22

خواب نگر کی آنکھیں۔

وہ خواب نگر کی آنکھیں۔
کتنی مدت بعد میرا ان سے سامنا ہوا تھا۔
وہ صحرائی حسینہ
جس کے چہرے پر صحرا کے کالے رنگ کا غلاف چڑھا ہوا تھا
انتہائی جاذب نظر اور مبہوث کر دینے والا تھا
مگر اس کی خشمگیں، خوبصورت نیلی آنکھیں
پیرس کے کسی بوڑھے فنکار کا خواب لگتی تھیں۔
جس نے اپنی ساری جمالیات کو عمر بھر یکجا کیا ، اور اپنے لامحدود تخیل سے وقت کا ایک شاہکار تخلیق کر ڈالا ہو۔
ایک ناکام فنکار کا سرمایہ حیات
اور دربدر پھرتے اپنے ہم عصر فنکاروں سے کہا ہو کہ اس کی تخلیق اس کے تابوت میں سر کی جانب ڈال دے
رات کے اندھیرے میں کسی گھنے جنگل میں درخت کی اوٹ سے بلا جھجھک تکتی دو نیلی آنکھیں
جن سے ہمکلام ہونے کی میں کبھی ہمت نہیں کر پایا۔
یہ ان دنوں کی بات ہے جب یونیورسٹی اپنے آخری دنوں میں داخل ہوچکی تھی ۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ خیال ذہن میں ابھرتا رہتا تھا کہ وقت تیزی سے گزر رہا ہے ۔ ہر نئے دن کے ساتھ اس کی رفتار مزید دوگنا ہو جاتی تھی۔ مجھے یہ تو معلوم نہیں میں نے اسے کب دیکھا تھا لیکن اس روز جب ہلکی ہلکی بارش میں سب دوستوں نے فیصلہ کیا آج گرمی میں اس بارش کا مزا لیتے ہیں۔ اگست میں بارش کا الگ ہی مزا ہوتا ہے سو اس روز بھی جم کر برسی۔
لابی میں بیٹھے ہوئے اچانک وہ کہیں سے اپنے دوستوں کے ساتھ وارد ہوئی اور سامنے کی سیڑھیوں پر بیٹھ گئی۔ وہی دو حیرت میں ڈالنے والی آنکھیں لیکن آج ان کے ساتھ ایک منفرد مسکان بھی تھی۔ لیلا کا دوسرا روپ۔
میرا اعتقاد دوسرے جنم پر نہیں ہے وگرنہ میرے تخیل میں لیلا کی جو تصویر ہے وہ اس سے ہوبہو مشابہت رکھتی تھی۔
وہ دوستوں کی باتوں پر قہقے لگا رہی تھی ہنس رہی تھی مسکرا رہی تھی۔ اور بارش میں بھیگی ہر شے مسکرا رہی تھی۔ مجھے اس سے محبت تو نہیں تھی۔ ۔۔۔ بالکل بھی نہیں ۔۔۔ ہاں اگر بات ان دو آنکھوں اور مسکان کی ہے تو مجھے اس سے محبت ہو گئی تھی۔
میں کسی اور سے محبت کرتا تھا۔ جس نے میرے محبت نہ ہونے کا غرور توڑ دیا تھا۔ لیکن اس کا ذکر کر کے میں اپنے دکھوں کو طویل نہیں کرنا چاہتا۔
پھر ہمارا سامنا ہوتا رہتا تھا۔ اسے بھی شاید میرے اس طرح دیکھنے سے آگاہ تھی۔
کبھی کبھی ہم انسان کسی کو جسم سے کچھ آگے بڑھ کر چاہنے لگتے ہیں ہمارا کسی سے تعلق بس کسی ایک غیر محسوس کشش کے تحت ترتیب پاتا ہے اور پھر برقرار رہتا ہے۔ میرا اس سے ایسا ہی کوئی تعلق تھا۔ اس کو محبت کا نام نہیں دیا جا سکتا لیکن ڈپارٹمنٹ اور لابی میں اکثر میری نگاہیں ان نگاہوں اور مسکراہٹ کو تلاش کرتی رہتی تھیں۔
میں نے ان آنکھوں کا ذکر کسی سے کیا بھی لیکن اسے وہ پسند نہیں آئیں۔ شاید نسوانی فطرت ہی ایسی ہے کہ عورت کے سامنے کسی دوسری عورت کی تعریف پر تکلیف پہنچتی ہے۔
زندگی یوں ہی گزر گئی۔ یونیورسٹی سے نکلنے کے بعد مجھے ان آنکھوں کی کبھی کبھی یاد آجاتی خاص کر جب کسی صحرائی حیسنہ کی تصویر دیکھتا۔
عملی زندگی انتہائی تیز رو ہے یہ کسی طوفان کی طرح بہتی ہی رہتی ہے اس کا انجام طوفان کے تھمنے جیسا ہی ہے۔
کل میں اپنے روزمرہ معملات نبٹانے گھر سے نکلا تو اچانک میری نظر ان ہی دو دلکش آنکھوں اور مسکراہٹ پر پڑی آج بھی وہاں ویسی ہی مسکراہٹ جمی ہوئی تھی ہاں البتہ وقت کی دھول نے رنگ کو مزید گہرا کر دیا تھا۔ اسے دیکھتے ہی میرے موٹر سائیکل کے پہیوں کی دلخراش چیخ نکلی وہ ایک دوسرے موٹر سائیکل پر کسی کے ساتھ بیٹھی تھی۔ اوجھل ہونے تک وہ مجھے دیکھتی رہی شاید پہچاننے کی کوشش کر رہی ہو گی۔
مجھے اس وقت خیال آیا جب میرے بیج سڑک میں کھڑے ہونے کی وجہ سے گاڑیوں کی لائن لگ گئی تھی اور ہارن کی تیز چبھتی آوز کانوں کے پردے پھاڑ رہی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں