72

لہو لہوکشن گنگا

شام نے اپنے سائے گہرے کر لیے تھے اور سورج کو اپنے پروں میں سمیٹ رہی تھی۔ سورج بھی اس کے آغوش میں خود کو دیتے ہوئے بہت خوش ہو رہا تھا۔ دن بھر کا تھکا ہارا سورج اب اپنے آشیانے میں سونے جا رہا تھا۔ مگر آج وہ عجیب سا تھا، ڈراؤنا اور ہیبت ناک، اکتوبر آدھا گزر چکا تھا فصلیں کٹ چکی تھیں۔ کسان خوش تھے کچھ اپنے گھروں کا راشن مکمل کر کے ہمسایہ ملک کے بڑے شہروں میں روزگار کے لئے نکل گئے تھے جو باقی بچے تھے وہ سردیوں کا انتظار کر رہے تھے۔ قریب کے پہاڑوں نے برف کی چادر اوڑھنا شروع کر دی تھی گرچہ شام میں ہلکی خنکی ہو جاتی تھی مگر آج سورج پورا دن چمکتا رہا تھا اور اس کی چمک میں عجیب غصہ تھا، جلا کر راکھ کر دینے والا، بھسم کر دینے والا۔ شام میں اس نے سرخ رنگ سے خود کو اوڑھ لیا تھا مغرب کی سمت کچھ بادلوں کی ٹکڑوں نے اسے اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا جس کی وجہ سے وہ پریشان لگ رہا تھا، افسردہ ، بے قرار اور مجبور۔ اسی سرخی میں لیٹے ہوئے اس نے مغرب میں آخری لائن کو بھی پار کیا۔ شام کافی دیر سے ڈھل چکی تھی مگر مغرب میں سورج کی سرخی اب بھی نظر آ رہی تھی۔ آج سورج غروب ہونا نہیں چاہتا تھا۔ شب بھر شہر پر بسیرا کرنا چاہتا تھا۔
شہر کے بیچوں بیچ کشن گنگا نامی مقدس دریا صدیوں سے رواں ہے۔ اس نے ہزاروں شہہ سواروں کو اپنی تند خو موجوں اور تیزی کی وجہ سے روکا تھا۔ کئی حملہ آور اس کو ناقابل تسخیر جان کر واپس ہو گئے تھے۔ بڑے بڑے بادشاہ اس سے اس پار جانا موت کو دعوت دینے کے مترداف سمجھتے تھے۔ تاریخی شان و شوکت کے ساتھ ساتھ کئی دکھ اور غم بھی اس نے اپنے اندر چھپائے ہوئے تھے۔ گرمیوں کے چھٹتے ہی اس نے بھی خود کو سمیٹنا شروع کر دیا تھا۔ ایسا لگ رہا تھے یہ اپنی ہستی کو ختم کرنے پر تلا ہوا ہے۔ دومیل کے مقام پر یہ دریائے جہلم سے آ ملتا ہے جہاں یہ جہلم میں یوں ضم ہو جاتا ہے جیسے محبوب اپنے حب میں کھو جاتا ہے۔ اور سراپا بن جاتا ہے۔
شہر کے باسی حسب معمول اپنے روز مرہ کے کاموں میں مگن تھے، شام کے سائے طویل ہوتے ہی وہ اپنے اپنے گھروں میں لوٹ آئے ۔ بچوں نے کتابیں اٹھا لیں تھیں ، بوڑھے اپنے ہم عمر دوستوں کے ہمراہ ماضی کی تلخ اور شیریں یادوں میں کھوئے ہوئے تھے، جوان اپنے مستقبل کا نقشہ کھینچ رہے تھے جہاں ایک وسیع مملکت کے باسی جنت عرضی میں آزاد ی سے گھوم رہے تھے۔ یہ تخیل کمال کی چیز ہوتی ہے زندہ انسانوں کو جنت کی سیر کرواتی ہے۔ یہ ظالم بھی ہے اور راحت بخش بھی۔قاتل بھی ہے مقتول بھی۔
یہ شہر مختلف سیاسی نظریات کا ایک مرکز بھی ہے مختلف مذاہب کی پناہ گاہ بھی۔ لیکن کبھی سیاسی مسائل یا مذہبی منافرت آڑے نہیں آئی ہے۔ باہم شیر و شکر ہے۔ ہندو مسلمانوں کو بھائی مانتے ہیں مسلمان سکھوں کو ، ایک دوسرے کے مقدس نظریات اور معاملات میں کسی قسم کی نفرت نہیں تھی۔ایک پرتخیل ماحول جس میں ہر باسی خوش اور ہر شخص آزاد تھا کوئی کسی کی دل آزاری کی وجہ نہیں بنتا تھا۔
ایک ہفتہ قبل ایک عجیب واقعہ پیش آیا تھا۔ ایک قبائلی جو مجذوب سمجھا جاتا تھا جسے ہندو اپنے ہوٹلوں سے کھانا اور مسلمان اپنے گھروں سے دودھ پلاتے تھے نے شہر کے مرکز میں موجود مندر سے رات میں بت اٹھایا اور دریائے کشن گنگا کی نظر کر دیا۔ جس سے ہندوؤں کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے معاملات کشیدہ ہونے سے پہلے ہی سنبھال لیے گئے تھے اور قبائلی کو شہر سے نکال دیا گیا تھا۔
رات سمٹ آئی تھی، شہر میں گہرا سکوت چھا گیا تھا۔ ہر کوئی اپنی پناہ گاہ میں مست خواب ہو چکا تھا کہ شہر کی جنوب مغربی سمت سے دھماکوں کی آوازیں آنے لگیں۔ کتے معمول سے زیادہ بھونک رہے تھے۔ پرندے فضا میں پھڑپھڑا رہے تھے اور دیگر جانوروں میں بے قراری عود کر آئی تھی۔
رفتہ رفتہ آوازیں تیز ہونے لگیں اور دھماکے قریب آنے لگے۔ پہلے بڑے اٹھے اور اب بڑے بھی جاگ رہے تھے۔ یا خدا! یا بھگوان! ہر کوئی اپنے اپنے مذہبی عقائد کے مطابق پناہ مانگ رہا تھا۔ ایک دوسرے کے گھروں میں جمع ہو رہے تھے۔ ایک دوسرے سے استفسار کر رہے تھے ۔ یہ کیا ہو رہا ہے۔ کوئی کہہ رہا تھا، ہمسایہ ملک نے حملہ کر دیا ہے، کوئی کہہ رہا تھا ہماری فوج مشقیں کر رہی ہو گی، کوئی کہہ رہا تھا قبائلیوں نے حملہ کر دیا۔ محلے کے تمام لوگ ایک جگہ جمع ہو چکے تھے۔ شب کے تین پہر گزر چکے تھے۔ ہجوم میں سے کسی نے آواز سنی ’’بھاگو! بھاگو! پختڑوں نے حملہ کر دیا ہے‘‘ یہ سننا تھا کہ شکوک و شبہات ختم ہو گئے۔ سامنے پہاڑی سے مشعل بردار اتر رہے تھے اب فائرنگ کا سلسلہ تھم چکا تھا اکا دکا کہیں آوازیں آ رہی تھیں ایک دم پھر فائرنگ کی آوزیں قریب سے بلند ہونے لگیں۔ عورتیں چیختی ہوئی اپنے گھروں کو بھاگی،وہ اپنے بچوں کو اپنی آغوش میں چھپانے کی کوشش کر رہی تھی جیسے چڑیا سانپ کے ڈر سے اپنے بچوں کو پروں میں چھپاتی ہے ۔ دروازے اندر سے بند ہو گئے تھے، کنڈیاں چڑھ گئی تھیں ۔ باہر موت منڈلا رہی تھی۔
لوگوں نے اپنا سامان سمیٹا اور جنگلوں کا رخ کرنے لگے کچھ دریا کے ساتھ ساتھ پیچھے بھاگ رہے تھے کچھ پیر چناسی کی سمت قدم بڑھا رہے تھے جس کا جدھر رخ ہو رہا تھا اسی سمت دوڑ رہا تھا۔ آج نہ مسجد میں کوئی اذان دینے والا حوش میں تھا نہ مندر میں گھنٹا بجانے والا ۔
صبح میں اس راستے میں لاشوں کے ڈھیر لگ چکے تھے جہاں کل شبنم برسی تھی آج وہاں خون جما ہوا تھا۔ راستے میں لاشوں کے انبار تھے خواتین چیخ رہی تھیں۔ حملہ آور شہر میں پھیل چکے تھے۔ شہر کے کچھ لوگ ان کے ساتھ مل چکے تھے جو اپنے سے مخالف نظریات کو ایک ایک کر کے مارنے کی کوشش کر رہے تھے۔ کچھ اپنے ہم جنسوں کے لیے اپنے سینے پیش کر رہے تھے اور داعی اجل کو لبیک کہہ رہے تھے۔ ۔۔۔
شہر میں ہو کا عالم تھا۔ لوگ گھروں میں دبکے ہوئے تھے ، جو بھاگ گئے تھے ان کی زندگیوں کا کوئی پتہ نہیں تھا جو اندر تھے ان کو موت بالکل نزدیک لگ رہی تھی۔ کسی پل کسی لمحے موت نے دستک دے دینی تھی ہر آہٹ مکینوں کے خوف میں مزید اضافہ کر دیتی تھی۔
حملہ آور شام تک شہر پر مکمل قبضہ کر چکے تھے۔ اب انہوں نے روایتی انداز اپناتے ہوئے مغلوب کے پھولوں کو مسلنا تھا۔ ایک ایک کلی کو مرجھانا تھا۔ شہر کی ہر سمت سے معصوم کلیوں کو جمع کر دیا گیا ، جو غالب کی شب بسری کا سامان کرتی۔ کچھ کی سانسیں پہلے ہی اکھڑ جاتیں کچھ کو سہارا میسر ہوتا کوئی امید ہوتی تو کچھ دیر زندہ رہتی۔ عثمت شعار دریا کشن گنگا میں چھلانگیں لگا چکی تھیں
جن چوراہوں پر کل ہنسی مذاق کی باتیں ہوتیں تھیں ، قہقے بلند ہوتے تھے آج وہاں سر اور دھڑ الگ الگ پڑے ہوئے تھے۔
سورج صبح سے سب دیکھتا رہا سہہ پہر میں بے بسی کو محسوس کرتے ہوئے بادلوں کی چادر اوڑھ ر روپوش ہو گیا۔ دن میں شہر میں کوئی قہقہ بلند نہیں ہوا۔ زندگی کی بھیک مانگتے بھکاری نظر آئے، عثمت کی حفاظت کرتی لڑکیاں چیختی چلاتی نظر آئیں، شہر کی سفیدہ سرخی میں ڈھل گئی،زخموں سے چور جسم اور برچھوں اور گولیوں سے چھلنی لاشیں۔
دریا کشن گنگا میں لاشوں کے انبار لگ چکے تھے۔ دریائے جہلم میں ایک جگہ پر لاشوں کا پل بن چکا تھا دونوں سرخ و بے بس تھے۔ کوئی دفن کرنے والا کوئی جلانے والا نہیں تھا۔ کس کو دفن کرنا ہے کس کو جلانا ہے یہ پرکھا نہیں جا سکتا تھا۔
آج شہر میں مکمل خاموشی تھی سوائے گدھوں اور کتوں کے کوئی نظر نہیں آ رہا تھا، کہیں چولہا نہیں جل رہا تھا، کہیں مائیں بچوں کو پیار نہیں کر رہی تھیں کہیں بچے باپ کی راہ نہیں دیکھ رہے تھے، کہیں شام کی آمد کا انتظار نہیں ہو رہا تھا۔ زندگی بے بس تھی، زندگی مجبور تھی، زندگی ختم ہو گئی تھی۔ رات ہوئی تو سناٹے میں صرف سسکیاں سنائی دے رہی تھیں مگر یہ کسی معیب آواز کے خوف سے سہم جاتی دب جاتی، درندے اپنے ہوس کو پورا کرنے کی بھر پور کوشش کر رہے تھے۔ جو ہاتھ لگتا اس سے ستم کے یہ پجاری اپنی پیاس بجھانے کی کوشش کرتے۔زندگی سب کو عزیز تھی، موت سے سب ڈرتے تھے مگر موت اور زندگی کے درمیان کی بھیانک جسمانی اور روحانی تکلیف موت سے زیادہ تکلیف دہ تھی۔ نوجوان لڑکیوں کے لیے ایک ہی راہ تھی اور وہ موت کی راہ تھی۔ خود کشی کا سب سے آسان طریقہ کشن گنگا دریا میں خود کو نذر کر دینا تھا۔
اس رات دریا کی طغیانی میں اضافہ ہوا ہزاروں لاشوں کو دریا نے دھکیلنے کی کوشش کی مگر یہ لاشیں اتنی بھارتی تھیں کہ ان کو ان کی جگہ سے ہٹانا دریا کے لیے ناممکن ہو گیا۔ دریا اپنے رنگ میں واپس آنا چاہتا تھا لاشون کو بہا کر دور لے جانا چاہتا تھا۔ مگر لاشیں اپنی مٹی کی محبت میں وہاں سے ہٹنے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔
رات کے آخری پہر جب دریا تھک چکا تھا ایک لاش دریا سے ہمکلام ہوئی ، وہ ایک دوشیزہ کی لاش تھی جسے کئی درندوں نے ہوس کا نشانہ بنایا اور جب وہ ادھ موئی ہوئی تو اسے دریا کی بے رحم موجوں کی نذر کر دیا دریا اس کو برداشت نہیں کر سکتا تھا اس نے اسے کنارے کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی جس میں وہ کامیاب تو ہو گیا مگر تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔
’’میں ایک ایسی قوم کی بیٹی ہوں جس نے صدیوں اپنے عظمت کے گیت گائے جس کی عظمت کا اعتراف ہمالہ کے پہاڑوں سے لے کر عرب کے صحراؤں تک ہوا۔ میں ایک ایسے وطن کی بیٹی ہوں جس نے بڑے بڑے بادشاہوں اور شہنشاہوں کو پناہ دی، جو ناقابل تسخیر تھا، میں ایک ایسے خاندان کی بیٹی ہوں جس نے ہمیشہ مہمانوں کو خوش آمدید کہا، مگر تین صدیاں پہلے یہ مہمان خاصے پرتکلف ہو گئے اور میزبانوں کے گھر پر بسیرا کر لیا، قدرت مہربان ہوئی تو ہم دوبارہ شیر و شکر ہوئے مگر ہمارے دلوں میں کھوٹ باقی رہی ہم باہم محبت سے رہے مگر ہمارے اندر اپنائیت نہ پیدا ہو سکی، مجھے مت ہٹاؤ میں اسی مٹی میں اسی قوم میں اور اسی خاندان میں رہنا چاہتی ہوں زندہ نہ سہی مر کر ہی سہی، یہ مٹی سورگ ہے ، جنت ہے، اور میں جنت کی حور ہوں‘‘
کشن گنگا ایک مدت تک خون آلودہ رہا آج بھی رات میں اس کے کنارے جائیں تو دریا کی گہرائی سے شہداء کی سسکیاں سنائی دیتی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں