Farooq Haider Can be the last possible PM of AJK 562

فاروق حیدر آزاد کشمیر کے آخری ممکنہ وزیر اعظم ہو سکتے ہیں

وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر نے اشارہ دیا ہے کہ وہ ممکنہ طور پر آزاد کشمیر کی آخری وزیر اعظم ہو سکتے ہیں، اس حوالے سے انہیں آگاہ کر دیا گیا ہے. وہ پرل کانٹینینٹل ہوٹل مظفرآباد میں ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے.

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں ایسے اشارے دیے گئے ہیں کہ وہ موجودہ “آزاد” جموں کشمیر کے آخری وزیر اعظم ہوں گے. عین ممکن ہے کہ آنے والے وقت میں آزاد کشمیر کی موجودہ آئینی حیثیت کو تبدیل کر دیا جائے.

وزیر اعظم آزاد کشمیر کا یہ بیان کوئی پیشن گوئی نہیں ہے بلکہ یہ اشارہ ہے کہ اب ہمیں ذہنی طور پر تقسیم کشمیر کے لیے تیار ہو جانا چاہیے. واضح رہے کہ اس سے قبل بھی ایسے اشارے دیےس جا چکے ہیں جس میں موجودہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی حیثیت کو تبدیل کیا جا سکتا ہے.

حال ہی میں حکومت کی طرف سے ایک نوٹیفکیشن میں آزاد کشمیر میں مقیم 1989 کے مقبوضہ جموں کشمیر کے مہاجرین جن کا تعلق ایل او سی سے ملحقہ علاقوں سے ہے کو پاکستان کے ضلع جہلم میں منتقل کرنے کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے جس کی تفصیلات ابھی انا باقی ہے.

بھارت نے 5 اگست کو جموں کشمیر کی آئینی پوزیشن تبدیل کر کے اس کے زیر انتظام ریاست کو باقاعدہ طور پر اپنے اندر ضم کر لیا ہے جبکہ بھارت کے اس عمل پر پاکستان کی جانب سے فقط انسانی حقوق کا ہی غوغا کیا گیا نہ کہ ریاست کی تقسیم کے حوالے سے کوئی مثبت عمل کیا گیا.

11 اگست کو پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں آزادی پسند سیاسی جماعتوں نے ایک اتحاد قائم کیا اور اس اتحاد نے 22 اکتوبر کو مظفرآباد میں ایک احتجاج کیا. احتجاج کرنے والے مظاہرین پر پولیس نے بدترین لاٹھی چارج کیا جس سے ایک راہ گیر ہلاک جبکہ بیسیوں پی این اے کے کارکنان زخمی ہوئے. حکومت آزاد کشمیر نے اس واقعے کی ذمہ داری لینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ یہ تشدد کس کے کہنے پر ہوا ان کے علم میں نہیں ہے.

یہ تمام واقعات اس خیال کو تقویت دیتے ہیں کہ ریاست جموں کشمیر عملاً تقسیم ہو چکی ہے بھارت نے اپنے حصے کا کام مکمل کر لیا ہے اب پاکستان نے کرنا ہے اس کے لیے سیاسی اور شعوری فضا تیار کی جا رہی ہے. آنے والے چند ماہ اس حوالے سے بہت اہم ہوں گے اور عین ممکن ہے ہم اپنی آنکھوں سے ریاست کی تقسیم ہوتے دیکھیں.