126

یزید چوک مظفرآباد بمقابلہ لال چوک سری نگر

سرکاری سچ

مظاہرین پرامن نہیں تھے اور انہوں نے معصوم پولیس پر اینٹوں کی برسات کر دی. جوابا مجبوری میں پولیس کو بلوائیوں کو منتشر کرنے کی خاطر لاٹھی چارج کرنا پڑا. آنسو گیس کا استعمال تو ہر گز نہیں کیا گیا. لاٹھی چارج کے دوران دو پولیس والے شدید زخمی ہوۓ اور قریب تھا کہ شہادت نصیب ہو جاتی.
ایک راہگیر بھی حمام والی مسجد کے قریب کہیں دل کا دورہ پڑنے سے ہلاک ہو گیا. اس کو پولیس کی کارروائی سے نہ جوڑا جاۓ. وہ تو لاٹھی چارج سے پہلے ہی اسپتال میں دم توڑ چکا تھا..
جس کے پاس دماغ نہ ہو وہ یقینا اس بے سروپا افسانے پر یقین کر لے گا.
یہ کہانی کچھ سنجیدہ سوال کھڑے کرتی ہے.

مظاہرین نے اینٹیں اس وقت کیوں نہ ماری جب ان کو اچانک روک دیا گیا تھا..کیا وہ اتنے احمق تھے کہ جب جانے کی اجازت مل گئ تو انہوں نے اینٹیں مارنی شروع کر دیں.

صحافی پولیس اور شرکاء برابر ویڈیوز بنانے میں مصروف تھے. کیا ایسا ثبوت سامنے لایا جا سکتا ہے؟؟
فرض کیا کچھ بلوائیوں نے اینٹیں مار دیں تو باقی شرکاء پہ چڑھ دوڑنا کس تہذیب میں آتا ہے؟؟
سکولوں کے معصوم بچوں پہ تشدد کس بنا پر کیا گیا؟؟

اعلی انتظامی افسران چیخ چیخ کر پولیس کو روکتے رہے.. اس کے باوجود ایک نسبتا جونیر پولیس افسر کے حکم پر پولیس درندگی کی نئی مثالیں کیوں قائم کی؟؟

تشدد سے منع کرنے والے سینئر انتظامی افسر کو بھی لاٹھیاں کس بل بوتے پر ماری گئیں؟ ویڈیو ملاحظہ کی جا سکتی ہے.

معصوم پولیس نے پریس کلب پہ دھاوا کیسے بول دیا؟؟ایسی گھٹیا اور گھناؤنی مثال تو فاشسٹ ملکوں میں بھی نہیں ملتی..

میں اس تمام کا چشم دید اور زخم رسید گواہ ہوں. دو گھنٹے انتظار کے بعد جب مذاکرات کامیاب ہو گئے اور مظاہرین میں خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی کہ آگے بڑھنے کی اجازت ملی. میں فون پر بردارم حق نواز مغل سے اس مچان پہ چڑھنے کا راستا پوچھ رہا تھا جس پر وہ کھڑے تھے. اجازت ملنے پر مظاہرین نے آگے بڑھنا شروع کر دیا تھا. اچانک ہلچل ہوئی اور مظاہرین نے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا. میں نے کال کاٹ کے دیکھا تو پولیس دھاوا بولتی نظر آئی. سب حیرت کا اظہار کر رہے تھے کہ اچانک کیا ہو گیا. مظاہرین کی اکثریت سٹپٹا سی گئی تھی..پولیس چڑھتی چلی آ رہی تھی..اور سراسیمہ و ششدر مظاہرین پیچھے ہٹ رہے تھے. اناؤنسمنٹ والی گاڑی سے بھی اچانک تشدد پر حیرت کا اظہار کیا جا رہا تھا. اس تمام کی ویڈیوز سینکڑوں کی تعداد میں اپلوڈ ہو چکی ہیں.

اچانک تین پولیس والے ایک سات آٹھ سال کے بچے پر لاٹھیاں برساتے نظر آۓ. میں بے اختیار لپک کر لاٹھیوں اور اس معصوم کے پیچ میں ڈھال بن گیا. بائیں بازو پر پانچ چھے لاٹھیاں وصول بھی کیں..اس دوران میں اس معصوم کا سر آہنی جنگلے سے آزاد کروانے کی کوشش کرتا رہا مگر اس کے کان اٹک جاتے تھے. اس کے ننگے پیروں سے بھی خون بہ رہا تھا

بچے نے پولیس کی یلغار سے بچنے کے لیے جنگلے کے دوسرے طرف نکلنے کی کوشش کی تھی اور نہ آگے کا رہا تھا نہ پیچھے کا..پتا نہیں کس کا جگر گوشہ تھا..اور اس کا کیا بنا..کیونکہ لاٹھیاں کھاتے اور پولیس والون کی مادری زبان سنتے ہوۓ مظاہرین کے پیچھے ہٹتے ایک ریلے نے میرے قدم بھی اکھاڑ دیے..اور میں بچے کو جنگلے سے نکالے بغیر ہی ریلے کے زور کے رحم و کرم پر ہو گیا.

پسپائی زن ریلا اچانک کسی رکاوٹ کے باعث اٹک گیا تو پولیس نے دوسری طرف سے بھی یلغار شروع کر دی. سانس زہر بن کر پھپھڑوں میں جانے لگا. میں نے جنگلا پکڑ کر دوبارہ اس بچے کو دیکھنے کی کوشش کی تو ایک بڑے میاں پشت پر لاٹھیاں کھاتے اس معصوم کے سر کو آزاد کروا چکے تھے. سڑک کے دونوں دھاروں پر آہ بکا تھی..کان میں زخمیوں کی آہیں اور پولیس کی گالیاں ہی پڑ رہی تھی. اسی دوران مظاہرین کا ایک اور پسپا ہوتا ریلا آیا ہم جو پہلے ہی کسی رکاوٹ کی وجہ سے پھنسے ہوۓ تھے..بھنچ کر رہ گئے. ہوش قائم رکھنا مشکل ہو رہا تھا. بڑھتے ریلے نے ہم سب کو زمین بوس کر دیا.

اسی اثنا میں میری ناک کے ایک انچ کے فاصلے پر ایک شیل آن گرا اور اس کا زیادہ دھواں میرے نتھنوں میں جاگزیں ہو گیا اتنی مرتکز مقدار ملنے پر میں ہوش و حواس کی دنیا سے کہیں دور چلا گیا. جب نیم حواس یافتہ ہوا تو محسوس ہوا کوئی مجھے جھنجوڑ کر کہ رہا ہے کہ شاید زندہ ہے. ایک پولیس والا میری جیب کو ہلکا کر رہا تھا. مجھے سب کچھ خواب جیسا لگ رہا تھا. ایک نوجوان کہیں سے مجھے اٹھانے کے لیے لپکا تو اوپر تلے سات آٹھ لاٹھیاں سر پہ کھا کر ریٹائر ہو گیا.

اس کے کان سے بہنے والا آزادی پسند کسی غیور باپ کا خون اس کے سفید کپڑوں کو گلبدامن کر گیا. گرنے کے بعد دوبارہ اسی محسن نے مجھے نام لے کے پکارا تو ایک توانائی سی محسوس ہوئی. لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ میں نے قریبی کیری ڈبہ کے نیچے پناہ لینے کی کوشش کی تو وہاں ایک اور سپوت پڑا ہوا تھا. اس نے ناک پکڑی ہوئی تھی..سر پہ چوٹ لگنے کے سبب اس کے نتھنوں سے خون جاری تھا. اپنے جواں سال محسن کا ہاتھ تھامے ایک سوزکی پہ چڑھ گیا.

چار نوجوان وہاں پر بھی نیم دراز تھے. میں نے بھی بے جان جسم ان پر ڈال دیا…اور پھر سے حواس سے بیگانہ ہو گیا. دوسری مرتبہ ہوش آیا تو ایک پولیس والا ہمیں گالیاں دے رہا تھا اور کسی کو کہ رہا تھا کہ ان کو نکال کے سڑک پر لٹا کے معائدہ کراچی بھی ختم کرو اور آزادی بھی دو. اس دوران ایک اور پولیس والا پندرہ سولہ سال کے مخبوط الحواس لڑکے کو پکڑے ادھر آ نکلا. ہمارے سر پہ دھمکنے والا پولیس مین بھی دوسرے کی طرف متوجہ ہو گیا.وہ دونوں اس لڑکے کو گالیاں بھی دیتے تھے اور اس سے پوچھتے تھے کہ
“آزادی اگو دیواں کہ پچھو دیواں؟؟”
کہ آزادی منہ کے راستے لو گے یا مقعد کے راستے

وہ لرزتا کانپتا… بہتی ناک اور آنکھوں کے ساتھ بار بار یہی کہتا کہ وہ بلال صاحب کا نوکر ہے اور دودھ لینے آیا تھا..اس کے ساتھ ہونے والا سلوک انسانیت کی بدترین تذلیل تھی..میں نے اذیت کے مارے آنکھیں بند کر لی. مقعد والی طرف سے لاٹھی بار بار اس کی پھٹی پتلون کی سلائی پہ رکھ کے دبانے والا پولیس مین…اس بچارے لڑکے کی دادا کی عمر کا ہوا ہو گا.

وہ اس کے ساتھ یہی کھیل کھیلتے کہیں آگے نکل گئے. تو ایک اور پولیس والا آ دھمکا. اس نے زور سے سوزوکی پر لاٹھی برسائی. اندر ہماری حالت دیکھی. تو زبردست شفقت اور اپنائیت کا اظہار کیا. مجھ سے پوچھا پونچھ کے ہو تو بتایا کہ اٹھمقام کا ہوں. اس نے ایک گیلے کپڑے سے میرا منہ صاف کیا. اور کہنے لگا کہ تم سب لوگوں کو سلیوٹ ہے. تمہاری جدوجہد کو سلیوٹ ہے..اس نے سلیوٹ لگایا بھی اور ہمارے لیے پانی لانے کہیں چلا گیا.

یہ سطریں لکھتے وقت تک میں حیرت میں ہوں کے اچھے گھرانوں کے لوگ اپنی اولاد کو پولیس میں کیسے بھیج دیتے ہیں.. اس الجھن کو اس مقولے نے ختم کیا جو غلطی سے یوسفی صاحب سے منسوب ہے کہ صرف نناوے فیصد پولیس والوں کی وجہ سے ساری پولیس بدنام ہے. خیر وہ جس خاندان کا بھی تھا اس کے لیے خراج تحسین ہے…لفظوں کا..

اچانک کیمرا لے کر کچھ نوجوان آ نکلے اور ہمیں دیکھ کر شور مچایا کہ یہ قریب مرگ ہیں. ایمبولینس میں شفٹ کرو. سٹریچر پر ڈال کر ایمبولینس اور پھر سی ایم ایچ پہنچایا گیا. ایک نوجوان راستے میں سے ہی ایمبولینس رکوا کر بھاگ گیا. ہمیں ایمرجنسی وارڈ میں پہنچایا گیا. نام پتا پوچھنے کے بعد نرسز نے کیس دیکھنا شروع کیا. ایک درد کش انجیکشن لگایا گیا. کامران بیگ کہیں سے آ نکلے. گیلا رومال ماتھے پر پھیرا.روح تک پھیل گئی تاثیر مسیحائی کی. دس منٹ بعد ایک اور بزرگ لاۓ گئے. ڈاکٹر نے پوچھا کون لے کر آیا ہے؟

تو کسی نے جواب دیا پولیس والوں نے موٹر سائکل پر لا کے چھوڑا ہے اور واپس چلے گئے ہیں. میرے دائیں طرف والے بیڈ پر ان کے جسم نے جھرجھری لی. میں نے جس شخص کو ڈاکٹر سمجھ کر اس قریب مرگ شخص کو دیکھنے کا کہا تو پتا چلا وہ بھی مظاہرین میں سے ہے اور نیم زخمی ہونے کی وجہ سے لایا گیا ہے. ڈاکٹر اور نرسز ڈی سی یا پولیس کی اجازت کے بارے میں بحث کرتے رہے. اس قریب مرگ شخص کے وارث کے لیے آوازیں دیتے رہے. اور دو منٹ بعد بلا اجازت ہی جب کیس دیکھنے پر اتفاق ہوا تو پہلے آنسو گیس کے زہریلے اثرات ختم کرنے کے لیے ان محترم کے نیم جان لاشے کو اوپن ائر میں لے جانے کا حکم ہوا..پھر ادھر ہی دو مشاق ہاتھ ان کی چھاتی پر مسلسل دباؤ ڈالنے لگےجس کی دھونکنی تھم چکی تھی. CPR کی بہتیری کوششوں کے باوجود ان کو واپس لانا ناممکن ہو چکا تھا. ڈاکٹر نے سپاٹ چہرے کے ساتھ اعلان کر دیا کہ “ایکسپائرڈ”

چھے سات محبتی جانے کہاں سے آ نکلے جو تکلیف کی شدت مقامات اور نوعیت پوچھتے تھے.. سواۓ فہیم چغتائی کے. جو جوس لانے نکلے اورپھر رات نو بجے دوبارہ خیریت دریافت کی….ڈاکٹر نے تمام بیماری پُرسوں کو جھاڑ پلا کر کمرے سے نکال دیا. دسراہٹ کے لیے جن کو کال کر کے بلایا تو رفیق باخلوص و بے ریا ذوالفقار حیدر کے سوا کوئی بھی بروقت نہ پہنچ سکا. عرفی صاحب نے تو آواز پہچاننے میں ہی خاصا تامل کیا. ذوالفقار بھائی نے قائدین کی گرفتاری کا اندیشہ ظاہر کیا اور عارف مصطفائی صاحب نے اسپتال سے سٹک جانے کا مشورہ دیا..

اپنے جوتے تو پولیس کی ظلم گاہ میں کسی نے اتار لیے تھے..اسپتال میں میسر جوتے اسی بزرگ آزادی پسند کے تھے جو کچھ منٹ پہلے ہی جان کی بازی ہار گیا تھا..اور وطن پہ قرض بڑھا کے جوانوں کو شرم دلا گیا تھا. ذوالفقار حیدر بھائی نے ان کے جوتے استعمال کرنے سے منع کیا..میرے پاؤں ویسے بھی شہید کے جوتوں کے لائق نہیں تھے..انہوں نے تو جان وار دی تھی جب کہ میں نے ایک سامنے کا دانت, ایک پسلی, ایک عینک, بائیں جیب کے مشتملات, ایک کتاب اور ایک جوڑا جوتے ہی وطن کی خاطر پولیس کی نذر کیے تھے. رکشا میں بیٹھ کرایک دکان پر پہنچے. جیسے تیسے ایک جوڑا منتخب کیا کہ جلدی سے باقیوں کا پتا کر سکوں. اٹھارہ سو قیمت بتا رہا تھا اور ساڑھے سترہ پہ دینے کو تیار تھا.

اس کو جیسے ہی پتا چلا کہ میرے جوتے آزادی کی جنگ میں پولیس کی نذر ہوۓ ہیں تو اس نے پولیس کی مادری زبان میں ہی پولیس کو موٹا سا ہدیہ دشنام بھیجا اور صرف آٹھ سو میں جوتے خود پہنا دیے. کاش یہی غیرت باقی لوگوں میں…خیر جانے دیں. کپڑے بھی تبدیل کیے کیونکہ جو جوڑا گلے کا ہار بنا ہوا تھا.عاشق کا گریبان لگتا تھا..واپس باقی مظاہرین کی خبر کے لیے جانا چاہا تو راستا بند ملا.
فون پہ سب کی خیریت و عدم خیریت دریافت کی.
آخری اطلاعات تک دو شہادتوں.. ایک سو سترہ زخمیوں اور چار لاپتا لوگوں تک متاثرین کی تعداد پہنچ چکی تھی..

فون رات دو بجے تک بجتا ہی رہا..گھر والوں اور شریکوں کے سوا سب کو سچ بتایا..استفسار کرنے والے تمام احباب کی محبتوں کا شکریہ.

آخری اطلاعات آنے تک وزیراعظم کے ساتھ پی این اے کی قیادت کے مذاکرات جاری تھے..باخبر دوستوں کے مطابق وزیر اعظم یا حکومت آزاد کشمیر کا اس چنگیزیت اور بربریت میں کوئی بھی عمل دخل نہیں تھا. پی این اے کے پرامن نہتے کشمیری مظاہرین پر تشدد کے ساتھ ساتھ پریس کلب پر مجرمانہ دھاوا بولنے کےتمام تر معاملات گریڈ سترہ کے ایک افسر نے منصور نامی کسی اتھارٹی کی ہدایت پر بگاڑے ہیں..

ان زخموں سے آزادی کی آگ اور تیز ہو گی..آج ہم یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو گئے کہ قابض قابض ہی ہوتا ہے .سری نگر کے لال چوک اور مظفر آباد کے یزید چوک میں کوئی فرق نہیں ہے. پولیس کی اس درندگی سے تحریک کو نئی اٹھان ملے گی. نتیجہ جلد ہی سامنے ہو گا.

دیکھنا ہے زور کتنا بازوۓ قاتل میں ہے.