بے ہنگم نظم

آج کی صبح بہت حساس ہے جیسے کسی احساس میں کوہ گراں کے نیچے دبی ہوئی چڑیوں کی چہچہاہٹ، اور مانوس لمحوں میں عجب بیزاری […]

آخری شب

اوائل شب کے تھکے مانندے میرے بستی کے یہ نیم خواب لوگ کچھ شرمندہ سے کھنڈرات میں بھٹکے لوگ کسی آسیب زدہ عمارت میں تھک […]

آوارہ کتے

میری سربریدہ لاش کچرے کے اس ڈھیر کے دوسری طرف پڑی ہے کچھ گدھ اور کوے بارے بار اس طرف منڈلا رہے ہیں غول کے […]

میں افسردہ نظمیں لکھتا ہوں 

میں افسردہ نظمیں لکھتا ہوں میں لوگوں کی عدم موجودگی میں ان سے بات کرتا ہوں اور ان باتوں کو صفحہ قرطاس پر بکھیر دیتا […]