JKPNA Flag, 169

پی این اے کیا ہے اور پی این اے کے اغراض و مقاصد کیا ہیں

5 اگست کو جب بھارتی نے اپنے مقبوضۃ ریاست جموں کشمیر میں آرٹیکل 370 اور 35 اے کا یکطرفہ طور پر خاتمہ کیا تو ریاست جمون کشمیر کے کونے کونے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی بائیں بازو کی اور قوم پرست جماعتوں کو مل کر اس موقع پر ایک اتحاد کی بنیاد رکھی ۔ یہ اتحاد دس اگست کو راولا کوٹ میں ترتیب پایا اور اس کے چند دنوں بعد سولہ اگست کو اتحاد نے ریاست جموں کشمیر چھوڑ دو تحریک کا اغاز کیا

جموں کشمیر پیپلز نیشنل الائنس کا متفقہ اعلامیہ

١- گلگت بلتستان میں اسٹیٹ سبجیکٹ کی بحالی
٢- پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر و گلگت بلتستان کو ملا کو آئین ساز اسمبلی کا قیام
٣- ایک خود مختار حکومت کے قیام کے بعد پاکستان میں اور بین الاقوامی سطح پر سفارت خانوں کا قیام
٤-ریاست جموں کشمیر کی وحدت کی بحالی اور مکمل آزادی

یہ مقاصد کے کے لیے مشترکہ جدوجہد اور حصول پر اتفاق کیا گیا جبکہ ان میں مزید مراحل درجہ بدرجہ طے کرنے کے لیے پالیسی سازی کی جائے گی اور اجتماعی طور پر تیسری قوت کے قیام کے ساتھ متبادل بیانیہ کو عوام میں مقبول بنانے اور اس کی execution کے لیے پالیسی مرتب کی جائے گی. بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آواز بلند کی جائے گی اور ان کے ساتھ کمیونیکیشن کو بہتر بناتے ہوئے ان کی جانب سے پیش کی جانے والی تجاویز و آراء پر عمل کیا جائے گا. اس لحاظ سے جس پر جو قابض ہے اسی کے خلاف جدوجہد کی جائے گی. اس موقع پر نومنتخب چیئرمین جے کے پی این اے ذوالفقار راجہ نے کہا کہ ان مقاصد کے حصول کے لیے پرامن جدوجہد کی جائے گی

جاوید عنایت پیپلز نیشنل پارٹی کے بارے میں تاثرات دیتے ہوئے

جموں کشمیر پیپلز نینشل الائس نے 21 اکتوبر کو مظفرآباد کی جانب احتجاجی مارچ کی کال دے رکھی ہے جس کے بعد مظفرآباد پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں ہی مطالبات کی تسلیم کیے جانے تک دھرنا دیا جائے گا۔