Ejaz Noumani Kahy Baghair 208

کہے بغیر- اعجاز نعمانی کے شعری مجموعے پر عبد البصیر تاجور کا ایک دلچسپ تبصرہ

قبلہ یوسفی لکھتے ہیں کہ شیرنی اپنے بچوں سے لاڈ بھی اپنے جبر جنگ پنجوں اور دانتوں سے کرتی ہے کہ اسے یہی طریقہ آتا ہے. ہم بھی سنجیدہ ترین موضوع کو طربیہ طریقےہی پر لکھنا جانتے ہیں. نعمانی صاحب سے کہے بغیر فرمائش کرکے لی. کتاب دینے کے بعد انہوں نے از راہ ترحم اپنی نویلی گاڑی کی فرنٹ سیٹ پہ ساتھ بٹھا کے چاۓ پلانے کا بھی کہا جس میں یہ للچاوا واضح کارفرما نظر آیا کہ چاۓ حرامی نہیں کروں گا بل کہ کتاب کو پڑھوں گا بھی. یاروں کے بھیس میں احمدوقارجیسے بدخواہوں نے میری تشہیر میں کوئی کسر نہیں چھوڑی کی ہم عصر شعرا کی کتابیں پڑھے بغیر ہی شاگردوں کو ہبہ یا ہدیہ کر دیتا ہوں.

گاڑی تھوڑا سا آگے بڑھی تھی جب میں نے پورے خلوص سے اعلان کیا کہ میں اس پر ایک مضمون لکھوں گا اور بزبان خود پڑھوں گا بھی. جملہ ابھی مکمل نہ ہوا تھا کہ گاڑی کو ایسا جھٹکا لگا کہ اگر کہے بغیر اور گود میں رکھا ہوا میرا بیگ بیچ میں حائل نہ ہوتے تو کاسئہ سر ڈیش بورڈ سے ٹکرا کر پاش پاش ہو جاتا.

مجھے لگا جیسے گاڑی کے نیچے کوئی آ گیا. مڑ کر استفساریہ نظروں سے نعمانی صاحب کی طرف دیکھا تو ان کی آنکھوں میں بے بسی اور لبوں پر منمناہٹ سی تھی. وہ ٹکٹکی باندھ کر میری طرف دیکھ رہے تھے جیسے میرے منہ پرسانپ رینگ رہے ہیں. میں نے منہ پر ہاتھ پھیرا تو بڑھی ہوئی شیو کے علاوہ کچھ خاص نہ ملا. دوبارہ کچھ بدبداۓ تو معاملہ میری سمجھ میں آ گیا..کتاب پر مضمون لکھنے کی بات پر ان کی خوش حواسی کا غیاب دیدنی تھا. ڈاکٹر عابد سیال کی کتاب پر میرے مضمون کو سن کر تمام اہل بزم نے قہقہے تو خوب لگاۓ تھے..مگر تمام اہل کتاب نے مجھ سے تبصرہ لکھوانے سے سری و جہری توبہ بھی کر لی تھی.
نعمانی صاحب نے جملہ تہرایا تو میری سمجھ میں آیا. وہ اپنی ذات , شخصیت اور شاعری کی بابت فرما رہے تھے کہ وہ سنجیدہ آدمی ہیں اور اگر لکھنا ہی ہے تو اب کی بار وہ مجھ سے سنجیدہ مضمون کی توقع رکھتے ہیں. بدخواہوں کے بقول میری لکھی گئی نثر قابل سماعت ہونے کے ساتھ ساتھ ناقابل اشاعت بھی ہوتی ہے..اور روۓ سخن جس کی طرف ہو بزم میں اس کی حالت بھی دیدنی ہوتی ہے..

میں نے جھوٹ موٹ مضمون کو سنجیدہ سنجیدہ نمٹانے کی ہامی بھری تو ایک دم ہشاش بشاش ہو گئے اور از راہ تلطف اپنا نیا گھر دکھانے بھی لے گئے..جس میں ت ان کی اپنی ذات کے سوا تقریباً ہر چیز اجلی, نکھری, ان کھلی , ادھ کھلی غیر مستعمل یا نیم مستعمل تھی.ایسی جدت کے ساتھ میچنگ کی غرض سے ہم نے سچے دل سے ایک نئی بھابی کے لیے بھی دعا کی اگرچہ نعمانی صاحب کی عمر اور صحت اجازت نہیں دیتی مگر نیت غالب والی ہی رکھتے ہیں. غالبی و غالی….. در باب نسواں. بہت اچھا کھانا کھلایا تھوڑی بات چیت کی اور پھر اندھیرا ہوتے ہی قبلہ بچوں کے بغیر نیند نہ آنے کا بہانہ کر کے بالا خانے کی جانب رخصت ہو گئےً .بچوں کے پاس بھی شاید گئے ہوں ….خیر ہمیں کیا….رخصت سے قبل نو مرتبہ پوچھا آپ کو تکلیف تو نہیں ہو گی. اور جب یقین دہانی کروا دی کہ اگر کوئی تکلیف ہوئی بھی تو میں دفعیہ کر لوں گا…اور وہ قلانچیں بھرتے سیڑھیاں ٹاپتے غائب ہو گئے. ان کے رخصت ہوتے ہی کہے بغیر کا مطالعہ شروع کیا تو اندازہ ہوا کہ بہت سے اشعار ہم نعمانی صاحب کی منہ زبانی کئی دفع سن چکے تھے..ناشنیدہ و ناخواندہ مال کی تلاش میں ہم صفحے الٹتے گئے.

اور
جوڑ لگتے گئے فسانے میں
راز کھلتا گیا چھپانے میں

شعروں میں ایک نئے نا شنیدہ بہ نعمانی برآمد ہوۓ. اس سے قبل ہم نعمانی صاحب کو پروفیسری, مہمان نوازی, بذلہ سنجی, بالوں کی سفیدی چھپانے کے لیے روزانہ شیو کی عادت, ٹھیٹ دیہاتی زبان بولنے میں بوڑھیوں کے لہجوں کی ایسی دلنواز نقل اتارنا کہ پوپلے منہ والی بوڑھیاں بھی شرما جائیں.. مگر مزے لیں وغیرہ وغیرہ کی وجہ سے جانتے تھے.

ہمارے لیے ان کی دوسری پہچان مادر بزم ہاۓ مظفرآباد کی تھی. جب ہم نے مدار بلوغت میں قدم بھی نہ رکھا تھا نعمانی صاحب کا تب بھی یہی حلیہ تھا اور وہ تب بھی مظفرآباد کے تقریباً ہر مشاعرے کے میزبان ہوتے تھے. عمر مبارک کا کھل کے نہیں بتاتے مگر ایوب خان کے خلاف نعرے لگانے والے طلبہ کی ایک ٹولی کے رہنماء تب بھی ہوا کرتے تھے. آج بھی جمہوریت پسند احباب ایوبی آمریت کے قصے نعمانی صاحب کی زبانی سن کر اپنا خون کھولاتے اور دانت پیستے رہتے ہیں..

مشاعروں کی ماں کا لفظ ان کے لیے مجھے بہت موزوں لگا تو جڑ دیا..کیونکہ مشاعرہ ہاۓ مظفرآباد میں بینر کی تیاری, مہمانوں کی ترتیب, اطلاعی کارڈز, دعوت نامے, نظامت مشاعرہ سے لے کر بعد مشاعرہ آخری مہمان کو ٹھکانے لگانے تک کے تمام فرائض تن تنہا ہی انجام دیتے آۓ ہیں. مہمان شعراء کی میزبانی اور وہ بھی ایسی کہ کھانا , پانی, چوگا, دانہ دنکا, فروٹ, نسوار, پان, سیگریٹ ماچس وغیرہ تک کا اہتمام بھی اپنی جیب خاص اور دست عام سے کرتے ہیں. میں دعوے سے کہ سکتا ہوں کہ اگر کسی کو اس تمام کا آدھا بھی کرنا پڑے تو اس کے اعصاب چٹخ جائیں اور وہ ڈھونڈ ڈھانڈ کر شاعروں کو کاٹنا شروع کر دے. اتنا کہنا مناسب رہے گا کہ شعر مظفرآباد پر جناب نعمانی کا سب سے زیادہ احسان ہے.

اک اور اداۓ خاص کہ جناب نعمانی کشمیر بھر میں لفظوں سے محبت کرنے والے تیسرے آدمی ملے. پہلے دو کا ذکر خوف فساد شعراء سے نہیں کرتا. لفظوں کی ساخت, پہلوی معانی, صوتیاتی تغیر کے معنوی تغیر پر اثرات, ہئیت وغیرہ ان کی دلچسپی کا مرجع ہیں. اسی بنا پر ان کو شبد پجاری کہا جا سکتا ہے.

اب آتے ہیں کتاب کی طرف

یہ مضمونچہ لکھنے سے قبل نعمانی صاحب کی تحکمانہ درخواست اور معصوم چہرے کے ساتھ کی گئی فرمائش کے پیش نظر سنجیدہ لکھنا چاہا..مگر گویم مشکل وگرنہ گویم مشکل والا معاملہ شروع ہو گیا. مضمون کو جناب نعمانی کی فرمائش کے تابع کرنے کے لیے میں نے اپنی ٹھوڑی کو بھی خود ہی ہاتھ لگایا..مگر بات نہ بنی… اپنے پاؤں بھی پکڑے مگر انترا ہی انکاری ہو گیا…سو قلم کی باگ ڈھیلی کی تو شہ گام سے یک دم سرپٹ ہو گیا..

نعمانی کے ہاں درد کا وفور ہے مگر بادی النظر میں محسوس کم ہی ہوتا ہے. جس کا مبینہ سبب جناب نعمانی کا بندوبستی شاعر ہونا ہے.بندوبستی شاعر کا دکھڑا یہ بھی ہے کہ دوسرا شاعر اس کا دکھڑا سمجھ نہیں سکتا. تقدیم و تاخیر کی پرخاش ہو یا بینر پر نام نہ ہونا…. اور اگر ہو تو مناسب جگہ پر نہ ہونا..اور یہ ٹنٹا اپنی جگہ کہ بینر پر صاحب صدر کے علاوہ سب کو اپنا نام غلط جگہ پر ہی محسوس ہوتا ہے..

ایسی ایسی باتوں کو دل کے رنجش خانے میں رکھ کر منتظم شاعر کا کلام جزوی توجہ اور کلی حقارت سے سنا جاتا ہے. عروضیے البتہ بظاہر بے توجہی دکھاتے ہیں مگر دام شنیدن پوری توجہ سے بچھا کے سن رہے ہوتے ہیں اور جیسے ہی سقم نظر آۓ تو اچھل اچھل کے داد برساتے ہیں. تاکہ شاعر کو ہلہ شیری ملے اور وہ سقم دار شعر کو دہراتا تہراتا رہے.. اور بعد میں کسی بڑی مجلس میں ذلیل ہو. تو جس شعر پر عروضیے داد برسائیں اس کو غزل ہی سے نکال دینا چاہیے کہ ہو نہ ہو…. سقم ضرور ہے.

نعمانی کے ہاں درد ہے اور درد کو برتنے کی مہارت بھی کہ اسے سینت سینت کر مگر ملفوف پیش کیا گیا ہے کہ شاعر کو ذاتی غم اپنی ناموس کی طرح ہوتے ہیں. وہ ان کی ستر کشائی سے سو طرح پہلو تہی کرتا ہے. دردوں کی نمائش بھکاریوں کا حیلہ روزگار تو ہو سکتا ہے مگر وہ شاعر ہی کیا جو آنسوؤں کو قہقہہ بنا کر پیش کرنے کا ہنر نہ جانتا ہو.

لب پہ مسکان ہے اور آنکھ میں نم رکھتا ہوں
میں ترے نقش کف پا پہ قدم رکھتا ہوں

میں ایسا پیڑ ہوں جس پر ہمیشہ درد کھلتے ہیں
کوئی موسم ہو میں نے اپنی شاخوں کو ہرا دیکھا

یہ میرا عجز ہے اعجاز کہ دکھلاتا نہیں
ورنہ میں زخم کئی تیری قسم رکھتا ہوں

کہے بغیر میں شاد کامی اور رسائی بھی ملتی ہے. مگر بہت کم
وہ نور و نکہت نایاب میرے سامنے ہے
ہزار شکر مرا خواب میرے سامنے ہے
پھر اس کے بعد سنسر کر دیا گیا ہے.
محبوب تک رسائی داغ بناتی ہے اور نارسائی میر..سو یہاں نارسائی جا بجا حال تباہ کا نقشا لیے نحوست زدہ سر اٹھاۓ کھڑی ہے. اور شعراْ شعراْ میر کا گمان ہوتا ہے.

جس کے لیے ہماری آنکھیں ترس گئی تھیں
دیکھا اسے تو دل میں کیا کیا خیال گزرے
اک خواہش وصال میں مدت گزر گئی
کس حال کس خیال میں مدت گزر گئی

دور سے ہاتھ ہلاتا تھا کہ میں آتا ہوں
وہ مری آس بندھاتا تھا کہ میں آتا ہوں
اور فیر وی سانول یار نی آیا
حسن اور اتنی فراوانی کے ساتھ
دیکھتا رہتا ہوں حیرانی کے ساتھ
حالانکہ جب اتنا اور ایسا حسن ملے تو حسن نگری کی بہ جاۓ حسن چشی بہتر آپشن ہوتا ہے. دیکھنے سے حسرت گناہ اور کسک کا بڑھاوا ہی ہو سکتا ہے. حسن کو برتنے والی چشم بد بین کا حامل اگر سبزیاتیا (ویجیٹیرین) نہ ہو تو…اور اوپر سے شاعر بھی ہو تو واللہ
ہر روز روز عید ہے ہر شب شب برات
سبزیاتیے کوتاہ دستوں کی محرومی پہ رونے والا کوئی نہیں ہوتا.
جو خود بڑھ کر اٹھا لے ہاتھ میں مینا اسی کا ہے.
اور شاعر اگر کلا کار بھی ہو تو تانا شاہ یا محمد شاہ رنگیلا جیسے بادشاہ ہی اس سے زیادہ شاد کام ہو سکتے ہیں باقی دنیا نہیں. یہاں پر غیبت کے زمرہ میں آنے کے پیش نظر عطا صاحب کا نام نہیں لینا چاہتا..
صاحبو!!! شاعر دو رخا ہی نہیں پنج رخا ہوتا ہے. تیر تو کیا خالی پیکان پھینک کر بھی پانچ پانچ غزالوں کو ڈھیر کر سکتا ہے. بہت سے غزال ایک شعر کی اور غزلیں پانچ شعروں کی مار ہوتی ہیں. اب خدا جانے جناب نعمانی نے آمدہ شعر میں کس لیلی یا غزل کے گیسو سنوارے ہیں..

دیکھ لیلاۓ غزل کتنی ہنرمندی سے
تیری الجھی ہوئی زلفوں کو سنوارا ہم نے
اب خدا جانے یہ اردو غزل ہے یا آڑ میں شکار ہے. اور جہاں تک سنوارنے کی بات ہے مشترک دوستوں کے بقول نعمانی صاحب کے بال اور میرے اعمال سنوارنا خاصا گنجلک مسئلہ ہے. دونوں کی سیاہی مصنوعی ہے.
کہیں کہیں علامہ ضمیر اختر نقوی کو مات کرنے بل کہ شہ مات کرنے نعمانی صاحب نے یوں بھی توجہ لوٹی ہے..

یہ زمیں گیند بنا کر میں اٹھا سکتا ہوں
عرش کو بڑھ کے میں یوں ہاتھ لگا سکتا ہوں.
وہ بھی نیپال کے مردوں کو جلا سکتا ہے
اور گھوڑے سے نیا ملک بنا سکتا ہے
خیر یہ نعمانی صاحب اور علامہ ضمیر اختر نقوی کا آپسی معاملہ ہے.

جناب نعمانی کے ہاں کڑھن چبھن تو شاید مل جاۓ مگر نفرت کو تنقید کی خوردبین بھی نہیں ڈھونڈ سکتی. وہ
سراپا محبت ہیں. محبت میں گندھے ہوۓ, عشق کی کٹھالی میں پکے ہوۓ, ہوس کی ہلکی بزدلانہ آنچ پر سینکے ہوۓ اشعار سے مملو غزلیں کشمیر کے ادب کی آبرو ہیں. اور ان کی تائیدی مثال کے طور پر کہے بغیر کے اسی فیصد اشعار یہاں پیش کرنے پڑیں گے لہذا تشبیب کے بعد کہیں اور گریز کر کے پتلی گلی سے نکل جاتے ہیں.

کہے بغیر میں یادش بخیریا بھی ملتا ہے کہ ڈھلتی عمریا کا جزو لا ینفک ہے.

ناسٹلجک موڈ میں کہتے ہیں کہ
کسی گھر سے دھواں اٹھتا نہیں ہے
یہی لگتا ہے سارے جا چکے ہیں
یہ ہم جس زندگی کو جی رہے ہیں
یہ لمحے تو گزارے جا چکے ہیں
یہ جھیلیں خشک صحرا بن چکی ہیں
وہ خوابوں کے شکارے جا چکے ہیں

خود ساختگی کا بھی بے ساختہ ذکر ملتا ہے.
کچھ اس طرح سے میں نے خود کو کیا مکمل
تھوڑا یہاں وہاں سے, تھوڑا ادھر ادھر سے
سیلف میڈ ہونے کا بے مثل مگر ریزہ چین بیانیہ ہے.

کہے بغیر میں اچھے اشعار کی بھرمار ہے….مگر ہاں جناب نعمانی کا ایسا شعر جس کے لیے حسد محسوس ہوا, میں تڑپا کہ کاش میرا ہوتا
خواب میں آتا نہیں خواب دکھاتا بھی نہیں
مجھ سے یوں ملتا ہے وہ شخص نہ یوں ملتا ہے

پتا نہیں اس شعر میں کیا ہے کہ الفاظ اس کی تعریف میں دم توڑ دیتے ہیں. بس ایک کیفیت ہے… حالانکہ میرا ذاتی تجربہ بھی اس سے مختلف ہے. وہ شخص شاید ہی کسی رات خواب میں نہ آتا ہو.. اور اس کی زلفیں بھی نہیں سنوارنا پڑتیں

جامہ زیبی نہ پوچھیے اس کی
جو بگڑنے میں بھی سنور جاۓ

مگر جناب نعمانی کا یہ شعر میرے لیے بیت الکتاب ہے.
اور اب آخر پر یہ شعر دیکھیے کہ

اس سے کہ دو کہ آئندہ خبردار رہے
مار ڈالوں گا اگر نقص نکالے میرے

بخدا اگر یہ تہدیدی شعر نہ ہوتا تو میں فکری محاسن کے ساتھ ساتھ فنی محاسن پر بھی کچھ گدگداتے جملے لکھ دیتا. مگر ساختیاتی طورپر فنی سوچ کا ایسا منفی ہوں کہ جوش داغ اورسید انشا کے سوا کسی شاعر کو بے عیب نہیں پایا. اقبال سے میری محبت عقیدت کی حدوں پر ہے مگر سقم شناس نجریا بقول ماجد محموماجد مکھی جیسی ہے. صرف غلطی پر ہی جاتی ہے. نجم الغنی رام پوری کے تتبع میں اقبال کی بھی سو سے زیادہ کوتاہی ہاے کوتہ نکال کے پچھتایا ہوں. اور یہاں تو مار کی دھمکی بھی ہے.

ورنہ
وہ آۓ سات بسم اللہ کہ ہم نے سے شروع کرتا اور
خیبر,سندھ, پنجاب بلوچستان میں رہتا ہوں
پہ جا کے مکمل کرتا.

ہاں بلا خوف تردید یہ کہ سکتا ہوں کہ کہے بغیر کشمیر کے سرمایہ تغزل میں ایک مہکتا, دمکتا, کھنکتا اضافہ ہے. دنیا سنبھالتے ہوۓ اس اعلی درجے کا کار تخلیق صرف جناب نعمانی ہی کا اعجاز ہے. خدا ان کو شعر اور کشمیر کی بزم ہاۓ شعر پر سایہ فگن رکھے. کشمیر کی غزل آپ ہر بجا ناز کر سکتی ہے.