Modi Jalsi in Taxas USA 173

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے جلسے میں اندر کتنے لوگ تھے اور مخالفت میں باہر کتنے

پروٹیسٹرز پندرہ سے بیس ہزار کر درمیان آئے اور مودی کے لیے استقبال کرنے کے لیے بھی اتنے ہی لوگ تھے. جبکہ مودی کے جلسے کا بجٹ ملینز میں تھا اور پاکستانیوں کے ساتھ ٹیکساس کے سکھوں نے چندہ کر کے نوے ہزار ڈالر جمع کیے تھے.

افسوس کہ ہندوستان کے لوگ بیس ہزار مودی بھگتوں کو پچاس ہزار بتا رہے ہیں اور ہمارے لوگ بیس ہزار پاکستانی اور سکھ پروٹیسٹرز کو دو ہزار بھی نہیں مان رہے.

یہ سب یہاں ہیوسٹن میں میری آنکھوں دیکھی باتیں ہیں. کیونکہ میں یہاں چار سال سے فیلڈ رپورٹنگ کر رہا ہوں.

بھارت سے الفت رکھتے پاکستانی دوستو، میں واضح کر دوں کہ ہندوستان کی تقسیم ضروی تھی. امن یکطرفہ نہیں ہوتا اور نہ ہی جذبہِ خیر سگالی کا اظہار یکطرفہ ہو.

آج بھارت کا سو فیصد نہیں تو ستر سے اسی فیصد ہندو، مسلمانوں، پاکستانیوں اور کشمیریوں سے اپنی نفرت کا برملا اظہار کر رہا ہے. ایسے میں پاکستان کے خلاف بھارتی موئقف اور بھارتی پراپیگینڈہ کی حمایت کیسی؟

یار پاکستانی بن جائو. ہندوستان نے تو ابھی تک عدنان سمیع خان کو قبول نہیں کیا تمھیں یا مجھے کیا کرے گا.
.
وہ تو پچاس ساٹھ سال پہلے بنگلادیش سے آسام آئے لاکھوں بنگالی مسلمانوں کی چہریت چھین کر انھیں کیمپوں میں بند کر رہا ہے. تو تم کس کھیت کی مولی ہو.

اپنے گھر میں گڑبڑ ہے تو اسے سب کو ساتھ ملا کر ٹھیک کرو نہیں ہوتا تو بار بار کوشش کرو، غصہ جانے دو. اپنے وطن سے بغض کیسا. پاکستان کے پڑوسی بھارت کو ہندوتوا کا سخت بخار ہوا پڑا ہے.

اس کی نفرتوں سے بھری غلاغت کو تبرک بنا کر منہ پر کیوں ملتے ہو. پاکستان میں رہو گے یا دنیا میں کہیں بھی جائو گے پاکستانیت کے بغیر تمھاری کوئی قابلِ قدر پہچان نہیں ہو گی.

میں نے امریکہ میں صدیوں سے آباد افریقہ سے لائے گئے سیاہ فاموں کو اپنی روٹس کے لیے بیتاب اور آبدیدہ دیکھا ہے.

تم کیوں خود کے اور پاکستانی کے لوگوں کے بدمزہ سی بھارت نوازی بیچتے ہو جبکہ ہندوستان کا ہندو تمھاری تیسرے درجے کی شودر پہچان سے زیادہ کسی پہچان پہ کبھی راضی نہیں ہو گا.