر کھلی آنکھوں سے ملاحظہ کیے جائیں تو چیف ایگزیکٹیو ”رانا صاحب“(مطہر نیاز رانا)ہیں۔”رانا راجا“ چپقلش میں کہاں قانون اور کہاں اس پر عملدرآمد۔8گاڑیاں اگر رانا صاحب کے زیر استعمال ہیں تو کم و بیش کتنی گاڑیاں راجا صاحب کے ہاں بدوں استحقاق استعمال ہو رہی ہیں۔راجا رانا کی طرف سے درج بالا اور اس طرح کے کئی مزید ”باکمال اتفاق“اور اس طرح کے اتحاد و اتفاق کے خلاف ان ہی چیف ایگزیکٹیو صاحبان کا متواتر آواز بلند کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ اس خطہ کے لاکھوں لوگوں کی پیشانی پر جلی حروف میں ”بے وقوف“لکھا ہوا ہے۔

باتیں کروڑوں کی دکان پکوڑوں کی …………یہ کھیل ہم سب کی خوشیوں کا قاتل ہے۔

طارق فاروق سمیت کچھ وزراء کا شکوہ ہے کہ فاروق حیدر خان بیورویسی کے حصار میں ہیں۔سینئر بیوروکریٹ کہہ رہے ہیں فاروق حیدر کچھ وزراء کی گرفت میں ہے۔سچ یہ ہے کہ دونوں کی رائے درست نہیں‘دستیاب نظام کے مطابق وہ اپنے اقتدار کی گرفت اور اپنی کرسی کے حصار میں ہیں۔ان کا ظاہری بیانیہ ہمیشہ پرکشش اور عمل اس کے برعکس رہا۔

نیلم جہلم پراجیکٹ کا حکومت آزادکشمیر سے معاہدے کی حمایت سے خاموشی تک،کوہالہ پراجیکٹ کی موجودہ ڈیزائن کے مطابق تعمیر کے حوالہ سے انکار سے اقرار تک،چوہدری یاسین کو اپوزیشن لیڈر بنانے سے لے کر شاہ غلام قادر،طارق فاروق،افتخار گیلانی کو حساب میں رکھنا‘سکندر حیات کو بوقت ضرورت رگڑا دینا اور پھر رام کرلینا‘کارکنوں کے منہ میں شہد کا فیڈر دے کر رکھنا‘انتہائی مہارت سے گڈ گورننس کو ڈھول بجانا کہ اس کی تھاپ پر مخالفین کی ”کُھریاں“بھی اُٹھ جائیں، اور عملاً صورتحال یہ ہے کہ آج جب وہ امام(چیف ایگزیکٹیو)ہیں قانون پر عملدرآمد کے بجائے اس کی عملداری کیلئے آواز بلند کر کے سب کو بے وقوف بنا رہے ہیں،عدلیہ کو وارننگ دی جا رہی ہے اگر عدلیہ سے چوہدری سعید کے فیصلے میں کچھ غلط ہوا تو عملی اقدامات کیوں نہیں کرتے۔کیاچیف ایگزیکٹیو کاچیف جسٹس کے خلاف اس طرح کا رویہ مناسب ہے؟

ایک اور مثال 22اکتوبر2019 کو مظفرآباد شہر سرینگر کا منظر پیش کر رہا تھا۔پولیس پرامن مظاہرین کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر تشدد کا نشانہ بنا رہی تھی اور وزیر اعظم بے خبر ہونے کا ناقابل یقین دعویٰ کر رہے تھے‘اس ریاست اور اس کے نظام کے ساتھ اس سے بڑا سنجیدہ مذاق کیا ہو سکتا ہے‘لوگوں کی خواہش کے عین مطابق پرکشش باتیں کرنا ڈولی اور بارات دونوں کے ساتھ خود کو ثابت کرنا ایک قابل قدر فن ہی نہیں بلکہ ایک ایسی مہارت ہے کہ خود مہارت اپنے معنی ڈھونڈتی پھر رہی ہے…………اب آپ ہی بتائیں اس پر 21توپوں کی سلامی تو بنتی ہے۔