99

-کاکاٹیوں کا ہیرا اور ریاست جموں کشمیر مدثر شاہ

تاریخ کی ہر چال صدیوں بعد تک کیلئے لکھوک ہا انسانوں کی قسمت اور سیاست کا رخ متعین کرتی ہے، کئی صدیوں پر محیط بظاہر ایک دوسرے سے بالکل الگ تھلگ اور غیر متعلق واقعات وقت گزرنے کے ساتھ جب اپنے نتائج ظاہر کرتے ہیں تو حالات و حاصلات کی ایک بالکل نئی شکل ظاہر ہوتی ہے، گولکنڈہ کی “کلور کان” کے کانکن اس بات سے بالکل بے خبر تھے کہ وہ کھدالوں کی ضربوں سے پہاڑ کا سینہ چیر کر جو ہیرا نکالنے جا رہے ہیں وہ نہ صرف تاریخ کا دھارا بدل کے رکھ دے گا بلکہ صدیوں بعد تک کی سیاست کا رخ بھی متعین کرے گا، کوہ نور ہیرا کا اصل مالک کون تھا یہ جاننا بہت مشکل ہے لیکن جنوبی بھارت کے علاقے ورنگل کے حکمران کاکاٹیا خاندان کے مہاراجے نسل در نسل اس نایاب ہیرے کے مالک رہے ہیں، 1323 میں سلطنت دہلی کے غیاث الدین تغلق نے اپنے بیٹے محمد بن تغلق کو ایک بڑا لشکر دیگر ورنگل کی مہم پر روانہ کیا، محمد بن تغلق کی فتح کے نتیجے میں کاکاٹیا خاندان کے اقتدار کا خاتمہ ہوا اور ورنگل کی سلطنت کے ساتھ ہی کوہ نور ہیرا بھی سلطنت دہلی کی ملکیت میں آ گیا اس کے بعد یہ ہیرا سلطنت دلی کے سادات اور لودھی خاندانوں کی ملکیت میں رہا آخر کار ابراہیم لودھی کی شکست کے بعد اس کی والدہ بوا بیگم نے یہ ہیرا مغلیہ سلطنت کے بانی ظہیر الدین بابر کے بیٹے ہمایوں کو نذرانے میں دے دیا، یوں مغل اس ہیرے کے مالک بن گئے، ہوتے ہوتے یہ ہیرا مغل بادشاہ محمد شاہ رنگیلا کی ملکیت میں تھا کہ سلطنت ایران کے شہنشاہ نادر شاہ نے 1739 میں ہندوستان فتح کیا اور دلی کی لوٹ کے دوران باقی مال کے ساتھ کوہ نور بھی اپنے ساتھ ایران لے گیا،

1747 میں نادر شاہ کے قتل کے بعد اس کا جرنیل احمد شاہ ابدالی (درانی) افغانستان کا حکمران بن گیا لیکن کوہ نور ہیرا بدستور نادر شاہ کے پوتے کی ملکیت میں رہا، 1751 میں اس کے پوتے نے احمد شاہ ابدالی کو اپنی فوجی مدد کے بدلے میں کوہ نور ہیرا دے دیا، یوں کوہ نور ہیرا افغانوں کی ملکیت میں چلا گیا، احمد شاہ ابدالی کی وفات کے بعد کوہ نور اس کے بیٹے شاہ تیمور اور پھر اس کے بیٹے شاہ شجاع کی ملکیت میں چلا گیا، شاہ شجاع کو اس کے بھائی شاہ محمود نے بغاوت کر کے معزول کر دیا، اپنی معزولی کے بعد وہ اپنے بھائی شاہ زمان جسے شاہ محمود نے اندھا کر دیا تھا، اپنی بیوی اور کوہ نور کے ساتھ افغانستان سے پنجاب کی طرف فرار ہو گیا، شاہ شجاع اپنی بیوی کو راولپنڈی میں چھوڑ کر پنجاب کے حکمران رنجیت سنگھ کے پاس پناہ کی درخواست لیکر حاضر ہوا،

رنجیت سنگھ نے درینہ دشمنی کے باوجود سیاسی، سفارتی اور فوجی وجوہ کی بناء پر شاہ شجاح اور شاہ زمان کو اپنے پاس پناہ دی اور پندرہ سو روپے ماہانہ وظیفہ مقرر کیا، اسی دوران شاہ شجاع نے اپنی بیوی کو بھی راولپنڈی سے لاہور بلوا لیا، اپنے بھائی اور بیوی کو لاہور چھوڑ کر وہ کشمیر میں تعینات اپنے افغان گورنر اعظم خان کے پاس گیا تاکہ اس کی مدد سے دوبارہ افغانستان کا اقتدار حاصل کر سکے، لیکن وہاں اس کے پہنچنے سے پہلے اس کی معزولی کی خبر پہنچ چکی تھی، کشمیر دربار میں پہنچتے ہی اسے گرفتار کر کے قید کر لیا گیا، شجاع کی گرفتاری کی خبر سن کر اس کی بیوی نے رنجیت سنگھ سے مدد چاہی کہ وہ کشمیر پر حملہ کر کے اس کے شوہر کو بازیاب کروائے لیکن رنجیت سنگھ نے خراب موسم اور کشمیر کی فوجی مہم کے لیئے دستیاب فوجی اور مالی وسائل کی قلت کا بہانہ کر کے انکار کر دیا اس پر شاہ شجاع کی بیوی نے مجبوری جانتے ہوئے رنجیت سنگھ کو کوہ نور ہیرا دینے کا وعدہ کیا، اس امر کی تصدیق کے بعد کہ کوہ نور ہیرا شاہ شجاع کی بیوی کے پاس موجود ہے رنجیت سنگھ نے شاہ شجاح کی رہائی کیلئے کشمیر پر حملے کا وعدہ کر لیا،

دوسری طرف افغانستان کا بادشاہ شاہ محمود اس امر سے پریشان تھا کہ اس کے بھائی رنجیت سنگھ کی پناہ میں ہوتے ہوئے اس کی حکومت کے لیئے خطرہ بن سکتے ہیں تو اس نے اپنے وزیر فتح علی خان کو مذاکرات کیلئے رنجیت سنگھ کے دربار میں بھیجا اور رنجیت سنگھ سے مفاہمت، شاہ شجاع کی حوالگی، کشمیر سے شاہ شجاع کو واپس لانے کیلئے پنجاب دربار سے راہداری اور فوجی مدد کے عوض ایک خطیر رقم کی پیشکش کی، رنجیت سنگھ نے حکمت سے کام لیتے ہوئے رضامندی کا اظہار کر دیا اور افغان فوج کو کشمیر کیلئے راہداری دے دی، اس کے ساتھ ہی رنجیت سنگھ نے کشمیر کیلئے تیار اپنی فوجی مہم بھی ہری سنگھ نلوہ اور دیوان چند کی سرکردگی میں کشمیر روانہ کر دی، افغان فوج روایتی اور لمبے راستوں سے ہوتے ہوئے کشمیر کی طرف جا رہی تھی جبکہ خالصہ فوج جموں کے مقامی حکمرانوں کی مدد سے غیر معروف اور نسبتاً کم طویل رستوں سے ہوتے ہوئے افغانوں سے قبل سرینگر پہنچ گئی اور ایک خفیہ گوریلہ کاروائی میں شاہ شجاع کو قید سے آزاد کروا کے کڑے فوجی پہرے میں لاہور روانہ کر دیا، کشمیر میں افغانوں کے گورنر اعظم خان کے بھائی جبار خان کی جنگ میں شکست کے بعد کشمیر پنجاب سلطنت میں شامل ہو گیا اور موتی رام کو کشمیر کا خالصہ گورنر مقرر کر دیا گیا،

شاہ شجاع کے لاہور پہنچنے کے بعد رنجیت سنگھ نے وعدے کے مطابق شاہ شجاع کی بیوی سے کوہ نور کا ہیرا طلب کیا تو شاہ شجاع نے ٹال مٹول سے کام لینا شروع کر دیا، اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے رنجیت سنگھ نے شاہ شجاع اور اس کے خاندان کو اندرون لاہور کی مبارک حویلی میں نظربند کر دیا، نظر بندی سے مجبور ہو کر شاہ شجاع نے کوہ نور رنجیت سنگھ کے حوالے کر دیا، 1846 میں اٹھائیس سال بعد سکھوں کی شکست کے ساتھ ہی کوہ نور ہیرا اور کشمیر دونوں انگریزوں کے قبضے میں چلے گئے،کوہ نور تو انگریزوں کے پاس ہی رہا لیکن معاہدہ امرتسر کے تحت گلاب سنگھ نے کشمیر انگریزوں سے واگزار کروانے کے بعد جموں، لداخ و بلتستان کے ساتھ شامل کر کے ریاست جموں کشمیر کی بنیاد رکھی.

میں نادر شاہ کے قتل کے بعد اس کا جرنیل احمد شاہ ابدالی (درانی) افغانستان کا حکمران بن گیا لیکن کوہ نور ہیرا بدستور نادر شاہ کے پوتے کی ملکیت میں رہا، 1751 میں اس کے پوتے نے احمد شاہ ابدالی کو اپنی فوجی مدد کے بدلے میں کوہ نور ہیرا دے دیا، یوں کوہ نور ہیرا افغانوں کی ملکیت میں چلا گیا، احمد شاہ ابدالی کی وفات کے بعد کوہ نور اس کے بیٹے شاہ تیمور اور پھر اس کے بیٹے شاہ شجاع کی ملکیت میں چلا گیا، شاہ شجاع کو اس کے بھائی شاہ محمود نے بغاوت کر کے معزول کر دیا، اپنی معزولی کے بعد وہ اپنے بھائی شاہ زمان جسے شاہ محمود نے اندھا کر دیا تھا، اپنی بیوی اور کوہ نور کے ساتھ افغانستان سے پنجاب کی طرف فرار ہو گیا، شاہ شجاع اپنی بیوی کو راولپنڈی میں چھوڑ کر پنجاب کے حکمران رنجیت سنگھ کے پاس پناہ کی درخواست لیکر حاضر ہوا، رنجیت سنگھ نے درینہ دشمنی کے باوجود سیاسی، سفارتی اور فوجی وجوہ کی بناء پر شاہ شجاح اور شاہ زمان کو اپنے پاس پناہ دی اور پندرہ سو روپے ماہانہ وظیفہ مقرر کیا،

اسی دوران شاہ شجاع نے اپنی بیوی کو بھی راولپنڈی سے لاہور بلوا لیا، اپنے بھائی اور بیوی کو لاہور چھوڑ کر وہ کشمیر میں تعینات اپنے افغان گورنر اعظم خان کے پاس گیا تاکہ اس کی مدد سے دوبارہ افغانستان کا اقتدار حاصل کر سکے، لیکن وہاں اس کے پہنچنے سے پہلے اس کی معزولی کی خبر پہنچ چکی تھی، کشمیر دربار میں پہنچتے ہی اسے گرفتار کر کے قید کر لیا گیا، شجاع کی گرفتاری کی خبر سن کر اس کی بیوی نے رنجیت سنگھ سے مدد چاہی کہ وہ کشمیر پر حملہ کر کے اس کے شوہر کو بازیاب کروائے لیکن رنجیت سنگھ نے خراب موسم اور کشمیر کی فوجی مہم کے لیئے دستیاب فوجی اور مالی وسائل کی قلت کا بہانہ کر کے انکار کر دیا اس پر شاہ شجاع کی بیوی نے مجبوری جانتے ہوئے رنجیت سنگھ کو کوہ نور ہیرا دینے کا وعدہ کیا، اس امر کی تصدیق کے بعد کہ کوہ نور ہیرا شاہ شجاع کی بیوی کے پاس موجود ہے رنجیت سنگھ نے شاہ شجاح کی رہائی کیلئے کشمیر پر حملے کا وعدہ کر لیا، دوسری طرف افغانستان کا بادشاہ شاہ محمود اس امر سے پریشان تھا کہ اس کے بھائی رنجیت سنگھ کی پناہ میں ہوتے ہوئے اس کی حکومت کے لیئے خطرہ بن سکتے ہیں تو اس نے اپنے وزیر فتح علی خان کو مذاکرات کیلئے رنجیت سنگھ کے دربار میں بھیجا اور رنجیت سنگھ سے مفاہمت، شاہ شجاع کی حوالگی، کشمیر سے شاہ شجاع کو واپس لانے کیلئے پنجاب دربار سے راہداری اور فوجی مدد کے عوض ایک خطیر رقم کی پیشکش کی،

رنجیت سنگھ نے حکمت سے کام لیتے ہوئے رضامندی کا اظہار کر دیا اور افغان فوج کو کشمیر کیلئے راہداری دے دی، اس کے ساتھ ہی رنجیت سنگھ نے کشمیر کیلئے تیار اپنی فوجی مہم بھی ہری سنگھ نلوہ اور دیوان چند کی سرکردگی میں کشمیر روانہ کر دی، افغان فوج روایتی اور لمبے راستوں سے ہوتے ہوئے کشمیر کی طرف جا رہی تھی جبکہ خالصہ فوج جموں کے مقامی حکمرانوں کی مدد سے غیر معروف اور نسبتاً کم طویل رستوں سے ہوتے ہوئے افغانوں سے قبل سرینگر پہنچ گئی اور ایک خفیہ گوریلہ کاروائی میں شاہ شجاع کو قید سے آزاد کروا کے کڑے فوجی پہرے میں لاہور روانہ کر دیا، کشمیر میں افغانوں کے گورنر اعظم خان کے بھائی جبار خان کی جنگ میں شکست کے بعد کشمیر پنجاب سلطنت میں شامل ہو گیا اور موتی رام کو کشمیر کا خالصہ گورنر مقرر کر دیا گیا، شاہ شجاع کے لاہور پہنچنے کے بعد رنجیت سنگھ نے وعدے کے مطابق شاہ شجاع کی بیوی سے کوہ نور کا ہیرا طلب کیا تو شاہ شجاع نے ٹال مٹول سے کام لینا شروع کر دیا، اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے رنجیت سنگھ نے شاہ شجاع اور اس کے خاندان کو اندرون لاہور کی مبارک حویلی میں نظربند کر دیا، نظر بندی سے مجبور ہو کر شاہ شجاع نے کوہ نور رنجیت سنگھ کے حوالے کر دیا، 1846 میں اٹھائیس سال بعد سکھوں کی شکست کے ساتھ ہی کوہ نور ہیرا اور کشمیر دونوں انگریزوں کے قبضے میں چلے گئے،کوہ نور تو انگریزوں کے پاس ہی رہا لیکن معاہدہ امرتسر کے تحت گلاب سنگھ نے کشمیر انگریزوں سے واگزار کروانے کے بعد جموں، لداخ و بلتستان کے ساتھ شامل کر کے ریاست جموں کشمیر کی بنیاد رکھی.

-کاکاٹیوں کا ہیرا اور ریاست جموں کشمیر مدثر شاہ” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں