پونچھ ڈویژن میں جھڑپیں، پانچ افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات

راولاکوٹ / بلوچ / تراڑکھل: پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر کے پونچھ ڈویژن میں پیر کی رات سے منگل کی صبح تک پیش آنے والے الگ الگ واقعات میں کم از کم پانچ افراد کے جاں بحق اور کئی کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ یہ واقعات جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JKJAAC) کے 15 جولائی کو مظفرآباد کی طرف اعلان کردہ لانگ مارچ سے پہلے پیش آئے، جس کے باعث علاقے میں کشیدگی برقرار ہے۔

اطلاعات کے مطابق یہ اموات ضلع سدھنوتی کی تحصیل بلوچ اور راولاکوٹ بس اڈہ پر جاری احتجاجی دھرنے کے دوران ہوئیں، جہاں مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے احتجاجی مقامات کی طرف پیش قدمی کی۔ خبر شائع ہونے تک حکومت، ضلعی انتظامیہ یا متعلقہ سکیورٹی اداروں کی جانب سے ان واقعات کی کوئی سرکاری تصدیق یا تفصیلی بیان جاری نہیں کیا گیا تھا۔

مقامی ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز کا ایک قافلہ کوٹلی سرساوہ سے بلوچ کی طرف جا رہا تھا۔ راستے میں سراں اور بلوچ کے مقام پر مقامی لوگوں نے قافلے کو روکنے کی کوشش کی۔ ذرائع کے مطابق اس دوران حالات اس وقت بگڑ گئے جب سکیورٹی اہلکاروں نے مظاہرین پر فائرنگ کی۔

مقامی ذرائع نے بلوچ میں جاں بحق ہونے والے چار افراد کی شناخت زاہد یاسین (قانون ساز اسمبلی کے امیدوار)، ظفر مغل، ارسلان کبیر اور احسان اللہ کے نام سے کی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ افراد گولیاں لگنے سے موقع پر ہی دم توڑ گئے۔

فائرنگ کے نتیجے میں کئی افراد زخمی بھی ہوئے۔ شدید زخمیوں میں رقیب عابد اور اعجاز شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق رقیب عابد کو دو گولیاں لگیں اور ابتدائی علاج کے بعد مزید علاج کے لیے راولپنڈی منتقل کر دیا گیا۔

دوسرا واقعہ راولاکوٹ بس اڈہ کے قریب جاری احتجاجی دھرنے میں پیش آیا، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کے خلاف کارروائی کی۔ اس دوران سون ٹوپا کے رہائشی واجد حیات زخمی ہوئے اور بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے۔

عینی شاہدین کے مطابق کارروائی کے دوران ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کے علاوہ آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی گئی۔ اس واقعے میں دو نوجوان زخمی ہوئے، جن میں سے ایک ناصر کو ابتدائی طبی امداد کے بعد پلندری ہسپتال منتقل کیا گیا۔

ان واقعات کے بعد پورے پونچھ ڈویژن میں صورتحال انتہائی کشیدہ بتائی جا رہی ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق تراڑکھل میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے، متعدد مقامات پر سڑکیں بند ہیں اور سکیورٹی فورسز شہروں میں گشت کر رہی ہیں۔ مختلف شہروں کے درمیان آمدورفت بھی شدید متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔

یہ تازہ واقعات جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 15 جولائی کو مظفرآباد کی جانب اعلان کردہ لانگ مارچ سے ایک روز پہلے پیش آئے ہیں۔ کمیٹی نے 8 جولائی تک مذاکرات کی دی گئی مہلت ختم ہونے کے بعد اس مارچ کا اعلان کیا تھا۔

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک کا آغاز بجلی کے نرخ کم کرنے، سستے آٹے کی فراہمی اور مہنگائی سے ریلیف کے مطالبات سے ہوا تھا، تاہم بعد میں یہ تحریک حکومتی اصلاحات، سیاسی نمائندگی، آئینی تبدیلیوں اور عوامی احتساب جیسے وسیع مطالبات تک پھیل گئی۔

پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر میں گزشتہ چند ہفتوں سے وقفے وقفے سے بے چینی اور احتجاج دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا کی سابقہ رپورٹس کے مطابق گزشتہ احتجاجی مراحل کے دوران اضافی سکیورٹی فورسز تعینات کی گئیں اور انٹرنیٹ سروس بھی معطل کی گئی، جبکہ حکومت کا مؤقف تھا کہ یہ اقدامات امن و امان برقرار رکھنے کے لیے کیے گئے۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق گزشتہ ماہ حکومت نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی عائد کی اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران اس کے درجنوں کارکنوں کو حراست میں لیا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز نے بھی رپورٹ کیا تھا کہ جون میں راولاکوٹ میں ہونے والی خونریز جھڑپوں کے بعد احتجاج اور ہڑتالوں کی وجہ سے پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر کے کئی علاقے بند رہے، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے گرفتاریوں، انٹرنیٹ پابندیوں اور طاقت کے استعمال پر تشویش ظاہر کی۔

منگل کی صبح تک پانچ افراد کی ہلاکت، زخمیوں کی حتمی تعداد یا بلوچ اور راولاکوٹ میں فائرنگ کے حالات سے متعلق کسی سرکاری ادارے کی جانب سے کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی تھی۔ مقامی شہریوں اور سماجی کارکنوں نے زخمیوں کو فوری طبی سہولتیں فراہم کرنے، سکیورٹی فورسز سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور شہریوں پر براہِ راست گولیاں چلانے کے واقعات کی آزادانہ تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

15 جولائی کے لانگ مارچ کے قریب آتے ہی پونچھ ڈویژن میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔

15 جولائی کے لانگ مارچ سے پہلے پونچھ ڈویژن میں جھڑپیں، پانچ افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات

راولاکوٹ / بلوچ / تراڑکھل: پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر کے پونچھ ڈویژن میں پیر کی رات سے منگل کی صبح تک پیش آنے والے الگ الگ واقعات میں کم از کم پانچ افراد کے جاں بحق اور کئی کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ یہ واقعات جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JKJAAC) کے 15 جولائی کو مظفرآباد کی طرف اعلان کردہ لانگ مارچ سے پہلے پیش آئے، جس کے باعث علاقے میں کشیدگی برقرار ہے۔

اطلاعات کے مطابق یہ اموات ضلع سدھنوتی کی تحصیل بلوچ اور راولاکوٹ بس اڈہ پر جاری احتجاجی دھرنے کے دوران ہوئیں، جہاں مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے احتجاجی مقامات کی طرف پیش قدمی کی۔ خبر شائع ہونے تک حکومت، ضلعی انتظامیہ یا متعلقہ سکیورٹی اداروں کی جانب سے ان واقعات کی کوئی سرکاری تصدیق یا تفصیلی بیان جاری نہیں کیا گیا تھا۔

مقامی ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز کا ایک قافلہ کوٹلی سرساوہ سے بلوچ کی طرف جا رہا تھا۔ راستے میں سراں اور بلوچ کے مقام پر مقامی لوگوں نے قافلے کو روکنے کی کوشش کی۔ ذرائع کے مطابق اس دوران حالات اس وقت بگڑ گئے جب سکیورٹی اہلکاروں نے مظاہرین پر فائرنگ کی۔

مقامی ذرائع نے بلوچ میں جاں بحق ہونے والے چار افراد کی شناخت زاہد یاسین (قانون ساز اسمبلی کے امیدوار)، ظفر مغل، ارسلان کبیر اور احسان اللہ کے نام سے کی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ افراد گولیاں لگنے سے موقع پر ہی دم توڑ گئے۔

فائرنگ کے نتیجے میں کئی افراد زخمی بھی ہوئے۔ شدید زخمیوں میں رقیب عابد اور اعجاز شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق رقیب عابد کو دو گولیاں لگیں اور ابتدائی علاج کے بعد مزید علاج کے لیے راولپنڈی منتقل کر دیا گیا۔

دوسرا واقعہ راولاکوٹ بس اڈہ کے قریب جاری احتجاجی دھرنے میں پیش آیا، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کے خلاف کارروائی کی۔ اس دوران سون ٹوپا کے رہائشی واجد حیات زخمی ہوئے اور بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے۔

عینی شاہدین کے مطابق کارروائی کے دوران ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کے علاوہ آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی گئی۔ اس واقعے میں دو نوجوان زخمی ہوئے، جن میں سے ایک ناصر کو ابتدائی طبی امداد کے بعد پلندری ہسپتال منتقل کیا گیا۔

ان واقعات کے بعد پورے پونچھ ڈویژن میں صورتحال انتہائی کشیدہ بتائی جا رہی ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق تراڑکھل میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے، متعدد مقامات پر سڑکیں بند ہیں اور سکیورٹی فورسز شہروں میں گشت کر رہی ہیں۔ مختلف شہروں کے درمیان آمدورفت بھی شدید متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔

یہ تازہ واقعات جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 15 جولائی کو مظفرآباد کی جانب اعلان کردہ لانگ مارچ سے ایک روز پہلے پیش آئے ہیں۔ کمیٹی نے 8 جولائی تک مذاکرات کی دی گئی مہلت ختم ہونے کے بعد اس مارچ کا اعلان کیا تھا۔

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک کا آغاز بجلی کے نرخ کم کرنے، سستے آٹے کی فراہمی اور مہنگائی سے ریلیف کے مطالبات سے ہوا تھا، تاہم بعد میں یہ تحریک حکومتی اصلاحات، سیاسی نمائندگی، آئینی تبدیلیوں اور عوامی احتساب جیسے وسیع مطالبات تک پھیل گئی۔

پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر میں گزشتہ چند ہفتوں سے وقفے وقفے سے بے چینی اور احتجاج دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا کی سابقہ رپورٹس کے مطابق گزشتہ احتجاجی مراحل کے دوران اضافی سکیورٹی فورسز تعینات کی گئیں اور انٹرنیٹ سروس بھی معطل کی گئی، جبکہ حکومت کا مؤقف تھا کہ یہ اقدامات امن و امان برقرار رکھنے کے لیے کیے گئے۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق گزشتہ ماہ حکومت نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی عائد کی اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران اس کے درجنوں کارکنوں کو حراست میں لیا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز نے بھی رپورٹ کیا تھا کہ جون میں راولاکوٹ میں ہونے والی خونریز جھڑپوں کے بعد احتجاج اور ہڑتالوں کی وجہ سے پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر کے کئی علاقے بند رہے، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے گرفتاریوں، انٹرنیٹ پابندیوں اور طاقت کے استعمال پر تشویش ظاہر کی۔

منگل کی صبح تک پانچ افراد کی ہلاکت، زخمیوں کی حتمی تعداد یا بلوچ اور راولاکوٹ میں فائرنگ کے حالات سے متعلق کسی سرکاری ادارے کی جانب سے کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی تھی۔ مقامی شہریوں اور سماجی کارکنوں نے زخمیوں کو فوری طبی سہولتیں فراہم کرنے، سکیورٹی فورسز سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور شہریوں پر براہِ راست گولیاں چلانے کے واقعات کی آزادانہ تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

15 جولائی کے لانگ مارچ کے قریب آتے ہی پونچھ ڈویژن میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔

About Post Author