پاکستانی زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں عوامی رائے، خودمختاری کا مطالبہ اور ریاستی پالیسی: مختلف سروے رپورٹس کا جائزہ

پاکستانی بیوروکریسی اور حکمران اشرافیہ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں عوام کی ایک قابلِ ذکر تعداد سرکاری مؤقف سے اتفاق نہیں کرتی۔ مختلف ادوار میں شائع ہونے والی آزادانہ سروے رپورٹس اور تحقیقی جائزوں کے مطابق ریاست جموں و کشمیر (بشمول لداخ اور گلگت) کی مکمل خودمختاری کے حق میں رائے رکھنے والے افراد کی تعداد نمایاں رہی ہے۔ بعض رپورٹس میں یہ تناسب ستر فیصد سے بھی زیادہ بیان کیا گیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ناقدین کے مطابق 5 اگست 2019 کے بعد، جب بھارت نے جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کی، پاکستان کا سفارتی اور سیاسی ردِعمل اپنی روایتی پوزیشن کے مقابلے میں کمزور اور متضاد دکھائی دیا۔ ان کے مطابق اگر پاکستان واقعی کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کا داعی ہے تو پھر اسے ان تمام سیاسی آراء کا بھی احترام کرنا چاہیے جو ریاست جموں و کشمیر کے مستقبل کے حوالے سے مختلف مؤقف رکھتی ہیں، خواہ وہ پاکستان یا بھارت کے ساتھ الحاق کے بجائے مکمل خودمختاری ہی کیوں نہ ہو۔

ناقدین یہ بھی الزام عائد کرتے ہیں کہ حالیہ برسوں میں پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں اختلافِ رائے رکھنے والے سیاسی کارکنوں، صحافیوں اور قوم پرست حلقوں کے خلاف سخت اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق گرفتاریوں، جبری گمشدگیوں، سیاسی دباؤ، نوآبادیاتی دور کے قوانین کے استعمال اور بعض واقعات میں ہلاکتوں کے ذریعے ریاستی کنٹرول کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان الزامات پر حکومتی اداروں کا مؤقف بھی موجود ہے، تاہم یہ موضوع مسلسل بحث کا حصہ رہا ہے۔

مختلف آزادانہ سروے رپورٹس

13 اگست 2007:
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق وادی کشمیر میں کیے گئے ایک سروے میں 87 فیصد شرکاء نے جموں و کشمیر کی مکمل خودمختاری کی حمایت کی۔

18 اپریل 2005:
ڈان پاکستان میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں 53 فیصد سے زائد افراد نے خودمختار جموں و کشمیر کی حمایت کا اظہار کیا۔

27 مئی 2010:
بی بی سی کے سروے میں جنگ بندی لائن (Line of Control) کے دونوں اطراف تقریباً 3,700 افراد سے رائے لی گئی۔ رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر تقریباً 50 فیصد شرکاء نے جموں و کشمیر کی مکمل خودمختاری کی حمایت کی، اگرچہ مختلف علاقوں میں نتائج میں نمایاں فرق بھی موجود تھا۔

12 ستمبر 2010:
دی ٹریبیون کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں تقریباً دو تہائی افراد نے مکمل خودمختاری کے حق میں رائے دی۔

23 اکتوبر 2019:
ڈی ڈبلیو (Deutsche Welle) کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں مکمل خودمختاری کے مطالبات اور اس کی حمایت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

2016 کی تحقیقی رپورٹ اور اس کے بعد کے واقعات

2016 میں صحافی تنویر احمد کی کئی سالہ تحقیق پر مبنی ایک رپورٹ اخبار مجادلہ میں شائع ہوئی، جس میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں 70 فیصد سے زائد افراد ریاست جموں و کشمیر کی مکمل خودمختاری کے حامی ہیں۔

رپورٹ کے حامیوں کے مطابق اس اشاعت کے بعد اخبار مجادلہ پر پابندی عائد کر دی گئی، جبکہ اس کے چیف ایڈیٹر حارث قدیر اور صحافی تنویر احمد کو مختلف نوعیت کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ مزید یہ دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ تنویر احمد کو بعد ازاں اغوا کیا گیا۔ یہ الزامات مختلف انسانی حقوق کے حلقوں اور سیاسی کارکنوں کی جانب سے بھی اٹھائے جاتے رہے ہیں۔

صرف رائے عامہ کے سروے ہی نہیں بلکہ اقوام متحدہ، ہیومن رائٹس واچ، انٹرنیشنل کرائسس گروپ، ڈی ڈبلیو، بی بی سی، رائٹرز اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس بھی اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ریاست جموں و کشمیر کے مستقبل کے بارے میں کشمیری عوام کی سیاسی خواہشات یکساں نہیں ہیں۔ ایک جانب بھارت اور پاکستان دونوں اپنے اپنے مؤقف کو عوامی امنگوں کا نمائندہ قرار دیتے ہیں، جبکہ دوسری جانب متعدد آزاد سروے اور تحقیقی مطالعات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ریاست کے مختلف علاقوں میں ایک قابلِ ذکر طبقہ مکمل خودمختاری یا آزاد ریاست کے تصور کی بھی حمایت کرتا ہے۔ اسی طرح انسانی حقوق کی بین الاقوامی رپورٹس نے پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں اظہارِ رائے، سیاسی سرگرمیوں، انتخابی قوانین، قوم پرست کارکنوں کے خلاف کارروائیوں اور آزادی کی حمایت کرنے والے حلقوں پر عائد پابندیوں کے حوالے سے بھی مسلسل سوالات اٹھائے ہیں۔ دوسری طرف یہی رپورٹس بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں بھی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، شہری آزادیوں پر قدغن، ماورائے عدالت اقدامات اور وسیع پیمانے پر سکیورٹی اختیارات کے استعمال پر شدید تنقید کرتی ہیں۔ اس تناظر میں یہ مؤقف مزید تقویت پاتا ہے کہ مسئلۂ جموں و کشمیر کا کوئی بھی پائیدار اور منصفانہ حل کشمیری عوام کی حقیقی سیاسی رائے اور حقِ خودارادیت کو مرکزی حیثیت دیے بغیر ممکن نہیں۔

مختلف بین الاقوامی ذرائع ابلاغ، سروے اداروں اور تحقیقی رپورٹس اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ریاست جموں و کشمیر کے مستقبل کے حوالے سے کشمیری عوام کی آراء یکساں نہیں ہیں۔ ان آراء میں پاکستان یا بھارت کے ساتھ الحاق کے علاوہ مکمل خودمختاری کا مؤقف بھی ایک اہم سیاسی حقیقت کے طور پر موجود رہا ہے۔ اسی بنا پر ناقدین کا کہنا ہے کہ مسئلۂ جموں و کشمیر کا کوئی بھی دیرپا اور منصفانہ حل اسی صورت ممکن ہے جب ریاست کے تمام خطوں کے عوام کی حقیقی سیاسی خواہشات کو آزادانہ طور پر سامنے آنے اور ان کا احترام کیے جانے کا موقع فراہم کیا جائے۔

About Post Author

About the author

جواد احمد پارس ایک کشمیری فلم ساز، کہانی نویس اور اسکرین رائٹر ہیں جنہوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو فلم اور کہانی گوئی کے ذریعے اجاگر کیا ہے۔ وہ Fervid Productions کے شریک بانی اور کریئیٹو ہیڈ ہیں، جہاں وہ فلم سازی اور اسکرپٹ رائٹنگ کے مختلف پراجیکٹس کی قیادت کرتے ہیں۔

تقریباً ایک دہائی سے زیادہ عرصہ فلم انڈسٹری میں فعال رہنے کے بعد، پارس نے ایسی دستاویزی اور بیانیہ فلمیں تخلیق کی ہیں جو سماجی اور ثقافتی مسائل کو اجاگر کرتی ہیں۔ ان کے نمایاں کاموں میں کشمیری خواتین کی زندگیوں پر مبنی کہانیاں اور فلم "Mattu (The Rat Children)" شامل ہیں، جسے تنقیدی سطح پر پذیرائی ملی۔

ان کا مقصد فلم کے ذریعے سماج میں شعور بیدار کرنا اور ایسی کہانیاں سنانا ہے جو عموماً پسِ منظر میں رہ جاتی ہیں۔ بطور فلم ساز اور کہانی نویس، جواد احمد پارس اپنی نئی سوچ، حقیقت نگاری اور فنکارانہ بصیرت کے باعث پاکستانی اور بین الاقوامی سطح پر پہچانے جاتے ہیں۔