325

مسئلہ کشمیر میں تیسرا انتخاب: لبنی ہارون

“خودمختار کشمیر” ریاست جموں و کشمیر کے دونوں حصوں میں ایک ابھرتے ہوئے رحجان کی صورت اختیار کر گیا ہے جو مسئلہ کشمیر کے حل میں تعطل سے نمایاں ہوا ہے، اس کو مجموعی طور پر تھرڈ آپشن کہا جاتا ہے. 

بہت سے ممتاز سیاسی رہنماوں نے تھرڈ آپشن کی وکالت کی ہے جن مقبول بٹ، امان اللہ خان، یاسین ملک اور شبیر شاہ شامل ہیں. کچھ دوسرے رہنما حق خودارادیت کے نظریے سے منسلک ہیں جو کے تھرڈ آپشن کے قریب تر ہے. اس رائے کے مطابق جموں و کشمیر کو قبل از تقسیم کی پوزیشن پر بحال کر کے ایک خودمختار ریاست کا قیام عمل میں آنا ہے.

کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ میں بھارت لے کر گیا تھا اور اس کے نتیجہ میں پاکستان نے وہاں جواب دیا تھا. 
اقوام متحدہ کی 13 اگست 1948 کی قرارداد کے مطابق اقوام متحدہ نے جموں و کشمیر کے عوام کا حق خودارادیت تسلیم کر لیا تھا. اس کے علاوہ استعماری جبر کا شکار اقوام کو چارٹر سے پہلے بھی مروجہ عالمی قوانین کے مطابق پیدائشی طور پر پر یہ حق حاصل تھا. 

پاکستان، بھارت یا کوئی اور ملک کشمیری عوام کی آزادانہ مرضی اور خواہشات کے بغیر ان کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں رکھتا. چارٹر کے بعد یہی بنیادی اصول انسانی حقوق کی تمام دستاویزات میں بار بار دہرایا گیا ہے . جن میں سے زیادہ معروف اور اہم ” انسانی حقوق کا عالمی منشور” (UDHR 1966) , ” بین الاقوامی عہد برائے معاشی، سماجی اور سیاسی حقوق”(ICESCR 1966) اور” بین الاقوامی عہد برائے شہری اور سیاسی حقوق” (ICCPR 1966) شامل ہیں ، مجموعی طور پر ان کو انسانی حقوق کے قوانین کہا جاتا ہے.

ICESSCR اور ICCPR  دونوں کی پہلی شق ہی تمام بنی نوع انسان کے لیے ساری دنیا میں بلا امتیاز حق خودارادیت کی دستیابی پر زور دیتی ہے اور خوش قسمتی سے پاکستان ، بھارت اور ان کا تب کا استعماری آقا برطانیہ ان دستاویزات کے دستخط کنندہ ہیں.

استعماری یا ریاستی قبضے کی موجودگی میں حق خودارادیت کی عدم دستیابی محکوم قوموں کی طرف سے جدوجہد آزادی کا باعث بن سکتی ہے، آزادی کی ایسی تحریکیں اقوام متحدہ کی زیر نگرانی اسے اپنے چارٹر کے باب سات کے مطابق حاصل اختیارات کے تحت ایک نئی ریاست کی تشکیل کرتی ہیں.

ریاست جموں و کشمیر کے مسئلہ میں بھارت اور پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے باب چھ کے تحت کسی حل تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں جو کہ دو طرفہ مزاکرات اور باہمی انتظامات سے اقوام متحدہ کی زیر . نگرانی عوام کے لیے قابل قبول حل ڈھونڈنے کا مطالبہ کرتا ہے.

مندرجہ بالا گفتگو سے یہ نتیجہ واضح طور پر سامنے آتا ہے کہ حق خودارادیت جموں و کشمیر کے عوام کا پیدائشی اور ناقابل تنسیخ حق ہے جس کو کوئی بھی چھین نہیں سکتا. جبکہ اقوام متحدہ کے کمیشن براے بھارت و پاکستان نے پاکستان کی درخواست پر 5 جنوری 1949 کی قرارداد میں خودمختاری کا آپشن ختم کر دیا تھا. جس میں کہا گیا ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کے پاکستان یا بھارت سے الحاق کا فیصلہ جمہوری طریقہ سے .آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری سے کیا جائے گا.

دونوں ممالک اور ان کی پروردہ قوتوں نے متنازعہ خطے کے عوام کے حق خودارادیت کو دو آپشنز تک محدود کرنے کی کوشش کی ہے جیسا کہ اقوام متحدہ کے کمیشن برائے بھارت و پاکستان میں کیا گیا تھا.
تاہم ریاست جموں و کشمیر کے عوام کی چار عشروں کی کاوشوں اور حالیہ پیش رفت کی بنیاد جدوجہد آزادی ہی ہے. 

تقریبا” ستر سال پر محیط آزادی کی اس جدوجہد نے الحاق کے دونوں آپشنز کے ساتھ ساتھ تھرڈ آپشن کو بھی . بل حصول اور پہنچ میں کر دیا ہے. حقیقت میں یہ خیال نیا نہیں ہے کیونکہ 24 اکتوبر 1947 کو قائم ہونے والی انقلابی حکومت نے بھی ڈوگرہ حکمرانی کے خلاف برسر پیکار لوگوں کی اسی خواہش کا اظہار کیا تھا. تب جو حکومت قائم ہوئی تھی اور آج تک پاکستان کے زیر انتظام علاقے میں چل رہی ہے اس کا نام آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر تھا اور اسی طرح عوام بلخصوص بھارتی زیر انتظام علاقے میں آج تک آزادی کا مطالبہ کر رہے ہیں. یہ دونوں الفاظ “آزاد” جو 1947 میں استعمال ہوا اور “آزادی” جو آج بھی استعمال ہو رہا ہے کا ایک ہی مطلب ہے یعنی “خودمختاری” اور یہی تھرڈ آپشن ہے.

اس لیے جموں و کشمیر کی خودمختار ریاست کا آپشن کشمیریوں کے اپنے درمیان اور پاکستان اور بھارت کے درمیان بھی تسلسل کے ساتھ ایشو رہا ہے . آزاد جموں و کشمیر کے عبوری آئین اور بھارتی آئین کی دفعہ 370 کے تحت خودمختار کشمیر کے حامیوں پر اسمبلیوں کے لیے ہونے والے انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی عائد ہے.

تاہم تھرڈ آپشن ایک غیر جانبدارانہ ادراک ہے جس کی مدد سے تینوں ریاستی اکائیوں ( پاکستان اور بھارت کے زیر انتظام علاقے) کے سماجی، سیاسی اور انتظامی ڈھانچے میں کسی خوفناک تبدیلی کے بغیر ہی ریاست کی بحالی اور خودمختاری ممکن ہو سکتی ہے.

پاکستانی کی طرف کی سیاسی قیادت مسئلہ کے پرامن حل کے لیے سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل کرنے پر زور دیتی ہے، مگر حد متارکہ کے دونوں اطراف اور بیرون ملک مقیم کشمیریوں میں موجود قوم پرستانہ سوچ کی مطلق موجودگی میں ان کی امنگوں کے برخلاف یہ مسئلہ کیسے پر امن طور پر حل ہو سکے گا؟
اس لیے ایک آزادانہ اور منصفانہ ریفرنڈم کے لیے ضروری ہے کہ تھرڈ آپشن بھی بحال کیا جائے اور اقوام متحدہ اپنے چارٹر کے باب چھ کے بجائے باب سات کے مطابق اپنے اختیارات استعمال کرے.

آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری سے کیا جائے گا.
دونوں ممالک اور ان کی پروردہ قوتوں نے متنازعہ خطے کے عوام کے حق خودارادیت کو دو آپشنز تک محدود کرنے کی کوشش کی ہے جیسا کہ اقوام متحدہ کے کمیشن برائے بھارت و پاکستان میں کیا گیا تھا. 
تاہم ریاست جموں و کشمیر کے عوام کی چار عشروں کی کاوشوں اور حالیہ پیش رفت کی بنیاد جدوجہد آزادی ہی ہے. 
تقریبا” ستر سال پر محیط آزادی کی اس جدوجہد نے الحاق کے دونوں آپشنز کے ساتھ ساتھ تھرڈ آپشن کو بھی قابل حصول اور پہنچ میں کر دیا ہے. 
حقیقت میں یہ خیال نیا نہیں ہے کیونکہ 24 اکتوبر 1947 کو قائم ہونے والی انقلابی حکومت نے بھی ڈوگرہ حکمرانی کے خلاف برسر پیکار لوگوں کی اسی خواہش کا اظہار کیا تھا. تب جو حکومت قائم ہوئی تھی اور آج تک پاکستان کے زیر انتظام علاقے میں چل رہی ہے اس کا نام آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر تھا اور اسی طرح عوام بلخصوص بھارتی زیر انتظام علاقے میں آج تک آزادی کا مطالبہ کر رہے ہیں. یہ دونوں الفاظ “آزاد” جو 1947 میں استعمال ہوا اور “آزادی” جو آج بھی استعمال ہو رہا ہے کا ایک ہی مطلب ہے یعنی “خودمختاری” اور یہی تھرڈ آپشن ہے.
اس لیے جموں و کشمیر کی خودمختار ریاست کا آپشن کشمیریوں کے اپنے درمیان اور پاکستان اور بھارت کے درمیان بھی تسلسل کے ساتھ ایشو رہا ہے . آزاد جموں و کشمیر کے عبوری آئین اور بھارتی آئین کی دفعہ 370 کے تحت خودمختار کشمیر کے حامیوں پر اسمبلیوں کے لیے ہونے والے انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی عائد ہے. 
تاہم تھرڈ آپشن ایک غیر جانبدارانہ ادراک ہے جس کی مدد سے تینوں ریاستی اکائیوں ( پاکستان اور بھارت کے زیر انتظام علاقے) کے سماجی، سیاسی اور انتظامی ڈھانچے میں کسی خوفناک تبدیلی کے بغیر ہی ریاست کی بحالی اور خودمختاری ممکن ہو سکتی ہے. 
پاکستانی کی طرف کی سیاسی قیادت مسئلہ کے پرامن حل کے لیے سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل کرنے پر زور دیتی ہے، مگر حد متارکہ کے دونوں اطراف اور بیرون ملک مقیم کشمیریوں میں موجود قوم پرستانہ سوچ کی مطلق موجودگی میں ان کی امنگوں کے برخلاف یہ مسئلہ کیسے پر امن طور پر حل ہو سکے گا؟ 
اس لیے ایک آزادانہ اور منصفانہ ریفرنڈم کے لیے ضروری ہے کہ تھرڈ آپشن بھی بحال کیا جائے اور اقوام متحدہ اپنے چارٹر کے باب چھ کے بجائے باب سات کے مطابق اپنے اختیارات استعمال کرے.