Leave Jammu Kashmir Movement 171

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں قوم پرست اتحاد نے “جموں کشمیر-چھوڑ دو” تحریک چلانے کا اعلان کر دیا۔ اعلامیہ جاری

راولپنڈی( کشمیریت اردو)آزادکشمیر کی قوم پرست جماعتوں کے اتحاد پی این اے نے” کشمیر چھوڑدو تحریک” کا اعلان کر دیا۔” کشمیر چھوڑدو تحریک” کے پہلے مرحلے میں 26 اگست کو آزادکشمیرکے تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز میں احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گئے جبکہ تحریک کا دائرہ کار ریاست جموں کشمیر کی دیگر اکائیوں تک بڑھایا جائے گا ۔

ریاست جموں کشمیر کی دوکروڑ عوام کی مرضی اور منشاہ کے بغیر مسلط کیے جانے ہر فیصلہ کیخلاف بھر پور مزاحمت کی جائے گی ۔ ہندوستانی حکومت کی طرف سے یک طرفہ طورپر 35Aکاخاتمے کے بعد حکومت پاکستان بھی بھارت کے ساتھ شملہ معاہدہ سمیت دیگر دوطرفہ معاہدات سے دستبرداری کا اعلان کرے۔

ان خیالات کا اظہار آزادکشمیر کی قوم پرست جماعتوں کے اتحاد پی این اے کے قائدین نے سوموار کو یہاں نیشنل پریس کلب کیمپ آفس راولپنڈی میںپرہجوم پریس کانفرنس میں کیا ،اس موقع پر پی این اے کے چیئر مین ذوالفقار راجہ ایڈووکیٹ ،جنرل سیکرٹری لیاقت حیات ترجمان افضال سلہریا نے خطاب کیا ۔

اس موقع پر سجاد افضل سیکرٹری فنانس پی این اے ، جے کے ایل ایف( روف) کے رہنما ناصر سرور ،ایس ایل ایف)( آزاد) کے رہنما طارق عزیز ، جموں کشمیر عوامی ورکرز پارٹی کے چیئر مین نثار شاہ ایڈووکیٹ ،گلگت بلتستان کے قوم پرست نوجوان رہنما شفقت انقلابی ،جموں کشمیر ورکز ر پارٹی کے رضوان کرامت ،این ایس ایف( طبقاتی )کے خلیل بابر، آئی ایم ٹی کے یاسر ارشاد ، جے کے ایل ایف( صغیر)کے عثمان چغتائی ،جے کے ایل ایف( یاسین) کے سردار انور ایڈووکیٹ ،جموں کشمیر لبریشن لیگ کے لطیف ثانی ،این ایس ایف( آزاد) کے یاسر یونس ،نیپ کے اظہر کاشر ،کے این پی کے یاسین چوہدری اور دیگر بھی موجود تھے ۔

پی این اے کے قائدین نے کہا کہ 15اگست کو ہندوستان کے فاشٹ حکمران نریندرمودی کی جانب سے ریاست جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور اسٹیٹ سیبجیکٹ رول کے خاتمے کا فیصلہ فوجی طاقت کے بل بوطے پر مسلط کیے جانے بعد ریاست جموں کشمیر میں اضطرابی کیفیت ہے ۔

اس وقت بھارتی مقبو ضہ جموں کشمیر عملاََ دنیا کی سب سے بڑی جیل کی شکل اختیار کر چکاہے ۔ جہاں پر نولاکھ بھارتی افواج انسانی حقوق کی بدترین پامالیاں کر رہی ہے ۔ دوسری طرف پاکستان کے ذمہ دار سیاستدان اس گوا ہی دے رہے ہیں کہ بھارت کے اس عمل میں پاکستانی حکومت برابر کی شریک ہے جبکہ اس عمل کی سرپرستی کچھ عالمی طاقتیں کر رہی ہیں ۔

پی این اے کے قائدین نے کہا کہ چین کی درخواست پر اس مسئلے پر سیکورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس بھی منعقد ہوا تاہم ریاست جموںکشمیر کے دو کروڑ عوام کیے لیے یہ بات انتہائی ما یوس کن رہی کہ ریاست جموں کشمیرمیں بدترین انسانی المیے اور ریست کے باسیوں کے بنیادی انسانی حقوق بشمول حق آزادی پر بحث کے بجائے سکیورٹی کونسل کے ممبران نے انڈیا پاکستان کو شملہ معاہدہ کے تحت معاملہ حل کر نے کا کہا ۔

اس کیفیت میںپیپلز نیشنل الائنس یہ سمجھتا ہے کہ مسئلہ کشمیر پاکستا ن اور ہندوستان کے مابین کوئی سر حدی تنازعہ نہیں بلکہ ریاست جموں کشمیر میں بسنے والے دوکروڑ انسانوں کی قومی آزادی اور بقاء کا مسئلہ ہے ۔علاقائی و بین الاقوامی حا لات کو مد نظر رکھتے ہوئے پی این اے نے “ریاست جموں کشمیرچھوڑ دو” تحریک کے آغاز کا فیصلہ کر لیا ہے جس کا دائرہ کار ریاست کی دیگر اکائیوں تک بڑھایا جائے گا ۔

پہلے مرحلہ میں 26اگست کو بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ظالم بھارتی افواج کی جانب سے عائد شدہ کرفیو محاصرے کی وجہ سے جنم لینے والے انسانی المیے ،کرفیو کے خاتمے ، سٹیٹ سیبجیکٹ رول کی بحالی اور پوری ریاست جموںکشمیر سے غیر ملکی افواج کے انخلاء ریاست کے دیگر حصوں بشمول گلگت بلتستان میں سٹیٹ سیبجیکٹ رول کو اس کی روح کے مطابق بحال کیے جانے اور سیاسی اسیران کی رہائی کے خلاف احتجاج کیا جائے گا۔

یہ احتجاج ریاست جموں کشمیر کے ہر دو قابضین کے لیے پیغام ہوگا کہ ریاست جموں کشمیر کی عوام ریاست کی مستقل بندر بانٹ کو کسی طور تسلیم نہیں کریں گے اور ہر وہ فیصلہ جو ریاست جموں کشمیر کی دوکروڑ عوام کی مرضی اور منشاہ کے بغیر مسلط کیے جانے کی کوشش کی جائے گی ،اس کی بھر پور مزاحمت کی جائے گی ۔ پی این اے کے قائدین نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ ہندوستانی حکومت نے یک طرفہ طورپر 35Aکاخاتمہ کیا ہے حکومت پاکستان بھی شملہ معاہدہ سمیت دیگر دوطرفہ معاہدات سے دستبردار ہونے کا اعلان کرے ۔

ہم پاکستانی عوام سول سوسائٹی اور ترقی پسند قوتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنی حکومت کو مجبور کریں کے وہ ریاست کے اپنے زیر انتظام اعلاقوں (آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان)پر مشتمل آئین ساز اسمبلی کا قیام عمل میں لاتے ہوئے اس حکومت کو خود بھی تسلیم کریں اور دوست ممالک سے بھی تسلیم کروائیں تاکہ عالمی سطح پر ہندوستان کو حاصل سفارتی برتری کا خاتمہ ممکن ہوسکے اور ریاست جموں کشمیر کے شہری عالمی سطح پر اپنا کیس خود لڑ سکیں جس کی وجہ سے ہندوستان کو بڑی پسپائی کا سامنا کرنے کے علاوہ عالمی دنیا کو مسئلہ کشمیر کے متعلق اصل حقائق سمجھانے میں آسانی ہو۔

پی این اے کے قائدین نے مقبوضہ کشمیر کی عوام کی جرات کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 15 اگست کو نو لاکھ بھارتی فوج کے محاصرے ، کرفیو اور ظالمانہ اقدامات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ۔ پی این اے کے قائدین نے کہا اگر دنیا مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے سنجیدہ ہے تو اسے ریاست جموں کشمیر کی عوام کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابو غیر مشروط حق خودارادیت کا حق استعمال کرنے کے لئے سازگار ماحول مہیا کرنا ہوگا۔