“کتی کے بچے! یہ بتاؤ کہ پہلے تمھاری شلوار اتار کر شروع کریں یا تمھاری ماں کی شلوار اتاریں؟؟”
یہ جملہ پنے رام کے کانوں اور اعصاب پر بجلی بن کر گرا۔
حیرت، بے بسی اور خوف نے اس کی حالت عجیب کر دی۔
اس کی نظر ماں کی طرف اٹھنے کی ہمت نہیں کر رہی تھی۔ اچانک اس کی ماں کی تیز سانس والی خرخراہٹ نے اس کی نظروں کو اتنی ہمت دی کہ اس نے تڑپ کر بے اختیار ماں کی طرف دیکھا جو بایاں ہاتھ سینے پر رکھے ہوئے دائیں ہاتھ کو شدید اضطراب میں دائیں بائیں لہرا رہی تھی گویا کسی بات سے منع کر رہی ہو۔
پنے رام سمجھ گیا کہ یہ بات سن کر ماں کو صدمے سے دل کا دورہ پڑا ہے۔
اس نے بے بسی اور بے قراری سے ہاتھ جوڑ دیے جو پہلے ہی رسی میں جکڑے ہوئے تھےاور قریباً چیختے ہوئے کہا!
” میں دکان کھولوں گا——–
میں ہر بات مانوں گا—–
بس میری ماں کو چھوڑ دو——
جو کہو گے میں کروں گا۔۔۔
میری ماں کو اسپتال پہنچا دو۔۔۔۔”
اس کی ہذیانی چیخیں اور شکست خوردہ جملے سن کر سامنے کرسی پر بیٹھے گوپال ورما کے مکروہ چہرے پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ پھیل گئی، اس نے شدید استہزا ، فتح مندی اور حقارت کے ساتھ کہا:
“نمک حرام کشمیری…..
کتی کا بچہ۔۔۔
بڑا آیا انقلابی
نکل گیا سارا انقلاب ؟
لے لی آزادی؟”
اس کے ساتھ ہی اس نے سپاہیوں کی طرف اشارا کیا اور کہا
اس دلّے کو گول کمرے میں پہنچاؤ۔
گوپال ورما کے تمام طعنے اور سارے جملے پنے رام کے لیے بے معنی تھے۔ اس نے گویا سنے ہی نہیں، وہ بے قراری سے اپنی ماں کے بے سدھ وجود کو آوازیں دے رہا تھا:
” اماں او اماں!
میری بات سنو !
میں پنے رام!
میری بات سنو اماں!
بھگوان کا واسطہ ہے!
آنکھیں کھولو!
میں پنے رام!”
ماں کے چہرے کی جھریوں پر بہنے والے آنسو اب تھم چکے تھے، اسے لگا کہ اس کی ماں کے آنسو تیزابی حالت میں اس کے اپنے چہرے پر بہہ رہے ہیں۔
تھوڑی دیر کے لیے قدیر کچلو، حقوق، آزادی یہ تمام باتیں اس کے ذہن سے محو ہو چکی تھیں۔
وہ اب صرف اپنی ماں کی جان بچانے کی فکر میں تھا:
” اماں او اماں!
بات تو سنو!
کچھ نہیں ہو گا”
اس کی آواز بھرانے لگی.
اسے اچانک لگا کہ فرش میں زلزلے جیسی لہریں بن رہی ہیں۔ اسے دیواریں بھی آگے پیچھے ہوتی محسوس ہونے لگی۔
اس نے ماں کے تلوے سہلانے کے لیے اپنے بندھے ہوئے ہاتھ بڑھانے چاہے تو اس کے اپنے وجود نے حرکت سے انکار کر دیا۔
اور پھر اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔
اذیت ناک سکون
وہ سری نگر کے مرکزی بازار میں سیبوں کی دکان چلاتا تھا۔
پتا نہیں کیوں مگر گزشتہ کچھ عرصے سے بھارتی فورسز کا معمول بن گیا تھا کہ سرچ آپریشن کے نام پر کریک ڈاؤن کرتیں، گھروں کا قیمتی سامان اٹھا کر لے جاتیں،
صوفے اور بستر پھاڑ دیے جاتے اور الماریوں کے دروازے اور دراز توڑ دیے جاتے۔
گھروں والے سب کچھ کھول کر دکھانے کو بھی تیار ہوتے تھے مگر دھشت کا ماحول بنانے کے لیے توڑ پھوڑ لازمی تھی۔
کشمیر میں حقوق کے نام پر تحریک چل رہی تھی۔
تحریک کے رہنما اپنی سری نگر کی حکومت سے مطالبہ کر رہے تھے کہ بنیادی انسانی حقوق دیے جائیں۔
فوج کو آبادی سے نکالا جائے، سرچ آپریشن بند کیے جائیں اور عوام کو کم از کم بھی اتنے حقوق ضرور دیے جائیں جتنے پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں دیے جا رہے ہیں۔
سب سے اہم مطالبہ ریاستی پیداوار کا محصول ریاستی رفاہ کے کاموں پر خرچ کرنے کا حق تھا۔
تحریک شدت پکڑ رہی تھی۔ وکیلوں کی شروع کی ہوئی تحریک کی باگ ڈور اب تاجروں نے بھی تھام لی تھی۔
کسی بھی معاشرے میں تاجروں کو بزدل طبقہ سمجھا جاتا ہے جو کوئی انقلاب نہیں لا سکتے مگر یہاں تاجروں نے ایک قیامت اٹھائی ہوئی تھی۔
اقدامی احتجاج تاجروں کے بس کا روگ نہیں ہوتا مگر وہ کمزور احتجاج کے طور پر اتنا تو کر ہی سکتے تھے کہ دکانیں بند کر کے گھر بیٹھ جائیں۔
ایک دو بار پہلے بھی انہوں نے یہی اقدام کیا تھا اور خاطر خواہ نتائج برآمد ہوئے تھے۔
دوسری طرف بھارت کی سرکار کو ایسا کوئی بھی کام قبول نہیں تھا جس میں عوام کو حقوق وغیرہ کے مطالبے کا مروڑ پڑے۔ کشمیر والے مطالبہ سری نگر کی حکومت۔سے کر رہے تھے جب کہ پیچ و تاب دلی سرکار کو پڑ رہے تھے۔
حقوق کی بات سن کر سرکار کے کانوں میں جیسے تیزاب چلا جاتا تھا۔
غاصب بھارت سرکار نے کشمیری ایجی ٹیشن کو دبانے کے لیے رسوائے زمانہ نرسہما راؤ جیسے راکھشش کو مکمل اختیار دے کر کشمیر پر گورنر کے طور پر مسلط کیا تھا۔
کٹھ پتلی وزیر اعلی کے نام پر ساری پاورز وہ خود ایکسرسائز کیا کرتا تھا۔
ایک بار وزیر اعلی نے منمناتا سا احتجاج کیا تو ایک زناٹے دار تھپڑ نے باقی کابینہ کا دماغ بھی درست کر دیا اور سب سوتر کی طرح سیدھے ہو گئے۔
اسمبلی ممبران آپس میں ملتے تو کھل کھل کر نرسہما راؤ کو بھی گالیاں دیتے اور عوام کو بھی۔
عوامی حمایت ان رہنماوں کی طاقت تھی مگر نازک مرحلے پر انہوں نے عوام میں رہنے کی بجائے، بھارتی سرکار کا ساتھ دیا۔
عوام کی نظر میں گرے تو گرے، بھارتی سرکار کو بھی ان کی اپروچ کا اندازہ ہو گیا۔ وہ بھی ان کی بات کو خاص اہمیت نہیں دیتے تھے۔
اسمبلی ممبروں کے لیے اندر بیٹھنا بھی اتنا ہی مشکل ہو گیا تھا جتنا باہر نکلنا۔
کبھی انہیں نرسہما راؤ کے دفتر میں ڈانٹ پڑتی تو کبھی عوام کے ہتھے چڑھتے تو وہ بھی ہاتھ سیدھا کر لیتے۔
کل جن سے ہاتھ ملانے کو اعزاز سمجھا جاتا تھا، آج کوئی ہاتھ لگانے کو تیار نہیں تھا۔
بڈگام، شوپیاں، بارہ مولا ، سری نگر الغرض ہر جگہ ہی ایک آگ سلگ رہی تھی۔
بھارتی سرکار کا ایک اور مکروہ حربہ یہ تھا کہ حقوق کا مطالبہ کرنے والوں پر غداری اور پاکستانی ایجنٹی کا الزام بھی لگایا جاتا۔
ایک دو رہنماؤں کے گھر سے پاکستانی کرنسی برآمد کرنے کا ڈراما بھی کیا گیا حالاں کہ عام مزدور بھی سمجھتا تھا کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی کرنسی کا کیا کام ہے۔
بھارتی ریاست نے تاجر رہنما قدیر کچلو کو پاکستانی ایجنٹ قرار دے کر جملہ اخباروں میں سرکاری اشتہار چلائے تھے اور قدیر کچلو کے سر پر ایک لاکھ بھارتی روپے کی رقم بھی لگا دی تھی۔
قدیر کچلو خود ہی نہیں بل کہ اس کا خاندان بھی کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کے پرزور حامی رہے تھے ۔
قدیر کچلو کا والد شبیر کچلو بھی ایک تاجر رہا تھا اور مرتے دم تک بھارت کی وفاداری کا دم بھرتا رہا۔
آج اس کے بھارت نواز بیٹے پر پاکستانی ایجنٹی کے الزام کی بات سن کر قبر میں اس کی روح نے بھی جھرجھری لی۔
اس کی روح کو اضطراب سے زیادہ پچھتاوا ہو رہا تھا کہ وہ عمر بھر بھارت کے بارے میں مغالطے کا شکار کیوں رہا تھا۔
غنی بھٹ اور غنی لون جیسے لوگ اسے سمجھاتے بھی رہے تھے مگر اسے لگتا تھا کہ وہ شاید کسی ذاتی بغض کی بنیاد پر بھارت جیسی سب سے بڑی جمہوریت کے خلاف باتیں کرتے ہیں۔
آج اس کا پچھتاوا عروج پر تھا مگر کیا کر سکتا تھا۔
وہ اب صرف ایک روح تھی۔
بے دست و پا۔
اس کا جی چاہتا تھا کہ اسے تھوڑی دیر کے لیے، صرف دس منٹ کے لیےجسم اور جان واپس مل جائے اور وہ جا کر سب کے سامنے اپنی بھارت نوازی کا ماتم کرے اور وصیت کر کے آئے کہ اس کی نسل کا ہر بچہ بھارت کے ساتھ انضمام کی بجائے اپنی آزادی کی جدوجہد کرے گا۔
مگر جانے والے کب واپس آ سکتے ہیں۔
پنے رام کو ہوش آنے لگا تو اسے احساس ہوا کہ کوئی اس کے منہ پر چھینٹے مار رہا ہے۔
ہوش بحال ہونے میں اسے دقت کا سامنا تھا۔
اس کی یادداشت آ جا رہی تھی۔
نیم ہوش کے عالم میں اس کے سامنے قدیر کچلو کا چہرہ پھرنے لگا۔ قدیر کچلو خاصے دنوں سے غائب تھا۔
سرکاری کتے اس کی بو پر جگہ جگہ چھاپے مار رہے تھے۔
اچانک پنے رام کو بے ہوش ہونے سے پہلے کا منظر یاد آ گیا۔
وہ تڑپ کر اٹھا تو اس کے چہرے پر چھینٹا گیا پانی اس کے کپڑوں پر گرا۔
اس نے پہلا سوال اپنی ماں کے بارے میں کیا کہ ماں کہاں ہے اور اب اس کی طبیعت کیسی ہے؟
ایک ناٹے قد کے سپاہی نے ، قہر بار نظروں سے دیکھتے ہوئے بتایا کہ اس گشتی کو اسپتال میں ڈال آئے ہیں۔
ماں۔۔۔۔گشتی؟؟؟
ماں کے لیےگشتی کا لفظ سن کر اس کا پارہ گھوم گیا۔
وہ سپاہی پر حملہ کرنا چاہتا تھا کہ اس کے کانوں میں گوپال ورما کی کرخت آواز گونجی!
اس باسٹرڈ کو ہوش آ گیا ہے۔
اس کو ریکارڈنگ روم میں لے جاؤ۔
پہلے ایک دو بار بیان کی ریہرسل کروا کر ریکارڈ کرنا۔
پرسوں بھی وہ چوتیا وکیل ایسے بول رہا تھا جیسے سبق سنا رہا ہو۔
پنے رام کو گھسیٹ کر پہلے ایک واش روم میں لے جایا گیا۔
وہ بار بار ماں کا پوچھنا چاہ رہا تھا مگر ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ اس کا بدن ٹوٹ رہا تھا جگہ جگہ سے ٹیسیں اٹھ رہی تھیں۔
قدیر کچلو کی طرح وہ بھی مذہبی بنیادوں پر بھارت کا حامی رہا تھا۔
وہ ہندووں کے بھارت کے ساتھ خود کو زیادہ محفوظ سمجھتا تھا
اور آج وہ اپنے ہم مذہب گوپال ورما کے جملے پر سیخ پا تھا مگر فی الحال کچھ کر نہیں سکتا تھا۔
اسے اپنے لیے توڑنا مشکل تھا مگر رشتے تو پہاڑوں کو بھی کمزور کر دیتے ہیں۔
وہ تو سیب کا ایک عام سا بیوپاری تھا۔
ماں کی وجہ سے وہ نہ صرف بند دکان کھولنے پر بھی راضی ہو گیا تھا بل کہ ویڈیو بیان دینے کے لیے بھی تیار تھا۔
ایک طرف وہ دوڑ کر ماں کو دیکھنا چاہتا تھا تو دوسری طرف اسے ماں کا سامنا کرنے کی ہمت بھی نہیں تھی۔
اس کی بوڑھی ماں کی شلوار اس کی آنکھوں کے سامنے کھینچ کر وہ سوال کیا گیا تھا جو پگھلتے ہوئے سیسے کی طرح اس کی یادداشت اور جگر میں پیوست ہو گیا تھا۔
منہ دھوتے ہوئے اسے ہر جوڑ دکھتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔
ویڈیو بیان اور دکان وغیرہ کی بجائےاس کے سامنے ایک ہی سوال تھا کہ وہ ماں کا سامنا کر سکے گا یا ساری عمر کے لیے گھر ہی چھوڑ دے گا۔
کیا ماں یہ سوچے گی کہ پنے رام کی وجہ سے اس کی عصمت پر بڑھاپے میں ہاتھ ڈالا گیا؟؟
اس کے ذہن میں خود کشی کا بھی آیا مگر ایک عزم نے اسے روک لیا۔
اسے کسی کے کپڑے دیے گئے جنہیں پہن کر وہ بے جان لاش کی طرح ریکارڈنگ روم میں پہنچایا گیا۔
ایک مرہٹہ سپاہی چابک لیے ریکاڈنگ والی کرسی کے پاس مستعد کھڑا تھا کہ کوئی ہوشیاری کی کوشش کرے تو چابک رسید کر دے تاکہ ان کو ویڈیو بار بار نہ ایڈٹ کرنی پڑے۔
اس کو ایک ورق پکڑا دیا گیا کہ اس پر جو لکھا ہے اس کو غور سے پڑھو اور یاد کر لو۔
ذرا بھی ادھر ادھر نہیں۔
ہندی تحریر کو پڑھتے ہوئے اس کے سامنے کاغذ پر کبھی ماں کا آنسووں بھرا چہرہ اور کپکپاتا ہاتھ ابھرتا اور کبھی قدیر کچلو کی شکل سامنے آ جاتی۔
اپنی اس حالت کا ذمہ دار نہ وہ قدیر کچلو کو سمجھتا تھا اور نہ خود کو۔ وہ صرف اور صرف اپنی بھارت نوازی کا ماتم کرنا چاہتا تھا۔
اپنے آپ سے نفرت کرنا چاہتا تھا کہ وہ آج تک بھارت کو اپنا محافظ اور بڑا بھائی کیوں سمجھتا رہا کہ محض اپنی دکان بند کرنے کی پاداش میں، اس کے اپنے ہم مذہب گوپال ورما نے اس کی ماں کی شلوار پر اس کے سامنے ہاتھ ڈالا اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس آنکھیں رواں ہو گئیں۔
کاغذ بھیگ گیا۔
اور الفاظ آپس میں گڈمڈ ہو گئے۔
ہندی بارہ کھڑی کی علامتیں خلط ملط ہو گئیں۔
ایک مسلمان سپاہی نے ترس کھا اسے پانی کا گلاس اور حوصلہ دیا تو گوپال ورما کا اگلا تھپڑ اس سپاہی کو پڑا۔
کیمرے کے سامنے ابھی کسی اور کا بیان چل رہا تھا۔
کرسی خالی ہوئی تو پنے رام کو اس پر بٹھا دیا گیا۔
اس نے ایک بے جان لاش کی طرح، کیمروں کے سامنے، کاغذ پر دیا گیا بیان پڑھ کر سنا دیا۔
اسے کچھ بھی پتا نہیں چل رہا تھا کہ اس کے منہ سے کیا نکل رہا ہے۔
بیان مکمل ہوا تو وہ کرسی سے اتر آیا اور جانے کی اجازت مانگنے کا سوچ رہا تھا کہ ایک فون اس کے کان سے لگا دیا گیا اور کہا کہ اپنے بیٹے کو بتاؤ کہ ابھی سیدھا سومنات مارکیٹ پہنچے اور دکان کھول کر بیٹھ جائے۔
اس کا جی تو چاہتا تھا کہ بیٹے کو کہے کہ جاؤ اور دکان کو آگ لگا دو، بل کہ پوری مارکیٹ جلا ڈالو مگر اس نے بیٹے کی تشویش ناک آواز سنتے ہی پہلا سوال کیا
“کیا دادی واپس گھر پہنچی ہیں؟
کیسی ہیں؟”
بیٹے نے کانپتی آواز میں جواب دیا کہ دو سپاہی ہمارے گھر بیٹھے ہیں اور انہوں نے چھوٹے ببلو کو بھی مارا ہے۔
وہ بتا رہے ہیں کہ دادی اسپتال میں ہیں۔
وہ چیخنا چاہتا تھا مگر سپاہی کی نظروں کا اشارا سمجھ کر اس نے بیٹے سے کہا کہ سیدھے دکان پر جاؤ اور کھول کر بیٹھ جاؤ۔
اور اس کے ساتھ ہی اس کے ہاتھ سے موبائل چھین لیا گیا۔
اسے ایک بڑے ہال میں لے جا کر اندر دھکیل دیا گیا جہاں اور بھی بہت سے شناسا دکان دار دیکھ کر اسے تھوڑا سا حوصلہ ہوا۔
رتن لال اور غلام نبی پنسار نے اٹھ کر اسے اکٹھے ہی باہوں میں لے لیا اور تینوں کی ہچکی بندھ گئی۔
وہ سب بھی بیان ریکارڈ کروا چکے تھے اور ابھی یرغمال کے طور پر یہاں رکھے گئے تھے کہ جس جس کی دکان آج پورا دن کھلی رہی، اسے کل جانے کی اجازت مل جائے گی۔
پنے رام انہیں اپنی ماں والی بات بتانا چاہتا تھا مگر ہمت نہ کر پایا۔
ماں کے مرنے پر کون خوش ہو سکتا ہے مگر آج اسے ان دونوں پر رشک آ رہا تھا کہ ان دونوں کی مائیں مر چکی تھیں۔
وہ روتا جا رہا تھا کہ غلام نبی پنسار نے اس کو دوبارہ بازوؤں میں بھینچ لیا۔
اس کے آنسو اور ناک کی رطوبت مل کر بہہ رہے تھے۔
رتن لال دونوں کے سر پر ہاتھ پھیر کر دلاسا دے رہا تھا۔
غلام نبی پنسار روتے روتے جیسے ابلنے لگ گیا۔
وہ پنے رام سے کچھ کہنا چاہ رہا تھا مگر ہوں ۔۔۔ہوں۔۔غوں۔۔۔غوں کے علاوہ اس کی آواز نہیں نکل رہی تھی۔
رتن لال نے قریباً سرگوشی میں غلام نبی پنسار سے پوچھا کہ سکینہ والی بات؟؟
گویا اجازت لے رہا ہو کہ وہ خود بتا دے کیوں کہ غلام نبی سے تو بات نکلنا ہی مشکل ہو رہا تھا۔
پنسار نے ہچکیاں بھرتے ہوئے, سر اوپر نیچے کرتے ہوئے پھر ہوں ہوں کیا
گویا اجازت دے رہا ہو۔
رتن لال سرگوش لہجے اور محتاط الفاظ میں پنے رام کو بتانے لگا کہ ان سوؤروں نے سکینہ بیٹی کے ساتھ۔۔۔
وہ آگے ہمت نہ کر سکا
مگر پنے رام ساری بات سمجھ گیا۔
سولہ سترہ سال کی سکینہ، فرسٹ ائیر کی طالبہ تھی اور غلام نبی پنسار کی اکلوتی بیٹی تھی۔جسے وہ دیوانوں کی طرح چاہتا تھا۔۔اور آج ۔۔۔۔۔۔۔
پنے لال یہ پوچھنے کی ہمت بھی نہ کر سکا کہ سکینہ اس وقت کہاں ہے۔
یہاں سب کا ملتا جلتا دکھ تھا۔
کسی کی ماں کسی کی بیٹی۔۔۔
کسی کی بہو کسی کا جگر گوشہ
اور یہ سب کس لیے؟؟
بند دکانیں کھلوانے کے لیے
تاکہ وہ زی ٹی وی پر فوٹیج دکھا سکیں کہ کشمیر میں سب نارمل چل رہا ہے۔
کوئی احتجاج نہیں
کوئی شٹر ڈاون نہیں
دکان بند کرنا تو سب سے دھیما احتجاج ہے جس میں کسی اور کی بجائے اپنا نقصان کیا جاتا ہے۔
دکان بند کی اور گھر بیٹھ گئے
نہ جلاؤ گھیراؤ نہ ہلڑ بازی
اور جو بھارتی سرکار، یہ دھیما ترین احتجاج بھی برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں تھی تو اس سے کس خیر کی توقع کی جا سکتی تھی۔
اسے جمہوری کہلانے کا کس منہ سے حق تھا؟
کوئی مسلمان افسر پنےرام کی ماں کے ساتھ ایسا کرتا تو شاید پھر کوئی تک بنتی تھی۔ پنے رام تو یہ سوچ سوچ کر گھل رہا تھا کہ اس کا اپنا ہم مذہب،
اپنا ہندو،
اس حد تک جا سکتا ہے کہ اس کی بوڑھی ماں۔۔۔اور اسے دل میں شدید تکلیف محسوس ہونے لگی۔
سر بوجھل ہونے لگا اور وہ کٹے ہوئے تنے کی طرح بھداک سے فرش پر گرنے ہی والا تھا کہ رتن لال نے اسے سنبھال لیا۔
اس کی سانس دھونکنی کی طرح چل رہی تھی۔
اسے دو دن پہلے اٹھایا گیا تھا اور کھانے پینے کو کچھ نہیں دیا گیا تھا۔
اس پر تشدد بھی کیا گیا مگر وہ دکان کھولنے پر راضی نہ ہوا تھا۔
وہ جب کمزور پڑنے لگتا تو اس کے کانوں میں قدیر کچلو کی آواز گونجنے لگتی۔
“بھائیو ہمت رکھنا!
ہم آج جھک گئے تو پھر کبھی سر نہیں اٹھا سکیں گے “
اس جملے سے اسے ایک حوصلہ ملتا اور وہ تشدد کے باوجود دکان کھولنے سے انکار کر دیتا۔
اور آج اس کے گھر پر دھاوا بول کر، بھارتی سپاہی اسی کی بوڑھی ماں کو بھی گھسیٹ کر لے آئے اور اس کے سامنے ماں کی شلوار۔۔۔۔
اور وہ ہار گیا۔
تشدد اور بھوک کی وجہ سے وہ نیم ہوش کی حالت میں کچھ بڑبڑا رہا تھا۔
اس کی شکست اصل میں بھارت کی شکست تھی
بھارتی بیانیے کی شکست تھی۔
بنچ پر پڑے کولر سے پانی بھر کر اسے پلایا گیا تو تھوڑے اوسان بحال ہوئے۔
تھوڑی دیر گزری تھی کہ اس ہال کا دروازہ ایک دھماکے سے کھلا اور مزید دو لوگ اندر پھینک دیے گئے۔
کیا کوئی وحشی اور آ پہنچا یا کوئی قیدی چھوٹ گیا
درد کی ایک نئی داستان۔
ایک کو تو اس کا قصور بھی پتا نہیں تھا۔ وہ نہ دکان دار تھا نہ احتجاجی۔ وہ جھیل ڈل کے کنارے بیٹھا ہلکورے لیتے سنسان شکارے اور کشتیاں دیکھ رہا تھا کہ اسے دھر لیا گیاتھا ۔
دوسرے کا قصور یہ تھا کہ وہ ایک صحافی کا سوتیلا بھائی تھا جو بھارتی فوج کے مظالم کی خبریں اپنے اخبار میں چلایا کرتا تھا۔
بھائیوں کے تعلقات بھی سوتیلوں والے ہی تھے ۔
بات چیت بھی بند تھی۔
آج سوئے اتفاق سے وہ بھائی کی ایک امانت واپس کرنے آیا تھا۔چھاپے کے وقت گھر پر موجودگی ہی اس کا جرم بن گئی اور اسے اٹھا کر شدید تشدد کیا گیا۔
یہاں ہال میں سب موجودگاں کے دکھ الگ الگ تھے ۔
سب کی بے قصوری بھی الگ الگ تھی۔
مگر تشدد سب پر ہوا تھا۔
اس لیے سب کے جذبات ایک جیسے ہی تھے۔
بھارت سرکار سے نفرت
شدید نفرت
بل کہ نفرت چھوٹا لفظ رہ گیا تھا۔
سری نگر والوں کا سادہ سا مطالبہ تھا کہ ان کی پیداوار کے محصولات ان کی رفاہ پر لگائے جائیں۔ یہی اصول پوری دنیا میں رائج تھا مگر یہاں اپنے حق کا مطالبہ کرنا ہی جرم بن گیا تھا۔
ہال میں کھڑکیاں بھی تھیں مگر سب بند تھیں۔
ایک کھڑکی کی پرانی لکڑی کی درز سے عمارت کے اندر کا تھوڑا سا منظر نظر آتا تھا۔ خون آلود چہرے اور نوکیلی مونچھوں والا ایک جوان ، درز سے آنکھ لگائے باہر کا منظر دیکھ رہا تھا اور ساتھ ساتھ سرگوشیوں میں باقیوں کو بھی بتا رہا تھا۔
اسی نے باہر دیکھ کر بتایا کہ خوشامدی صحافیوں ایک وفد بھی آیا تھا۔ ان میں سے ایک صحافی نے نرسہما راؤ اور گوپال ورما کی موجودگی میں اپنی حد سے زیادہ وفاداری ثابت کرنے کے لیے کہا کہ اس کی رائے میں کشمیر واقعی بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور وہ خود بھی بھارت کو کشمیر کا بڑا بھائی سمجھتا ہے۔
اس کی خوشامد سے خوش ہونے کی بجائے گوپال ورما اسے ایک تھپڑ جڑ کر کڑکا
“اوقات میں رہو۔اوقات میں
“بڑا بھائی کیا ہوتا ہے؟؟
بھارت تمھارا بڑا بھائی نہیں
بل کہ باپ ہے باپ۔”
دکھی سب ہی تھے مگر ایک دوسرے سے شناسا نہیں تھے اس لیے بات کرتے ہوئے سب ہی محتاط تھے کہ کیا پتا کون گوپال ورما کا جاسوس بیٹھا ہو۔
شام ڈھلی تو خاقان بٹ کو بھی لا کر اس ہال میں پھینک دیا گیا۔ خاقان بٹ کو قدیر کچلو کا دست راست مانا جاتا تھا۔
اس کو دیکھ کر اکثریت اس کی طرف دوڑی مگر وہ کچھ بتانے کی حالت میں نہیں تھا۔
رتن لال نے اس کے تلوے رگڑے، پنے رام نے ماتھا اور گال سہلائے۔ سب ہی جتن کر رہے تھے کہ اس کو ہوش میں لایا جا سکے اور قدیر کچلو کی خیر خیریت کا پتا چل سکے۔
جس ٹھنڈے کشمیری مزاج کی وجہ سے تپسی تے ٹھس کرسی والا محاورہ کشمیریوں پر کلنک بنا ہوا تھا، قدیر کچلو نے گاندھی اور باچا خان کے عدم تشدد والے راستے پر چلتے ہوئے سری نگر کی مزاحمت کو ایک استعارہ بنا دیا تھا جس کی مثالیں بھارت کے شہروں میں ہی نہیں دنیا بھر میں دی جانے لگی تھیں۔
اسی دوران میں خاقان بٹ کو بھی ہوش آ گیا۔
اس کی اپنی حالت بھی دگرگوں تھی مگر سب ہی اس سے پہلے قدیر کچلو کی خیریت پوچھنا چاہ رہے تھے۔
جواب کی بجائے اس کی آنکھوں سے نکلتے گرم دھارے اور منہ سے نکلتی ہائے ہائے سب کہانی سنا رہی تھی۔
سب کو یقین ہو گیا تھا کہ قدیر کچلو گرفتار ہو گیا ہے۔ مگر کسی کو منہ سے کہنے کی ہمت نہ تھی۔
پنے رام نے دونوں ہاتھ جوڑ کر التجا کی کہ تمہھیں تمھارے مسلمانوں والے بھگوان کی قسم ہاں یا ناں تو کر دو کہ کچلو کے ساتھ ہوا کیا؟؟
خاقان نے ہمت جمع کر کے کہا :
“ہم ۔۔۔۔کچلو بھائی۔۔۔ کو نہیں بچا سکے۔ مخ۔۔۔مخبری ہو گئی تھی۔
پولیس ہائیڈ آوٹ تک پہنچ آئی مگر کچلو نے شیروں کی طرح گرفتاری دی ہے۔.۔وہ کچلو بھائی کو کہیں اور لے گئے ہیں۔ …شاید دلی…”
سب کو لگا گویا ان پرچھت گر پڑی ہے۔
خاقان اتنا بتا کر دوبارہ بےہوش ہو گیا۔
اس کے پاؤں پر چھالے تھے اور جلد جگہ جگہ سے پھٹی ہوئی تھی۔
تو کیا انہیں کسی جنگل سے پکڑا گیا تھا؟؟
سب ہی مخبری والے کے بارے میں سوچنے لگے۔
آدھی رات کو اس مونچھوں والے جوان نے درز سے باہر دیکھ کر بتایا کہ مخبری والا بھی آ گیا ہے بل کہ لایا گیا ہے۔
وہ ایک لاکھ روپیا انعام مانگ رہا تھا جو قدیر کچلو کے سر پر سرکار نے رکھا تھا۔
اس کو دیکھ کر، انٹروگیشن انچارج گوپال ورما کی ھنسی ہی بند نہیں ہو رہی تھی۔
وہ بھی کچھ سمجھے بغیر ہی کھسیانی ھنسی ہنس رہا تھا۔
اس کا نام راجو تھا۔
اچانک اشارہ ہوا اور سپاہی راجو پر ٹوٹ پڑے
اس کی چیخیں برآمدے میں بلند ہونے لگیں۔
مار کھاتے ہوئے وہ بار بار بھارت سے وفاداری کی قسمیں کھا رہا تھا۔
تشدد کی وجہ سے اس کا اگلا پچھلا پیشاب بھی نکل گیا۔
گوپال ورما نے جب فرش پر پیشاب دیکھا کڑک کر راجو کو حکم دیا کہ اس کو زبان سے صاف کرو
اس نے گھگھیاتے ہوئےکہا کہ سرکار میں تو آپ کا سیوک ہوں
بھارت سرکار کا وفادار ۔۔۔
تو پھر میرے ساتھ یہ انیائے کیوں؟
ٹٹی کو منہ کیسے لگاؤں؟”
گوپال ورما نے تاریخی جملہ کہا :
” جو اپنی قوم کا وفادار نہیں ہو سکا وہ کسی دوسرے کے ساتھ کیا وفا کرے گا؟”
ساتھ ہی اس نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ اگر یہ زبان کے ساتھ اپنی گندگی صاف نہیں کرتا تو سکریپر سے زبردستی ، ساری اس کے منہ میں ڈال دی جائے۔
اندر ہال میں موجود سب زندانیوں اور یرغمالیوں کا خون کھول رہا تھا۔
مونچھوں والا نوجوان ہونٹوں پر انگلی رکھ کر سب کو چپ رہنے کا اشارہ کر رہا تھا۔
سب کو یقین تھا کہ مخبر کو بھی ،دھلائی کے بعد اسی ہال میں لا کر ڈالا جائے گا۔
ان کے ساتھ جو ہونا ہوا ہو جائے مگر سب طے کر چکے تھے کہ راجو مخبر کی تکا بوٹی کر دیں گے۔ ہر شخص رضاکارانہ طور پر مخبر کے قتل میں پہل کا خواہاں تھا۔
راجو کی قسمت کہ اس کا “انعام” اس کے منہ میں ڈال کر اسے واپس بھیج دیا گیا ورنہ ہال میں بھیجا جاتا تو اس کے بدن کے چیتھڑے بھی نہ ملتے۔
صبح کے قریب پنے رام کی طبیعت شدید خراب ہو گئی۔
سب اس کے گرد اکٹھے ہو گئے۔
کولر سے پانی بھی ختم ہو چکا تھا۔
باہر پھرنے والے بھارتی سنتری سے ایک بار پانی کی درخواست کی گئی تو اس نے جواباً رعونت کے ساتھ بندوق لہرا کر دکھا دی۔
سب ہی بے بس تھے۔ کوئی پنے رام کے گال تھپتھپا رہا تھا تو کوئی تلوے سہلا رہا تھا۔
پنے رام کچھ بڑبڑا رہا تھا جو کچھ کچھ سمجھ میں آتا تھا۔
قَ ۔۔قق۔۔۔قدیر کچلو۔۔۔۔ قدیر کچلو کو بچا لو۔۔۔۔بھائیو کچھ بھی کرو۔۔ اسے بچا لو۔۔وہ سری نگر کا مان ہے۔۔
مم۔۔میری ماں کا دھیان ۔۔۔۔ دل کا دورہ پڑا ہے۔
ماں کی شلوار۔۔۔۔گوپا۔۔۔گوپال ورما نے میری ماں کو گَش۔۔گشتی۔۔۔کہا گشتی
سکینہ بھی میری بیٹی ہے۔ سک ۔۔۔سکینہ کو بچاؤ
پنے رام ۔۔۔پنے رام آج۔۔۔۔آج
۔۔
۔ بھارت پر لعنت بھیجتا ہے۔
اور خود پر بھی کہ آج تک اسے کشمیر کا بڑا بھائی سمجھا۔۔۔۔باپ کو بڑا بھائی۔۔۔۔۔سم۔۔سمجھا
ماں کو۔۔۔دل کا ۔۔۔۔۔دورہ۔۔۔۔گشتی۔۔
بھگوان ، ہے بھگوان ۔۔۔قَ۔۔۔قق۔۔قدی۔۔۔قدیر کچلو کی رکھشا
گوپال ورما!
۔۔کوئی رامو ۔۔۔۔رام موحم ،،،ہائے ۔۔۔رام محمد سنگھ۔۔۔۔ہائے تجھے ٹھکانے لگائے گا۔
راجو ،،،راجو راکھشس۔۔۔تیرے ساتھ گوپال نے ٹھیک کیا۔
جو۔۔۔جو اپنی ۔۔۔قو۔ ۔۔۔۔۔قوم کا وفائی نہیں وہ کسی کا وفائی نہیں۔
کشمیر کا پیسا کک۔۔۔۔کش۔۔کشمیر پر لگنا۔۔۔۔پاکستانی ایجنٹی
نرسہما راؤ۔۔۔۔غارت ہو۔۔
غنی بھی سچ کہتا تھا۔۔۔یہ ۔۔۔۔۔لڑ۔۔۔۔۔لڑک۔۔۔لڑکا یاسین ملک بھی سچ کہتا ہے۔۔۔بس پنے رام کی آنکھوں پر پٹی تھی۔۔
دھرم کی پٹی۔۔۔۔۔کس کی پٹی؟۔۔۔دھرم کی پٹی
آج گوپال نے اتار دی۔۔۔۔۔پٹی۔۔۔ماں ۔۔۔گشتی۔۔من
میرے بچوں کو بتانا۔۔۔ان میں کشمیری خون ہوا
تو۔۔۔۔کسی بھی بھارتی جماعت والے کو ووٹ نہ دینا۔
ورنہ راجو